استاد کا سفر: معمار سے مسمارِ قوم تک

 

 

 

حمیرہ فاروق
آونیرہ، شوپیاں

ایک زمانہ تھا جب استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل تھا۔ استاد محض کتابی علم سکھانے والا شخص نہیں، بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور انسانی شعور کی آبیاری کرنے والا رہنما سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب ایسا دور آ گیا ہے کہ بعض اساتذہ نے اپنے منصب کی حرمت کو فراموش کر کے بچوں کی زندگیوں میں ایسے کردار ادا کرنا شروع کر دیے ہیں جہاں علم کے بجائے جہالت، تربیت کے بجائے اخلاقی بگاڑ اور شعور کے بجائے بے راہ روی کا عکس دکھائی دیتا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہر استاد ایسا نہیں ہوتا۔ آج بھی دنیا میں بااخلاق، باشعور، مخلص اور فرض شناس اساتذہ موجود ہیں، جن کے ذریعے کہیں نہ کہیں علم کی وہ روشنی میسر آتی ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتی ہے اور اسے صحیح و غلط میں تمیز کرنا سکھاتی ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے معاشرے کا مجموعی جائزہ لیں تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بعض افراد نے استاد جیسے مقدس پیشے کو اپنے ذاتی مفادات اور غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن ایسے سنگین مسائل ہمارے سامنے آتے ہیں جن سے استاد کے منصب کی عزت اور وقار مجروح ہوتا ہے۔

استاد کے نام پر علم کے بجائے فحش گوئی اور بداخلاقی کو فروغ دینے والے رویوں کو بعض اوقات ’’جدت‘‘ اور ’’جدیدیت‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی روش نئی نسل کی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات یہی رویے ان طلبہ میں بھی منتقل ہو جاتے ہیں جو استاد کی زیرِ تربیت ہوتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ دن بہ دن ایک ایسی وبا کا شکار ہوتا جا رہا ہے جہاں تعلیم علم و شعور حاصل کرنے کے بجائے محض پیسہ کمانے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ اخلاق، انسانیت، احساسِ ذمہ داری اور خوفِ خدا جیسی قدریں رفتہ رفتہ اپنی معنویت کھوتی جا رہی ہیں۔ اگر استاد اپنے منصب کو غلط طریقے سے استعمال کرے تو اس کے اثرات پوری قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔ بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے بجائے اگر کوئی شخص ان کی معصومیت اور اعتماد کو مجروح کرے، تو وہ صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ آنے والی نسل کے کردار کو بھی متاثر کرتا ہے۔
استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کبھی کبھی ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی استاد کے منصب تک پہنچ جاتے ہیں جو خود علم، اخلاق اور کردار کی روشنی سے محروم ہوتے ہیں۔ جن کے اپنے راستے دھندلا چکے ہوں، وہ دوسروں کو منزل کا راستہ کیسے دکھا سکتے ہیں؟

چونکہ استاد قوم کے مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اسی کی تعلیم و تربیت سے بڑے بڑے تاجر، ڈاکٹر، فلسفی، انجینئر اور سائنس دان وجود میں آتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت ایک بہترین استاد کے ہاتھوں ہو تو ہم ایک روشن اور تابناک مستقبل کی امید رکھ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر استاد اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو جائے اور طلبہ میں اخلاقی بے راہ روی، غیر سنجیدگی اور بے مقصدیت کو فروغ دینے لگے تو وہ معمارِ قوم کے بجائے نسلوں کے بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔
ایک اچھا استاد وہی ہے جو طلبہ میں دیانت داری، سچائی، عزت و احترام، محبت، صبر و شکر اور احساسِ انسانیت کو فروغ دے۔ جو استاد طلبہ کے اندر احساسِ کمتری پیدا کرنے کے بجائے ان میں خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرے، وہی حقیقی معنوں میں معمارِ قوم کہلانے کا مستحق ہے۔
اس کے برعکس جو استاد طلبہ کے درمیان رنگ، نسل، امیری، غریبی، ذات یا مذہب کی بنیاد پر امتیاز کرے، وہ قوم کی تعمیر نہیں بلکہ اس کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔ جو تعلیم کو محض ظاہری نمائش اور طلبہ کو خوش کرنے کا ذریعہ سمجھ لے، وہ حقیقی معلم نہیں ہو سکتا۔
نوجوان لڑکیوں کو اسٹیج پر غیر مناسب حرکات اور بے مقصد نمائش کی طرف راغب کرنا، ان کی ظاہری نمائش پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانا اور اسے کامیابی کا نام دینا تعلیم و تربیت نہیں۔ استاد کا منصب طلبہ کی عزت، شخصیت اور وقار کی حفاظت کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ ان کی معصومیت کو تماشے کا حصہ بنانے کا۔
استاد کا پیشہ اول ہی سے محترم اور مقدس رہا ہے، لیکن آج کے دور میں بعض جگہ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ پاکیزہ تعلق بھی متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے جو اعتماد، احترام اور تربیت کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو، استاد اور شاگرد کے درمیان بداخلاقی اور نامناسب تعلقات کی کوئی گنجائش نہیں۔ استاد کا اصل کام علم کی روشنی سے دلوں کو منور کرنا، کردار سنوارنا اور اچھے اخلاق کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔

لیکن افسوس کہ بعض افراد نے اس مقدس پیشے کو محض آمدنی، شہرت اور ذاتی مفاد کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تعلیم و تربیت، جو انسان کے اندر شعور پیدا کرتی ہے، اگر اسی ذمہ داری سے دست برداری اختیار کر لی جائے تو اس کے نتائج نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
استاد کا کام صرف کلاس میں آ کر کتاب پڑھا دینا نہیں۔ اس کا اصل فریضہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کی رہنمائی کرنا، ان کی کمزوریوں کو سمجھنا اور انہیں ان کے مقصدِ حیات تک پہنچنے کے لئے راستہ دکھانا ہے۔ جو استاد حوصلہ افزائی کے بجائے طلبہ کی تذلیل کرے اور ان کے اندر علم حاصل کرنے کا شوق ختم کر دے، وہ ان کی شخصیت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
آج کل بعض تعلیمی اداروں میں ایسے بچوں کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے جو زیادہ بولنے والے ہوں یا ظاہری سرگرمیوں میں نمایاں ہوں، جبکہ وہ طلبہ جو صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود کم گو، شرمیلے یا خاموش طبیعت کے ہوتے ہیں، اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ خاموشی کمزوری کی علامت نہیں؛ بہت سے باصلاحیت ذہن اپنی صلاحیتوں کا اظہار شور سے نہیں بلکہ اپنے علم، کردار اور عمل سے کرتے ہیں۔ استاد کا فرض ہے کہ وہ ہر طالب علم کی انفرادی صلاحیت کو پہچانے اور اسے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے۔

استاد کے نام پر آج کل بعض بچوں کے ساتھ جو نامناسب سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کے بارے میں سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سوچنا چاہیے کہ استاد کا پیشہ تو پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ نبیِ کریم ﷺ معلم بن کر دنیا میں تشریف لائے اور انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایسی روشنی کی راہ دکھائی جس کا کوئی زوال نہیں۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو عزت، محبت، مساوات اور حسنِ اخلاق کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے نسل، رنگ، خاندان اور دیگر تمام امتیازات کو پسِ پشت ڈال کر انسانوں کو ایک دوسرے کے احترام اور عدل و انصاف کی تعلیم دی۔
آج اگر کوئی شخص استاد کے منصب کو اپنی خواہشات، مفادات یا غلط مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے تو وہ اس مقدس پیشے کی توہین کرتا ہے۔ تعلیمی ادارے وہ مقامات ہیں جہاں بچوں کو علم، شعور اور اخلاق حاصل ہونا چاہیے۔ اگر وہاں بدکرداری، بد اخلاقی اور غیر ذمہ داری فروغ پانے لگے تو یہ پورے معاشرے کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

قوم کو مسمار کرنے والا استاد طلبہ میں دیانت داری، سچائی، محنت، نظم و ضبط اور خدمتِ خلق کے بجائے غفلت، اخلاقی بگاڑ اور غیر ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔ وہ خود اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معصوم طالب علم کی شخصیت میں بھی بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اچھا استاد وہ ہے جو اپنے تمام طلبہ کے ساتھ انصاف کا سلوک کرے۔ خواہ کوئی طالب علم کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتا ہو، امیر ہو یا غریب، ذہین ہو یا کمزور، کم گو ہو یا نمایاں، پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ؛ استاد کے لئے سب یکساں ہونے چاہییں۔ اگر استاد طلبہ کے درمیان امتیاز برتنا شروع کر دے تو ان کے دلوں میں احساسِ محرومی، مایوسی اور ناانصافی جنم لیتی ہے۔

یہ احساسات مستقبل میں ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، کیونکہ آج کے یہی طلبہ کل کے معمارِ قوم ہوں گے۔ یہی ڈاکٹر، فلسفی، انجینئر، سائنس دان، استاد اور رہنما بنیں گے۔ اگر ان کے ذہنوں میں ابتدا ہی سے تعصب، ناانصافی اور احساسِ محرومی بھر دیا جائے تو قوم کا حقیقی ارتقا ممکن نہیں۔

استاد کو طلبہ کے درمیان منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ہر طالب علم علم کی روشنی سے منور ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے۔ قوم کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں؛ حقیقی ترقی باکردار، باشعور اور بااخلاق نسل کی تشکیل سے ہوتی ہے، اور اس نسل کی تعمیر میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
الغرض، استاد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف کتابوں کا علم منتقل نہیں کر رہا بلکہ ایک نسل کی شخصیت، فکر اور کردار تشکیل دے رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ طلبہ میں علم کے ساتھ انسانیت، احترام، عزت، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرے اور اپنے پیشے کو پاک و منزہ رکھے، تاکہ معاشرے میں حضرت یوسفؑ جیسے باحیا مرد اور حضرت فاطمہؓ جیسی باکردار و بااخلاق خواتین کے کردار کی جھلک رکھنے والی نسل پروان چڑھے۔

والدین، معاشرہ اور استاد تینوں مل کر طالب علم کی زندگی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر گھر، اسکول اور معاشرہ بچوں کی تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں تو ایسی نسلِ نو کی امید قائم کی جا سکتی ہے جو مستقبل کو شاداب، روشن اور شادمان بنانے کا ذریعہ بنے۔
استاد کو سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ استاد کس کو کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنے منصب کی حقیقت ہی کو نہ سمجھے تو نہ جانے کتنی زندگیاں اس کی غفلت اور غلط رویے کی نذر ہو سکتی ہیں۔
استاد کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے؛ لہٰذا کسی کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ اس کے برعکس ایسی تربیت کریں جو طالب علم کے دل و دماغ ہی نہیں بلکہ اس کی روح تک اتر جائے،

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

استاد کا سفر: معمار سے مسمارِ قوم تک

 

 

 

حمیرہ فاروق
آونیرہ، شوپیاں

ایک زمانہ تھا جب استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل تھا۔ استاد محض کتابی علم سکھانے والا شخص نہیں، بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور انسانی شعور کی آبیاری کرنے والا رہنما سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب ایسا دور آ گیا ہے کہ بعض اساتذہ نے اپنے منصب کی حرمت کو فراموش کر کے بچوں کی زندگیوں میں ایسے کردار ادا کرنا شروع کر دیے ہیں جہاں علم کے بجائے جہالت، تربیت کے بجائے اخلاقی بگاڑ اور شعور کے بجائے بے راہ روی کا عکس دکھائی دیتا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہر استاد ایسا نہیں ہوتا۔ آج بھی دنیا میں بااخلاق، باشعور، مخلص اور فرض شناس اساتذہ موجود ہیں، جن کے ذریعے کہیں نہ کہیں علم کی وہ روشنی میسر آتی ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتی ہے اور اسے صحیح و غلط میں تمیز کرنا سکھاتی ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے معاشرے کا مجموعی جائزہ لیں تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بعض افراد نے استاد جیسے مقدس پیشے کو اپنے ذاتی مفادات اور غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن ایسے سنگین مسائل ہمارے سامنے آتے ہیں جن سے استاد کے منصب کی عزت اور وقار مجروح ہوتا ہے۔

استاد کے نام پر علم کے بجائے فحش گوئی اور بداخلاقی کو فروغ دینے والے رویوں کو بعض اوقات ’’جدت‘‘ اور ’’جدیدیت‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی روش نئی نسل کی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات یہی رویے ان طلبہ میں بھی منتقل ہو جاتے ہیں جو استاد کی زیرِ تربیت ہوتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ دن بہ دن ایک ایسی وبا کا شکار ہوتا جا رہا ہے جہاں تعلیم علم و شعور حاصل کرنے کے بجائے محض پیسہ کمانے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ اخلاق، انسانیت، احساسِ ذمہ داری اور خوفِ خدا جیسی قدریں رفتہ رفتہ اپنی معنویت کھوتی جا رہی ہیں۔ اگر استاد اپنے منصب کو غلط طریقے سے استعمال کرے تو اس کے اثرات پوری قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔ بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے بجائے اگر کوئی شخص ان کی معصومیت اور اعتماد کو مجروح کرے، تو وہ صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ آنے والی نسل کے کردار کو بھی متاثر کرتا ہے۔
استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کبھی کبھی ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی استاد کے منصب تک پہنچ جاتے ہیں جو خود علم، اخلاق اور کردار کی روشنی سے محروم ہوتے ہیں۔ جن کے اپنے راستے دھندلا چکے ہوں، وہ دوسروں کو منزل کا راستہ کیسے دکھا سکتے ہیں؟

چونکہ استاد قوم کے مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اسی کی تعلیم و تربیت سے بڑے بڑے تاجر، ڈاکٹر، فلسفی، انجینئر اور سائنس دان وجود میں آتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت ایک بہترین استاد کے ہاتھوں ہو تو ہم ایک روشن اور تابناک مستقبل کی امید رکھ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر استاد اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو جائے اور طلبہ میں اخلاقی بے راہ روی، غیر سنجیدگی اور بے مقصدیت کو فروغ دینے لگے تو وہ معمارِ قوم کے بجائے نسلوں کے بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔
ایک اچھا استاد وہی ہے جو طلبہ میں دیانت داری، سچائی، عزت و احترام، محبت، صبر و شکر اور احساسِ انسانیت کو فروغ دے۔ جو استاد طلبہ کے اندر احساسِ کمتری پیدا کرنے کے بجائے ان میں خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرے، وہی حقیقی معنوں میں معمارِ قوم کہلانے کا مستحق ہے۔
اس کے برعکس جو استاد طلبہ کے درمیان رنگ، نسل، امیری، غریبی، ذات یا مذہب کی بنیاد پر امتیاز کرے، وہ قوم کی تعمیر نہیں بلکہ اس کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔ جو تعلیم کو محض ظاہری نمائش اور طلبہ کو خوش کرنے کا ذریعہ سمجھ لے، وہ حقیقی معلم نہیں ہو سکتا۔
نوجوان لڑکیوں کو اسٹیج پر غیر مناسب حرکات اور بے مقصد نمائش کی طرف راغب کرنا، ان کی ظاہری نمائش پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانا اور اسے کامیابی کا نام دینا تعلیم و تربیت نہیں۔ استاد کا منصب طلبہ کی عزت، شخصیت اور وقار کی حفاظت کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ ان کی معصومیت کو تماشے کا حصہ بنانے کا۔
استاد کا پیشہ اول ہی سے محترم اور مقدس رہا ہے، لیکن آج کے دور میں بعض جگہ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ پاکیزہ تعلق بھی متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے جو اعتماد، احترام اور تربیت کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو، استاد اور شاگرد کے درمیان بداخلاقی اور نامناسب تعلقات کی کوئی گنجائش نہیں۔ استاد کا اصل کام علم کی روشنی سے دلوں کو منور کرنا، کردار سنوارنا اور اچھے اخلاق کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔

لیکن افسوس کہ بعض افراد نے اس مقدس پیشے کو محض آمدنی، شہرت اور ذاتی مفاد کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تعلیم و تربیت، جو انسان کے اندر شعور پیدا کرتی ہے، اگر اسی ذمہ داری سے دست برداری اختیار کر لی جائے تو اس کے نتائج نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
استاد کا کام صرف کلاس میں آ کر کتاب پڑھا دینا نہیں۔ اس کا اصل فریضہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کی رہنمائی کرنا، ان کی کمزوریوں کو سمجھنا اور انہیں ان کے مقصدِ حیات تک پہنچنے کے لئے راستہ دکھانا ہے۔ جو استاد حوصلہ افزائی کے بجائے طلبہ کی تذلیل کرے اور ان کے اندر علم حاصل کرنے کا شوق ختم کر دے، وہ ان کی شخصیت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
آج کل بعض تعلیمی اداروں میں ایسے بچوں کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے جو زیادہ بولنے والے ہوں یا ظاہری سرگرمیوں میں نمایاں ہوں، جبکہ وہ طلبہ جو صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود کم گو، شرمیلے یا خاموش طبیعت کے ہوتے ہیں، اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ خاموشی کمزوری کی علامت نہیں؛ بہت سے باصلاحیت ذہن اپنی صلاحیتوں کا اظہار شور سے نہیں بلکہ اپنے علم، کردار اور عمل سے کرتے ہیں۔ استاد کا فرض ہے کہ وہ ہر طالب علم کی انفرادی صلاحیت کو پہچانے اور اسے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے۔

استاد کے نام پر آج کل بعض بچوں کے ساتھ جو نامناسب سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کے بارے میں سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سوچنا چاہیے کہ استاد کا پیشہ تو پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ نبیِ کریم ﷺ معلم بن کر دنیا میں تشریف لائے اور انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایسی روشنی کی راہ دکھائی جس کا کوئی زوال نہیں۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو عزت، محبت، مساوات اور حسنِ اخلاق کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے نسل، رنگ، خاندان اور دیگر تمام امتیازات کو پسِ پشت ڈال کر انسانوں کو ایک دوسرے کے احترام اور عدل و انصاف کی تعلیم دی۔
آج اگر کوئی شخص استاد کے منصب کو اپنی خواہشات، مفادات یا غلط مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے تو وہ اس مقدس پیشے کی توہین کرتا ہے۔ تعلیمی ادارے وہ مقامات ہیں جہاں بچوں کو علم، شعور اور اخلاق حاصل ہونا چاہیے۔ اگر وہاں بدکرداری، بد اخلاقی اور غیر ذمہ داری فروغ پانے لگے تو یہ پورے معاشرے کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

قوم کو مسمار کرنے والا استاد طلبہ میں دیانت داری، سچائی، محنت، نظم و ضبط اور خدمتِ خلق کے بجائے غفلت، اخلاقی بگاڑ اور غیر ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔ وہ خود اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معصوم طالب علم کی شخصیت میں بھی بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اچھا استاد وہ ہے جو اپنے تمام طلبہ کے ساتھ انصاف کا سلوک کرے۔ خواہ کوئی طالب علم کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتا ہو، امیر ہو یا غریب، ذہین ہو یا کمزور، کم گو ہو یا نمایاں، پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ؛ استاد کے لئے سب یکساں ہونے چاہییں۔ اگر استاد طلبہ کے درمیان امتیاز برتنا شروع کر دے تو ان کے دلوں میں احساسِ محرومی، مایوسی اور ناانصافی جنم لیتی ہے۔

یہ احساسات مستقبل میں ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، کیونکہ آج کے یہی طلبہ کل کے معمارِ قوم ہوں گے۔ یہی ڈاکٹر، فلسفی، انجینئر، سائنس دان، استاد اور رہنما بنیں گے۔ اگر ان کے ذہنوں میں ابتدا ہی سے تعصب، ناانصافی اور احساسِ محرومی بھر دیا جائے تو قوم کا حقیقی ارتقا ممکن نہیں۔

استاد کو طلبہ کے درمیان منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ہر طالب علم علم کی روشنی سے منور ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے۔ قوم کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں؛ حقیقی ترقی باکردار، باشعور اور بااخلاق نسل کی تشکیل سے ہوتی ہے، اور اس نسل کی تعمیر میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
الغرض، استاد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف کتابوں کا علم منتقل نہیں کر رہا بلکہ ایک نسل کی شخصیت، فکر اور کردار تشکیل دے رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ طلبہ میں علم کے ساتھ انسانیت، احترام، عزت، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرے اور اپنے پیشے کو پاک و منزہ رکھے، تاکہ معاشرے میں حضرت یوسفؑ جیسے باحیا مرد اور حضرت فاطمہؓ جیسی باکردار و بااخلاق خواتین کے کردار کی جھلک رکھنے والی نسل پروان چڑھے۔

والدین، معاشرہ اور استاد تینوں مل کر طالب علم کی زندگی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر گھر، اسکول اور معاشرہ بچوں کی تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں تو ایسی نسلِ نو کی امید قائم کی جا سکتی ہے جو مستقبل کو شاداب، روشن اور شادمان بنانے کا ذریعہ بنے۔
استاد کو سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ استاد کس کو کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنے منصب کی حقیقت ہی کو نہ سمجھے تو نہ جانے کتنی زندگیاں اس کی غفلت اور غلط رویے کی نذر ہو سکتی ہیں۔
استاد کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے؛ لہٰذا کسی کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ اس کے برعکس ایسی تربیت کریں جو طالب علم کے دل و دماغ ہی نہیں بلکہ اس کی روح تک اتر جائے،

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں