ایران اسرائیل جنگ اور عالمی مفادات کی دوڑ

 

 

طفیل مگسی

دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آن پہنچی ہے جہاں سفارتی زبان کمزور اور دھماکوں کی گونج زیادہ سنائی دیتی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری اور عسکری ٹھکانوں پر حالیہ حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی سیاسی کھیل کی شطرنجی چال ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی غزہ کی تباہی اور یمن کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ اسرائیل کے اس حملے نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم ایک اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں یا محض طاقت کے توازن کی نئی ترتیب بن رہی ہے۔
ایران کی جانب سے جواب میں سو سے زائد ڈرونز اور میزائل داغے گئے لیکن اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے انہیں بڑی حد تک ناکام بنا دیا۔ تاہم یہ صرف ابتدائی ردعمل تھا کیونکہ ایران نے ابھی تک اپنے تمام پتے نہیں کھولے۔ اس حملے نے ایران کی داخلی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے جہاں سخت گیر عناصر اس واقعے کو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ایران میں اس وقت جو غصہ ہے وہ محض اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے خلاف بھی ہے جسے ایران دہرا معیار رکھنے والا نظام سمجھتا ہے۔
دنیا بھر کے ممالک نے اس صورتحال پر اپنی اپنی سفارتی چادر اوڑھ لی ہے۔ چین نے فوری طور پر دونوں فریقوں سے تحمل کی اپیل کی ہے اور اپنے شہریوں کو اسرائیل اور ایران کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ روس نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل پر تنقید ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پرانے اتحاد کمزور اور نئی علاقائی حقیقتیں جنم لے رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے حالیہ تعلقات میں بہتری اور بیجنگ معاہدے کے تناظر میں یہ موقف حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی عرب خود کو اسلامی دنیا کے ترجمان کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے فلسطینی مسئلے پر غیر جانب دار رہنا مشکل ہے۔
امریکہ نے ایک بار پھر اپنے پرانے اسلوب کو اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حملے میں براہ راست شامل نہیں لیکن اسرائیل کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس بلایا گیا اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر الرٹ جاری کر دیا گیا۔ اگرچہ امریکہ اب وہ طاقتور ریاست نہیں رہا جو بیس سال پہلے بغیر کسی رکاوٹ کے عراق یا افغانستان میں کود پڑتا تھا، لیکن اب بھی اس کے ہاتھ میں سفارتی اور عسکری کارڈز کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ اس بار امریکہ شاید جنگ کے بجائے محدود تنازعے اور سفارتی دباؤ کے ذریعے معاملات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گا کیونکہ اسے چین اور روس کی ابھرتی ہوئی طاقت کا بھی سامنا ہے۔
اگر ایران کی طرف سے مزید جوابی حملے کیے گئے تو صرف میزائل یا ڈرون استعمال نہیں ہوں گے بلکہ ایران اپنے اتحادی نیٹ ورک، جیسے حزب اللہ یا عراقی شیعہ ملیشیاؤں، کو بھی متحرک کر سکتا ہے۔ ایران کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اسرائیل کے لئے ایک طویل اور تھکا دینے والی پراکسی جنگ چھیڑ دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران خلیجی پانیوں میں کشیدگی پیدا کرے اور تیل کی ترسیل متاثر ہو، جو عالمی منڈیوں کو ہلا دے گا۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران شمالی کوریا سے جوہری تعاون حاصل کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ خیال خوفناک ہے لیکن مکمل طور پر ناقابل فہم نہیں، کیونکہ دونوں ممالک عالمی پابندیوں کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ایران واقعی اس راہ پر گامزن ہوا تو یہ مشرق وسطیٰ کو ایک نئے ایٹمی بحران میں دھکیل دے گا۔
یہ صورتحال عالمی نظام کے لئے بھی ایک آزمائش ہے۔ اقوام متحدہ کی خاموشی اور یورپی یونین کے نرم بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کے ادارے اب صرف مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن ان کے پاس عمل درآمد کی طاقت محدود ہو چکی ہے۔ امریکہ اور مغرب کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر وہ اپنے اتحادیوں کو کھلی چھوٹ دیتے رہے تو ایک دن یہ نظام مکمل طور پر غیر موثر ہو جائے گا۔
طویل مدت میں اس بحران کے اثرات گہرے ہوں گے۔ اسرائیل زیادہ جارحانہ دفاعی پالیسی اپنائے گا اور ایران اپنے جوہری پروگرام کو یا تو زیر زمین منتقل کرے گا یا اس کی سکیورٹی میں کئی گنا اضافہ کرے گا۔ یہ چوہے بلی کا کھیل ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ ایک نئی سرد جنگ کے ابتدائی آثار نظر آ رہے ہیں۔ اگر یہ آگ مزید بھڑکی تو صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور سیاست بھی اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر اس مقام پر آ چکا ہے جہاں سفارتی جملے اپنا وزن کھو بیٹھے ہیں اور بارود کی زبان میں بات ہو رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے بیچ جاری یہ کشمکش صرف دو ریاستوں کی ضد نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے مفادات کی رسّہ کشی بھی ہے، جس میں ہر میزائل کے پیچھے ایک سفارتی پیغام اور ہر بیان کے پیچھے ایک ممکنہ جنگ چھپی ہوتی ہے۔ امریکہ کی کمزور پڑتی ہوئی عالمی گرفت اور چین و روس کی پس پردہ چالیں اس شطرنج کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ایران کی جوہری خواہشات اور اسرائیل کی جوہری برتری کا یہ کھیل صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ دنیا کے امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ دعا یہی ہے کہ آنے والا وقت صرف بیانات کی جنگ ہو، میزائلوں کی نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

ایران اسرائیل جنگ اور عالمی مفادات کی دوڑ

 

 

طفیل مگسی

دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آن پہنچی ہے جہاں سفارتی زبان کمزور اور دھماکوں کی گونج زیادہ سنائی دیتی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری اور عسکری ٹھکانوں پر حالیہ حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی سیاسی کھیل کی شطرنجی چال ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی غزہ کی تباہی اور یمن کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ اسرائیل کے اس حملے نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم ایک اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں یا محض طاقت کے توازن کی نئی ترتیب بن رہی ہے۔
ایران کی جانب سے جواب میں سو سے زائد ڈرونز اور میزائل داغے گئے لیکن اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے انہیں بڑی حد تک ناکام بنا دیا۔ تاہم یہ صرف ابتدائی ردعمل تھا کیونکہ ایران نے ابھی تک اپنے تمام پتے نہیں کھولے۔ اس حملے نے ایران کی داخلی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے جہاں سخت گیر عناصر اس واقعے کو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ایران میں اس وقت جو غصہ ہے وہ محض اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے خلاف بھی ہے جسے ایران دہرا معیار رکھنے والا نظام سمجھتا ہے۔
دنیا بھر کے ممالک نے اس صورتحال پر اپنی اپنی سفارتی چادر اوڑھ لی ہے۔ چین نے فوری طور پر دونوں فریقوں سے تحمل کی اپیل کی ہے اور اپنے شہریوں کو اسرائیل اور ایران کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ روس نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل پر تنقید ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پرانے اتحاد کمزور اور نئی علاقائی حقیقتیں جنم لے رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے حالیہ تعلقات میں بہتری اور بیجنگ معاہدے کے تناظر میں یہ موقف حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی عرب خود کو اسلامی دنیا کے ترجمان کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے فلسطینی مسئلے پر غیر جانب دار رہنا مشکل ہے۔
امریکہ نے ایک بار پھر اپنے پرانے اسلوب کو اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حملے میں براہ راست شامل نہیں لیکن اسرائیل کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس بلایا گیا اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر الرٹ جاری کر دیا گیا۔ اگرچہ امریکہ اب وہ طاقتور ریاست نہیں رہا جو بیس سال پہلے بغیر کسی رکاوٹ کے عراق یا افغانستان میں کود پڑتا تھا، لیکن اب بھی اس کے ہاتھ میں سفارتی اور عسکری کارڈز کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ اس بار امریکہ شاید جنگ کے بجائے محدود تنازعے اور سفارتی دباؤ کے ذریعے معاملات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گا کیونکہ اسے چین اور روس کی ابھرتی ہوئی طاقت کا بھی سامنا ہے۔
اگر ایران کی طرف سے مزید جوابی حملے کیے گئے تو صرف میزائل یا ڈرون استعمال نہیں ہوں گے بلکہ ایران اپنے اتحادی نیٹ ورک، جیسے حزب اللہ یا عراقی شیعہ ملیشیاؤں، کو بھی متحرک کر سکتا ہے۔ ایران کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اسرائیل کے لئے ایک طویل اور تھکا دینے والی پراکسی جنگ چھیڑ دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران خلیجی پانیوں میں کشیدگی پیدا کرے اور تیل کی ترسیل متاثر ہو، جو عالمی منڈیوں کو ہلا دے گا۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران شمالی کوریا سے جوہری تعاون حاصل کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ خیال خوفناک ہے لیکن مکمل طور پر ناقابل فہم نہیں، کیونکہ دونوں ممالک عالمی پابندیوں کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ایران واقعی اس راہ پر گامزن ہوا تو یہ مشرق وسطیٰ کو ایک نئے ایٹمی بحران میں دھکیل دے گا۔
یہ صورتحال عالمی نظام کے لئے بھی ایک آزمائش ہے۔ اقوام متحدہ کی خاموشی اور یورپی یونین کے نرم بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کے ادارے اب صرف مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن ان کے پاس عمل درآمد کی طاقت محدود ہو چکی ہے۔ امریکہ اور مغرب کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر وہ اپنے اتحادیوں کو کھلی چھوٹ دیتے رہے تو ایک دن یہ نظام مکمل طور پر غیر موثر ہو جائے گا۔
طویل مدت میں اس بحران کے اثرات گہرے ہوں گے۔ اسرائیل زیادہ جارحانہ دفاعی پالیسی اپنائے گا اور ایران اپنے جوہری پروگرام کو یا تو زیر زمین منتقل کرے گا یا اس کی سکیورٹی میں کئی گنا اضافہ کرے گا۔ یہ چوہے بلی کا کھیل ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ ایک نئی سرد جنگ کے ابتدائی آثار نظر آ رہے ہیں۔ اگر یہ آگ مزید بھڑکی تو صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور سیاست بھی اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر اس مقام پر آ چکا ہے جہاں سفارتی جملے اپنا وزن کھو بیٹھے ہیں اور بارود کی زبان میں بات ہو رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے بیچ جاری یہ کشمکش صرف دو ریاستوں کی ضد نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے مفادات کی رسّہ کشی بھی ہے، جس میں ہر میزائل کے پیچھے ایک سفارتی پیغام اور ہر بیان کے پیچھے ایک ممکنہ جنگ چھپی ہوتی ہے۔ امریکہ کی کمزور پڑتی ہوئی عالمی گرفت اور چین و روس کی پس پردہ چالیں اس شطرنج کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ایران کی جوہری خواہشات اور اسرائیل کی جوہری برتری کا یہ کھیل صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ دنیا کے امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ دعا یہی ہے کہ آنے والا وقت صرف بیانات کی جنگ ہو، میزائلوں کی نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں