جنگ نیوز
سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے) کو بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا جاتا ہے تو مرکزی حکومت کو وہاں کے حالات پر بھی آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بھی اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
ڈاکٹر عبداللہ نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے اور ان کے خلاف مقدمات و گرفتاریاں جاری رہیں تو احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے غیر قانونی ہوٹلوں سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہوٹلوں کا قیام سیاحت اور مقامی لوگوں کی خود انحصاری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سرکاری ملازمتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا روزگار پیدا کر رہے ہیں، جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور نوجوانوں میں منشیات کے رجحان پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔


