
مفتی محمد ثناء الہدیٰ
آج کل زندگی کے تمام معاملات ومسائل میں آن لائن مشورے، دوا کی تشخیص سب کی ایک باڑھ سی آئی ہوئی ہے، اس سہولت کی وجہ سے جھولا چھاپ ڈاکٹر صحت ومرض کی حالت میں مشیر خصوصی بن گئے ہیں، قسم قسم کی ادویات کی آن لائن تشہیر کی جاتی ہے اور اشتہار کو اس قدر پُرکشش بنایا جاتا ہے کہ لوگ خواہی نخواہی اس میں پھنس جاتے ہیں، آن لائن آرڈر بھی دیدیتے ہیں، خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اسکرین پر دکھائی دینے والا ہر نسخہ آپ کی صحت کے لئے محفوظ نہیں ہے، کیوں کہ ان اشتہارات کا پچھہتر فی صد حصہ اوسطاً غلط، مغالطہ پیدا کرنے والا اور ناقص معلومات پر مبنی ہوتا ہے اور اکہتر فی صد لوگ یعنی ہر دس میں سے سات افراد انٹرنیٹ پر صحت سے متعلق فرضی دعووں کے شکار ہو رہے ہیں، ہندوستان میں میک کینسی کی ہیلتھ اینڈ ویلنس اسٹڈی کے مطابق ایک سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے۔
انٹرنیٹ پر موجود حیرت انگیز نسخوں کا استعمال کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ تمل ناڈو میں ایک خاندان نے یوٹیوب دیکھ کر گھر میں ہی معمول کے مطابق ولادت کا طریقہ اپنایا، نتیجۃً حاملہ عورت کی جان چلی گئی، ایک سروے میں حیران کن بات یہ نکل کر آئی ہے کہ اٹھارہ سے چونتیس سال کے اڑتیس فی صد نوجوان ڈاکٹر کی صلاح سے زیادہ سوشل میڈیا کے نسخوں پر اعتماد کرتے ہیں، حالاں کہ سب سے زیادہ صحت سے متعلق فرضی خبریں اور جعلی دواؤں کا ذخیرہ وہیں پڑا ہوتا ہے، صرف گوگل کی بات کریں تو روزانہ ہر سیکنڈ ستر ہزار کے قریب صحت سے متعلق تلاش ہوتی ہے اور ایلوپیتھ کے ساتھ دیگر طریقہ علاج کی دوائیں اور مشورے گھر بیٹھے مفت مل جاتے ہیں، نیٹ پر موجود صلاح کار پہلے لوگوں میں بیماری سے متعلق خوف پیدا کرتے ہیں، خوف کی نفسیات جب مریض پر غالب آجاتی ہے تو دوائیں تجویز کر دیتے ہیں اور آن لائن گھر تک پہونچانے کے لئے رقم پیشگی وصول لیتے ہیں، مریض سوچتا ہے کہ ڈاکٹروں کے یہاں نمبر لگانے میں مشکلات ہیں جو کبھی کبھی مہینوں طویل ہو جاتا ہے، آناً فاناً آن لائن علاج کرا لیا جائے، اسی میں عافیت ہے۔
سوشل میڈیا پر صحت کے نتیجے میں ان دنوں AI مصنوعی ذہانت سبقت لے گیا ہے، دی گارجین کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ AI ڈیپ فیک تکنیک کی مدد سے برطانیہ کے صحت اور مرض سے متعلق ماہرین کی نقلی ویڈیو بنا کر کس طرح فرضی اور حیرت ناک علاج کا پرچار کرتا رہا ہے۔
آن لائن ایک طرف یوگا کا پرچار ہوتا ہے اور دوسری طرف پتنجلی کی ادویات کا، یوگا کے بھی مہا گرو بابا رام دیو ہیں اور پتنجلی بھی ادویات کی ان کی ذاتی کمپنی ہے، ایک صاحب نے بجا یہ سوال اٹھایا کہ اگر یوگا سے تمام بیماریوں کا علاج ہو ہی جاتا ہے تو پتنجلی کی ادویات کی ضرورت کیا باقی رہ جاتی ہے، ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا، آن لائن ادویات کے علاج سے بڑا نقصان کورونا کے دور میں اٹھانا پڑا، بیماری سے شفا کے نام پر ”کڑھا“ کے مختلف نسخوں کا پرچار کیا جا رہا تھا اور بہت سارے لوگ اس کا استعمال کر کے جاں بحق ہو گئے، فارسی کی ایک بہت مشہور مثل ہے کہ ”نیم حکیم خطرہ جان“ آن لائن تشخیص دراصل اسی مثل کی عملی تفسیر ہے، بلکہ ممکن ہے کہ آن لائن جو ہدایات دے رہا ہے وہ نیم حکیم بھی نہ ہو۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک پروگرام میں ایک انجینئر صاحب اپنے ذریعہ تیار کردہ دوا کی تشہیر کر رہے تھے اور گیس کی مجرب دوا کہہ کر لوگوں میں تقسیم کر رہے تھے، انجینئرنگ اور ڈاکٹری کے فن میں جو دوریاں ہیں اس کا ادراک تو ہر کسی کو ہے، لیکن کیا کیجیے، یہ عجوبہ بھی یہاں ہو رہا ہے، پہلے کے جو نیم حکیم ہوتے تھے وہ جب اس قبرستان سے گزرتے، جہاں زیادہ تر لوگ ان کے نسخوں کے مارے ہوتے تو وہ اپنا منہ ڈھک لیتے تھے اور انہیں شرم محسوس ہوتی تھی کہ میں نے ان کی جان تدبیر کے پردے میں لے لی، آن لائن کے نیم حکیموں کو اس قدر بھی شرم نہیں آتی اور نہ ہی شرم کے اس اظہار کا ان کے پاس کوئی موقع ہوتا ہے، اس لئے آن لائن فراہم کردہ نسخوں کا استعمال بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے نہیں کرنا چاہیے،


