سرینگر/تقریباً 600 افراد نے شوٹنگ مقام پر کھانا کھایا تھا۔ کچھ گھنٹوں بعد ہی درجنوں کارکنان زمین پر لیٹ گئے اور بے چینی کے عالم میں کراہنے لگے۔ اس اچانک بگڑتی صورتحال نے مقام کو افراتفری میں بدل دیا۔ایس این ایم ہسپتال لیہہ میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا: ‘‘ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ مریضوں کا آنا غیر معمولی تھا، لیکن ہمارے تمام محکمے فوری حرکت میں آ گئے۔ پولیس نے بھی ہجوم کو سنبھالنے اور خوف و ہراس روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خوش قسمتی سے سب کی حالت اب مستحکم ہے۔’’ایک فلمی کارکن نے اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہا: ‘‘ہم نے شام کو عام کھانا کھایا تھا، لیکن کچھ ہی دیر بعد کئی ساتھیوں کو الٹیاں آنے لگیں۔ پہلے ہم نے سوچا شاید کسی کو ہاضمے کا مسئلہ ہے، مگر جب ایک کے بعد دوسرا گرنے لگا تو سب ڈر گئے۔
ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ساتھیوں کو ہسپتال کی طرف دوڑتے دیکھا۔’’انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ کھانے کے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ فوڈ پوائزننگ کی اصل وجہ کیا تھی۔ حکام نے کہا ہے کہ رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داری طے کر کے کارروائی کی جائے گی۔
مقامی ضلع افسر نے واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا:‘‘لیہہ جیسے حساس اور دور دراز خطے میں اس نوعیت کی بڑی فلمی ٹیموں کے لیے خوراک اور دیگر سہولیات کے انتظامات انتہائی سخت معیار کے مطابق ہونے چاہییں۔ یہ واقعہ حفاظتی پروٹوکول پر سوال اٹھاتا ہے۔’’زیادہ تر مریضوں کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے، تاہم فلم یونٹ کے اراکین میں اب بھی خوف اور بے چینی کی فضا قائم ہے۔


