کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟

شیخ افلاق حسین سیمانی 
سیموہ ترال پلوامہ
کبھی کبھی انسان زندگی کے کسی ایسے موڑ پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں اس کے پاس شکوہ کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے، مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ آنکھیں سوال کرتی ہیں، دل جواب مانگتا ہے اور انسان خاموشی سے اپنے آپ سے صرف ایک سوال کرتا رہ جاتا ہے:
"کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟”
اکمل کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک ایسے گھر کی کہانی، جہاں کبھی محبت تھی، اپنائیت تھی، لاڈ تھا، اور ایک دوسرے کے لیے جینے کا جذبہ تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہی گھر اجنبیت، خاموشی اور فاصلے کی علامت بن گیا۔
اکمل ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ والدین کی محدود آمدنی تھی، وسائل کم تھے، مگر گھر میں محبت کی کوئی کمی نہ تھی۔ وہ اپنے والدین کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا، اور شاید یہی وجہ تھی کہ اسے گھر کے ہر فرد سے بے پناہ محبت ملی۔ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کی ہر خواہش کا خیال رکھا جاتا، اس کی معمولی سی تکلیف بھی گھر والوں کے لیے بڑی پریشانی بن جاتی۔
بچپن سے جوانی تک اکمل نے اپنے گھر میں صرف محبت دیکھی تھی۔ اسے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ وہ کسی مشکل میں تنہا رہ سکتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ چاہے دنیا اس کے خلاف ہو جائے، اس کا گھر، اس کے والدین اور اس کے بہن بھائی ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
لیکن انسان اکثر زندگی کے بارے میں وہی سوچتا ہے جو اسے ماضی میں ملا ہوتا ہے، جبکہ زندگی کبھی کبھی اچانک ایسے امتحان سامنے رکھ دیتی ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
شادی کے بعد اکمل کی زندگی میں ایک نیا رشتہ شامل ہوا۔ اس کی بیوی اس کے لیے صرف شریکِ حیات نہیں بلکہ اس کے نئے گھر کی بنیاد تھی۔ اکمل کی خواہش تھی کہ جس طرح اس نے اپنے والدین کو عزت دی، اسی طرح اس کی بیوی بھی گھر کے ہر فرد کا احترام کرے اور گھر کے تمام رشتے محبت سے قائم رہیں۔
مگر حالات نے کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔
آہستہ آہستہ گھر کے ماحول میں تبدیلی آنے لگی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں اختلافات کا سبب بننے لگیں۔ باتیں بڑھنے لگیں اور وہ لوگ جو کبھی اکمل کو گھر کا لاڈلا سمجھتے تھے، رفتہ رفتہ اسی اکمل اور اس کی بیوی سے ناراض ہونے لگے۔
اکمل کے لیے یہ سب ناقابلِ یقین تھا۔
وہ سوچتا رہا کہ آخر ایسا کیا بدل گیا؟ کیا شادی کے بعد انسان اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو جاتا ہے؟ کیا ایک نئی رشتہ داری پرانی محبتوں کو کم کر دیتی ہے؟ یا پھر گھر کے افراد کے دل میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں برسوں کی محبت پر غالب آ جاتی ہیں؟
اکمل نے خاموش رہنے کے بجائے اپنے والد سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے شکایت کی، مگر اس شکایت میں غصے سے زیادہ دکھ تھا۔
اس نے اپنے والد سے کہا:
"اگر ہم دونوں سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں آپ سب سے اس کے لیے معافی مانگتا ہوں۔ لیکن خدارا یہ رویہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم ایک ہی گھر کے افراد ہیں۔ غلطیاں ہو سکتی ہیں، مگر رشتے غلطیوں سے بڑے ہوتے ہیں۔”
یہ الفاظ ایک ایسے بیٹے کے تھے جو اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتا تھا۔
اکمل گھر چھوڑ کر چلا گیا، مگر اس کے دل میں امید باقی تھی کہ شاید کچھ دنوں بعد حالات بہتر ہو جائیں گے۔ شاید گھر والے سوچیں گے، شاید انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا، شاید دوبارہ وہی محبت لوٹ آئے گی۔
مگر کئی دن گزر گئے۔
وقت گزرتا رہا، مگر رویوں میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔
اکمل نے ایک بار پھر اپنے دل کو سمجھایا۔ آخرکار اس نے والدین سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا، مگر اس کی خواہش یہ تھی کہ والدین بھی اس کے ساتھ رہیں۔ وہ گھر سے رشتہ توڑنا نہیں چاہتا تھا، صرف ماحول سے کچھ فاصلے کا خواہش مند تھا۔
اس نے اپنے والد سے کہا:
"اگر الگ رہنا ہے تو آپ بھی میرے ساتھ رہیں۔ میں آپ کو اپنے سے الگ نہیں کرنا چاہتا۔”
لیکن والد اس بات پر راضی نہ ہوئے۔
گھر کے دوسرے افراد بھی خاموش رہے۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اکمل الگ کیوں رہنا چاہتا ہے؟ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں، مسئلہ حل کرتے ہیں۔
اکمل نے کچھ دن پھر خاموشی اختیار کی۔
خاموشی کبھی کبھی انسان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی آخری کوشش ہوتی ہے کہ شاید حالات خود سنبھل جائیں۔
مگر جب اس نے دوبارہ اپنی بات رکھی تو اس کی ماں نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے اس کے دل کو اندر تک توڑ دیا:
"شاید باقی گھر والے تمہارے الگ رہنے میں ہی خوش ہیں۔”
یہ جملہ بظاہر مختصر تھا، مگر اکمل کے لیے اس میں برسوں کی محبت کا جنازہ چھپا ہوا تھا۔
وہی گھر جہاں کبھی اس کی خوشی سب کی خوشی تھی، اب شاید اس کے جانے سے خوش ہونے والا تھا۔
اگلی صبح اکمل اور اس کی بیوی نے گھر کا سامان جمع کرنا شروع کر دیا۔
نہ کوئی بڑی تیاری تھی، نہ کوئی خوشی، نہ کسی نئے گھر میں داخل ہونے کا جشن۔
صرف سامان تھا، کچھ ضروری چیزیں تھیں اور ایک ایسا دل تھا جسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ رہا ہے یا اپنے ماضی کو۔
اکمل اور اس کی بیوی نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا۔ سامان سمیٹتے رہے، چیزیں جمع کرتے رہے، کبھی ایک دوسرے کو دیکھتے اور پھر خاموشی سے اپنے کام میں لگ جاتے۔
گھر بدلنا آسان نہیں ہوتا۔
خاص طور پر اس وقت، جب انسان مکان نہیں بلکہ یادیں چھوڑ رہا ہو۔
کافی محنت اور مشقت کے بعد تقریباً دس بجے وہ کسی طرح چائے بنانے کے قابل ہوئے۔ شاید اس چائے میں دودھ، چینی اور پتی سے زیادہ تھکن، بے بسی اور آنسو شامل تھے۔
چائے تو بن گئی، مگر ایک نیا سوال سامنے تھا:
دوپہر کا کھانا کیسے بنے گا؟
گھر الگ کر لینا ایک فیصلہ تھا، مگر گھر چلانا ایک الگ حقیقت۔
سامان کم تھا، ضروریات زیادہ تھیں اور جیب شاید اتنی اجازت نہیں دیتی تھی کہ ہر چیز فوراً خریدی جا سکے۔
اکمل اور اس کی بیوی ابھی انہی باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
ایک دکاندار برتن لے کر کھڑا تھا۔
اکمل اسے پہلے ہی رات فون پر اپنی صورتحال بتا چکا تھا۔ شاید اس نے صرف اپنی مجبوری بیان کی تھی، مدد مانگنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ مگر اس شخص نے انسانیت کا وہ مظاہرہ کیا جس کی اکمل کو شاید اپنے قریبی رشتوں سے بھی امید تھی۔
دکاندار نے نہ فوری رقم مانگی، نہ کوئی سخت شرط رکھی۔
اس نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا:
"چھ مہینوں میں آہستہ آہستہ دے دینا۔”
اور اس نے صرف برتن ہی نہیں دیے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق مزید مدد بھی کی۔
اکمل خاموش کھڑا رہا۔
اس لمحے شاید اس کے دل میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں تھا کہ برتن کہاں سے آئے یا قرض کیسے ادا ہوگا۔
اصل سوال کچھ اور تھا:
"کیا رشتے واقعی اتنی جلدی بیگانے ہو جاتے ہیں؟”
کل تک وہ اسی گھر کا لاڈلا تھا۔
آج وہ اپنے گھر میں چائے بنانے کے لیے برتن بھی باہر سے لے رہا تھا۔
کل تک اسے یقین تھا کہ مشکل وقت میں اس کے اپنے لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
آج ایک غیر رشتہ دار اس کے لیے زیادہ اپنائیت لے کر کھڑا تھا۔
یہ سوال صرف اکمل کا نہیں، ہمارے معاشرے کا سوال ہے۔
ہم نے رشتوں کو آخر کس ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے؟
کیا بہو کے آنے کے بعد بیٹا صرف بیٹا نہیں رہتا؟
کیا بیٹے کی شادی کے بعد ماں باپ اور بیٹے کے درمیان محبت کم ہو جانی چاہیے؟
کیا اختلافات کا حل خاموشی، طنز اور دوری ہے؟
یا پھر ہم ایک دوسرے کو سننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں؟
گھروں میں اختلافات پہلے بھی ہوتے تھے اور آج بھی ہوتے ہیں۔ بہن بھائیوں میں ناراضگیاں بھی ہوتی ہیں، میاں بیوی میں اختلاف بھی ہوتا ہے، والدین اور اولاد کے درمیان سوچ کا فرق بھی ہوتا ہے۔ مگر مسئلہ اختلاف نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی بنا دیتے ہیں۔
ایک معمولی غلط فہمی برسوں کے رشتے کو توڑ دیتی ہے۔
ایک جملہ دل میں ایسا زخم چھوڑ دیتا ہے جس کا علاج برسوں نہیں ہو پاتا۔
اکمل کی کہانی میں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ اسے گھر سے الگ ہونا تھا، مگر وہ اپنے والدین کو ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔ یہ بات اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اس کے دل میں والدین کے لیے محبت ابھی زندہ تھی۔ وہ بدلہ لینے نہیں جا رہا تھا، وہ صرف سکون چاہتا تھا۔
شاید اسے گھر سے نہیں، گھر کے بدلتے ہوئے رویوں سے تکلیف تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اس کے دل میں بار بار ایک سوال اٹھتا رہا:
"کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟”
مگر شاید زندگی کا جواب یہ ہے کہ نصیب ہمیشہ حالات کا نام نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان کو ایسے راستے بھی ملتے ہیں جو ابتدا میں سزا لگتے ہیں، مگر بعد میں وہی راستے سکون کا سبب بن جاتے ہیں۔
ممکن ہے اکمل کا نیا گھر چھوٹا ہو، وسائل محدود ہوں، مشکلات زیادہ ہوں، مگر اگر وہاں عزت، محبت اور سکون ہو تو وہ بڑا گھر بھی بہتر ہے جہاں انسان ہر وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرے۔
اور اس واقعے میں اس دکاندار کا کردار ہمیں ایک اور سبق دیتا ہے۔
رشتے صرف خون سے نہیں بنتے۔
کبھی کبھی ایک اجنبی انسان کا چھوٹا سا تعاون بھی انسان کے دل میں ایسی جگہ بنا لیتا ہے جو برسوں کے تعلقات بھی نہیں بنا پاتے۔
رشتہ وہ نہیں جو صرف خوشی میں ساتھ بیٹھے۔
رشتہ وہ ہے جو انسان کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھام لے۔
آج اکمل کے پاس شاید بہت سے سوال ہیں، بہت سی یادیں ہیں اور بہت سے زخم بھی۔ مگر شاید وقت کے ساتھ وہ یہ سمجھ پائے گا کہ زندگی میں ہر جدائی تباہی نہیں ہوتی۔ کچھ جدائیاں انسان کو اپنے آپ سے ملانے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔
اور اس کے گھر والوں کے لیے بھی یہ کہانی ایک سوال چھوڑ جاتی ہے:
اگر کل اکمل دوبارہ دروازے پر آ کر کھڑا ہو تو کیا اسے وہی لاڈلا بیٹا سمجھ کر گلے لگایا جائے گا؟
یا پھر فاصلے اتنے بڑھ چکے ہوں گے کہ واپسی کی تمام راہیں بند ہو چکی ہوں گی؟
رشتے ٹوٹنے میں وقت نہیں لگتا، مگر انہیں دوبارہ جوڑنے میں پوری زندگی گزر سکتی ہے۔
اس لیے گھروں میں اگر اختلاف ہو تو بات کیجیے، الزام نہیں۔
اگر غلطی ہو تو معافی مانگیے، انا نہیں۔
اگر دل دکھے تو دل کی بات کہیے، خاموش نفرت نہیں۔
اور اگر کوئی اپنا الگ رہنے کا فیصلہ کرے تو پہلے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ آخر وہ گھر سے کیوں دور ہونا چاہتا ہے۔
کیونکہ کبھی کبھی انسان گھر اس لیے نہیں چھوڑتا کہ اسے اپنے لوگ عزیز نہیں ہوتے، بلکہ اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ اپنے باقی ماندہ رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتا ہے۔
اکمل کی کہانی کا اختتام ابھی باقی ہے۔
شاید اس کی زندگی میں ایک دن ایسا آئے جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھے اور کہے:
"ہاں، وہ وقت بہت مشکل تھا، مگر اسی وقت نے مجھے سمجھایا کہ اپنائیت صرف خون کے رشتوں میں نہیں، انسان کے کردار میں ہوتی ہے۔”
اور شاید تب اسے اپنے سوال کا جواب بھی مل جائے:
"کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟”
ہو سکتا ہے جواب ہو:
"یہ تمہارے نصیب کا اختتام نہیں تھا، بلکہ تمہاری زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟

شیخ افلاق حسین سیمانی 
سیموہ ترال پلوامہ
کبھی کبھی انسان زندگی کے کسی ایسے موڑ پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں اس کے پاس شکوہ کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے، مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ آنکھیں سوال کرتی ہیں، دل جواب مانگتا ہے اور انسان خاموشی سے اپنے آپ سے صرف ایک سوال کرتا رہ جاتا ہے:
"کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟”
اکمل کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک ایسے گھر کی کہانی، جہاں کبھی محبت تھی، اپنائیت تھی، لاڈ تھا، اور ایک دوسرے کے لیے جینے کا جذبہ تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہی گھر اجنبیت، خاموشی اور فاصلے کی علامت بن گیا۔
اکمل ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ والدین کی محدود آمدنی تھی، وسائل کم تھے، مگر گھر میں محبت کی کوئی کمی نہ تھی۔ وہ اپنے والدین کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا، اور شاید یہی وجہ تھی کہ اسے گھر کے ہر فرد سے بے پناہ محبت ملی۔ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کی ہر خواہش کا خیال رکھا جاتا، اس کی معمولی سی تکلیف بھی گھر والوں کے لیے بڑی پریشانی بن جاتی۔
بچپن سے جوانی تک اکمل نے اپنے گھر میں صرف محبت دیکھی تھی۔ اسے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ وہ کسی مشکل میں تنہا رہ سکتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ چاہے دنیا اس کے خلاف ہو جائے، اس کا گھر، اس کے والدین اور اس کے بہن بھائی ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
لیکن انسان اکثر زندگی کے بارے میں وہی سوچتا ہے جو اسے ماضی میں ملا ہوتا ہے، جبکہ زندگی کبھی کبھی اچانک ایسے امتحان سامنے رکھ دیتی ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
شادی کے بعد اکمل کی زندگی میں ایک نیا رشتہ شامل ہوا۔ اس کی بیوی اس کے لیے صرف شریکِ حیات نہیں بلکہ اس کے نئے گھر کی بنیاد تھی۔ اکمل کی خواہش تھی کہ جس طرح اس نے اپنے والدین کو عزت دی، اسی طرح اس کی بیوی بھی گھر کے ہر فرد کا احترام کرے اور گھر کے تمام رشتے محبت سے قائم رہیں۔
مگر حالات نے کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔
آہستہ آہستہ گھر کے ماحول میں تبدیلی آنے لگی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں اختلافات کا سبب بننے لگیں۔ باتیں بڑھنے لگیں اور وہ لوگ جو کبھی اکمل کو گھر کا لاڈلا سمجھتے تھے، رفتہ رفتہ اسی اکمل اور اس کی بیوی سے ناراض ہونے لگے۔
اکمل کے لیے یہ سب ناقابلِ یقین تھا۔
وہ سوچتا رہا کہ آخر ایسا کیا بدل گیا؟ کیا شادی کے بعد انسان اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو جاتا ہے؟ کیا ایک نئی رشتہ داری پرانی محبتوں کو کم کر دیتی ہے؟ یا پھر گھر کے افراد کے دل میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں برسوں کی محبت پر غالب آ جاتی ہیں؟
اکمل نے خاموش رہنے کے بجائے اپنے والد سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے شکایت کی، مگر اس شکایت میں غصے سے زیادہ دکھ تھا۔
اس نے اپنے والد سے کہا:
"اگر ہم دونوں سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں آپ سب سے اس کے لیے معافی مانگتا ہوں۔ لیکن خدارا یہ رویہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم ایک ہی گھر کے افراد ہیں۔ غلطیاں ہو سکتی ہیں، مگر رشتے غلطیوں سے بڑے ہوتے ہیں۔”
یہ الفاظ ایک ایسے بیٹے کے تھے جو اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتا تھا۔
اکمل گھر چھوڑ کر چلا گیا، مگر اس کے دل میں امید باقی تھی کہ شاید کچھ دنوں بعد حالات بہتر ہو جائیں گے۔ شاید گھر والے سوچیں گے، شاید انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا، شاید دوبارہ وہی محبت لوٹ آئے گی۔
مگر کئی دن گزر گئے۔
وقت گزرتا رہا، مگر رویوں میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔
اکمل نے ایک بار پھر اپنے دل کو سمجھایا۔ آخرکار اس نے والدین سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا، مگر اس کی خواہش یہ تھی کہ والدین بھی اس کے ساتھ رہیں۔ وہ گھر سے رشتہ توڑنا نہیں چاہتا تھا، صرف ماحول سے کچھ فاصلے کا خواہش مند تھا۔
اس نے اپنے والد سے کہا:
"اگر الگ رہنا ہے تو آپ بھی میرے ساتھ رہیں۔ میں آپ کو اپنے سے الگ نہیں کرنا چاہتا۔”
لیکن والد اس بات پر راضی نہ ہوئے۔
گھر کے دوسرے افراد بھی خاموش رہے۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اکمل الگ کیوں رہنا چاہتا ہے؟ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں، مسئلہ حل کرتے ہیں۔
اکمل نے کچھ دن پھر خاموشی اختیار کی۔
خاموشی کبھی کبھی انسان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی آخری کوشش ہوتی ہے کہ شاید حالات خود سنبھل جائیں۔
مگر جب اس نے دوبارہ اپنی بات رکھی تو اس کی ماں نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے اس کے دل کو اندر تک توڑ دیا:
"شاید باقی گھر والے تمہارے الگ رہنے میں ہی خوش ہیں۔”
یہ جملہ بظاہر مختصر تھا، مگر اکمل کے لیے اس میں برسوں کی محبت کا جنازہ چھپا ہوا تھا۔
وہی گھر جہاں کبھی اس کی خوشی سب کی خوشی تھی، اب شاید اس کے جانے سے خوش ہونے والا تھا۔
اگلی صبح اکمل اور اس کی بیوی نے گھر کا سامان جمع کرنا شروع کر دیا۔
نہ کوئی بڑی تیاری تھی، نہ کوئی خوشی، نہ کسی نئے گھر میں داخل ہونے کا جشن۔
صرف سامان تھا، کچھ ضروری چیزیں تھیں اور ایک ایسا دل تھا جسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ رہا ہے یا اپنے ماضی کو۔
اکمل اور اس کی بیوی نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا۔ سامان سمیٹتے رہے، چیزیں جمع کرتے رہے، کبھی ایک دوسرے کو دیکھتے اور پھر خاموشی سے اپنے کام میں لگ جاتے۔
گھر بدلنا آسان نہیں ہوتا۔
خاص طور پر اس وقت، جب انسان مکان نہیں بلکہ یادیں چھوڑ رہا ہو۔
کافی محنت اور مشقت کے بعد تقریباً دس بجے وہ کسی طرح چائے بنانے کے قابل ہوئے۔ شاید اس چائے میں دودھ، چینی اور پتی سے زیادہ تھکن، بے بسی اور آنسو شامل تھے۔
چائے تو بن گئی، مگر ایک نیا سوال سامنے تھا:
دوپہر کا کھانا کیسے بنے گا؟
گھر الگ کر لینا ایک فیصلہ تھا، مگر گھر چلانا ایک الگ حقیقت۔
سامان کم تھا، ضروریات زیادہ تھیں اور جیب شاید اتنی اجازت نہیں دیتی تھی کہ ہر چیز فوراً خریدی جا سکے۔
اکمل اور اس کی بیوی ابھی انہی باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
ایک دکاندار برتن لے کر کھڑا تھا۔
اکمل اسے پہلے ہی رات فون پر اپنی صورتحال بتا چکا تھا۔ شاید اس نے صرف اپنی مجبوری بیان کی تھی، مدد مانگنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ مگر اس شخص نے انسانیت کا وہ مظاہرہ کیا جس کی اکمل کو شاید اپنے قریبی رشتوں سے بھی امید تھی۔
دکاندار نے نہ فوری رقم مانگی، نہ کوئی سخت شرط رکھی۔
اس نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا:
"چھ مہینوں میں آہستہ آہستہ دے دینا۔”
اور اس نے صرف برتن ہی نہیں دیے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق مزید مدد بھی کی۔
اکمل خاموش کھڑا رہا۔
اس لمحے شاید اس کے دل میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں تھا کہ برتن کہاں سے آئے یا قرض کیسے ادا ہوگا۔
اصل سوال کچھ اور تھا:
"کیا رشتے واقعی اتنی جلدی بیگانے ہو جاتے ہیں؟”
کل تک وہ اسی گھر کا لاڈلا تھا۔
آج وہ اپنے گھر میں چائے بنانے کے لیے برتن بھی باہر سے لے رہا تھا۔
کل تک اسے یقین تھا کہ مشکل وقت میں اس کے اپنے لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
آج ایک غیر رشتہ دار اس کے لیے زیادہ اپنائیت لے کر کھڑا تھا۔
یہ سوال صرف اکمل کا نہیں، ہمارے معاشرے کا سوال ہے۔
ہم نے رشتوں کو آخر کس ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے؟
کیا بہو کے آنے کے بعد بیٹا صرف بیٹا نہیں رہتا؟
کیا بیٹے کی شادی کے بعد ماں باپ اور بیٹے کے درمیان محبت کم ہو جانی چاہیے؟
کیا اختلافات کا حل خاموشی، طنز اور دوری ہے؟
یا پھر ہم ایک دوسرے کو سننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں؟
گھروں میں اختلافات پہلے بھی ہوتے تھے اور آج بھی ہوتے ہیں۔ بہن بھائیوں میں ناراضگیاں بھی ہوتی ہیں، میاں بیوی میں اختلاف بھی ہوتا ہے، والدین اور اولاد کے درمیان سوچ کا فرق بھی ہوتا ہے۔ مگر مسئلہ اختلاف نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی بنا دیتے ہیں۔
ایک معمولی غلط فہمی برسوں کے رشتے کو توڑ دیتی ہے۔
ایک جملہ دل میں ایسا زخم چھوڑ دیتا ہے جس کا علاج برسوں نہیں ہو پاتا۔
اکمل کی کہانی میں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ اسے گھر سے الگ ہونا تھا، مگر وہ اپنے والدین کو ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔ یہ بات اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اس کے دل میں والدین کے لیے محبت ابھی زندہ تھی۔ وہ بدلہ لینے نہیں جا رہا تھا، وہ صرف سکون چاہتا تھا۔
شاید اسے گھر سے نہیں، گھر کے بدلتے ہوئے رویوں سے تکلیف تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اس کے دل میں بار بار ایک سوال اٹھتا رہا:
"کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟”
مگر شاید زندگی کا جواب یہ ہے کہ نصیب ہمیشہ حالات کا نام نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان کو ایسے راستے بھی ملتے ہیں جو ابتدا میں سزا لگتے ہیں، مگر بعد میں وہی راستے سکون کا سبب بن جاتے ہیں۔
ممکن ہے اکمل کا نیا گھر چھوٹا ہو، وسائل محدود ہوں، مشکلات زیادہ ہوں، مگر اگر وہاں عزت، محبت اور سکون ہو تو وہ بڑا گھر بھی بہتر ہے جہاں انسان ہر وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرے۔
اور اس واقعے میں اس دکاندار کا کردار ہمیں ایک اور سبق دیتا ہے۔
رشتے صرف خون سے نہیں بنتے۔
کبھی کبھی ایک اجنبی انسان کا چھوٹا سا تعاون بھی انسان کے دل میں ایسی جگہ بنا لیتا ہے جو برسوں کے تعلقات بھی نہیں بنا پاتے۔
رشتہ وہ نہیں جو صرف خوشی میں ساتھ بیٹھے۔
رشتہ وہ ہے جو انسان کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھام لے۔
آج اکمل کے پاس شاید بہت سے سوال ہیں، بہت سی یادیں ہیں اور بہت سے زخم بھی۔ مگر شاید وقت کے ساتھ وہ یہ سمجھ پائے گا کہ زندگی میں ہر جدائی تباہی نہیں ہوتی۔ کچھ جدائیاں انسان کو اپنے آپ سے ملانے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔
اور اس کے گھر والوں کے لیے بھی یہ کہانی ایک سوال چھوڑ جاتی ہے:
اگر کل اکمل دوبارہ دروازے پر آ کر کھڑا ہو تو کیا اسے وہی لاڈلا بیٹا سمجھ کر گلے لگایا جائے گا؟
یا پھر فاصلے اتنے بڑھ چکے ہوں گے کہ واپسی کی تمام راہیں بند ہو چکی ہوں گی؟
رشتے ٹوٹنے میں وقت نہیں لگتا، مگر انہیں دوبارہ جوڑنے میں پوری زندگی گزر سکتی ہے۔
اس لیے گھروں میں اگر اختلاف ہو تو بات کیجیے، الزام نہیں۔
اگر غلطی ہو تو معافی مانگیے، انا نہیں۔
اگر دل دکھے تو دل کی بات کہیے، خاموش نفرت نہیں۔
اور اگر کوئی اپنا الگ رہنے کا فیصلہ کرے تو پہلے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ آخر وہ گھر سے کیوں دور ہونا چاہتا ہے۔
کیونکہ کبھی کبھی انسان گھر اس لیے نہیں چھوڑتا کہ اسے اپنے لوگ عزیز نہیں ہوتے، بلکہ اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ اپنے باقی ماندہ رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتا ہے۔
اکمل کی کہانی کا اختتام ابھی باقی ہے۔
شاید اس کی زندگی میں ایک دن ایسا آئے جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھے اور کہے:
"ہاں، وہ وقت بہت مشکل تھا، مگر اسی وقت نے مجھے سمجھایا کہ اپنائیت صرف خون کے رشتوں میں نہیں، انسان کے کردار میں ہوتی ہے۔”
اور شاید تب اسے اپنے سوال کا جواب بھی مل جائے:
"کیا یہی میرے نصیب میں تھا؟”
ہو سکتا ہے جواب ہو:
"یہ تمہارے نصیب کا اختتام نہیں تھا، بلکہ تمہاری زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں