مکھوٹا: افسانچہ

 

 

محمد ایوب گنائی

شہر کی اس شام میں ایک عجیب سی گھٹن تھی۔ آسمان پر پھیلی سرخی دھیرے دھیرے سیاہی میں بدل رہی تھی، مگر بازار کی مصنوعی روشنیاں اس قدر تیز تھیں کہ جیسے وہ رات کے اصل چہرے کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہوں۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا شور اور لوگوں کی بھاگ دوڑ ایک ایسا آہنگ پیدا کر رہی تھی جس میں انسانی آوازیں کہیں گم ہو کر رہ گئی تھیں۔ ہر شخص جلدی میں تھا، جیسے کسی تعاقب سے بچ کر بھاگ رہا ہو۔
احمد، جو برسوں سے اسی دفتر اور اسی راستے کا اسیر تھا، آج کچھ تھکا ہوا سا تھا۔ اس کے کندھوں پر فائلوں کا بوجھ نہیں، بلکہ ان ان کہی باتوں کا بار تھا جو وہ روز مرہ کی مصروفیت میں دبا دیتا تھا۔ وہ چوک کے قریب پہنچا تو اسے وہی مانوس قہقہے سنائی دیے۔
یہ وہ مقام تھا جہاں شام ڈھلتے ہی رنگوں کا ایک تماشہ سجتا تھا۔ بھیڑ کے عین بیچ میں ایک شخص کھڑا تھا جس نے زرق برق مخملی لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک بڑا سا، مسکراتا ہوا پلاسٹک کا مکھوٹا تھا، جس کے گال سرخ اور ہونٹ ضرورت سے زیادہ چوڑے تھے۔ وہ عجیب و غریب حرکات کرتا، کبھی لنگڑا کر چلتا تو کبھی ہوا میں ہاتھ لہراتا۔ لوگ اس کے گرد دائرہ بنائے کھڑے تھے اور ہر لطیفے پر تالیاں بجا کر اپنی تھکن اتارنے کی کوشش کر رہے تھے۔
احمد مجمع کے ایک کونے میں رک گیا۔ اس کی نظریں مسخرے کے مکھوٹے کی مسکراہٹ سے پھسل کر ان سوراخوں پر جا ٹھہریں جہاں سے اس کی آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ ان آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو اس کے لفظوں میں تھی۔ وہاں تو ایک ٹھہرا ہوا سمندر تھا، جس میں اداسی کی کائی جمی ہوئی تھی۔ مکھوٹے کی مسکراہٹ ساکت تھی، مگر ان آنکھوں کے پپوٹے لرز رہے تھے، جیسے وہ کسی گہرے دکھ کو ضبط کرنے کی کوشش میں ہوں۔
کچھ دیر بعد تماشہ ختم ہوا۔ لوگ پیسے پھینک کر اپنے اپنے راستوں پر ہولئے۔ چوک خالی ہو گیا تو وہ رنگین لباس والا شخص ایک ٹوٹے ہوئے لکڑی کے بنچ پر ڈھیر ہو گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے سر کے پیچھے بندھی ڈوری کھولی اور مکھوٹا اتار کر برابر میں رکھ دیا۔
احمد کی سانسیں جیسے رک گئیں۔ مکھوٹے کے پیچھے جو چہرہ برآمد ہوا، وہ کسی بوڑھے کھنڈر کی مانند تھا جس پر وقت کی بے رحم لکیریں واضع تھیں۔ اس کی اصل آنکھیں سرخ تھیں اور گالوں پر پسینے اور آنسوؤں کا ایک ملا جلا نشان تھا۔ وہ شخص اپنی اصلیت میں اتنا شکستہ تھا کہ مکھوٹے کی مسکراہٹ اب ایک مذاق لگنے لگی تھی۔
احمد قدم بڑھا کر اس کے پاس جا بیٹھا۔ کچھ دیر خاموشی رہی، پھر احمد نے دھیمے لہجے میں پوچھا:
"تم تو خوشیاں بانٹتے ہو، لوگوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر رنگ بھرتے ہو۔۔۔ پھر تمہاری اپنی آنکھوں میں یہ ویرانی کیوں ہے؟”
اس شخص نے ایک لمبا سانس لیا اور مکھوٹے کی پلاسٹک والی سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا:
"صاحب! یہ مکھوٹا میری ضرورت ہے، میری حقیقت نہیں۔ اس شہر میں ہم سب سوداگر ہیں۔ میں ہنسی بیچتا ہوں تاکہ روٹی خرید سکوں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہاں ہر انسان نے ایک مکھوٹا پہن رکھا ہے۔ کوئی عہدے کے رعب کا مکھوٹا، کوئی خاندانی وقار کا، اور کوئی پارسائی کا۔ میں نے تو صرف پلاسٹک کا پہنا ہے، لوگ تو گوشت پوست کے مکھوٹے پہنے پھرتے ہیں۔”
احمد کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کے سینے پر دھرا پتھر ہٹا دیا ہو۔ اسے اپنی زندگی یاد آئی۔ وہ گھر جاتا تو ‘سب ٹھیک ہے’ کا مکھوٹا پہن لیتا، دفتر میں ‘سخت گیر افسر’ بن جاتا اور تنہائی میں ایک ‘ناکام انسان’۔ اسے احساس ہوا کہ وہ خود بھی ایک مکھوٹا پہنے ہوئے ہے— ایک ایسا مکھوٹا جو اسے دوسروں کے دکھ محسوس کرنے سے روکتا تھا، جسے وہ ‘مضبوطی’ کا نام دیتا تھا۔
وہ شخص اٹھا، مکھوٹے کو جھاڑا اور اسے دوبارہ اپنے اداس چہرے پر سجا لیا۔ پلاسٹک کی وہ مصنوعی مسکراہٹ پھر سے نمودار ہو گئی۔ وہ ایک نئے ہجوم کی طرف چل پڑا، اور پیچھے پھر سے قہقہوں کا شور گونجنے لگا۔
احمد دیر تک اس بنچ پر بیٹھا رہا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس بھیڑ بھاڑ والے شہر میں اصل انسان کہیں کھو گئے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ لوگ مکھوٹے پہنتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ مکھوٹے پہنتے پہنتے اپنی اصل پہچان ہی بھول جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

مکھوٹا: افسانچہ

 

 

محمد ایوب گنائی

شہر کی اس شام میں ایک عجیب سی گھٹن تھی۔ آسمان پر پھیلی سرخی دھیرے دھیرے سیاہی میں بدل رہی تھی، مگر بازار کی مصنوعی روشنیاں اس قدر تیز تھیں کہ جیسے وہ رات کے اصل چہرے کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہوں۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا شور اور لوگوں کی بھاگ دوڑ ایک ایسا آہنگ پیدا کر رہی تھی جس میں انسانی آوازیں کہیں گم ہو کر رہ گئی تھیں۔ ہر شخص جلدی میں تھا، جیسے کسی تعاقب سے بچ کر بھاگ رہا ہو۔
احمد، جو برسوں سے اسی دفتر اور اسی راستے کا اسیر تھا، آج کچھ تھکا ہوا سا تھا۔ اس کے کندھوں پر فائلوں کا بوجھ نہیں، بلکہ ان ان کہی باتوں کا بار تھا جو وہ روز مرہ کی مصروفیت میں دبا دیتا تھا۔ وہ چوک کے قریب پہنچا تو اسے وہی مانوس قہقہے سنائی دیے۔
یہ وہ مقام تھا جہاں شام ڈھلتے ہی رنگوں کا ایک تماشہ سجتا تھا۔ بھیڑ کے عین بیچ میں ایک شخص کھڑا تھا جس نے زرق برق مخملی لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک بڑا سا، مسکراتا ہوا پلاسٹک کا مکھوٹا تھا، جس کے گال سرخ اور ہونٹ ضرورت سے زیادہ چوڑے تھے۔ وہ عجیب و غریب حرکات کرتا، کبھی لنگڑا کر چلتا تو کبھی ہوا میں ہاتھ لہراتا۔ لوگ اس کے گرد دائرہ بنائے کھڑے تھے اور ہر لطیفے پر تالیاں بجا کر اپنی تھکن اتارنے کی کوشش کر رہے تھے۔
احمد مجمع کے ایک کونے میں رک گیا۔ اس کی نظریں مسخرے کے مکھوٹے کی مسکراہٹ سے پھسل کر ان سوراخوں پر جا ٹھہریں جہاں سے اس کی آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ ان آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو اس کے لفظوں میں تھی۔ وہاں تو ایک ٹھہرا ہوا سمندر تھا، جس میں اداسی کی کائی جمی ہوئی تھی۔ مکھوٹے کی مسکراہٹ ساکت تھی، مگر ان آنکھوں کے پپوٹے لرز رہے تھے، جیسے وہ کسی گہرے دکھ کو ضبط کرنے کی کوشش میں ہوں۔
کچھ دیر بعد تماشہ ختم ہوا۔ لوگ پیسے پھینک کر اپنے اپنے راستوں پر ہولئے۔ چوک خالی ہو گیا تو وہ رنگین لباس والا شخص ایک ٹوٹے ہوئے لکڑی کے بنچ پر ڈھیر ہو گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے سر کے پیچھے بندھی ڈوری کھولی اور مکھوٹا اتار کر برابر میں رکھ دیا۔
احمد کی سانسیں جیسے رک گئیں۔ مکھوٹے کے پیچھے جو چہرہ برآمد ہوا، وہ کسی بوڑھے کھنڈر کی مانند تھا جس پر وقت کی بے رحم لکیریں واضع تھیں۔ اس کی اصل آنکھیں سرخ تھیں اور گالوں پر پسینے اور آنسوؤں کا ایک ملا جلا نشان تھا۔ وہ شخص اپنی اصلیت میں اتنا شکستہ تھا کہ مکھوٹے کی مسکراہٹ اب ایک مذاق لگنے لگی تھی۔
احمد قدم بڑھا کر اس کے پاس جا بیٹھا۔ کچھ دیر خاموشی رہی، پھر احمد نے دھیمے لہجے میں پوچھا:
"تم تو خوشیاں بانٹتے ہو، لوگوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر رنگ بھرتے ہو۔۔۔ پھر تمہاری اپنی آنکھوں میں یہ ویرانی کیوں ہے؟”
اس شخص نے ایک لمبا سانس لیا اور مکھوٹے کی پلاسٹک والی سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا:
"صاحب! یہ مکھوٹا میری ضرورت ہے، میری حقیقت نہیں۔ اس شہر میں ہم سب سوداگر ہیں۔ میں ہنسی بیچتا ہوں تاکہ روٹی خرید سکوں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہاں ہر انسان نے ایک مکھوٹا پہن رکھا ہے۔ کوئی عہدے کے رعب کا مکھوٹا، کوئی خاندانی وقار کا، اور کوئی پارسائی کا۔ میں نے تو صرف پلاسٹک کا پہنا ہے، لوگ تو گوشت پوست کے مکھوٹے پہنے پھرتے ہیں۔”
احمد کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کے سینے پر دھرا پتھر ہٹا دیا ہو۔ اسے اپنی زندگی یاد آئی۔ وہ گھر جاتا تو ‘سب ٹھیک ہے’ کا مکھوٹا پہن لیتا، دفتر میں ‘سخت گیر افسر’ بن جاتا اور تنہائی میں ایک ‘ناکام انسان’۔ اسے احساس ہوا کہ وہ خود بھی ایک مکھوٹا پہنے ہوئے ہے— ایک ایسا مکھوٹا جو اسے دوسروں کے دکھ محسوس کرنے سے روکتا تھا، جسے وہ ‘مضبوطی’ کا نام دیتا تھا۔
وہ شخص اٹھا، مکھوٹے کو جھاڑا اور اسے دوبارہ اپنے اداس چہرے پر سجا لیا۔ پلاسٹک کی وہ مصنوعی مسکراہٹ پھر سے نمودار ہو گئی۔ وہ ایک نئے ہجوم کی طرف چل پڑا، اور پیچھے پھر سے قہقہوں کا شور گونجنے لگا۔
احمد دیر تک اس بنچ پر بیٹھا رہا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس بھیڑ بھاڑ والے شہر میں اصل انسان کہیں کھو گئے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ لوگ مکھوٹے پہنتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ مکھوٹے پہنتے پہنتے اپنی اصل پہچان ہی بھول جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں