
ڈاکٹر بریگیڈیئر مختار عالم
احمد ایک چھوٹے سے شہر میں رہنے والے ایک معمولی کلرک کا بیٹا تھا۔ اس کے خاندان کے مالی حالات بہت محدود تھے، لیکن اس کے والد ہمیشہ اسے یہ سکھاتے تھے کہ غربت تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں کبھی بہانہ نہیں بننی چاہیے۔ احمد ایک ذہین، بااصول، محنتی اور نظم و ضبط کا پابند لڑکا تھا۔ اس نے پوری لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور دسویں جماعت کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔
اس کی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اسکالرشپ حاصل ہوئی، جہاں اس نے کیمسٹری میں بی۔ایس۔سی اور ایم۔ایس۔سی کی تعلیم حاصل کی۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے احمد ہر موقع کی قدر جانتا تھا۔ وہ گھنٹوں کتب خانے اور لیبارٹری میں گزار دیتا اور اس عزم کے ساتھ محنت کرتا کہ وہ ثابت کرے گا کہ صلاحیت اور مسلسل جدوجہد مالی مشکلات کو شکست دے سکتی ہیں۔ اس نے یونیورسٹی میں اول مقام حاصل کیا۔
اس کی غیر معمولی تعلیمی قابلیت سے متاثر ہوکر یونیورسٹی نے احمد کو لیکچرار مقرر کردیا۔ لیکن احمد نے اپنی کامیابی کو مکمل نہیں سمجھا۔ اس نے اپنی تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا اور آخرکار پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کرلی۔ اس کا علم، خلوص، محنت اور قائدانہ صلاحیتیں اسے مزید کامیابیوں کی طرف لے گئیں اور بالآخر وہ شعبۂ کیمسٹری کا صدرِ شعبہ (HOD) بن گیا۔
اسی دوران احمد کی شادی سلمیٰ سے ہوگئی، جو خود بھی ایک پرعزم اور محنتی محققہ تھیں۔ سلمیٰ نے بھی پی۔ایچ۔ڈی مکمل کی اور یونیورسٹی میں ملازمت اختیار کرلی۔ دونوں صرف زندگی کے ساتھی ہی نہیں تھے بلکہ علم، تحقیق اور معاشرے کی خدمت کے میدان میں بھی ایک دوسرے کے بہترین رفیق بن گئے۔ وہ ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے اور ایک دوسرے کی کامیابیوں پر انتہائی سادگی اور عاجزی کے ساتھ خوش ہوتے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں دو اولاد سے نوازا۔ ان کا بیٹا بھی اپنے والدین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے لیکچرار بنا، جبکہ ان کی بیٹی نے طب کی تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر بن گئی۔ احمد اور سلمیٰ کو اپنی اولاد پر بے حد فخر تھا، لیکن اس لئے نہیں کہ ان کے بچوں نے کامیاب پیشے اختیار کیے تھے، بلکہ اس لئے کہ وہ ذمہ دار، رحم دل اور اچھے انسان بن کر پروان چڑھے تھے۔
ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد احمد اور سلمیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کے باقی سال امریکہ میں گزاریں گے، جہاں انہیں علمی اور تحقیقی میدان میں نئے مواقع میسر آسکتے تھے۔ احمد نے ایک معروف تحقیقی ادارے میں شمولیت اختیار کی اور کیمسٹری کے شعبے میں اسی جذبے اور شوق کے ساتھ تحقیق جاری رکھی جو طالب علمی کے زمانے سے اس کی رہنمائی کرتا آیا تھا۔
برسوں کی مسلسل محنت، منفرد تحقیق اور ثابت قدمی نے بالآخر اسے اپنے علمی سفر کا سب سے بڑا اعزاز عطا کیا—کیمسٹری کا نوبیل انعام۔
لیکن اس عظیم اعزاز نے احمد کے کردار کو ذرا بھی نہیں بدلا۔ اسے وہ دن ہمیشہ یاد رہے جب اس کے والد نے اس کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مشکلات برداشت کی تھیں، اور وہ اسکالرشپ بھی یاد رہی جس نے اس کے لئے کامیابی کے دروازے کھولے تھے۔
وہ اکثر کہا کرتا تھا:
“میری کامیابی صرف میری نہیں ہے۔ اس میں ہر اس استاد کا حصہ ہے جس نے میری رہنمائی کی، ہر اس شخص کا حصہ ہے جس نے میری حوصلہ افزائی کی، اور ہر اس موقع کا حصہ ہے جس نے مجھے سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔”
معاشرے کا قرض ادا کرنے کے لئے احمد اور سلمیٰ نے ایک فلاحی تعلیمی ٹرسٹ قائم کیا، جو غریب لیکن باصلاحیت طلبہ و طالبات کے لئے اسکالرشپ، کتابیں، ٹیوشن فیس اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کرتا تھا۔ اس ٹرسٹ کا مقصد ان ذہین نوجوانوں کی مدد کرنا تھا جو مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوسکتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ سیکڑوں طلبہ نے ان کی سخاوت اور تعلیمی خدمت سے فائدہ اٹھایا۔ ان میں سے بہت سے طلبہ آگے چل کر ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سائنس دان اور سول سروس کے افسر بنے۔
احمد کی زندگی کا سفر اس حقیقت کا روشن ثبوت تھا کہ عظیم کامیابیاں دولت یا مراعات کی محتاج نہیں ہوتیں۔ وہ تعلیم، محنت، مستقل مزاجی، عاجزی اور دوسروں کی خدمت کے جذبے سے حاصل ہوتی ہیں۔
احمد کی سب سے بڑی کامیابی نوبیل انعام حاصل کرنا نہیں تھی، بلکہ یہ تھی کہ اس نے اپنی کامیابی کو دوسروں کے لئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔
اخلاقی سبق
تعلیم ایک انسان کی زندگی بدل سکتی ہے، لیکن جب تعلیم اور علم دوسروں کے ساتھ بانٹے جائیں تو وہ نسلوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ حقیقی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ ہم خود کتنی بلندی تک پہنچے، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ ہم نے کتنے لوگوں کو اپنے ساتھ بلندی تک پہنچنے میں مدد دی


