افسانہ: امید کا چراغ

 

 

پہاڑی درے کے دامن میں بسے ایک چھوٹے سے گاؤں چنار کوٹ میں ایک لڑکا رہتا تھا”عرفان”۔اس کی عمر سترہ برس تھی۔مگر اس کی آنکھوں میں زندگی سے بڑی خواہشیں آباد تھی۔وہ جب صبح سویرے گاؤں کی تنگ گلیوں سے گزرتا،اپنے کندھے پر بستہ لٹکائے،تو اس کی تیز چلتی ہوئی قدموں سے لگتا تھا جیسے وہ کسی منزل کی طرف نہیں،کسی خواب کی طرف جا رہا ہو۔
عرفان کا گھر مٹی کی ایک پرانی جھونپڑی تھی۔باپ پہاڑوں کے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرتا تھا،مگر کئی مہینوں سے بیمار تھا۔ماں دوسروں کے گھروں میں برتن دھوتی،مگر اس کی کمائی سے صرف چولہا جل سکتا تھا،مستقبل نہیں ان حالات میں صرف ایک چیز تھی جو روشن تھی وہ عرفان کی آنکھوں کی چمک۔اسے پڑھائی سے عشق تھا۔غربت کی گرد اس کی خواہشوں پر کبھی جم نہیں پاتی تھی۔استادوں کا کہنا تھا کہ وہ پوری کلاس میں سب سے تیز ہے۔مگر تیزی پیٹ نہیں بھرتی اور خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے محنت کے ساتھ ساتھ کچھ قسمت بھی چاہیے جو عرفان کے گھر کے دروازے تک کا راستہ بھول گئی تھی۔
ایک شام عرفان جب یہ سکول سے لوٹا،تو گھر کے باہر ماں کی سسکیوں کی آواز سن کر ٹھٹک گیا۔
کیا ہوا اماں؟وہ گھبرا کر اندر آیا۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو پوچھے اور پھر ماں نے کہا”تمہارے ابا کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔حکیم نے کہا ہے دوائ لینی پڑیں گی۔۔۔۔اور اس کے لئے پیسے!”
عرفان نے ماں کے ہاتھ تھام لئے۔
میں کچھ کر لوں گا اماں،آپ بس رویے مت۔
اس ٹھنڈ رات جھونپڑی میں کوئی چین سے نہ سویا۔عرفان دیر تک سوچتا رہا،گھٹیا میں کروٹیں بدلتا رہا۔اگلے دن اسکول جاتے ہوئے اس کے قدم سست تھے، مگر دل مضبوط۔عرفان کو اسکول کے بعد کچھ گھنٹے مقامی چائے کی دکان پر کام مل گیا۔وہ گاہکوں کو پانی،چائے،بسکٹ وغیرہ دیتا اور خالی وقت میں کاؤنٹر پر رکھے پرانے اخبارات پڑھتا رہتا۔اس کے ہاتھوں سے گزری ہوئی ہر پرانی کتاب اس کے لئے کسی خزانے سے کم نہ ہوتی۔
چند دن بعد اسکول میں داخلے کی فیس ادا کرنے کا وقت قریب آگیا۔استاد نعیم نے عرفان سے پوچھا،
فیس جمع کر دی؟
عرفان نے نظریں جھکا لیں۔
سر اس بار نہیں ہو پائے گا
نعیم صاحب نے غور سے اسے دیکھا عرفان تم اسکول کی امید ہو۔میں تمہیں پڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔میں تمہاری فیس ادا کر دیتا ہوں تم پڑھائی ترک نہیں کرو گے۔فیس ادا ہونے کے باوجود عرفان اگلی صبح بہت دیر تک گھر سے باہر کہیں غائب رہا۔جب لوٹا تو ماں نے پوچھا کہاں تھا؟
عرفان نے کہا ایک کام ملا ہے،کچھ پیسے آنے لگیں گے۔
اصل میں عرفان گاؤں کے باہر تعمیل کے کام میں مٹی اٹھانے یعنی مزدوری کا کام کر رہا تھا۔وہ تھک کر چور ہو گیا،ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے،مگر دل میں عجیب سی خوشی تھی وہ اپنے خواب کے لئے اور اپنے ابا کے لئے مشکلات سے لڑ رہا تھا۔اب عرفان نے اپنے ارادہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیا۔اب وہ رات دیر تک پڑھتا،صبح جلدی اٹھتا اور ہر موضوع کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کرتا جیسے یہی اس کی زندگی کا مقصد ہے۔استاد نعیم اس کی مسلسل پیش رفت دیکھ کر حیران ہوتے وہ اکثر کہتے:
"عرفان۔۔۔۔تم میں وہ ہمت ہے جو بہت سے بڑے لوگوں میں بھی نہیں ہوتی”۔
مگر زندگی کو ابھی ایک اور امتحان لینا باقی تھا۔
ایک رات عرفان کے ابا کی طبیعت پھر سے سدید بگڑ گئی۔ماں کا چہرہ زرد ہو گیا تھا حکیم صاحب کو بلایا اور حکیم نے دوا لینے کو کہا مگر گھر میں اتنے پیسے نہیں تھے۔عرفان نے اپنی کتابیں بند کر دیں اور چائے کی دکان سے چھٹی لے کر پھر مزدوری کرنے چل گیا۔
جب سامنے مزدوری کر کے گھر لوٹا تو ساتھ میں دوائیں بھی لے کر آیا۔پھر دوسرے دن اسکول کے امتحان شروع ہو چکے تھے۔عرفان رات کے سناٹے میں بیٹھا وہ خود سے لڑتا رہا۔آخر کار اس نے ایک فیصلہ کر لیا۔
اس نے خود سے کہا،
اگر خواب میرا ہے تو اس کی قیمت بھی مجھے ہی چکانی ہوگی،کوئی اور قربانی کیوں دے گا کوئی بھی قربانی چھوٹی نہیں ہوتی۔
وہ اب مزدوری بھی کرتا اور رات کو موم بتی کی روشنی میں پڑ بھی لیتا۔نیند سے آنکھیں جل جاتے،ہاتھ درد کرتے،مگر وہ رکنے کے لئے پیدا نہیں ہوا تھا۔اخری دن کا امتحان تھا ریاضی کا وہ سب سے مشکل مضمون تھا،مگر عرفان اس سے اپنا سب سے مضبوط سمجھتا تھا امتحان شروع ہوا عرفان نے پہلا سوال حل کیا۔۔۔۔۔پھر دوسرا اور ایسے کر کے پورے سوالات حل کر لئے۔
ایک ماہ کے بعد نتیجے آنے والے تھے اس دوران عرفان کے دل میں "امید کا چراغ”جل رہا تھا اور ماں کی دعائیں بھی ساتھ تھی۔
ایک ماہ کے بعد جب نتیجہ آیا،پورا گاؤں جمع تھا۔استاد نعیم نے فہرست اٹھائی،نام دیکھتے ہی ان کے چہرے پر روشنی پھیل گئی۔
عرفان۔۔۔پورے ضلع میں اول آیا ہے۔
گاؤں کے لوگ تالیاں بجانے لگے،بچے خوشی سے اچھلنے لگے،مگر عرفان بس خاموش کھڑا رہا۔اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔وہ بھاگ کر گھر پہنچا،باپ کی قدموں میں بیٹھ گیا اور فخر سے بولا۔
ابا میں کامیاب ہو گیا!
جب ابا نے یہ بات سنا تب کچھ یوں محسوس ہوا کہ ابا کی طبیعت دراصل بگڑی ہی نہیں تھی۔ماں اور ابا بہت زیادہ خوش ہوئے اور ابا نے کہا بیٹا مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ تم اندھیروں میں بھی اپنا راستہ تلاش کر لو گے۔
ماں نے اسے گلے لگا لیا۔جھونپڑی میں پہلی بار خوشی نے قدم رکھا۔ضلع کے بڑے اسکولوں سے اسکالرشپ کی پیشکش آئی۔عرفان اب بڑے خواب دیکھنے لگا تھا۔ہر چیز اب ممکن لگ رہی تھی۔اس نے وہ پرانی کتاب سنبھال کر رکھی تھی،جس نے پہلی بار اس کے دل میں آگ بھڑکائی تھی۔وہ اکثر اسے کھول کر کہتا،
میری امید کا چراغ تم ہی ہو۔
اور کچھ چراغ کبھی بجھتے نہیں۔
کیونکہ وہ انسان کے اندر چلتے ہیں،دنیا سے دور۔۔۔۔مگر قسمت کو بدل دینے والی روشنی کے ساتھ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

افسانہ: امید کا چراغ

 

 

پہاڑی درے کے دامن میں بسے ایک چھوٹے سے گاؤں چنار کوٹ میں ایک لڑکا رہتا تھا”عرفان”۔اس کی عمر سترہ برس تھی۔مگر اس کی آنکھوں میں زندگی سے بڑی خواہشیں آباد تھی۔وہ جب صبح سویرے گاؤں کی تنگ گلیوں سے گزرتا،اپنے کندھے پر بستہ لٹکائے،تو اس کی تیز چلتی ہوئی قدموں سے لگتا تھا جیسے وہ کسی منزل کی طرف نہیں،کسی خواب کی طرف جا رہا ہو۔
عرفان کا گھر مٹی کی ایک پرانی جھونپڑی تھی۔باپ پہاڑوں کے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرتا تھا،مگر کئی مہینوں سے بیمار تھا۔ماں دوسروں کے گھروں میں برتن دھوتی،مگر اس کی کمائی سے صرف چولہا جل سکتا تھا،مستقبل نہیں ان حالات میں صرف ایک چیز تھی جو روشن تھی وہ عرفان کی آنکھوں کی چمک۔اسے پڑھائی سے عشق تھا۔غربت کی گرد اس کی خواہشوں پر کبھی جم نہیں پاتی تھی۔استادوں کا کہنا تھا کہ وہ پوری کلاس میں سب سے تیز ہے۔مگر تیزی پیٹ نہیں بھرتی اور خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے محنت کے ساتھ ساتھ کچھ قسمت بھی چاہیے جو عرفان کے گھر کے دروازے تک کا راستہ بھول گئی تھی۔
ایک شام عرفان جب یہ سکول سے لوٹا،تو گھر کے باہر ماں کی سسکیوں کی آواز سن کر ٹھٹک گیا۔
کیا ہوا اماں؟وہ گھبرا کر اندر آیا۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو پوچھے اور پھر ماں نے کہا”تمہارے ابا کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔حکیم نے کہا ہے دوائ لینی پڑیں گی۔۔۔۔اور اس کے لئے پیسے!”
عرفان نے ماں کے ہاتھ تھام لئے۔
میں کچھ کر لوں گا اماں،آپ بس رویے مت۔
اس ٹھنڈ رات جھونپڑی میں کوئی چین سے نہ سویا۔عرفان دیر تک سوچتا رہا،گھٹیا میں کروٹیں بدلتا رہا۔اگلے دن اسکول جاتے ہوئے اس کے قدم سست تھے، مگر دل مضبوط۔عرفان کو اسکول کے بعد کچھ گھنٹے مقامی چائے کی دکان پر کام مل گیا۔وہ گاہکوں کو پانی،چائے،بسکٹ وغیرہ دیتا اور خالی وقت میں کاؤنٹر پر رکھے پرانے اخبارات پڑھتا رہتا۔اس کے ہاتھوں سے گزری ہوئی ہر پرانی کتاب اس کے لئے کسی خزانے سے کم نہ ہوتی۔
چند دن بعد اسکول میں داخلے کی فیس ادا کرنے کا وقت قریب آگیا۔استاد نعیم نے عرفان سے پوچھا،
فیس جمع کر دی؟
عرفان نے نظریں جھکا لیں۔
سر اس بار نہیں ہو پائے گا
نعیم صاحب نے غور سے اسے دیکھا عرفان تم اسکول کی امید ہو۔میں تمہیں پڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔میں تمہاری فیس ادا کر دیتا ہوں تم پڑھائی ترک نہیں کرو گے۔فیس ادا ہونے کے باوجود عرفان اگلی صبح بہت دیر تک گھر سے باہر کہیں غائب رہا۔جب لوٹا تو ماں نے پوچھا کہاں تھا؟
عرفان نے کہا ایک کام ملا ہے،کچھ پیسے آنے لگیں گے۔
اصل میں عرفان گاؤں کے باہر تعمیل کے کام میں مٹی اٹھانے یعنی مزدوری کا کام کر رہا تھا۔وہ تھک کر چور ہو گیا،ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے،مگر دل میں عجیب سی خوشی تھی وہ اپنے خواب کے لئے اور اپنے ابا کے لئے مشکلات سے لڑ رہا تھا۔اب عرفان نے اپنے ارادہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیا۔اب وہ رات دیر تک پڑھتا،صبح جلدی اٹھتا اور ہر موضوع کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کرتا جیسے یہی اس کی زندگی کا مقصد ہے۔استاد نعیم اس کی مسلسل پیش رفت دیکھ کر حیران ہوتے وہ اکثر کہتے:
"عرفان۔۔۔۔تم میں وہ ہمت ہے جو بہت سے بڑے لوگوں میں بھی نہیں ہوتی”۔
مگر زندگی کو ابھی ایک اور امتحان لینا باقی تھا۔
ایک رات عرفان کے ابا کی طبیعت پھر سے سدید بگڑ گئی۔ماں کا چہرہ زرد ہو گیا تھا حکیم صاحب کو بلایا اور حکیم نے دوا لینے کو کہا مگر گھر میں اتنے پیسے نہیں تھے۔عرفان نے اپنی کتابیں بند کر دیں اور چائے کی دکان سے چھٹی لے کر پھر مزدوری کرنے چل گیا۔
جب سامنے مزدوری کر کے گھر لوٹا تو ساتھ میں دوائیں بھی لے کر آیا۔پھر دوسرے دن اسکول کے امتحان شروع ہو چکے تھے۔عرفان رات کے سناٹے میں بیٹھا وہ خود سے لڑتا رہا۔آخر کار اس نے ایک فیصلہ کر لیا۔
اس نے خود سے کہا،
اگر خواب میرا ہے تو اس کی قیمت بھی مجھے ہی چکانی ہوگی،کوئی اور قربانی کیوں دے گا کوئی بھی قربانی چھوٹی نہیں ہوتی۔
وہ اب مزدوری بھی کرتا اور رات کو موم بتی کی روشنی میں پڑ بھی لیتا۔نیند سے آنکھیں جل جاتے،ہاتھ درد کرتے،مگر وہ رکنے کے لئے پیدا نہیں ہوا تھا۔اخری دن کا امتحان تھا ریاضی کا وہ سب سے مشکل مضمون تھا،مگر عرفان اس سے اپنا سب سے مضبوط سمجھتا تھا امتحان شروع ہوا عرفان نے پہلا سوال حل کیا۔۔۔۔۔پھر دوسرا اور ایسے کر کے پورے سوالات حل کر لئے۔
ایک ماہ کے بعد نتیجے آنے والے تھے اس دوران عرفان کے دل میں "امید کا چراغ”جل رہا تھا اور ماں کی دعائیں بھی ساتھ تھی۔
ایک ماہ کے بعد جب نتیجہ آیا،پورا گاؤں جمع تھا۔استاد نعیم نے فہرست اٹھائی،نام دیکھتے ہی ان کے چہرے پر روشنی پھیل گئی۔
عرفان۔۔۔پورے ضلع میں اول آیا ہے۔
گاؤں کے لوگ تالیاں بجانے لگے،بچے خوشی سے اچھلنے لگے،مگر عرفان بس خاموش کھڑا رہا۔اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔وہ بھاگ کر گھر پہنچا،باپ کی قدموں میں بیٹھ گیا اور فخر سے بولا۔
ابا میں کامیاب ہو گیا!
جب ابا نے یہ بات سنا تب کچھ یوں محسوس ہوا کہ ابا کی طبیعت دراصل بگڑی ہی نہیں تھی۔ماں اور ابا بہت زیادہ خوش ہوئے اور ابا نے کہا بیٹا مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ تم اندھیروں میں بھی اپنا راستہ تلاش کر لو گے۔
ماں نے اسے گلے لگا لیا۔جھونپڑی میں پہلی بار خوشی نے قدم رکھا۔ضلع کے بڑے اسکولوں سے اسکالرشپ کی پیشکش آئی۔عرفان اب بڑے خواب دیکھنے لگا تھا۔ہر چیز اب ممکن لگ رہی تھی۔اس نے وہ پرانی کتاب سنبھال کر رکھی تھی،جس نے پہلی بار اس کے دل میں آگ بھڑکائی تھی۔وہ اکثر اسے کھول کر کہتا،
میری امید کا چراغ تم ہی ہو۔
اور کچھ چراغ کبھی بجھتے نہیں۔
کیونکہ وہ انسان کے اندر چلتے ہیں،دنیا سے دور۔۔۔۔مگر قسمت کو بدل دینے والی روشنی کے ساتھ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں