سرینگر:
اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت ایک ’نازک دور‘سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے اگست 2019 کے واقعہ جس میں مرکز نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ریاستی درجہ بھی چھین لیا، کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا۔
سید محمد الطاف بخاری اپنی پارٹی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب میں حضرت بل حلقے سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاسی و سماجی لیڈران و کارکنان اپنی پارٹی میں شامل ہوئے۔ اس موقع پر سید محمد الطاف بخاری اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں نے نئے
انہوں نے مزید کہا، ’’5 اگست کو کی گئی تبدیلیوں کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے عوام زمین اور ملازمتوں پر اپنے خصوصی حقوق سے محروم ہوگئے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص یہاں زمین خریدنے اور ملازمت حاصل کرنے کا اہل ہوگیا تھا۔ یہ ہماری شناخت اور ڈیموگرافی کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ اْس وقت جب ہم نے روایتی قیادت کو خاموشی اختیار کرتے دیکھا تو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ ہم سامنے آئیں اور اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں۔ ہم دہلی گئے، حکومتی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں قائل کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو یہاں زمین اور ملازمتوں پر اپنے خصوصی حقوق برقرار رہنے چاہئیں۔‘‘
سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’خوش قسمتی سے ہم مرکز کو قائل کرنے میں کامیاب رہے اور بالآخر ایسا حکم جاری کیا گیا جس کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کے زمین اور ملازمتوں پر خصوصی حقوق بحال کیے گئے۔ 70 سالہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ تھا کہ جموں و کشمیر نے اپنی کھوئی ہوئی کسی چیز کو دوبارہ حاصل کیا۔ اس نازک مرحلے پر یہی اپنی پارٹی کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن تھا۔‘‘ڈومیسائل کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ اگر 2024 کے انتخابات میں عوام نے اپنی پارٹی کو مینڈیٹ دیا ہوتا تو ’’ہم رہائشی شرط کی موجودہ مدت کو 15 سال سے بڑھا کر 50 سال کر دیتے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’چھ سال گزر چکے ہیں، لیکن موجودہ حکومت اس اہم مسئلے پر بات تک نہیں کرتی۔ وہ اسے کسی اہمیت کا حامل مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔‘‘
پارٹی جوائن کرنے والے اشخاص کا خیرمقدم کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’اپنی پارٹی میں نئے اراکین کا خیرمقدم کرنا میرے لیے ہمیشہ باعثِ مسرت ہوتا ہے۔ میں ہر بار پارٹی میں نئے شامل ہونے والے ساتھیوں سے خلوص کے ساتھ کہتا ہوں کہ انہیں اس پارٹی سے کبھی مایوسی نہیں ہوگی۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اپنی پارٹی ایسی جماعت ہے جو اپنے عوام اور اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ جب آپ اپنے اپنے علاقوں میں عوام کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پوری قیادت آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے کام کرتے ہوئے ہم ہر چیلنج کے دوران آپ کی حمایت کریں گے، آپ کی رہنمائی کریں گے اور آپ کے ساتھ موجود رہیں گے۔‘‘
پارٹی جوائن کرنے والوں میں محترمہ خیرْالنسا، غلام محمد راتھر، عادل فیاض، فاضل فیاض، وحیدہ جی، نائرہ بانو، گلشن جی، فیاض احمد بٹ، ساجد فیاض، آصف علی، عبدالرشید، اویس اسرار، نعیمہ راتھر اور دیگر اشخاص شامل تھے۔اس موقعہ پر سید محمد الطاف بخاری کے علاوہ پارٹی کے جو سرکردہ لیڈران موجود تھے، اْن میں نائب صدر حاجی محمد سید ا?خون، صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر، ریاستی سیکریٹری و ترجمان اعلیٰ منتظر محی الدین، ضلع صدر سرینگر و حلقہ انچارج سینٹرل شالہ ٹینگ ظفر حبیب، صوبائی سیکریٹری کشمیر محمد سلیم لون، آرگنائزر سینٹرل کشمیر محمد شفیع میر، حلقہ انچارج حضرت بل محمد صدیق میر، حلقہ انچارج زڈی بل تحسین فاروق، سینئر لیڈر ریاض غنی، پارٹی لیڈر سہیل احمد وانی، ماجد پٹھان، اعجاز بخاری اور دیگر شامل لیڈران تھے۔


