افسانہ: چرب زبان

 

 

oplus_2097185

محمد ایوب گنائی

ترال بالا پلوامہ

"جناب، آپ جیسا ایماندار افسر میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ آپ کے دفتر میں آ کر لگتا ہے کہ ابھی بھی اس ملک میں انصاف کی سانسیں چل رہی ہیں۔”
رشید نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر ایسی عقیدتسے سر جھکایا جیسے سامنے کوئی سرکاری افسر نہیں، کسی آستانے کا بابرکت بزرگ بیٹھا ہو۔
صابر احمد نے فائل سے نظریں اٹھائیں اور اسے چند لمحے گہری خاموشی سے دیکھا۔ "بس کرو رشید! تمہاری تعریفیں ہمیشہ کسی نہ کسی ناپید کاغذ پر دستخط کروانے کے لئے ہی باہر نکلتی ہیں۔”
رشید کے چہرے پر ایک دلکش، بے ضرر سی مسکراہٹ ابھری۔ "جناب! کام تو دنیا کا چلتا رہتا ہے، مگر سچی تعریف روکنا اپنے بس میں کہاں؟ آپ کی شخصیت میں وہ رعب ہے ہی نہیں۔”
"اچھا؟” صابر احمد نے قلم کی نوک میز پر ٹکائی، "تو پھر آج اس بے ساختہ تعریف کی قیمت کیا ہے؟”
رشید نے سرک کر کرسی کے مزید قریب ہو کر آواز کو رازدارانہ حد تک دھیما کر لیا۔ "جناب، ایک غریب کا گھر اجڑنے سے بچ سکتا ہے۔ بس ذرا سی نظرِ کرم…”
صابر احمد کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ انہوں نے فائل رشید کے سامنے واپس سرکا دی۔ "اس فائل کی تہہ میں جو جال ہے رشید، وہ قانون کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ کاغذات مکمل کرو، ورنہ یہ سفارش یہیں دفن رہے گی۔”
رشید نے خاموشی سے فائل اٹھائی، ایک بار پھر احترام سے سر خم کیا اور باہر نکل گیا۔ لیکن جیسے ہی بھاری دروازہ بند ہوا، صابر احمد نے ایک لمبی سانس کھینچی۔ انہیں رشید کی باتوں سے نفرت نہیں تھی، انہیں اس خوفناک سچائی سے ڈر لگتا تھا کہ یہ مکھن جیسی زبان کس کی زندگی کو چاٹنے جا رہی ہے۔
شہر میں وہ "چرب زبان رشید” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی زبان پر ایسا شہد تھا جو سننے والے کے حواس پر بے ہوشی طاری کر دیتا۔ وہ کسی دکاندار سے ملتا تو اسے قارون کا خزانہ دار بناتا، کسی معمولی اہلکار کو دیکھتا تو اسے مملکت کا ستون قرار دیتا۔ مگر اس شہد کی تہہ میں زہر کا ایسا خنجر چھپا ہوتا تھا جو سامنے والے کی جیب اور زمین پر صاف صفائی سے چل جاتا۔ محلے کے بوڑھے کریم داد کہا کرتے تھے: "بیٹا! جو شخص بات بات پر تمہارے پیروں پر پھول نچھاور کرے، ذرا جھک کر دیکھنا کہ اس کے اپنے پاؤں کس کے سر پر رکھے ہوئے ہیں۔”
رشید کا اصل دھندا دلالی تھا۔ لیکن اس کے اپنے لفظوں میں وہ "مشکل کشا” تھا۔ ہسپتال میں بستر چاہیے ہو، تھانے سے بندہ چھڑوانا ہو، یا پھر کسی مسکین کی فائل سرکانی ہو—رشید کا موبائل دن رات بجتا رہتا۔
اس کی بیوی زینب اکثر تشویش سے پوچھتی، "آپ لوگوں کو دلاسہ دیتے ہیں یا ان کے اندھیروں میں خواب بیچتے ہیں؟”
رشید قہقہہ لگا کر جواب دیتا، "زینب! سچ کی قیمت کوئی نہیں دیتا، لوگ صرف وہی خواب خریدتے ہیں جو انہیں اچھے لگتے ہیں۔”
پھر ایک دن محلے کا یتیم لڑکا حامد اپنی باپ کی متروکہ زمین کے کاغذات لئے، آنکھوں میں امید کے چراغ جلائے رشید کے پاس آیا۔ رشید نے اس کے کندھے پر باپ جیسا ہاتھ رکھا اور بغیر ایک روپیہ لئے کام کرانے کی قسم کھائی۔ لیکن یہ صرف جال کا پہلا دھاگا تھا۔ چند ہی ہفتوں میں رشید نے ڈرامائی انداز میں حامد کے سامنے اپنے ہاتھ ملے۔ "بیٹا! زمین پر تو پرانا قرض نکل آیا ہے۔ عدالت تم سے یہ زمین چھین لے گی۔”
خوف سے کانپتے ہوئے حامد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ رشید نے فوراً ایک "مسیحا” بن کر اپنے ہی ایک قریبی دوست سے رقم کا بندوبست کرایا اور حامد سے ایک کاغذ پر دستخط کروا لئے۔ چند ہی مہینوں کے اندر، قرض نہ ادا ہونے کا سوانگ رچا کر، وہ زمین رسمی طور پر رشید کے دوست اور عملاً رشید کے نام منتقل ہو چکی تھی۔
جب حامد کو اس سنگین دھوکے کا علم ہوا اور وہ تڑپتا ہوا رشید کے دروازے پر پہنچا، تو رشید نے مسکرانے کی بھی زحمت نہ کی۔ اس کے لہجے سے تمام شہد غائب ہو چکا تھا۔ "بھروسہ جذبات کا نام ہے حامد، اور یہ کاغذات کا معاملہ ہے۔ یہاں صرف سیاہی بولتی ہے۔”
حامد روتا ہوا گلی سے گزرا تو کریم داد نے اسے سہارا دیا۔ بوڑھے نے رشید کے اونچے مکان کی طرف دیکھ کر دھیمے سے کہا، "زمین ہار گئے ہو حامد، ہمت مت ہارنا۔ زبان سے بنے گئے جال ایک دن اپنے ہی بننے والے کا دم گھوٹ دیتے ہیں۔”
وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما۔ رشید کی امارت اور رسوخ بڑھتا گیا۔ اس کے کپڑے بدل گئے، گاڑی بدل گئی اور بات چیت کا انداز مزید پارسا ہو گیا۔ وہ اب بڑے بڑے جلسوں میں اخلاقیات پر بولتا اور لوگ تالیاں بجاتے۔ لیکن قانونِ قدرت کا اپنا ایک بے رحم نصاب ہوتا ہے۔ ایک شام، رشید کے اکلوتے بیٹے فہد کو پولیس نے ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم میں گرفتار کر لیا۔
رشید کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اس نے اپنا فون اٹھایا۔ وہی فون جو کبھی لمحے بھر کو خاموش نہیں ہوتا تھا۔ اس نے جن جن افسران، سیاستدانوں اور تاجروں کے گناہ اپنی زبان کے پردے میں چھپائے تھے، ایک ایک کر کے سب کو کال ملائی۔
"صاحب! میرا بیٹا بے گناہ ہے…”
"معذرت رشید صاحب! معاملہ ذرا سخت ہے۔” (فون کٹ گیا)
"بھائی! تم تو جانتے ہو میں نے تمہارے لئے کیا کچھ نہیں کیا…”
"وہ پرانی باتیں تھیں رشید، اب قانون اپنا کام کرے گا۔” (دوسری طرف سے بوق کی آواز)
رشید پر پہلی بار یہ خوفناک حقیقت کھلی کہ اس کی دلکش باتیں لوگوں کو موم تو کر سکتی تھیں، مگر کوئی بھی اس موم کے پگھلنے پر اپنا ہاتھ جلانے کو تیار نہیں تھا۔ اس کا سارا اثر و رسوخ ریت کی طرح اس کی انگلیوں سے پھسل گیا۔
ابھی بیٹا جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی تھا کہ حامد کے کیس کا نیا موڑ سامنے آیا۔ معلوم ہوا کہ حامد کو وہ اصل رسیدیں اور معاہدے کا اصلی مسودہ مل گیا ہے جو رشید کی تمام چالاکیوں کو ننگا کرنے کے لئے کافی تھا۔ اور یہ کاغذات کسی اور نے نہیں، بلکہ کریم داد نے اپنی وفات سے پہلے عدالت میں جمع کروائے تھے۔
مقدمہ چلا، اور چند ہی ہفتوں میں فیصلہ آ گیا۔ رشید کا جادو ختم ہو چکا تھا۔ زمین حامد کو واپس مل گئی، اور اس کے ساتھ ہی رشید کی دہائیوں سے بنائی گئی ساکھ کا شیشہ چکنا چور ہو گیا۔ وہ لوگ جو کبھی اس کی آمد پر احتراماً کھڑے ہو جاتے تھے، اب اسے گلی میں دیکھ کر منہ پھیر لیتے یا راستہ بدل دیتے۔ اس کا چمکتا ہوا موبائل اب دن رات خاموش رہتا—جیسے اس میں زندگی ہی نہ رہی ہو۔
ایک شام، وہ اپنے سنسان صحن میں اکیلا بیٹھا تھا جب زینب نے چائے کا کپ سامنے رکھا۔
رشید نے بھاری آواز میں پوچھا، "زینب! جب ایک انسان پوری زندگی دنیا کے سامنے جھوٹ کا محل تعمیر کرتا رہے، تو آخر میں اس کے پاس کیا بچتا ہے؟”
زینب نے اسے دکھ سے دیکھا اور خاموشی سے بولی، "صرف سناٹا… اور وہ سچ جسے سننے کی اس میں کبھی ہمت نہیں ہوتی۔”
اگلی صبح، رشید گلی سے گزر رہا تھا کہ سامنے سے حامد آتا دکھائی دیا۔ حامد کے چہرے پر اطمینان تھا، اور رشید کے دل میں ہمیشہ کی طرح لفظوں کا ایک طوفان مچلنے لگا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ آگے بڑھے، حامد کو گلے لگائے، اپنے بیٹے کی بیماری کا واسطہ دے، ایک بار پھر شہد میں ڈوبی تقریر کرے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرے۔
مگر اس بار رشید نے حامد کو دیکھا… اور چپ رہا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

افسانہ: چرب زبان

 

 

oplus_2097185

محمد ایوب گنائی

ترال بالا پلوامہ

"جناب، آپ جیسا ایماندار افسر میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ آپ کے دفتر میں آ کر لگتا ہے کہ ابھی بھی اس ملک میں انصاف کی سانسیں چل رہی ہیں۔”
رشید نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر ایسی عقیدتسے سر جھکایا جیسے سامنے کوئی سرکاری افسر نہیں، کسی آستانے کا بابرکت بزرگ بیٹھا ہو۔
صابر احمد نے فائل سے نظریں اٹھائیں اور اسے چند لمحے گہری خاموشی سے دیکھا۔ "بس کرو رشید! تمہاری تعریفیں ہمیشہ کسی نہ کسی ناپید کاغذ پر دستخط کروانے کے لئے ہی باہر نکلتی ہیں۔”
رشید کے چہرے پر ایک دلکش، بے ضرر سی مسکراہٹ ابھری۔ "جناب! کام تو دنیا کا چلتا رہتا ہے، مگر سچی تعریف روکنا اپنے بس میں کہاں؟ آپ کی شخصیت میں وہ رعب ہے ہی نہیں۔”
"اچھا؟” صابر احمد نے قلم کی نوک میز پر ٹکائی، "تو پھر آج اس بے ساختہ تعریف کی قیمت کیا ہے؟”
رشید نے سرک کر کرسی کے مزید قریب ہو کر آواز کو رازدارانہ حد تک دھیما کر لیا۔ "جناب، ایک غریب کا گھر اجڑنے سے بچ سکتا ہے۔ بس ذرا سی نظرِ کرم…”
صابر احمد کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ انہوں نے فائل رشید کے سامنے واپس سرکا دی۔ "اس فائل کی تہہ میں جو جال ہے رشید، وہ قانون کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ کاغذات مکمل کرو، ورنہ یہ سفارش یہیں دفن رہے گی۔”
رشید نے خاموشی سے فائل اٹھائی، ایک بار پھر احترام سے سر خم کیا اور باہر نکل گیا۔ لیکن جیسے ہی بھاری دروازہ بند ہوا، صابر احمد نے ایک لمبی سانس کھینچی۔ انہیں رشید کی باتوں سے نفرت نہیں تھی، انہیں اس خوفناک سچائی سے ڈر لگتا تھا کہ یہ مکھن جیسی زبان کس کی زندگی کو چاٹنے جا رہی ہے۔
شہر میں وہ "چرب زبان رشید” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی زبان پر ایسا شہد تھا جو سننے والے کے حواس پر بے ہوشی طاری کر دیتا۔ وہ کسی دکاندار سے ملتا تو اسے قارون کا خزانہ دار بناتا، کسی معمولی اہلکار کو دیکھتا تو اسے مملکت کا ستون قرار دیتا۔ مگر اس شہد کی تہہ میں زہر کا ایسا خنجر چھپا ہوتا تھا جو سامنے والے کی جیب اور زمین پر صاف صفائی سے چل جاتا۔ محلے کے بوڑھے کریم داد کہا کرتے تھے: "بیٹا! جو شخص بات بات پر تمہارے پیروں پر پھول نچھاور کرے، ذرا جھک کر دیکھنا کہ اس کے اپنے پاؤں کس کے سر پر رکھے ہوئے ہیں۔”
رشید کا اصل دھندا دلالی تھا۔ لیکن اس کے اپنے لفظوں میں وہ "مشکل کشا” تھا۔ ہسپتال میں بستر چاہیے ہو، تھانے سے بندہ چھڑوانا ہو، یا پھر کسی مسکین کی فائل سرکانی ہو—رشید کا موبائل دن رات بجتا رہتا۔
اس کی بیوی زینب اکثر تشویش سے پوچھتی، "آپ لوگوں کو دلاسہ دیتے ہیں یا ان کے اندھیروں میں خواب بیچتے ہیں؟”
رشید قہقہہ لگا کر جواب دیتا، "زینب! سچ کی قیمت کوئی نہیں دیتا، لوگ صرف وہی خواب خریدتے ہیں جو انہیں اچھے لگتے ہیں۔”
پھر ایک دن محلے کا یتیم لڑکا حامد اپنی باپ کی متروکہ زمین کے کاغذات لئے، آنکھوں میں امید کے چراغ جلائے رشید کے پاس آیا۔ رشید نے اس کے کندھے پر باپ جیسا ہاتھ رکھا اور بغیر ایک روپیہ لئے کام کرانے کی قسم کھائی۔ لیکن یہ صرف جال کا پہلا دھاگا تھا۔ چند ہی ہفتوں میں رشید نے ڈرامائی انداز میں حامد کے سامنے اپنے ہاتھ ملے۔ "بیٹا! زمین پر تو پرانا قرض نکل آیا ہے۔ عدالت تم سے یہ زمین چھین لے گی۔”
خوف سے کانپتے ہوئے حامد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ رشید نے فوراً ایک "مسیحا” بن کر اپنے ہی ایک قریبی دوست سے رقم کا بندوبست کرایا اور حامد سے ایک کاغذ پر دستخط کروا لئے۔ چند ہی مہینوں کے اندر، قرض نہ ادا ہونے کا سوانگ رچا کر، وہ زمین رسمی طور پر رشید کے دوست اور عملاً رشید کے نام منتقل ہو چکی تھی۔
جب حامد کو اس سنگین دھوکے کا علم ہوا اور وہ تڑپتا ہوا رشید کے دروازے پر پہنچا، تو رشید نے مسکرانے کی بھی زحمت نہ کی۔ اس کے لہجے سے تمام شہد غائب ہو چکا تھا۔ "بھروسہ جذبات کا نام ہے حامد، اور یہ کاغذات کا معاملہ ہے۔ یہاں صرف سیاہی بولتی ہے۔”
حامد روتا ہوا گلی سے گزرا تو کریم داد نے اسے سہارا دیا۔ بوڑھے نے رشید کے اونچے مکان کی طرف دیکھ کر دھیمے سے کہا، "زمین ہار گئے ہو حامد، ہمت مت ہارنا۔ زبان سے بنے گئے جال ایک دن اپنے ہی بننے والے کا دم گھوٹ دیتے ہیں۔”
وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما۔ رشید کی امارت اور رسوخ بڑھتا گیا۔ اس کے کپڑے بدل گئے، گاڑی بدل گئی اور بات چیت کا انداز مزید پارسا ہو گیا۔ وہ اب بڑے بڑے جلسوں میں اخلاقیات پر بولتا اور لوگ تالیاں بجاتے۔ لیکن قانونِ قدرت کا اپنا ایک بے رحم نصاب ہوتا ہے۔ ایک شام، رشید کے اکلوتے بیٹے فہد کو پولیس نے ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم میں گرفتار کر لیا۔
رشید کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اس نے اپنا فون اٹھایا۔ وہی فون جو کبھی لمحے بھر کو خاموش نہیں ہوتا تھا۔ اس نے جن جن افسران، سیاستدانوں اور تاجروں کے گناہ اپنی زبان کے پردے میں چھپائے تھے، ایک ایک کر کے سب کو کال ملائی۔
"صاحب! میرا بیٹا بے گناہ ہے…”
"معذرت رشید صاحب! معاملہ ذرا سخت ہے۔” (فون کٹ گیا)
"بھائی! تم تو جانتے ہو میں نے تمہارے لئے کیا کچھ نہیں کیا…”
"وہ پرانی باتیں تھیں رشید، اب قانون اپنا کام کرے گا۔” (دوسری طرف سے بوق کی آواز)
رشید پر پہلی بار یہ خوفناک حقیقت کھلی کہ اس کی دلکش باتیں لوگوں کو موم تو کر سکتی تھیں، مگر کوئی بھی اس موم کے پگھلنے پر اپنا ہاتھ جلانے کو تیار نہیں تھا۔ اس کا سارا اثر و رسوخ ریت کی طرح اس کی انگلیوں سے پھسل گیا۔
ابھی بیٹا جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی تھا کہ حامد کے کیس کا نیا موڑ سامنے آیا۔ معلوم ہوا کہ حامد کو وہ اصل رسیدیں اور معاہدے کا اصلی مسودہ مل گیا ہے جو رشید کی تمام چالاکیوں کو ننگا کرنے کے لئے کافی تھا۔ اور یہ کاغذات کسی اور نے نہیں، بلکہ کریم داد نے اپنی وفات سے پہلے عدالت میں جمع کروائے تھے۔
مقدمہ چلا، اور چند ہی ہفتوں میں فیصلہ آ گیا۔ رشید کا جادو ختم ہو چکا تھا۔ زمین حامد کو واپس مل گئی، اور اس کے ساتھ ہی رشید کی دہائیوں سے بنائی گئی ساکھ کا شیشہ چکنا چور ہو گیا۔ وہ لوگ جو کبھی اس کی آمد پر احتراماً کھڑے ہو جاتے تھے، اب اسے گلی میں دیکھ کر منہ پھیر لیتے یا راستہ بدل دیتے۔ اس کا چمکتا ہوا موبائل اب دن رات خاموش رہتا—جیسے اس میں زندگی ہی نہ رہی ہو۔
ایک شام، وہ اپنے سنسان صحن میں اکیلا بیٹھا تھا جب زینب نے چائے کا کپ سامنے رکھا۔
رشید نے بھاری آواز میں پوچھا، "زینب! جب ایک انسان پوری زندگی دنیا کے سامنے جھوٹ کا محل تعمیر کرتا رہے، تو آخر میں اس کے پاس کیا بچتا ہے؟”
زینب نے اسے دکھ سے دیکھا اور خاموشی سے بولی، "صرف سناٹا… اور وہ سچ جسے سننے کی اس میں کبھی ہمت نہیں ہوتی۔”
اگلی صبح، رشید گلی سے گزر رہا تھا کہ سامنے سے حامد آتا دکھائی دیا۔ حامد کے چہرے پر اطمینان تھا، اور رشید کے دل میں ہمیشہ کی طرح لفظوں کا ایک طوفان مچلنے لگا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ آگے بڑھے، حامد کو گلے لگائے، اپنے بیٹے کی بیماری کا واسطہ دے، ایک بار پھر شہد میں ڈوبی تقریر کرے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرے۔
مگر اس بار رشید نے حامد کو دیکھا… اور چپ رہا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں