جنگ نیوز
نئی دہلی/ راجیہ سبھا نے بدھ کے روز قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل، 2026 منظور کر لیا، جس کے تحت قومی نغمہ "وندے ماترم” کی جان بوجھ کر توہین، اس کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا یا اسے روکنے کی کوشش کرنا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔
بل کے مطابق اس جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ یہ بل اب منظوری کے لئے لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے منظوری اور صدرِ جمہوریہ کی توثیق کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
اس ترمیم کے ذریعے پہلی بار وندے ماترم کو بھی قومی پرچم، آئینِ ہند اور قومی ترانے کی طرح قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد قومی نغمے کے وقار کا تحفظ کرنا ہے، جس نے تحریکِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص وندے ماترم کی ادائیگی یا نشر ہونے میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالے یا اس کی توہین کرے تو اسے سزا دی جا سکے گی۔ مزید یہ کہ اگر کسی تقریب میں قومی ترانہ اور قومی نغمہ دونوں پیش کیے جائیں تو پہلے قومی ترانہ بجایا جائے گا، جبکہ وندے ماترم کی ادائیگی کے دوران بھی حاضرین کا احتراماً کھڑا ہونا ضروری ہوگا۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قومی نغمے سے متعلق فوجداری سزاؤں کا دائرہ بڑھانا آئین کی جانب سے شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، خصوصاً اظہارِ رائے کی آزادی، سے متصادم ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن نے اس ترمیم کی آئینی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے۔


