دعاکی فرضیت و فضیلت اور فلسفہ

ابونصر فاروق
(۱) حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی) سمجھنا چاہئے کہ مغز دماغ کے اندر ہوتا ہے باہرنہیں، یعنی پوری عبادت ہی دعا بن جانی چاہئے۔دل اور دماغ پوری طرح اللہ کے تصور میں ڈوبا ہوا رہے۔ایسا سمجھنا چاہئے کہ عبادت کرنے والا کسی عظیم ہستی کے سامنے التجا اور آرزو کر رہا ہے،مانگ رہا ہے ،گڑگڑا رہا ہے۔
(۲) تم مجھے یاد کرو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میراشکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو۔(البقرہ: ۱۵۲)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کہہ رہا ہے کہ تم جب مجھے یاد کرتے ہو تو میں بھی تمہیں یاد کرتا ہوں۔یعنی بندہ جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجاتا ہے اور اُس کی فریاد سنتا اور سمجھتا رہتا ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دعا ہر بندے کا ذاتی معاملہ ہے ، کسی دوسرے کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہر بندے کی دعا خود سنتا ہے ، اس معاملے میںکسی کی سفارش اور پیروی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔دعا کرنا اللہ کا شکر ادا کرنا ہے اور دعا نہیں کرنا کفر کرنا ہے۔یعنی جو آدمی اللہ سے دعا نہیں کرتا ہے وہ اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان نہیں رکھتا ہے بلکہ اس تصور کا کفر کرتا ہے۔
(۳) تمہارا رب کہتا ہے ،مجھے پکارو،میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا،جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں،ضروروہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے ۔ (المومنون:۶۰)
اللہ تعالیٰ اس آیت میںبندوں کو یقین دلا رہا ہے کہ تم جب مجھ سے دعا کرو گے تو میں تمہاری دعائیںضرور قبول کروں گا۔ اللہ سے دعا نہیں کرنا گھمنڈی ہونے کی پہچان ہے۔جو لوگ اللہ سے دعا نہیں کرتے ہیں وہ گویااللہ کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے ہیں۔ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور مرنے کے بعد جہنم میں جائیں گے۔جو لوگ خود اللہ سے دعا نہیں کرتے تو یہ بات اُن کے گھمنڈی ہونے کا ثبوت ہے۔سوچئے ایک آدمی خود اللہ سے دعا نہیں کرتا ہے مگر دوسروں سے دعا کی درخواست کرتا رہتا ہے۔ یہاں کہا جارہا ہے کہ ایسا کرنے والا گھمنڈی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی گھمنڈی کو پسند نہیں کرتا۔
(۴) اور اے نبیﷺمیرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں،تو اُنہیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میںاُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔لہٰذا اُنہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔(یہ اُ نہیں سنا دو)شاید کہ وہ سیدھی راہ پا لیں۔ (البقرہ:۱۸۶)
کہا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کی دعا صرف سنتا ہی نہیں ہے بلکہ اُس کا جواب بھی دیتا ہے۔اس یقین کے ساتھ اللہ سے بندے کو دعا کرنی چاہئے۔اگر بندہ اللہ کا سچا وفادار اور فرماں بردار ہے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ سے دعا کرے اور اللہ تعالیٰ اُس کی دعا قبول نہ کرے۔
(۵) حضرت سلمانؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بیشک تمہارا رب حیادار اور کریم ہے جب بندہ دعا کے لئے اُس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو بندے کو خالی ہاتھ لوٹاتے اُسے حیا آتی ہے۔(ترمذی، ابو داؤد، بیہقی)
(۶) ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض ہوتا ہے۔(ترمذی)
بندے کا خود اللہ سے دعا نہیں کرنا اور دوسروں سے دعا کے لئے کہنا اللہ کو ناراض کرتا ہے۔
(۷) حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :دعا ہر اُس مصیبت کو دور کرتی ہے جو آئی ہو یا نہ آئی ہو۔اے اللہ کے بندو! خود پر دعا کو لازم کر لو ۔ (ترمذی)
کوئی مصیبت یا پریشانی آئی ہو یا نہ آئی ہو ہر حال میں اللہ سے دعا کرنا ضروری ہے۔
(۸)حضرت سلمان فارسی ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :قضا کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر میں زیادتی صرف نیکی سے ہوتی ہے۔(ترمذی )
نیکی کرنے والے کی دعا اُس کی عمر بڑھاتی ہے اوراللہ کے فیصلے بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
دعا کا مطلب ہوتا ہے اللہ سے مدد مانگنا۔د نیا میں جب کسی پر ظلم، ناانصافی،حق تلفی یا بے عزتی کا معاملہ ہوتا ہے تو وہ انصاف کے لئے عدالت میں حاکم کے پاس مقدمہ کرتا ہے۔حاکم مدعی اور مدعا علیہ کی باتیں اور دلیلیں سن کر اندازہ لگاتا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔حاکم کو خود صحیح اور غلط کا علم نہیںہوتا ہے،وہ اندازے سے فیصلہ کرتا ہے۔
جو طاقتور اور دولت مند آدمی ہوتا ہے وہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ سے معاملے کو الٹ دیتا ہے ، مجرم ہونے پر بھی معصوم بن جاتاہے اور اپنی جگہ کسی بے گناہ کو مجرم بناکر خود کو سزا سے بچا لیتا ہے۔دنیا میں اس طرح کی ناانصافی ہمیشہ سے ہوتی چلی آرہی ہے۔نادان اور کم سمجھ لوگوں نے اسی کی بنیاد پر یہ سمجھ لیا کہ اللہ کے یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا۔اور ایسا سمجھنے میں دعا کو ایک سفارش یا پیروی سمجھ لیا،کہ جس آدمی کی اللہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچ ہے وہ دعا کر کے ہم کو سزا سے یا مصیبت سے بچا لے گا۔جب کہ قرآن کی ان آیتوں اور حدیثوں کو پڑھنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ:
(۱) اللہ آسمان پر بیٹھا ہوا نہیں ہے بلکہ اپنے تمام بندوں کو انتہائی قریب ہے ، دیکھ بھی رہا ہے، اُس کی بات سن بھی رہا ہے اور ہر طرح سے اُس کے حال سے باخبر بھی ہے۔
(۲) وہ خود اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ تم مددکے لئے مجھ کو پکارو میں تمہاری مدد کروں گا۔
(۳) اللہ کے یہاں بندے کا بڑ ا اور چھوٹا ہونا دنیا کے طور طریقے پر نہیں ہے بلکہ جو اللہ سے جتنا زیادہ ڈرتا ہے،جتنا زیادہ اُس کا حکم مانتا ہے،جتنا زیادہ گناہوں سے بچتا ہے وہ اللہ کا پیارا اور محبوب بندہ ہے۔اللہ تعالیٰ خود اپنے ایسے بندے کا بغیر مدد مانگے مددگارہوتا ہے۔
(۴) بندہ اللہ کو مدد کے لئے نہیں پکارے تو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا۔اُس کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ اُس کو مدد کے لئے پکارے۔جو آدمی خود اللہ سے دعا نہیں کرتا مگر دوسروںکو دعا کے لئے کہتا رہتا ہے ،سوچئے اللہ تعالیٰ دوسروں کے دعا کرنے سے اُس آدمی کی مصیبت دور کرے گا  ؟
(۵) مظلوم بندے کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ بجلی کی طرح اُس کی مدد کا انتظام کرتا ہے۔
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کیا دعا مانگنی چاہئے:
(۱) پروردگار اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر تو ہی دعا سننے والا ہے۔(آل عمران:۳۸)
(۲) اے ہمارے رب!  ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔(الفرقان:۷۴)
(۳) اے میرے رب مجھے حکم عطا کر اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر اور مجھے نعمتوں بھری جنت کے وارثوں میں شامل فرما اورمیرے باپ کو معاف فرما کہ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے اور مجھے دوبارہ جی اٹھنے کے دن رسوا نہ کرنا۔ (الشعراء: ۸۳/۸۷)
(۴) اے میرے رب ! یہ میں  نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں لہذا تو لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے ہمدردی پیدا کر دے اور انہیں کھانے کو پھل دے شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ (ابراہیم:۳۷)(یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے جب وہ خانہ کعبہ کی تعمیرکر رہے تھے)
(۵) اے میرے رب  !  میرے والدین پر رحم فرما جس طرح اُنہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔(بنی اسرائیل:۲۴)
(۶) اے میرے رب!  مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں، جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کیاہے اور ایسا عمل کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر ۔(النمل:۱۹)
(۷) اے ہمارے رب!  ہمیں اور ہمارے اُن بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اورہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ۔ اے ہمارے رب!  تو بڑا مہربان ہے اور رحیم ہے۔(الحشر:۱۰)
(۸) اے ہمارے رب!  ہمیں ظالم لوگوں کے لئے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات دے۔(یونس:۸۵/۸۶)
(۹) اے میرے رب مجھے بیماری لگ گئی ہے او رتو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ (الانبیاء: ۸۳)
اللہ تعالیٰ ہر اُس انسان کی دعا سنتا ہے ،جو اللہ اور رسولﷺ کے احکام کا پابند ہوتا ہے،مگر جو آدمی اللہ اور اُس کے رسولﷺکو نہیں جانتا اور اُن کی پیروی نہیں کرتا ،دوسروں کی بتائی ہوئی باتوں پر عقیدہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ شرک کر رہا ہے یعنی اللہ کی جگہ دوسروں کی باتیں مان رہا ہے۔ شرک ایسا گناہ ہے جسے اللہ کسی قیمت پر معاف نہیں کرے گا۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ دوجگہ فرماتا ہے:کون ہے جو اُس کی جناب میںاُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے۔جو کچھ بندوںکے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اورجو کچھ اُن سے اوجھل ہے اُس سے بھی واقف ہے۔اوراُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی پکڑ میں نہیں آ سکتی مگر یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود اُن کو دینا چاہے۔کوئی بھی اللہ کی اجازت کے بغیراُس(قیامت کے دن)  اللہ کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں کر سکے گاا ور سچ کے سوا کچھ نہیں بول سکے گا۔(البقرۃ:۲۵۵)جس روز روح اور ملائکہ صف باندھے کھڑے ہوں گے،کوئی نہ بولے گا سوااُس کے رحمن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ (النباء : ۳۸)
شفاعت کا فلسفہ اور دعا کرنے کی درخواست کرنے والے بیان کرنے والے قرآن کی ان دونوں آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

دعاکی فرضیت و فضیلت اور فلسفہ

ابونصر فاروق
(۱) حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی) سمجھنا چاہئے کہ مغز دماغ کے اندر ہوتا ہے باہرنہیں، یعنی پوری عبادت ہی دعا بن جانی چاہئے۔دل اور دماغ پوری طرح اللہ کے تصور میں ڈوبا ہوا رہے۔ایسا سمجھنا چاہئے کہ عبادت کرنے والا کسی عظیم ہستی کے سامنے التجا اور آرزو کر رہا ہے،مانگ رہا ہے ،گڑگڑا رہا ہے۔
(۲) تم مجھے یاد کرو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میراشکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو۔(البقرہ: ۱۵۲)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کہہ رہا ہے کہ تم جب مجھے یاد کرتے ہو تو میں بھی تمہیں یاد کرتا ہوں۔یعنی بندہ جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجاتا ہے اور اُس کی فریاد سنتا اور سمجھتا رہتا ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دعا ہر بندے کا ذاتی معاملہ ہے ، کسی دوسرے کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہر بندے کی دعا خود سنتا ہے ، اس معاملے میںکسی کی سفارش اور پیروی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔دعا کرنا اللہ کا شکر ادا کرنا ہے اور دعا نہیں کرنا کفر کرنا ہے۔یعنی جو آدمی اللہ سے دعا نہیں کرتا ہے وہ اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان نہیں رکھتا ہے بلکہ اس تصور کا کفر کرتا ہے۔
(۳) تمہارا رب کہتا ہے ،مجھے پکارو،میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا،جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں،ضروروہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے ۔ (المومنون:۶۰)
اللہ تعالیٰ اس آیت میںبندوں کو یقین دلا رہا ہے کہ تم جب مجھ سے دعا کرو گے تو میں تمہاری دعائیںضرور قبول کروں گا۔ اللہ سے دعا نہیں کرنا گھمنڈی ہونے کی پہچان ہے۔جو لوگ اللہ سے دعا نہیں کرتے ہیں وہ گویااللہ کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے ہیں۔ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور مرنے کے بعد جہنم میں جائیں گے۔جو لوگ خود اللہ سے دعا نہیں کرتے تو یہ بات اُن کے گھمنڈی ہونے کا ثبوت ہے۔سوچئے ایک آدمی خود اللہ سے دعا نہیں کرتا ہے مگر دوسروں سے دعا کی درخواست کرتا رہتا ہے۔ یہاں کہا جارہا ہے کہ ایسا کرنے والا گھمنڈی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی گھمنڈی کو پسند نہیں کرتا۔
(۴) اور اے نبیﷺمیرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں،تو اُنہیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میںاُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔لہٰذا اُنہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔(یہ اُ نہیں سنا دو)شاید کہ وہ سیدھی راہ پا لیں۔ (البقرہ:۱۸۶)
کہا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کی دعا صرف سنتا ہی نہیں ہے بلکہ اُس کا جواب بھی دیتا ہے۔اس یقین کے ساتھ اللہ سے بندے کو دعا کرنی چاہئے۔اگر بندہ اللہ کا سچا وفادار اور فرماں بردار ہے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ سے دعا کرے اور اللہ تعالیٰ اُس کی دعا قبول نہ کرے۔
(۵) حضرت سلمانؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بیشک تمہارا رب حیادار اور کریم ہے جب بندہ دعا کے لئے اُس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو بندے کو خالی ہاتھ لوٹاتے اُسے حیا آتی ہے۔(ترمذی، ابو داؤد، بیہقی)
(۶) ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض ہوتا ہے۔(ترمذی)
بندے کا خود اللہ سے دعا نہیں کرنا اور دوسروں سے دعا کے لئے کہنا اللہ کو ناراض کرتا ہے۔
(۷) حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :دعا ہر اُس مصیبت کو دور کرتی ہے جو آئی ہو یا نہ آئی ہو۔اے اللہ کے بندو! خود پر دعا کو لازم کر لو ۔ (ترمذی)
کوئی مصیبت یا پریشانی آئی ہو یا نہ آئی ہو ہر حال میں اللہ سے دعا کرنا ضروری ہے۔
(۸)حضرت سلمان فارسی ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :قضا کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر میں زیادتی صرف نیکی سے ہوتی ہے۔(ترمذی )
نیکی کرنے والے کی دعا اُس کی عمر بڑھاتی ہے اوراللہ کے فیصلے بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
دعا کا مطلب ہوتا ہے اللہ سے مدد مانگنا۔د نیا میں جب کسی پر ظلم، ناانصافی،حق تلفی یا بے عزتی کا معاملہ ہوتا ہے تو وہ انصاف کے لئے عدالت میں حاکم کے پاس مقدمہ کرتا ہے۔حاکم مدعی اور مدعا علیہ کی باتیں اور دلیلیں سن کر اندازہ لگاتا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔حاکم کو خود صحیح اور غلط کا علم نہیںہوتا ہے،وہ اندازے سے فیصلہ کرتا ہے۔
جو طاقتور اور دولت مند آدمی ہوتا ہے وہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ سے معاملے کو الٹ دیتا ہے ، مجرم ہونے پر بھی معصوم بن جاتاہے اور اپنی جگہ کسی بے گناہ کو مجرم بناکر خود کو سزا سے بچا لیتا ہے۔دنیا میں اس طرح کی ناانصافی ہمیشہ سے ہوتی چلی آرہی ہے۔نادان اور کم سمجھ لوگوں نے اسی کی بنیاد پر یہ سمجھ لیا کہ اللہ کے یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا۔اور ایسا سمجھنے میں دعا کو ایک سفارش یا پیروی سمجھ لیا،کہ جس آدمی کی اللہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچ ہے وہ دعا کر کے ہم کو سزا سے یا مصیبت سے بچا لے گا۔جب کہ قرآن کی ان آیتوں اور حدیثوں کو پڑھنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ:
(۱) اللہ آسمان پر بیٹھا ہوا نہیں ہے بلکہ اپنے تمام بندوں کو انتہائی قریب ہے ، دیکھ بھی رہا ہے، اُس کی بات سن بھی رہا ہے اور ہر طرح سے اُس کے حال سے باخبر بھی ہے۔
(۲) وہ خود اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ تم مددکے لئے مجھ کو پکارو میں تمہاری مدد کروں گا۔
(۳) اللہ کے یہاں بندے کا بڑ ا اور چھوٹا ہونا دنیا کے طور طریقے پر نہیں ہے بلکہ جو اللہ سے جتنا زیادہ ڈرتا ہے،جتنا زیادہ اُس کا حکم مانتا ہے،جتنا زیادہ گناہوں سے بچتا ہے وہ اللہ کا پیارا اور محبوب بندہ ہے۔اللہ تعالیٰ خود اپنے ایسے بندے کا بغیر مدد مانگے مددگارہوتا ہے۔
(۴) بندہ اللہ کو مدد کے لئے نہیں پکارے تو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا۔اُس کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ اُس کو مدد کے لئے پکارے۔جو آدمی خود اللہ سے دعا نہیں کرتا مگر دوسروںکو دعا کے لئے کہتا رہتا ہے ،سوچئے اللہ تعالیٰ دوسروں کے دعا کرنے سے اُس آدمی کی مصیبت دور کرے گا  ؟
(۵) مظلوم بندے کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ بجلی کی طرح اُس کی مدد کا انتظام کرتا ہے۔
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کیا دعا مانگنی چاہئے:
(۱) پروردگار اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر تو ہی دعا سننے والا ہے۔(آل عمران:۳۸)
(۲) اے ہمارے رب!  ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔(الفرقان:۷۴)
(۳) اے میرے رب مجھے حکم عطا کر اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر اور مجھے نعمتوں بھری جنت کے وارثوں میں شامل فرما اورمیرے باپ کو معاف فرما کہ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے اور مجھے دوبارہ جی اٹھنے کے دن رسوا نہ کرنا۔ (الشعراء: ۸۳/۸۷)
(۴) اے میرے رب ! یہ میں  نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں لہذا تو لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے ہمدردی پیدا کر دے اور انہیں کھانے کو پھل دے شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ (ابراہیم:۳۷)(یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے جب وہ خانہ کعبہ کی تعمیرکر رہے تھے)
(۵) اے میرے رب  !  میرے والدین پر رحم فرما جس طرح اُنہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔(بنی اسرائیل:۲۴)
(۶) اے میرے رب!  مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں، جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کیاہے اور ایسا عمل کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر ۔(النمل:۱۹)
(۷) اے ہمارے رب!  ہمیں اور ہمارے اُن بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اورہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ۔ اے ہمارے رب!  تو بڑا مہربان ہے اور رحیم ہے۔(الحشر:۱۰)
(۸) اے ہمارے رب!  ہمیں ظالم لوگوں کے لئے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات دے۔(یونس:۸۵/۸۶)
(۹) اے میرے رب مجھے بیماری لگ گئی ہے او رتو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ (الانبیاء: ۸۳)
اللہ تعالیٰ ہر اُس انسان کی دعا سنتا ہے ،جو اللہ اور رسولﷺ کے احکام کا پابند ہوتا ہے،مگر جو آدمی اللہ اور اُس کے رسولﷺکو نہیں جانتا اور اُن کی پیروی نہیں کرتا ،دوسروں کی بتائی ہوئی باتوں پر عقیدہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ شرک کر رہا ہے یعنی اللہ کی جگہ دوسروں کی باتیں مان رہا ہے۔ شرک ایسا گناہ ہے جسے اللہ کسی قیمت پر معاف نہیں کرے گا۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ دوجگہ فرماتا ہے:کون ہے جو اُس کی جناب میںاُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے۔جو کچھ بندوںکے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اورجو کچھ اُن سے اوجھل ہے اُس سے بھی واقف ہے۔اوراُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی پکڑ میں نہیں آ سکتی مگر یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود اُن کو دینا چاہے۔کوئی بھی اللہ کی اجازت کے بغیراُس(قیامت کے دن)  اللہ کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں کر سکے گاا ور سچ کے سوا کچھ نہیں بول سکے گا۔(البقرۃ:۲۵۵)جس روز روح اور ملائکہ صف باندھے کھڑے ہوں گے،کوئی نہ بولے گا سوااُس کے رحمن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ (النباء : ۳۸)
شفاعت کا فلسفہ اور دعا کرنے کی درخواست کرنے والے بیان کرنے والے قرآن کی ان دونوں آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں