کہانی: شریک حیات

شبیر احمد میر

انسان بڑا ناشکرا ہے۔ اللہ نے انسان کو ہزاروں کروڑوں نعمتوں سے نوازا ہے۔ نعمتوں کی قدر کرنا تو دور کی بات ہے وہ جانتا بھی نہیں اسے کیا کچھ عطا کیا گیا ہے ۔ جو چیر رب کی عطا کردہ ہوتی ہے اس کا نہ کوئی توڑ ہوتا ہے نہ ہی مول۔ ان سب نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمیت نکاح کے رشتے میں ہے۔ جس میں بہت بڑی برکت عزت اور محبت ہے۔ اس میں بہت بڑی طاقت بھی ہے۔ جو دو انسانوں کے زندگی کو ایک دوسرے کے مطابق گزارنے پر اکستاتا ہے اور ایک دوسرے کا پابند بنا دیتا ہے۔ آجکل نکاح کو ایک رسم کی طرح ادا کیا جاتا ہے ۔بھول جاتے ہیں نکاح کی حقیقت کیا ہے؟ نکاح کرنا زندگی کی محراج کو پالینا ہے۔ آجکل کے زمانے میں بچوں کی زندگی کے فیصلے تنہا نہیں ہوتے۔ اس میں گھر کے افراد کے ساتھ ساتھ لڑکی کی مرضی بھی معلوم کی جاتی ہے ۔
ایک انسان جتنا بھی تعلیم یافتہ ہو جائے۔ لیکن کچھ معاملات میں ہٹ دھرمی اور ضد اسکی زندگی برباد کردیتے ہیں۔ ہماری ہی غلطی ہے ۔کہ ہمارے نصیب ایسے ہیں کہ ہمارے نصیب میں پر خلوص اور سمجھنے والے رشتے نہیں ہیں ۔اﷲ کی طرف سے یہ ایک آزمایش ہے ۔ ایک امتہان ہے۔ جس کی وجہ سے ہر عورت کی زندگی میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں اسے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے ۔زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ یہ بہت جلدی ختم ہو جاتی ہے ۔بلکہ زندگی کا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جینا بہت دیر بعد سمجھتے ہیں۔اس وقت تک وقت کی گاڑی اتنی تیزی سے آگے بڑھ گئی ہوتی ہے ۔کہ اگر کبھی ہم پلٹ کر دیکھیں تو گزرے ہوئے سالوں پر جمی وقت کی تہہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔اور پھر دل سے ایک آہ نکلتی ہے ۔کہ کاش اس وقت اس قلم سے میں نے اپنی زندگی کے اہم فیصلے پر ہاں لکھا ہوتا۔ میں بھی کیا کرتی؟ یہ جو معاشرہ مرد کو حکمرانی کا سرٹیفکیٹ دیتا ہے ۔کہ جو چاہو کرو اور جیسے چاہو عورت کے ساتھ سلوک کرو۔ اس احساس برتری نے مجھے اور تمہیں کبھی چین سے رہنے نہیں دیا ۔جسکی وجہ سے پچھلے چند سالوں میں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے باوجود میرے اندر خالی پن اور تشنگی ہے۔ مجھے وہ سکون چاہیے ۔جو تمہارے وجود سے میری زندگی میں آتا ہے۔ یہ دولت یہ شان وشوکت میری تنہائی دور نہیں کر سکتے ۔اب مجھے وقت کے ساتھ اپنا آپ ایک گلیشر لگنے لگتا ہے ۔ دیکھنے میںبرف کا حسین جزیرہ ۔خوبصورت دل آویز سفیدی۔ لیکن اندر سے چٹخا ہوا دراڑوں سے برا وجود۔ تنہائی ۔بے بسی اور سرد موت ۔ اپنے اندر کی توڑ پھوڑ کو ہر روز مسکراہٹ کے پردے میںچھپاتی رہتی ہوں۔ حسن کی خود پسندی اور احساس برتری نے مجھے کبھی حقیقی معنوں میںخوش نہیں رہنے دیا۔ میں نئے سرے سے مر د کے دل میںجگہ بنانے کی ترکیب ڈھنڈتی رہتی ہوں۔ اپنی ذات کے غرور میں مبتلا۔ اب میرا یہ غرور مٹی مٹی ہو گیا۔ شایدتم میرے بغیر رہ سکتے ہو ۔لیکن میں نہیں۔ میں آج بھی وہاں کھڑی ہوں ۔جہاں بیس سال پہلے تھی۔ میںآج بھی تمہاری منتظر ہوں ۔ میری سوچ ۔میر ی کم عمری ۔خوبصورتی۔ اعلیٰ تعلیم اور یہ نوکری اس میدان جنگ میں سب ناکارہ نکلے ۔میں نے زندگی میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرلیں ۔لیکن بد قسمتی سے پھر بھی فیصلہ میرے حق میں نہیں ہوا۔سچ تو یہ ہے کہ ایک مرد کو جیتنے کی آرزو میں اپنا آپ کب کا ہار بیٹھی ہوں۔ مجھے کسی بھی چیز کی خواہش نہیں۔ یہ نوکری۔ اعلیٰ ڈگری۔ عزت۔ شہرت۔ یہ سب کچھ لے کر اگر مجھے ایک مرد کی محبت دے دو۔ تو میں سمجھتی ہوں یہ خسارے کا سودا نہیں۔ آج میرے دل میں صرف ایک خواہش ۔ایک کسک ۔ایک ادھورا پن ہے۔ ایک بات سمجھ میں آگئی کہ مجھے اپنی زندگی میںجو بڑا کام کرنا تھا وہ یہی نکاح تھا۔ قدرت نے اسی دن کے لیے میری فطر ت مختلف رکھی تھی ۔ دکھ جیسے اس کے چہرے کے ایک ایک مسام سے ٹپکنے لگا تھا ۔
اس رات پہلی بار اس نے خود کو آئینے میں بہت دیر تک دیکھا۔ ڈھلتی عمر کی لکیریں نمایاں ہونے سے کیا انسان اتنا بدل جاتا ہے کہ اپنے آپکو پہچان بھی نہ پائے ۔تپتے مسکراتے خوشیوں سے جھلملاے دنوں کو گزرتا وقت اپنے پروں میں سمیٹ کر اتنی تیزی سے پرواز کر رہا تھا کہ لاکھ چاہنے کے باوجود اسکی رفتار کم کرنے سے قاصر تھی۔جب عمر کا دریا اترنے لگتا ہے اس کی جولائی اور تندہی میں کمی آنے لگتی ہے تب وہ سود و زیاں کا حساب لگاتے ہیں۔ مگر اس وقت فقط ہاتھ آتا ہے تو رائیگاں جانے دکھ۔ خسارہ ہی خسارہ۔ اضطراب۔ پچھتاوے میں اور کچھ نہیں۔ وہ جیسے خود پر ہنس رہی تھی مگر اسکی مسکراہت یوں ابھر کر ڈوب گئی جیسے شام کے تھکے ساحل پر نڈھال اور تھکی لہر ٹکرا کر بکھرنے لگے ۔
بہار کیا اب خزان بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
میںبرگ صحرا ہوں یوں بھی مجھکو ہوا اڑتئے تو کچھ نہ پائے ۔
اسے گنوا کے پھر اس کو پانے کا شوق اس دل میں یوں ہے
کہ جیسے پانی پر دائرہ کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے
اس وقت اس کی آنکھوں میں پہلے حیرت چھلکی۔ پھر یہ حیرت یوں چٹخی ۔جیسے بہت اونچائی سے کوئی کانچ کا گلدان کسی کھردری سطح سے جا ٹکرائے ۔دوسرے پل کرچیوں کو وہ اپنی آنکھوں میں چھبتا ہوا محسوس کرنے لگی۔ اس وقت اس کا دل گہرے کنویں میں جا گرا اور خود کو بے بسی کے عظیم حالت میں غوطہ زن پایا۔ وہ اس وقت اپنی آنکھ کے آنسوئوں کا قطرہ قطرہ بہادینا چاہتی تھی ۔ اسے جتنا رونا تھا بس آج ہی رو لینا تھا ۔کتنی ہی دیر خالی پن سے وہ وہیں بیڈ پر بیٹھی رہی۔ اپنے ہاتھوں کی لیکریں کھوجتی رہی ان آڑ ی ترچھی لیکیروں میںشاید کہیں اس کی زندگی کی وہ خوشیاں چھپی تھیں۔جو اس سے روٹھ گیئں تھیں یا شاید ابھی بھی اس میں مزیدد آزمائشیں چھپی بیٹھی تھیں ۔ صبح جب اٹھی تو ماںنے محسوس کیا !ا سکی آ نکھیں رونے کی چخلی کھارہی تھیں ۔ ضبط کرنے کے باوجود آنسووں سے اس کا حلق نمکیں ہورہا تھا اور وہ پلکیں جھپک جھپک کر انہیں باہر آنے سے روک رہی تھی۔ باوجود کوشش کے آنسو اسکی آنکھوں کے کناروں سے بہنے لگے تھے اور ماں سے کہا!
یہ محبت ناسور ہے ماں ۔یہ اپنی ابتدا میں سمجھ ہی نہیں آتی اور جب سمجھ میں آتی ہے تو واپسی کے سب امکانات ختم ہو چکے ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی چلتی پھرتی زندگی محض ایک پل میں فالیج زدہ ہو کر وہیں ٹھہر جاتی ہے جہاں وہ بھاری لمحہ زندگی میں داخل ہو تا ہے اور وہ بھاری لمحہ خوشیوں کے وقتوں کو اپنے وزنی پیر تلے کچل دیتا ہے اور بڑے بڑے دکھ اس کے سامنے سانپ کی طر ح پھن پھیلائے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب میں تھک گئی ہوں ماں ۔تمام سہولتوں اور آسائوشوں کے باوجود مجھے لگتاہے ۔ماںجیسے میں کسی صحرا میں پیاسی ننگے پائوں چلتی جارہی ہوں ۔ خود کو مظبوط دکھاتے دکھاتے تھک گئی ہوں۔ میںکسی کے سامنے آکر خود کو بے بس کرنا نہیں چاہتی۔ رونا نہین چاہتی
ماںنے ایک آہ بھری اور من ہی من میں کہا !ہائے رہے میرے نصیب تو کہاں سویا ہوا ہے؟
وہ بہت صبر وتحمل سے بیٹی کی حرکات و سکنات پر غور کرتی رہی ۔اس نے محسوس کیا کہ وہ واقعی اندھیروں کی مسافر بن گئی ہے۔ وہ گھور اندھیروں میں نامعلوم راستوں پر نامعلوم منزلوں کی جانب سفر کررہی ہے۔ بڑا ہی شدید جذباتی آزار تھا ۔جس سے وہ گزررہی تھی ۔ وہ خود کو بری طرح تقسیم ہوتے ہوتے محسوس کر رہی تھی اور ابھی بھی اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ ماں بڑی بے بسی سے بیٹی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ اس وقت ماں نے بیٹی کی آنکھوں میں ایک خشک سا صحرا سا محسوس کیا ۔بادام جیسی مغمور آنکھوں میںآنسوئوں کے سیلاب نے ایک ایسی خشکی چھوڑ دی تھی جو عموماً ان حصوں میں پائی جاتی ہے جہاں سے سیلاب اپنا اثر چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاتاہے ۔ سچ کہوں ماں! کبھی کبھاربڑی کمی محسوس ہوتی ہے ایک ایسے انسان کی جو میرے ساتھ بیٹھ کر میں اسکی زہانت سے لاجواب ہو جائوں تو کبھی وہ میرے کہے ہوئے الفاظ کی دھاک سے متاثر ہوجائے ۔
دیکھوبیٹا ۔کچھ فیصلے انسان کو وقت کرواتا ہے۔ جو کہ حالات کا رخ دیکھ کر انسان کو کرنے پڑتے ہیں ۔ چائیے مرضی ہو نہ ہو۔ ہم اکثر اتنے اچھے نہیں ہوتے جتنا ہمیں محبت اچھا کر دیتی ہے ۔مرد کا عمل اس کے ساتھ رہتا ہے۔ مگر عورت کے ہر قدم پر نشان لگتے جاتے ہیں ۔کل ان ہی قدموں کے نشان پر اسکی نسل کو چلنا پڑتا ہے۔ عورت کے قدموں کے نشان کو وقت کی دھول میں اور بھی گہرے کردیتی ہے۔ مٹتے نہیں ہیں ۔ عورت دنیا سے چلی جاتی ہے۔ مگر اس کے اعمال دنیا والوں کی زبان پر رہ جاتے ہیں ۔ یہ جو میں نے کہا نا تمہاری سمجھ سے باہر ہے ۔میرے پاس تمہاری طرح اعلیٰ ڈگریاں نہیں ہیں ۔میرے پاس تجربہ ہے ۔ان اعلیٰ ڈگریوں نے تمہیں ضدی بنا دیا ۔جبکہ میرے تجربے سے میرے بات کرنے کا سلیقہ ہی الگ ہے ۔میرے لوگوں سے بات کرنا ان کے دل جیتنے کے ارادے سے ہوتاہے۔ ہر چیر اس کے اصل مقام پر ڈھونڈا جائے تو ضرور مل جاتی ہے۔ لیکن آج بچوں کے سامنے پڑی چیز نظر نہیں آتی ۔کتنی بار میں نے تجھے سمجھایا کہ اپنے وقت کو کار آمد بنائو ۔ورنہ یہ تمہیں ناکارہ بنا دے گا۔ مفاہمت کے راستے نکالے جاتے ہیں۔ سمجھو تا کر نا پڑتا ہے ۔تب کہیں جا کر زندگی گزرتی ہے ۔سچے اور خالص لوگ ہیرے کی مانند ہوتے ہیں جہنیں حاصل کرنے کی تمنا سب کو ہوتی ہے۔ زندگی میں جب محبت ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہے تو ہم اپنی کوتاہ نظری ۔کم فہمی یا اپنی ضد و انا میں اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسکا احساس ہمیں تب ہوتاہے جب زندگی صحرا کے مانند بن جاتی ہے اور ہم آبلہ یا چلتے خاک اڑاتے کسی محبت بھری ٹھنڈی چھائوں کو ترستے ہیں۔ کہتے ہیںبنانے والا ہم میں کچھ کمیاں چھوڑتا ہے ۔جھنیں ہمار جیون ساتھی آکر پورا کرتا ہے ۔ تمہاری سوچ ہمیشہ سے نیگٹو رہی ہے۔ اس لیے تم سے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں ہو سکتی ۔دن یوں ہی ایک دوسرے کے تعاقب کرتے ہوئے گز ر ہے تھے اور آگے بھی گزرتے جائیں گے ۔ اگر تمہاری جگہ میں ہوتی ۔تو اس ایک پل کے عوض کوئی مجھ سے میری پوری زندگی کی خوشیاں مانگ لے۔ تو میں ہنس کر دے دوں گی ۔کیونکہ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔
اک عمر ہے جو تیرے بغیر بتائی
اک لمحہ ہے جو تیرے بغیر گزرتا نہیں
سنہری موقع مقدر سے ملتا ہے۔ سوچنے اور غور کرنے سے تاخیر ہو سکتی ہے اور تاخیر سرا سر گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے ۔کمال تو یہ ہے ایک انسان کو سب رشتے بنے بنائے ملتے ہیں۔ صرف یہی ایک رشتہ اس کو بناناپڑتا ہے ۔ یہ ایک رشتہ بھی اسے ڈھنگ سے نہیںبنانا آتا۔ عورت کے لیے کفالت سے بھی زیادہ اہم مسئلہ۔ تحفظ کا ہوتا ہے۔ گھر میں جوان لڑکی بیٹھی ہو تو ماں باپ کے لیے ایک ایک دن ایک ایک صدی بن جاتا ہے ۔ غور کیا کبھی تم نے اس بات کو؟ کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جو تو اپنا گھر نہ بسا سکی۔ بے غیر ت اور بے حیا ہے وہ ماں جس کے گھر میںپانی کا ایک گلاس بھی پینا حرام ہے۔ اس بات کو سمجھ رہی ہو تم ؟یہ پرانے وقیانوسی خیالات نہںٰ۔بلکہ ایک حقیقت اگل رہی ہوں۔ دل کرتا ہے تمہاری یہ تمام سندیں باہر نکلا کر۔ ان میںآگ لگا دوں ۔ عجیب زندگی ہو گئی ہے جو موت سے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔میں اپنے لیے روز مرنے کی دعائیں مانگتی ہوں۔ لیکن زندگی طویل تر ہونے لگتی ہے۔ بیٹیاں اپنے گھر کی ہونے کے بعد بھی والدین کو ان کے نصیب کی فکر سونے نہیں دیتی ۔ اس سے زیادہ دکھ کا مقام میرے لیے کیا ہو گا ۔خود کو میری دوست کہنے والیاں جب میری آنکھوں اور میری ہنسی میں چھپی اداسی کو محسوس نہیںکر سکیں۔ تو مین گلہ کس سے کروں ۔کسے اپنا غمگسار بنائوں ۔کسے اپنا اصل درد بیان کروں۔ بالکل یہی حال تمہارا بھی ہے۔ اپنا دم سنبھالتے ہوئے کہا ۔
بے وقوف ۔ تمہیں اندازہ نہیں تم کیا کھونے جارہی تھی۔ جب بھی میرا زہن تیا رہوا۔ تمہاری طرف سے ہمیشہ انکار ہوا ۔اب تو تمہیںہر چیز سمجھانی پڑتی ہے۔ اپنے کان پھاڑ کے سن ْ ۔مر د کے قدموںمیں ہی ایک عورت کی آسودگی اور فلاح ہے ۔ہر انسان کو اپنی پوری حیات میں ایک بار ضرور محبت ہوتی ہے اور محبت بھی ایسی ہوتی ہے ۔کہ اس کے تصور میں کھو کر بھوک لگتی نہ پیاس کااحساس ہوتا ہے ۔پوری رات وہ اس کے تصورسے باتیں کرتی رہتی ہے ۔اس کی تمام تر سوچیں ۔اس کے گرد گھومتی رہتی ہیں ۔یہ آج تم محسوس کررہی ہو ۔نیک ۔باکردار ار خوشحال مرد کا رشتہ ٹھکرانا کفر ان نعمت ہے ۔کمرے کے وسط میں وہ یو ں بٹھی تھی جیسے زندگی ہار آئی ہو اور ایسا وہ تب محسوس کرتی۔ جب جب وہ کسی شخص سے ملتی۔
آج چاند کی چودھویں رات تھی ۔سیاہ رات کو چاند کی روشنی نے پر نور بنا دیا ۔آسمان پر بے حساب ستارے پوری آب وتاب سے ٹمٹا رہے تھے ۔کمرے کی کھڑکی میںبیٹھی وہ خالی زہن آسمان کو تک رہی تھی مگر نہ تو ستارے گن رہی تھی اور نہ ہی کوئی جواب بن رہی تھی ۔راتیں کروٹیں بدلتے گزر جاتیں نیند تو روٹھ گئی تھی ۔سونے کے لیے وہ دعائیں مانگتی اور خواب چکنا چور ہوئے تھے ۔وجود اپنی اہمیت کھو چکی تھی ۔ نیند کہاںسے آتی۔ کیسے آتی۔اب اس نے آسمان سے نظر یں ہٹالیں نہ جانے کون سا خیال اس کے زہن کو چھو گیا ۔جسکی وجہ سے دل کو چھولینے والا اپنے پھڑ پھڑائے ہو نٹوں سے گانے لگی۔ گاتے گاتے اسکی آنکھوں سے چھم چھم کر کے آنسو رواں رواںہوگئے ۔
میںنے بلا یا اور تم آئے۔ اب دل چاہیئے کیا
آو تمہیں پلکوں مین رکھ لوں سچ کر لوں سپنا
آنچل میںہیں پھول خوشی کے تم سا میت ملا
آو تمہیں پلکوں میں رکھ لوں سچ کر لوں سپنا
تم ملے ۔مل گئے۔ مجھ کو جیسے دونوں جہاں
تم جہاں ۔دل وہا ں ۔تم سے زندگی۔ تم سے جان
آو تمہیں پلکوں میں رکھ لوں سچ کر لوں سپنا
میں نے بلایا اور تم آئے اب دل چائیے کیا
آو تمہیں پلکوں میں رکھ لوں سچ کر لوں سپنا۔
گانا گا کر کئی بے چینیاں اس کے وجود میں بھر گیئں ۔ایک کتاب جو اس کے ہاتھ میں پہلے سے موجود تھی۔ اب اس کتاب کی ورق گردانی کرنے لگی۔ اچانک ایک صفحہ پر اسکی نظر اٹک گئی جس پر لکھا تھا! عورت خداکی بڑی نعمتوں میں ایک نعمت ہے۔ اورجب کوئی عوت مکمل طور پر اپنے آپ کو شوہر کے سپر د کر دیتی ہے۔ تو اس کے بدن کی خوشبو کا عالم ہی دوسرا ہوتاہے ۔ یہ پڑھتے ہی اچانک کھڑکی سے باہر کسی پرندے کی پروں کی پھڑ پھڑاہت کی آواز اس کے کانوں میں گونجی ۔ایک سیاہ پنچھی۔ اس کے سر کے اوپر اڑرہا تھا۔پنچھی بہت اونچائی پر پہنچ گیا۔ وہ پہچان نہ سکی۔ کیا وہ چکورہے ؟ چکور چاند کی عاشق ہوتی ہے اور چاند رات میں دیوانی ہو کر چاند کو چھونے کی جستجو میں اوپر ہی اوپر اڑتی چلی جاتی ہے۔ ختیٰ کہ اس کے بازو تھک جاتے ہیںاور گر کر مر جاتی ہے ۔
ایک بار پھر اس نے کتاب کے اس جملے کو غور سے پڑھا اور پڑھتے پڑھتے غصے کی حالت میں اس کا چہرہ لا ل ہو گیا اور کتاب کو پوری زور سے کمرے کی دیوار پر پٹخ دیا اور کہا۔
اچھا تھا میں چکور کی طرح مر جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

کہانی: شریک حیات

شبیر احمد میر

انسان بڑا ناشکرا ہے۔ اللہ نے انسان کو ہزاروں کروڑوں نعمتوں سے نوازا ہے۔ نعمتوں کی قدر کرنا تو دور کی بات ہے وہ جانتا بھی نہیں اسے کیا کچھ عطا کیا گیا ہے ۔ جو چیر رب کی عطا کردہ ہوتی ہے اس کا نہ کوئی توڑ ہوتا ہے نہ ہی مول۔ ان سب نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمیت نکاح کے رشتے میں ہے۔ جس میں بہت بڑی برکت عزت اور محبت ہے۔ اس میں بہت بڑی طاقت بھی ہے۔ جو دو انسانوں کے زندگی کو ایک دوسرے کے مطابق گزارنے پر اکستاتا ہے اور ایک دوسرے کا پابند بنا دیتا ہے۔ آجکل نکاح کو ایک رسم کی طرح ادا کیا جاتا ہے ۔بھول جاتے ہیں نکاح کی حقیقت کیا ہے؟ نکاح کرنا زندگی کی محراج کو پالینا ہے۔ آجکل کے زمانے میں بچوں کی زندگی کے فیصلے تنہا نہیں ہوتے۔ اس میں گھر کے افراد کے ساتھ ساتھ لڑکی کی مرضی بھی معلوم کی جاتی ہے ۔
ایک انسان جتنا بھی تعلیم یافتہ ہو جائے۔ لیکن کچھ معاملات میں ہٹ دھرمی اور ضد اسکی زندگی برباد کردیتے ہیں۔ ہماری ہی غلطی ہے ۔کہ ہمارے نصیب ایسے ہیں کہ ہمارے نصیب میں پر خلوص اور سمجھنے والے رشتے نہیں ہیں ۔اﷲ کی طرف سے یہ ایک آزمایش ہے ۔ ایک امتہان ہے۔ جس کی وجہ سے ہر عورت کی زندگی میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں اسے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے ۔زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ یہ بہت جلدی ختم ہو جاتی ہے ۔بلکہ زندگی کا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جینا بہت دیر بعد سمجھتے ہیں۔اس وقت تک وقت کی گاڑی اتنی تیزی سے آگے بڑھ گئی ہوتی ہے ۔کہ اگر کبھی ہم پلٹ کر دیکھیں تو گزرے ہوئے سالوں پر جمی وقت کی تہہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔اور پھر دل سے ایک آہ نکلتی ہے ۔کہ کاش اس وقت اس قلم سے میں نے اپنی زندگی کے اہم فیصلے پر ہاں لکھا ہوتا۔ میں بھی کیا کرتی؟ یہ جو معاشرہ مرد کو حکمرانی کا سرٹیفکیٹ دیتا ہے ۔کہ جو چاہو کرو اور جیسے چاہو عورت کے ساتھ سلوک کرو۔ اس احساس برتری نے مجھے اور تمہیں کبھی چین سے رہنے نہیں دیا ۔جسکی وجہ سے پچھلے چند سالوں میں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے باوجود میرے اندر خالی پن اور تشنگی ہے۔ مجھے وہ سکون چاہیے ۔جو تمہارے وجود سے میری زندگی میں آتا ہے۔ یہ دولت یہ شان وشوکت میری تنہائی دور نہیں کر سکتے ۔اب مجھے وقت کے ساتھ اپنا آپ ایک گلیشر لگنے لگتا ہے ۔ دیکھنے میںبرف کا حسین جزیرہ ۔خوبصورت دل آویز سفیدی۔ لیکن اندر سے چٹخا ہوا دراڑوں سے برا وجود۔ تنہائی ۔بے بسی اور سرد موت ۔ اپنے اندر کی توڑ پھوڑ کو ہر روز مسکراہٹ کے پردے میںچھپاتی رہتی ہوں۔ حسن کی خود پسندی اور احساس برتری نے مجھے کبھی حقیقی معنوں میںخوش نہیں رہنے دیا۔ میں نئے سرے سے مر د کے دل میںجگہ بنانے کی ترکیب ڈھنڈتی رہتی ہوں۔ اپنی ذات کے غرور میں مبتلا۔ اب میرا یہ غرور مٹی مٹی ہو گیا۔ شایدتم میرے بغیر رہ سکتے ہو ۔لیکن میں نہیں۔ میں آج بھی وہاں کھڑی ہوں ۔جہاں بیس سال پہلے تھی۔ میںآج بھی تمہاری منتظر ہوں ۔ میری سوچ ۔میر ی کم عمری ۔خوبصورتی۔ اعلیٰ تعلیم اور یہ نوکری اس میدان جنگ میں سب ناکارہ نکلے ۔میں نے زندگی میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرلیں ۔لیکن بد قسمتی سے پھر بھی فیصلہ میرے حق میں نہیں ہوا۔سچ تو یہ ہے کہ ایک مرد کو جیتنے کی آرزو میں اپنا آپ کب کا ہار بیٹھی ہوں۔ مجھے کسی بھی چیز کی خواہش نہیں۔ یہ نوکری۔ اعلیٰ ڈگری۔ عزت۔ شہرت۔ یہ سب کچھ لے کر اگر مجھے ایک مرد کی محبت دے دو۔ تو میں سمجھتی ہوں یہ خسارے کا سودا نہیں۔ آج میرے دل میں صرف ایک خواہش ۔ایک کسک ۔ایک ادھورا پن ہے۔ ایک بات سمجھ میں آگئی کہ مجھے اپنی زندگی میںجو بڑا کام کرنا تھا وہ یہی نکاح تھا۔ قدرت نے اسی دن کے لیے میری فطر ت مختلف رکھی تھی ۔ دکھ جیسے اس کے چہرے کے ایک ایک مسام سے ٹپکنے لگا تھا ۔
اس رات پہلی بار اس نے خود کو آئینے میں بہت دیر تک دیکھا۔ ڈھلتی عمر کی لکیریں نمایاں ہونے سے کیا انسان اتنا بدل جاتا ہے کہ اپنے آپکو پہچان بھی نہ پائے ۔تپتے مسکراتے خوشیوں سے جھلملاے دنوں کو گزرتا وقت اپنے پروں میں سمیٹ کر اتنی تیزی سے پرواز کر رہا تھا کہ لاکھ چاہنے کے باوجود اسکی رفتار کم کرنے سے قاصر تھی۔جب عمر کا دریا اترنے لگتا ہے اس کی جولائی اور تندہی میں کمی آنے لگتی ہے تب وہ سود و زیاں کا حساب لگاتے ہیں۔ مگر اس وقت فقط ہاتھ آتا ہے تو رائیگاں جانے دکھ۔ خسارہ ہی خسارہ۔ اضطراب۔ پچھتاوے میں اور کچھ نہیں۔ وہ جیسے خود پر ہنس رہی تھی مگر اسکی مسکراہت یوں ابھر کر ڈوب گئی جیسے شام کے تھکے ساحل پر نڈھال اور تھکی لہر ٹکرا کر بکھرنے لگے ۔
بہار کیا اب خزان بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
میںبرگ صحرا ہوں یوں بھی مجھکو ہوا اڑتئے تو کچھ نہ پائے ۔
اسے گنوا کے پھر اس کو پانے کا شوق اس دل میں یوں ہے
کہ جیسے پانی پر دائرہ کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے
اس وقت اس کی آنکھوں میں پہلے حیرت چھلکی۔ پھر یہ حیرت یوں چٹخی ۔جیسے بہت اونچائی سے کوئی کانچ کا گلدان کسی کھردری سطح سے جا ٹکرائے ۔دوسرے پل کرچیوں کو وہ اپنی آنکھوں میں چھبتا ہوا محسوس کرنے لگی۔ اس وقت اس کا دل گہرے کنویں میں جا گرا اور خود کو بے بسی کے عظیم حالت میں غوطہ زن پایا۔ وہ اس وقت اپنی آنکھ کے آنسوئوں کا قطرہ قطرہ بہادینا چاہتی تھی ۔ اسے جتنا رونا تھا بس آج ہی رو لینا تھا ۔کتنی ہی دیر خالی پن سے وہ وہیں بیڈ پر بیٹھی رہی۔ اپنے ہاتھوں کی لیکریں کھوجتی رہی ان آڑ ی ترچھی لیکیروں میںشاید کہیں اس کی زندگی کی وہ خوشیاں چھپی تھیں۔جو اس سے روٹھ گیئں تھیں یا شاید ابھی بھی اس میں مزیدد آزمائشیں چھپی بیٹھی تھیں ۔ صبح جب اٹھی تو ماںنے محسوس کیا !ا سکی آ نکھیں رونے کی چخلی کھارہی تھیں ۔ ضبط کرنے کے باوجود آنسووں سے اس کا حلق نمکیں ہورہا تھا اور وہ پلکیں جھپک جھپک کر انہیں باہر آنے سے روک رہی تھی۔ باوجود کوشش کے آنسو اسکی آنکھوں کے کناروں سے بہنے لگے تھے اور ماں سے کہا!
یہ محبت ناسور ہے ماں ۔یہ اپنی ابتدا میں سمجھ ہی نہیں آتی اور جب سمجھ میں آتی ہے تو واپسی کے سب امکانات ختم ہو چکے ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی چلتی پھرتی زندگی محض ایک پل میں فالیج زدہ ہو کر وہیں ٹھہر جاتی ہے جہاں وہ بھاری لمحہ زندگی میں داخل ہو تا ہے اور وہ بھاری لمحہ خوشیوں کے وقتوں کو اپنے وزنی پیر تلے کچل دیتا ہے اور بڑے بڑے دکھ اس کے سامنے سانپ کی طر ح پھن پھیلائے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب میں تھک گئی ہوں ماں ۔تمام سہولتوں اور آسائوشوں کے باوجود مجھے لگتاہے ۔ماںجیسے میں کسی صحرا میں پیاسی ننگے پائوں چلتی جارہی ہوں ۔ خود کو مظبوط دکھاتے دکھاتے تھک گئی ہوں۔ میںکسی کے سامنے آکر خود کو بے بس کرنا نہیں چاہتی۔ رونا نہین چاہتی
ماںنے ایک آہ بھری اور من ہی من میں کہا !ہائے رہے میرے نصیب تو کہاں سویا ہوا ہے؟
وہ بہت صبر وتحمل سے بیٹی کی حرکات و سکنات پر غور کرتی رہی ۔اس نے محسوس کیا کہ وہ واقعی اندھیروں کی مسافر بن گئی ہے۔ وہ گھور اندھیروں میں نامعلوم راستوں پر نامعلوم منزلوں کی جانب سفر کررہی ہے۔ بڑا ہی شدید جذباتی آزار تھا ۔جس سے وہ گزررہی تھی ۔ وہ خود کو بری طرح تقسیم ہوتے ہوتے محسوس کر رہی تھی اور ابھی بھی اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ ماں بڑی بے بسی سے بیٹی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ اس وقت ماں نے بیٹی کی آنکھوں میں ایک خشک سا صحرا سا محسوس کیا ۔بادام جیسی مغمور آنکھوں میںآنسوئوں کے سیلاب نے ایک ایسی خشکی چھوڑ دی تھی جو عموماً ان حصوں میں پائی جاتی ہے جہاں سے سیلاب اپنا اثر چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاتاہے ۔ سچ کہوں ماں! کبھی کبھاربڑی کمی محسوس ہوتی ہے ایک ایسے انسان کی جو میرے ساتھ بیٹھ کر میں اسکی زہانت سے لاجواب ہو جائوں تو کبھی وہ میرے کہے ہوئے الفاظ کی دھاک سے متاثر ہوجائے ۔
دیکھوبیٹا ۔کچھ فیصلے انسان کو وقت کرواتا ہے۔ جو کہ حالات کا رخ دیکھ کر انسان کو کرنے پڑتے ہیں ۔ چائیے مرضی ہو نہ ہو۔ ہم اکثر اتنے اچھے نہیں ہوتے جتنا ہمیں محبت اچھا کر دیتی ہے ۔مرد کا عمل اس کے ساتھ رہتا ہے۔ مگر عورت کے ہر قدم پر نشان لگتے جاتے ہیں ۔کل ان ہی قدموں کے نشان پر اسکی نسل کو چلنا پڑتا ہے۔ عورت کے قدموں کے نشان کو وقت کی دھول میں اور بھی گہرے کردیتی ہے۔ مٹتے نہیں ہیں ۔ عورت دنیا سے چلی جاتی ہے۔ مگر اس کے اعمال دنیا والوں کی زبان پر رہ جاتے ہیں ۔ یہ جو میں نے کہا نا تمہاری سمجھ سے باہر ہے ۔میرے پاس تمہاری طرح اعلیٰ ڈگریاں نہیں ہیں ۔میرے پاس تجربہ ہے ۔ان اعلیٰ ڈگریوں نے تمہیں ضدی بنا دیا ۔جبکہ میرے تجربے سے میرے بات کرنے کا سلیقہ ہی الگ ہے ۔میرے لوگوں سے بات کرنا ان کے دل جیتنے کے ارادے سے ہوتاہے۔ ہر چیر اس کے اصل مقام پر ڈھونڈا جائے تو ضرور مل جاتی ہے۔ لیکن آج بچوں کے سامنے پڑی چیز نظر نہیں آتی ۔کتنی بار میں نے تجھے سمجھایا کہ اپنے وقت کو کار آمد بنائو ۔ورنہ یہ تمہیں ناکارہ بنا دے گا۔ مفاہمت کے راستے نکالے جاتے ہیں۔ سمجھو تا کر نا پڑتا ہے ۔تب کہیں جا کر زندگی گزرتی ہے ۔سچے اور خالص لوگ ہیرے کی مانند ہوتے ہیں جہنیں حاصل کرنے کی تمنا سب کو ہوتی ہے۔ زندگی میں جب محبت ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہے تو ہم اپنی کوتاہ نظری ۔کم فہمی یا اپنی ضد و انا میں اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسکا احساس ہمیں تب ہوتاہے جب زندگی صحرا کے مانند بن جاتی ہے اور ہم آبلہ یا چلتے خاک اڑاتے کسی محبت بھری ٹھنڈی چھائوں کو ترستے ہیں۔ کہتے ہیںبنانے والا ہم میں کچھ کمیاں چھوڑتا ہے ۔جھنیں ہمار جیون ساتھی آکر پورا کرتا ہے ۔ تمہاری سوچ ہمیشہ سے نیگٹو رہی ہے۔ اس لیے تم سے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں ہو سکتی ۔دن یوں ہی ایک دوسرے کے تعاقب کرتے ہوئے گز ر ہے تھے اور آگے بھی گزرتے جائیں گے ۔ اگر تمہاری جگہ میں ہوتی ۔تو اس ایک پل کے عوض کوئی مجھ سے میری پوری زندگی کی خوشیاں مانگ لے۔ تو میں ہنس کر دے دوں گی ۔کیونکہ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔
اک عمر ہے جو تیرے بغیر بتائی
اک لمحہ ہے جو تیرے بغیر گزرتا نہیں
سنہری موقع مقدر سے ملتا ہے۔ سوچنے اور غور کرنے سے تاخیر ہو سکتی ہے اور تاخیر سرا سر گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے ۔کمال تو یہ ہے ایک انسان کو سب رشتے بنے بنائے ملتے ہیں۔ صرف یہی ایک رشتہ اس کو بناناپڑتا ہے ۔ یہ ایک رشتہ بھی اسے ڈھنگ سے نہیںبنانا آتا۔ عورت کے لیے کفالت سے بھی زیادہ اہم مسئلہ۔ تحفظ کا ہوتا ہے۔ گھر میں جوان لڑکی بیٹھی ہو تو ماں باپ کے لیے ایک ایک دن ایک ایک صدی بن جاتا ہے ۔ غور کیا کبھی تم نے اس بات کو؟ کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جو تو اپنا گھر نہ بسا سکی۔ بے غیر ت اور بے حیا ہے وہ ماں جس کے گھر میںپانی کا ایک گلاس بھی پینا حرام ہے۔ اس بات کو سمجھ رہی ہو تم ؟یہ پرانے وقیانوسی خیالات نہںٰ۔بلکہ ایک حقیقت اگل رہی ہوں۔ دل کرتا ہے تمہاری یہ تمام سندیں باہر نکلا کر۔ ان میںآگ لگا دوں ۔ عجیب زندگی ہو گئی ہے جو موت سے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔میں اپنے لیے روز مرنے کی دعائیں مانگتی ہوں۔ لیکن زندگی طویل تر ہونے لگتی ہے۔ بیٹیاں اپنے گھر کی ہونے کے بعد بھی والدین کو ان کے نصیب کی فکر سونے نہیں دیتی ۔ اس سے زیادہ دکھ کا مقام میرے لیے کیا ہو گا ۔خود کو میری دوست کہنے والیاں جب میری آنکھوں اور میری ہنسی میں چھپی اداسی کو محسوس نہیںکر سکیں۔ تو مین گلہ کس سے کروں ۔کسے اپنا غمگسار بنائوں ۔کسے اپنا اصل درد بیان کروں۔ بالکل یہی حال تمہارا بھی ہے۔ اپنا دم سنبھالتے ہوئے کہا ۔
بے وقوف ۔ تمہیں اندازہ نہیں تم کیا کھونے جارہی تھی۔ جب بھی میرا زہن تیا رہوا۔ تمہاری طرف سے ہمیشہ انکار ہوا ۔اب تو تمہیںہر چیز سمجھانی پڑتی ہے۔ اپنے کان پھاڑ کے سن ْ ۔مر د کے قدموںمیں ہی ایک عورت کی آسودگی اور فلاح ہے ۔ہر انسان کو اپنی پوری حیات میں ایک بار ضرور محبت ہوتی ہے اور محبت بھی ایسی ہوتی ہے ۔کہ اس کے تصور میں کھو کر بھوک لگتی نہ پیاس کااحساس ہوتا ہے ۔پوری رات وہ اس کے تصورسے باتیں کرتی رہتی ہے ۔اس کی تمام تر سوچیں ۔اس کے گرد گھومتی رہتی ہیں ۔یہ آج تم محسوس کررہی ہو ۔نیک ۔باکردار ار خوشحال مرد کا رشتہ ٹھکرانا کفر ان نعمت ہے ۔کمرے کے وسط میں وہ یو ں بٹھی تھی جیسے زندگی ہار آئی ہو اور ایسا وہ تب محسوس کرتی۔ جب جب وہ کسی شخص سے ملتی۔
آج چاند کی چودھویں رات تھی ۔سیاہ رات کو چاند کی روشنی نے پر نور بنا دیا ۔آسمان پر بے حساب ستارے پوری آب وتاب سے ٹمٹا رہے تھے ۔کمرے کی کھڑکی میںبیٹھی وہ خالی زہن آسمان کو تک رہی تھی مگر نہ تو ستارے گن رہی تھی اور نہ ہی کوئی جواب بن رہی تھی ۔راتیں کروٹیں بدلتے گزر جاتیں نیند تو روٹھ گئی تھی ۔سونے کے لیے وہ دعائیں مانگتی اور خواب چکنا چور ہوئے تھے ۔وجود اپنی اہمیت کھو چکی تھی ۔ نیند کہاںسے آتی۔ کیسے آتی۔اب اس نے آسمان سے نظر یں ہٹالیں نہ جانے کون سا خیال اس کے زہن کو چھو گیا ۔جسکی وجہ سے دل کو چھولینے والا اپنے پھڑ پھڑائے ہو نٹوں سے گانے لگی۔ گاتے گاتے اسکی آنکھوں سے چھم چھم کر کے آنسو رواں رواںہوگئے ۔
میںنے بلا یا اور تم آئے۔ اب دل چاہیئے کیا
آو تمہیں پلکوں مین رکھ لوں سچ کر لوں سپنا
آنچل میںہیں پھول خوشی کے تم سا میت ملا
آو تمہیں پلکوں میں رکھ لوں سچ کر لوں سپنا
تم ملے ۔مل گئے۔ مجھ کو جیسے دونوں جہاں
تم جہاں ۔دل وہا ں ۔تم سے زندگی۔ تم سے جان
آو تمہیں پلکوں میں رکھ لوں سچ کر لوں سپنا
میں نے بلایا اور تم آئے اب دل چائیے کیا
آو تمہیں پلکوں میں رکھ لوں سچ کر لوں سپنا۔
گانا گا کر کئی بے چینیاں اس کے وجود میں بھر گیئں ۔ایک کتاب جو اس کے ہاتھ میں پہلے سے موجود تھی۔ اب اس کتاب کی ورق گردانی کرنے لگی۔ اچانک ایک صفحہ پر اسکی نظر اٹک گئی جس پر لکھا تھا! عورت خداکی بڑی نعمتوں میں ایک نعمت ہے۔ اورجب کوئی عوت مکمل طور پر اپنے آپ کو شوہر کے سپر د کر دیتی ہے۔ تو اس کے بدن کی خوشبو کا عالم ہی دوسرا ہوتاہے ۔ یہ پڑھتے ہی اچانک کھڑکی سے باہر کسی پرندے کی پروں کی پھڑ پھڑاہت کی آواز اس کے کانوں میں گونجی ۔ایک سیاہ پنچھی۔ اس کے سر کے اوپر اڑرہا تھا۔پنچھی بہت اونچائی پر پہنچ گیا۔ وہ پہچان نہ سکی۔ کیا وہ چکورہے ؟ چکور چاند کی عاشق ہوتی ہے اور چاند رات میں دیوانی ہو کر چاند کو چھونے کی جستجو میں اوپر ہی اوپر اڑتی چلی جاتی ہے۔ ختیٰ کہ اس کے بازو تھک جاتے ہیںاور گر کر مر جاتی ہے ۔
ایک بار پھر اس نے کتاب کے اس جملے کو غور سے پڑھا اور پڑھتے پڑھتے غصے کی حالت میں اس کا چہرہ لا ل ہو گیا اور کتاب کو پوری زور سے کمرے کی دیوار پر پٹخ دیا اور کہا۔
اچھا تھا میں چکور کی طرح مر جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں