گارنٹر

 

محمد ایوب گنائی
ترال بالا

رمضان صاحب کا شمار علاقے کے اُن چند سادہ مزاج اور نیک دل لوگوں میں ہوتا تھا جن کی دیانت داری کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ سرکاری دفتر میں تقریباً پینتیس برس ملازمت کرنے کے بعد وہ ریٹائر ہو چکے تھے۔ ان کی زندگی میں نہ کوئی غیر ضروری خواہش تھی، نہ آسائشوں کی دوڑ۔ معمولی سی پینشن، ایک چھوٹا سا آبائی مکان، چند کتابیں، گھر کے صحن میں لگے دو خوبانی کے درخت اور شام کی چائے… یہی ان کی پوری دنیا تھی۔ ان کی اہلیہ زبیدہ اکثر کہا کرتی تھیں، "رمضان! تم ہر ایک پر اتنا بھروسہ کیوں کرتے ہو؟ زمانہ بدل گیا ہے۔” رمضان صاحب ہلکا سا مسکرا کر جواب دیتے، "ہر آدمی برا نہیں ہوتا، زبیدہ۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو رشتے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔” یہی ان کی سب سے بڑی خوبی تھی، اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری بھی۔
ان کے مرحوم چھوٹے بھائی کا ایک دوست تھا، رشید۔ بچپن ہی سے اس کا اس گھر میں آنا جانا تھا۔ رمضان صاحب نے ہمیشہ اسے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح چاہا۔ کبھی اس کی فیس ادا کی، کبھی بیماری میں اس کا سہارا بنے اور کبھی اس کی بہن کی شادی میں خاموشی سے مالی مدد کی۔ رشید ہر ملاقات پر کہا کرتا تھا، "رمضان بھائی! آپ نہ ہوتے تو شاید میں آج زندہ بھی نہ ہوتا۔” رمضان صاحب ہمیشہ شرمندہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بات ٹال دیتے۔ ایک شام مغرب کی نماز کے بعد رشید سخت پریشان حال ان کے گھر آیا۔ اس کے کپڑے بکھرے ہوئے تھے، آنکھیں سرخ تھیں اور آواز لرز رہی تھی۔ اس نے بینک کے فارم رمضان صاحب کے سامنے رکھتے ہوئے کہا، "بھائی… میری آخری امید آپ ہیں۔ میں کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں۔ پانچ لاکھ روپے کا قرض منظور ہو گیا ہے، بس ایک گارنٹر کی ضرورت ہے۔” رمضان صاحب خاموش رہے۔ رشید کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے التجا کی، "اگر آج آپ نے بھی انکار کر دیا تو میرے بچوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔”
زبیدہ بیگم اندر سے ساری گفتگو سن رہی تھیں۔ بعد میں انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا، "ہرگز دستخط نہ کیجیے۔ قرض لینے والا بدل جاتا ہے، مگر گارنٹر عمر بھر اس کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔” مگر رمضان صاحب کے دل میں برسوں کا اعتماد اور بھائی کا رشتہ غالب آ گیا۔ اگلے دن وہ رشید کے ساتھ بینک پہنچ گئے۔ بینک منیجر نے آخری بار سمجھاتے ہوئے کہا، "رمضان صاحب! یہ صرف رسمی دستخط نہیں ہیں۔ اگر قرض لینے والا ایک روپیہ بھی واپس نہ کرے تو قانون آپ کو ذمہ دار سمجھے گا۔” رمضان صاحب نے ایک لمحے کے لئے رشید کی طرف دیکھا۔ رشید نے نظریں جھکا کر کہا، "بھائی، میں آپ کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔” رمضان صاحب نے فارم پر دستخط کر دیے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہی چند دستخط آنے والے برسوں میں ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیں گے۔
شروع کے چھ ماہ تک سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا۔ رشید ہر ماہ وقت پر قسط جمع کراتا، رسید کی تصویر رمضان صاحب کو دکھاتا اور مسکراتے ہوئے کہتا، "دیکھا بھائی؟ میں نے وعدہ نبھایا۔” رمضان صاحب مطمئن ہو گئے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ اعتماد قائم رکھنے کی ایک سوچی سمجھی چال تھی۔ اسی دوران رشید نے کاروبار کے نام پر کئی لوگوں سے ادھار لیا، رشتہ داروں سے سرمایہ اکٹھا کیا اور مختلف مالی اداروں سے الگ الگ قرض حاصل کیے۔ پھر خاموشی سے جائیدادیں خریدنا شروع کر دیں۔ اس نے اپنی بیوی اور سسرال والوں کے نام پر پلاٹ، دکانیں اور ایک شاندار دومنزلہ بنگلہ خرید لیا۔ بظاہر وہ ایک کامیاب کاروباری شخص دکھائی دیتا تھا، مگر اس کامیابی کی بنیاد فریب پر رکھی جا چکی تھی۔
ساتویں مہینے پہلی قسط ادا نہ ہوئی، آٹھویں مہینے دوسری بھی رہ گئی، پھر اس کا موبائل فون بند ہو گیا اور چند ہی دنوں بعد اس کے گھر پر تالا پڑ گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ شاید وہ کاروبار کے سلسلے میں کسی دوسرے شہر گیا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ تھی۔ ایک رات وہ ہمیشہ کے لئے شہر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ چند روز بعد ایک صبح بینک کے دو ریکوری افسر رمضان صاحب کے دروازے پر پہنچے۔ ایک افسر نے کہا، "آپ کو کئی نوٹس بھیجے گئے تھے، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔” رمضان صاحب حیرت سے بولے، "مجھے تو کوئی اطلاع ہی نہیں ملی!” افسر نے فائل کھولتے ہوئے کہا، "چھ ماہ سے قرض کی کوئی قسط جمع نہیں ہوئی۔ قانون کے مطابق اب پوری رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ آپ اس قرض کے گارنٹر ہیں۔”
یہ الفاظ سنتے ہی رمضان صاحب کے ہاتھ کانپنے لگے اور ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اگلے کئی ہفتے بینک، عدالت، وکیلوں کے دفاتر اور کاغذی کارروائی میں گزر گئے، مگر ہر جگہ سے ایک ہی جواب ملا، "آپ نے اپنی مرضی سے ضمانت دی تھی، اب قانون کی نظر میں آپ ہی ذمہ دار ہیں۔” یہ صرف مالی نقصان نہ تھا بلکہ ان کے اعتماد، ان کی سادگی اور انسانوں پر یقین کے ٹوٹ جانے کا سانحہ تھا۔ ہر مہینے ان کی پینشن کا بڑا حصہ قرض کی قسطوں میں کٹنے لگا۔ گھر کے اخراجات سکڑتے گئے، دوائیں چھوٹ گئیں اور کئی کئی دن چولہا ٹھنڈا پڑا رہتا۔ زبیدہ بیگم خاموشی سے اپنے زیورات فروخت کرنے لگیں تاکہ گھر کا خرچ چلتا رہے، مگر رمضان صاحب کو اس کی خبر تک نہ ہونے دی۔
ایک دن محلے کے ایک نوجوان نے موبائل فون پر ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا، "چاچا، شاید یہ رشید ہے۔” رمضان صاحب نے تصویر ہاتھ میں لی۔ تصویر میں رشید ایک نئی لگژری گاڑی کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا اور اس کے پیچھے سفید سنگِ مرمر سے بنا ایک شاندار دومنزلہ بنگلہ تھا۔ رمضان صاحب دیر تک تصویر کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ چند دن کی تلاش کے بعد وہ اس بنگلے تک پہنچ گئے۔ اونچا آہنی گیٹ، سی سی ٹی وی کیمرے، سرسبز لان، قیمتی گاڑیاں اور برآمدے میں سفید لباس پہنے رشید، جس کے ہاتھ میں چائے کا ایک کپ تھا۔
رمضان صاحب نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، "رشید! میری پینشن ختم ہوتی جا رہی ہے۔ میں اپنی دوائیں بھی نہیں خرید سکتا۔ خدا کے لئے قرض ادا کر دو۔” رشید نے بے نیازی سے قہقہہ لگایا اور بولا، "رمضان بھائی! کاروبار میں جذبات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔” رمضان صاحب کی آواز بھرّا گئی۔ "میں نے تم پر احسان کیے تھے۔” رشید نے سرد لہجے میں جواب دیا، "اور میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔” رمضان صاحب نے دکھ بھرے لہجے میں کہا، "تم نے میرا اعتماد توڑ دیا۔” رشید ان کے قریب آیا اور آہستہ سے بولا، "قانون جذبات نہیں دیکھتا، رمضان بھائی! بینک کو صرف گارنٹر چاہیے… اور وہ آپ ہیں۔”
یہ کہہ کر اس نے محافظ کو اشارہ کیا۔ محافظ نے بوڑھے رمضان صاحب کو بازو سے پکڑ کر گیٹ سے باہر دھکیل دیا۔ اسی لمحے محلے کے دو آدمیوں نے یہ منظر دیکھ لیا۔ رمضان صاحب نے نظریں جھکا لیں۔ شاید انہیں اپنی غربت سے زیادہ اپنی بے عزتی نے توڑ دیا تھا۔ اس دن کے بعد وہ پہلے جیسے نہ رہے۔ وہ کم گو ہو گئے، نماز کے بعد دیر تک سجدے میں پڑے رہتے، راتوں کو قرض کی فائل کھول کر دیر تک کاغذات دیکھتے رہتے اور آہستہ سے خود ہی کہتے، "آخر میرا قصور کیا تھا؟ صرف کسی پر اعتبار کرنا؟” ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی صحت بگڑتی گئی۔ دوائیں خریدنے کی استطاعت نہ رہی۔ زبیدہ بیگم انہیں دلاسا دیتیں، مگر وہ جانتی تھیں کہ جس زخم نے ان کے شوہر کو توڑا ہے، وہ جسم کا نہیں بلکہ دل کا زخم ہے۔
ایک شام وہ صحن میں اپنی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ خوبانی کے درخت سے سوکھے پتے آہستہ آہستہ زمین پر گر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں بینک کا آخری نوٹس تھا۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا، "اے اللہ! اب میرا فیصلہ تیرے سپرد ہے۔” اتنا کہنا تھا کہ ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا، نوٹس ان کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر آ گرا اور وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔ ان کے جنازے میں پورا محلہ شریک تھا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر زبان پر ایک ہی جملہ تھا، "رمضان صاحب جیسے نیک اور مخلص لوگ اب کہاں ملتے ہیں!” صرف ایک شخص موجود نہ تھا… رشید۔
رمضان صاحب کی وفات کے سات دن بعد رشید کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس کی اس نے کبھی توقع بھی نہ کی تھی۔ پہلی ہی رات اس نے خواب میں دیکھا کہ رمضان صاحب خاموشی سے اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ ان کے چہرے پر نہ غصہ تھا، نہ نفرت اور نہ ہی انتقام کا کوئی تاثر۔ وہ صرف اتنا کہتے، "رشید… قرض کی قسط کب ادا کرو گے؟” رشید گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ اس نے اسے محض ایک ڈراؤنا خواب سمجھ کر بھلا دینا چاہا، مگر اگلی رات پھر وہی خواب آیا، پھر اس کے بعد بھی، یہاں تک کہ وہ خواب اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔
رفتہ رفتہ اس کی ذہنی حالت بگڑنے لگی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ رمضان صاحب ہر جگہ اس کے ساتھ ہیں۔ کبھی دفتر میں، کبھی بازار میں، کبھی گاڑی چلاتے ہوئے اور کبھی آئینے میں اپنی ہی پرچھائیں کے پیچھے۔ ہر بار وہی پرسکون مگر دل کو چیر دینے والی آواز اس کے کانوں میں گونجتی، "رشید… قرض کی قسط کب ادا کرو گے؟” اس نے عالموں سے رجوع کیا، تعویذ پہن لئے، قرآن خوانی کروائی، صدقہ دیا، یہاں تک کہ اپنا گھر بھی بدل لیا، مگر نہ خواب بدلے اور نہ وہ آواز خاموش ہوئی۔ اب مسئلہ مکان یا ماحول کا نہیں تھا، بلکہ اس کا اپنا ضمیر اس کے خلاف گواہی دے رہا تھا۔
چند ہی مہینوں میں اس کی قسمت کا پہیہ الٹا گھومنے لگا۔ کاروبار خسارے میں چلا گیا، شراکت دار ایک ایک کرکے الگ ہو گئے، بینکوں نے قانونی کارروائیاں شروع کر دیں اور عدالتوں کے چکر اس کا مقدر بن گئے۔ جس دولت پر وہ ناز کرتا تھا، وہ اس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلنے لگی۔ گھر کا سکون بھی چھن گیا۔ اس کی بیوی بچوں کو لے کر میکے چلی گئی اور وہ اپنی وسیع و عریض کوٹھی میں تنہا رہ گیا۔ دولت تھی، مگر راحت نہ تھی؛ دیواریں تھیں، مگر گھر نہ رہا۔
محلے کے لوگ کہتے تھے کہ رات کے آخری پہر وہ شہر کی سنسان سڑکوں پر ننگے پاؤں بھاگتا پھرتا اور چیختا رہتا، "رمضان بھائی… میں قرض ادا کر دوں گا… خدا کے لئے مجھے معاف کر دیجیے!” مگر اب نہ رمضان صاحب اس دنیا میں تھے اور نہ معافی مانگنے کا وقت باقی رہ گیا تھا۔ انسان جب اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم ٹھہر جائے تو دنیا کی کوئی عدالت اسے سکون نہیں دے سکتی۔
کئی برس گزر گئے۔ وہ شاندار بنگلہ، جس پر رشید کو کبھی فخر تھا، اب ویرانی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ چکے تھے، دیواروں کا رنگ اتر گیا تھا، لان میں خودرو جھاڑیاں اگ آئی تھیں اور دروازے زنگ آلود ہو چکے تھے۔ وہاں سے گزرنے والے آہستہ آواز میں کہتے، "یہ وہ مکان ہے جو ایک بے گناہ ضامن کی آہوں پر تعمیر ہوا تھا۔”
محلے کے بزرگ اپنے بچوں کو یہ واقعہ سناتے اور نصیحت کرتے، "بیٹا! کسی کی ضمانت صرف اسی وقت دینا جب اس کی دیانت پر اپنی جان سے بھی زیادہ یقین ہو، کیونکہ قرض ہمیشہ رقم کا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک دستخط پوری زندگی کا قرض بن جاتا ہے، اور ایک غلط فیصلہ انسان کی تمام عمر کی کمائی، عزت اور سکون چھین لیتا ہے۔”
اس داستان کا حاصل یہی ہے کہ دھوکے، فریب اور بددیانتی سے حاصل کی گئی دولت وقتی آسائش تو دے سکتی ہے، مگر وہ دل کا سکون نہیں خرید سکتی۔ انسان قانون کی گرفت سے کبھی بچ بھی جائے تو اپنے ضمیر کی عدالت سے نہیں بچ سکتا، اور مظلوم کی آہ ایک ایسی صدا ہے جو دیر سے سہی، مگر اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

گارنٹر

 

محمد ایوب گنائی
ترال بالا

رمضان صاحب کا شمار علاقے کے اُن چند سادہ مزاج اور نیک دل لوگوں میں ہوتا تھا جن کی دیانت داری کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ سرکاری دفتر میں تقریباً پینتیس برس ملازمت کرنے کے بعد وہ ریٹائر ہو چکے تھے۔ ان کی زندگی میں نہ کوئی غیر ضروری خواہش تھی، نہ آسائشوں کی دوڑ۔ معمولی سی پینشن، ایک چھوٹا سا آبائی مکان، چند کتابیں، گھر کے صحن میں لگے دو خوبانی کے درخت اور شام کی چائے… یہی ان کی پوری دنیا تھی۔ ان کی اہلیہ زبیدہ اکثر کہا کرتی تھیں، "رمضان! تم ہر ایک پر اتنا بھروسہ کیوں کرتے ہو؟ زمانہ بدل گیا ہے۔” رمضان صاحب ہلکا سا مسکرا کر جواب دیتے، "ہر آدمی برا نہیں ہوتا، زبیدہ۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو رشتے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔” یہی ان کی سب سے بڑی خوبی تھی، اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری بھی۔
ان کے مرحوم چھوٹے بھائی کا ایک دوست تھا، رشید۔ بچپن ہی سے اس کا اس گھر میں آنا جانا تھا۔ رمضان صاحب نے ہمیشہ اسے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح چاہا۔ کبھی اس کی فیس ادا کی، کبھی بیماری میں اس کا سہارا بنے اور کبھی اس کی بہن کی شادی میں خاموشی سے مالی مدد کی۔ رشید ہر ملاقات پر کہا کرتا تھا، "رمضان بھائی! آپ نہ ہوتے تو شاید میں آج زندہ بھی نہ ہوتا۔” رمضان صاحب ہمیشہ شرمندہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بات ٹال دیتے۔ ایک شام مغرب کی نماز کے بعد رشید سخت پریشان حال ان کے گھر آیا۔ اس کے کپڑے بکھرے ہوئے تھے، آنکھیں سرخ تھیں اور آواز لرز رہی تھی۔ اس نے بینک کے فارم رمضان صاحب کے سامنے رکھتے ہوئے کہا، "بھائی… میری آخری امید آپ ہیں۔ میں کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں۔ پانچ لاکھ روپے کا قرض منظور ہو گیا ہے، بس ایک گارنٹر کی ضرورت ہے۔” رمضان صاحب خاموش رہے۔ رشید کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے التجا کی، "اگر آج آپ نے بھی انکار کر دیا تو میرے بچوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔”
زبیدہ بیگم اندر سے ساری گفتگو سن رہی تھیں۔ بعد میں انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا، "ہرگز دستخط نہ کیجیے۔ قرض لینے والا بدل جاتا ہے، مگر گارنٹر عمر بھر اس کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔” مگر رمضان صاحب کے دل میں برسوں کا اعتماد اور بھائی کا رشتہ غالب آ گیا۔ اگلے دن وہ رشید کے ساتھ بینک پہنچ گئے۔ بینک منیجر نے آخری بار سمجھاتے ہوئے کہا، "رمضان صاحب! یہ صرف رسمی دستخط نہیں ہیں۔ اگر قرض لینے والا ایک روپیہ بھی واپس نہ کرے تو قانون آپ کو ذمہ دار سمجھے گا۔” رمضان صاحب نے ایک لمحے کے لئے رشید کی طرف دیکھا۔ رشید نے نظریں جھکا کر کہا، "بھائی، میں آپ کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔” رمضان صاحب نے فارم پر دستخط کر دیے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہی چند دستخط آنے والے برسوں میں ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیں گے۔
شروع کے چھ ماہ تک سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا۔ رشید ہر ماہ وقت پر قسط جمع کراتا، رسید کی تصویر رمضان صاحب کو دکھاتا اور مسکراتے ہوئے کہتا، "دیکھا بھائی؟ میں نے وعدہ نبھایا۔” رمضان صاحب مطمئن ہو گئے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ اعتماد قائم رکھنے کی ایک سوچی سمجھی چال تھی۔ اسی دوران رشید نے کاروبار کے نام پر کئی لوگوں سے ادھار لیا، رشتہ داروں سے سرمایہ اکٹھا کیا اور مختلف مالی اداروں سے الگ الگ قرض حاصل کیے۔ پھر خاموشی سے جائیدادیں خریدنا شروع کر دیں۔ اس نے اپنی بیوی اور سسرال والوں کے نام پر پلاٹ، دکانیں اور ایک شاندار دومنزلہ بنگلہ خرید لیا۔ بظاہر وہ ایک کامیاب کاروباری شخص دکھائی دیتا تھا، مگر اس کامیابی کی بنیاد فریب پر رکھی جا چکی تھی۔
ساتویں مہینے پہلی قسط ادا نہ ہوئی، آٹھویں مہینے دوسری بھی رہ گئی، پھر اس کا موبائل فون بند ہو گیا اور چند ہی دنوں بعد اس کے گھر پر تالا پڑ گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ شاید وہ کاروبار کے سلسلے میں کسی دوسرے شہر گیا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ تھی۔ ایک رات وہ ہمیشہ کے لئے شہر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ چند روز بعد ایک صبح بینک کے دو ریکوری افسر رمضان صاحب کے دروازے پر پہنچے۔ ایک افسر نے کہا، "آپ کو کئی نوٹس بھیجے گئے تھے، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔” رمضان صاحب حیرت سے بولے، "مجھے تو کوئی اطلاع ہی نہیں ملی!” افسر نے فائل کھولتے ہوئے کہا، "چھ ماہ سے قرض کی کوئی قسط جمع نہیں ہوئی۔ قانون کے مطابق اب پوری رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ آپ اس قرض کے گارنٹر ہیں۔”
یہ الفاظ سنتے ہی رمضان صاحب کے ہاتھ کانپنے لگے اور ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اگلے کئی ہفتے بینک، عدالت، وکیلوں کے دفاتر اور کاغذی کارروائی میں گزر گئے، مگر ہر جگہ سے ایک ہی جواب ملا، "آپ نے اپنی مرضی سے ضمانت دی تھی، اب قانون کی نظر میں آپ ہی ذمہ دار ہیں۔” یہ صرف مالی نقصان نہ تھا بلکہ ان کے اعتماد، ان کی سادگی اور انسانوں پر یقین کے ٹوٹ جانے کا سانحہ تھا۔ ہر مہینے ان کی پینشن کا بڑا حصہ قرض کی قسطوں میں کٹنے لگا۔ گھر کے اخراجات سکڑتے گئے، دوائیں چھوٹ گئیں اور کئی کئی دن چولہا ٹھنڈا پڑا رہتا۔ زبیدہ بیگم خاموشی سے اپنے زیورات فروخت کرنے لگیں تاکہ گھر کا خرچ چلتا رہے، مگر رمضان صاحب کو اس کی خبر تک نہ ہونے دی۔
ایک دن محلے کے ایک نوجوان نے موبائل فون پر ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا، "چاچا، شاید یہ رشید ہے۔” رمضان صاحب نے تصویر ہاتھ میں لی۔ تصویر میں رشید ایک نئی لگژری گاڑی کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا اور اس کے پیچھے سفید سنگِ مرمر سے بنا ایک شاندار دومنزلہ بنگلہ تھا۔ رمضان صاحب دیر تک تصویر کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ چند دن کی تلاش کے بعد وہ اس بنگلے تک پہنچ گئے۔ اونچا آہنی گیٹ، سی سی ٹی وی کیمرے، سرسبز لان، قیمتی گاڑیاں اور برآمدے میں سفید لباس پہنے رشید، جس کے ہاتھ میں چائے کا ایک کپ تھا۔
رمضان صاحب نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، "رشید! میری پینشن ختم ہوتی جا رہی ہے۔ میں اپنی دوائیں بھی نہیں خرید سکتا۔ خدا کے لئے قرض ادا کر دو۔” رشید نے بے نیازی سے قہقہہ لگایا اور بولا، "رمضان بھائی! کاروبار میں جذبات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔” رمضان صاحب کی آواز بھرّا گئی۔ "میں نے تم پر احسان کیے تھے۔” رشید نے سرد لہجے میں جواب دیا، "اور میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔” رمضان صاحب نے دکھ بھرے لہجے میں کہا، "تم نے میرا اعتماد توڑ دیا۔” رشید ان کے قریب آیا اور آہستہ سے بولا، "قانون جذبات نہیں دیکھتا، رمضان بھائی! بینک کو صرف گارنٹر چاہیے… اور وہ آپ ہیں۔”
یہ کہہ کر اس نے محافظ کو اشارہ کیا۔ محافظ نے بوڑھے رمضان صاحب کو بازو سے پکڑ کر گیٹ سے باہر دھکیل دیا۔ اسی لمحے محلے کے دو آدمیوں نے یہ منظر دیکھ لیا۔ رمضان صاحب نے نظریں جھکا لیں۔ شاید انہیں اپنی غربت سے زیادہ اپنی بے عزتی نے توڑ دیا تھا۔ اس دن کے بعد وہ پہلے جیسے نہ رہے۔ وہ کم گو ہو گئے، نماز کے بعد دیر تک سجدے میں پڑے رہتے، راتوں کو قرض کی فائل کھول کر دیر تک کاغذات دیکھتے رہتے اور آہستہ سے خود ہی کہتے، "آخر میرا قصور کیا تھا؟ صرف کسی پر اعتبار کرنا؟” ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی صحت بگڑتی گئی۔ دوائیں خریدنے کی استطاعت نہ رہی۔ زبیدہ بیگم انہیں دلاسا دیتیں، مگر وہ جانتی تھیں کہ جس زخم نے ان کے شوہر کو توڑا ہے، وہ جسم کا نہیں بلکہ دل کا زخم ہے۔
ایک شام وہ صحن میں اپنی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ خوبانی کے درخت سے سوکھے پتے آہستہ آہستہ زمین پر گر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں بینک کا آخری نوٹس تھا۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا، "اے اللہ! اب میرا فیصلہ تیرے سپرد ہے۔” اتنا کہنا تھا کہ ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا، نوٹس ان کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر آ گرا اور وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔ ان کے جنازے میں پورا محلہ شریک تھا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر زبان پر ایک ہی جملہ تھا، "رمضان صاحب جیسے نیک اور مخلص لوگ اب کہاں ملتے ہیں!” صرف ایک شخص موجود نہ تھا… رشید۔
رمضان صاحب کی وفات کے سات دن بعد رشید کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس کی اس نے کبھی توقع بھی نہ کی تھی۔ پہلی ہی رات اس نے خواب میں دیکھا کہ رمضان صاحب خاموشی سے اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ ان کے چہرے پر نہ غصہ تھا، نہ نفرت اور نہ ہی انتقام کا کوئی تاثر۔ وہ صرف اتنا کہتے، "رشید… قرض کی قسط کب ادا کرو گے؟” رشید گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ اس نے اسے محض ایک ڈراؤنا خواب سمجھ کر بھلا دینا چاہا، مگر اگلی رات پھر وہی خواب آیا، پھر اس کے بعد بھی، یہاں تک کہ وہ خواب اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔
رفتہ رفتہ اس کی ذہنی حالت بگڑنے لگی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ رمضان صاحب ہر جگہ اس کے ساتھ ہیں۔ کبھی دفتر میں، کبھی بازار میں، کبھی گاڑی چلاتے ہوئے اور کبھی آئینے میں اپنی ہی پرچھائیں کے پیچھے۔ ہر بار وہی پرسکون مگر دل کو چیر دینے والی آواز اس کے کانوں میں گونجتی، "رشید… قرض کی قسط کب ادا کرو گے؟” اس نے عالموں سے رجوع کیا، تعویذ پہن لئے، قرآن خوانی کروائی، صدقہ دیا، یہاں تک کہ اپنا گھر بھی بدل لیا، مگر نہ خواب بدلے اور نہ وہ آواز خاموش ہوئی۔ اب مسئلہ مکان یا ماحول کا نہیں تھا، بلکہ اس کا اپنا ضمیر اس کے خلاف گواہی دے رہا تھا۔
چند ہی مہینوں میں اس کی قسمت کا پہیہ الٹا گھومنے لگا۔ کاروبار خسارے میں چلا گیا، شراکت دار ایک ایک کرکے الگ ہو گئے، بینکوں نے قانونی کارروائیاں شروع کر دیں اور عدالتوں کے چکر اس کا مقدر بن گئے۔ جس دولت پر وہ ناز کرتا تھا، وہ اس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلنے لگی۔ گھر کا سکون بھی چھن گیا۔ اس کی بیوی بچوں کو لے کر میکے چلی گئی اور وہ اپنی وسیع و عریض کوٹھی میں تنہا رہ گیا۔ دولت تھی، مگر راحت نہ تھی؛ دیواریں تھیں، مگر گھر نہ رہا۔
محلے کے لوگ کہتے تھے کہ رات کے آخری پہر وہ شہر کی سنسان سڑکوں پر ننگے پاؤں بھاگتا پھرتا اور چیختا رہتا، "رمضان بھائی… میں قرض ادا کر دوں گا… خدا کے لئے مجھے معاف کر دیجیے!” مگر اب نہ رمضان صاحب اس دنیا میں تھے اور نہ معافی مانگنے کا وقت باقی رہ گیا تھا۔ انسان جب اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم ٹھہر جائے تو دنیا کی کوئی عدالت اسے سکون نہیں دے سکتی۔
کئی برس گزر گئے۔ وہ شاندار بنگلہ، جس پر رشید کو کبھی فخر تھا، اب ویرانی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ چکے تھے، دیواروں کا رنگ اتر گیا تھا، لان میں خودرو جھاڑیاں اگ آئی تھیں اور دروازے زنگ آلود ہو چکے تھے۔ وہاں سے گزرنے والے آہستہ آواز میں کہتے، "یہ وہ مکان ہے جو ایک بے گناہ ضامن کی آہوں پر تعمیر ہوا تھا۔”
محلے کے بزرگ اپنے بچوں کو یہ واقعہ سناتے اور نصیحت کرتے، "بیٹا! کسی کی ضمانت صرف اسی وقت دینا جب اس کی دیانت پر اپنی جان سے بھی زیادہ یقین ہو، کیونکہ قرض ہمیشہ رقم کا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک دستخط پوری زندگی کا قرض بن جاتا ہے، اور ایک غلط فیصلہ انسان کی تمام عمر کی کمائی، عزت اور سکون چھین لیتا ہے۔”
اس داستان کا حاصل یہی ہے کہ دھوکے، فریب اور بددیانتی سے حاصل کی گئی دولت وقتی آسائش تو دے سکتی ہے، مگر وہ دل کا سکون نہیں خرید سکتی۔ انسان قانون کی گرفت سے کبھی بچ بھی جائے تو اپنے ضمیر کی عدالت سے نہیں بچ سکتا، اور مظلوم کی آہ ایک ایسی صدا ہے جو دیر سے سہی، مگر اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں