
محمدیوسف رحیم بیدری
پھر یوں ہواکہ(بیرون کے اشارے پر) ہرطرف پرائیویٹ اسکول کھولنے کی حکومت نے اپنی عوام کو اجازت دے دی۔ مختلف طبقات نے اپنے اپنے طبقے کے آداب، اس کی تہذیب اور اس کی ثقافت کو بچانے کے لئے پورے منصوبے اور جوش وخروش کے ساتھ پرائیویٹ اسکول اپنے اپنے سماج میں لے آئے۔
تعلیم مہنگی توپہلے سے تھی لیکن کچھ عرصہ میں ہی جب یہ پرائیویٹ اسکول دوکانوں اور’’ Educational Maal ‘‘
میں بدل گئے تو تعلیم مہنگی سے کئی قدم آگے بڑھ کرشہریوں کی پہنچ سے پوری طرح باہر ہوگئی ۔ سونے سے بنائی جانے والی مختلف اشیاء کی طرح تعلیم بھی انگریزی ڈیزائن اورسنٹنسس میں تولہ تولہ فروخت ہونے لگی ۔
اپنے اپنے طبقات کے آداب ، اس کی تہذیب وثقافت کو بچانے کے لئے آگے آنے والے ذمہ دار لوگ
Educational Maal کی بدولت دولت ِ حاضرہ سے مالامال ہوگئے لیکن غریب عوام کاجینا دوبھر ہوگیا۔ غریب عوام ان مہنگے اسکولوں میں اپنے بچوں کوپڑھانہیں سکتی تھی۔ سرکاری اسکولوں میں ان کے بچے پڑھتے رہے۔ لیکن آخرکب تک ، پھر اس کے بعد ایک بھونچال آگیا‘‘ اتنا کہہ کر بشیرا خاموش ہوگیا۔ لیکن بیرون ملک سے پندرہ بیس سال بعد اپنے ملک تعطیلات پر آئے دوست خاموش نہ رہ سکے ۔ پوچھا’’پھر کیاہوا بشیرا؟ کیاحکومت نے غریبوں کو اپنے ملک سے نکال دیا؟کیوں کہ سناہے کہ صیہونیوں سے ہماری حکومت دوستی کرچکی ہے ‘‘
بشیر انے کہا’’یہی کچھ ہوا۔ عالمی بینک سے تعلیم کے لئے قرض لیاگیاتھا، دروغ برگردن ِ راوی ،عالمی بینک کافرمان ہے کہ ، قدیم ڈھرے پر چلنے والے سرکاری اسکول بندہوں ، اس کے لئے ایک طرف پرائیویٹ اسکولوں کی بہتات ہوا وردوسری جانب عالمی بینک کے نقشہ کے مطابق نئے سرکاری اسکول کھول کر ان نئے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کوانگریزی تعلیم دی جائے ۔ اور جو زبانیں ملکی ہیں ،انھیں نہ پڑھاکر دراصل ان کودیش نکالاملنا چاہیے ‘‘
ہم سب نے کہا’’یہ تو ملکی زبانوں کے ساتھ غداری ہے ‘‘ بشیرا بولا ’’حکومت کو غدار کون کہے گا، اس کو پالیسی کا حصہ کہتے ہیں، نیشنل انٹرسٹ کہتے ہیں۔ اس کو قومی ترقی کی راہ کہتے ہیں ‘‘
کینیڈا سے تشریف لائے ونود شراکی نے کہا’’ملکی زبانوں کی میت پر بیٹھ کر ترقی کرنے کو ترقی نہیں تنزلی کہیں گے ‘‘
بشیر اکی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ وہ اٹھااور اٹھ کرجاتے ہوئے کہنے لگا’’تم کچھ کرسکتے ہوتو کرو ورنہ ہماری ہی حکومتوں کے ہاتھوں ہماری اپنی پیاری پیاری ملکی زبانیں برباد ہوجائیں گی۔ خداراحکومتی تنزلی کی اس ہوا کاگلاگھونٹ دو ، ایسی زہریلی ہواؤں کاچلنا ملک کے لئے خطرناک ہے ‘‘
وہ چلاگیاہے اور ہم سب خاموش ہیں۔ کچھ نہ کچھ سوچ رہے ہیں۔


