
ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
عبید زاکانی کی فارسی نظم "موش و گربہ” کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ نظم میں ایک چوہا بلی کے پنجوں سے خلاصی چاہتا ہے اور زار و قطار رو رو کر بلی کی منّت سماجت کرتا ہے۔”(موش گفتا کہ من غلام تو ام ۔۔۔۔۔۔عفو کن از من ایں گناہانا ۔۔۔۔گربہ گفتا دروغ کم تر گوئے ۔۔نہ شنوم فریب و مکرانا) ۔۔بلی ایک بھی نہیں سنتی ہے اور چوہے کو ایک ہی لقمہ میں کھا کر مسجد کی طرف رخ کر کے ہاتھ منہ دھو کر مسح بھی کرتی ہے اور ذکر و اذکار میں خود ساختہ مولوی سے آگے بھی جاکر دعاء میں بارگاہ ایزدی میں اپنے گناہوں کی معافی اور اقبال جرم کر کے کہتی ہے "اے خدا آج تک خون ناحق کر کے آئی ہوں میری فریاد سن۔ آج سے میری توبہ چوہے کو نہ کھاؤں گی”.
ایک چوہا کہیں سے بلی کی فریاد سن رہا تھا فوراً چوہوں کے پاس یہ خوشخبری لے کے آیا کہ بلی نے آئندہ چوہے کھانے سے توبہ کی۔ چوہوں کو یقین نہیں آیا لیکن بادل ناخواستہ بلی کے لئے بڑے بڑے سوغات لے آئے۔ بلی نے جب موٹے موٹے چوہوں کو اپنے سامنے دیکھا تو من ہی من میں چال چلی اور چند قطرے بہا کے بولی "رفیقو میں روزہ سے ہوں میرے گناہ غالب ہوگئے ہیں آو سامنے میرے غم میں شریک رہو تاکہ بارگاہ ایزدی بخشے”. چوہے ڈرتے سہمے بلی کے نزدیک آئے تو بلی ان پر جھپٹی اور پانچ پانچ بڑے موٹے موٹے چوہوں کو اپنا لقمہ بنا گئی باقی جو بچے فوراً بھاگے اور چوہوں کو ساری داستان سنائی کہ تمہارے سر خاک آلود ہو بڑے موٹے موٹے سردار چوہے بلی کے لقمہ بن گئے۔ اب سے پہلے وہ دن میں ایک کھا جاتی تھی لیکن اب پانچ پانچ جبکہ تائب اور مسلمان بن گئی۔
قصہ مختصر ہمارے ہم زلفوں میں دور دراز کا باشندہ موزوں وقت میں صحیح نشانے پر تیر چلانے کا ماہر خاندان کا چشم و چراغ، خاندان بھی اس قدر وسیع کہ خوشی غم کے دوران ہی آپس میں متعارف ہوجاتے ہیں۔ ہر فرد اپنی اہمیت اجاگر کر کے اپنا مقام بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہم زلف بھی اپنی اہمیت بڑھانے کا ماہر خاندان میں کبھی کسی قسم کی غلطی سے ان بن ہوگئی تو سمجھو ہم زلف کے لئے سونے پے سہاگہ ہے۔ وہ ہر مخالف فریق کا لاڈلا بڑی آسانی سے مخالف فریقوں کو اپنے شیشے میں اتارتے ہی زیادہ ہوا دے کر فتنہ کو اُفق تک چڑھا کر اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرکے ایسی چال چلتا ہے کہ آپس کے رشتے خون کے پیاسے دکھتے نظر آتے ہیں۔ ہم زلف کبھی ایک فریق کے دکھ درد کا مداوا بن کے دوسرے فریق کے باتوں کا بتنگڑ مخالف فریق کو سناتا رہتا ہے تاکہ یہ سلسلہ مدتوں چلے اور اسکی روزی روٹی پر کوئی مشکل نہ آئے۔
آخر میں جب مخالف فریقوں کی آنکھ کھلتی ہے تو ہم زلف کوئی بہانہ بنا کے راہ فرار اختیار کر لیتا ہے تاکہ خاندان میں اُس کی آن بان اور ٹھاٹھ بھاٹھ برقرار رہ سکے۔
اب لوگ ہم زلف کی چال بازیوں سے پوری طرح آشنا ہو چکی ہے لیکن خاندانی رِشتہ کا لحاظ کیے ہوئے لب پہ کوئی شکوہ شکایت نہیں البتہ دیکھتے ہی ۔ دو گز فاصلہ . خیر و عافیت ۔ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دے کر ہم زلف کے عصيانی لباس میلے پڑ چکے اور ان کو دھلوانے بڑے گھاٹ تشریف لے گئے۔ ممکن ہے کہ دُھل بھی جائیں اور دُھل کر پہن بھی لیں مگر کیا معلوم وہی پرانی روش اختیار کرے جیسے عبید زاکانی نے اپنی نظم میں کہا ۔
"دست و رو را بشست و مسح کشید
ورد مے خواند ہم چوں ملانا
بار الہا کہ توبہ کردم من
ندرم موش (حق الناس) را بدندانا
ا یں زماں پنج پنج مے گیرد
چوں شدہ تائب و مسلمانا”
ترجمہ – "ہاتھ منہ دھو کر مسح کیا ذکر و اذکار ایسے کرنے لگی جیسے خود ساختہ مولانا ہو
یا الٰہی میں توبہ کرتی ہوں کوئی چوہا نہیں کھاؤں گی لوگوں کا حق نہ کھاؤں


