
شبیر احمد میر
میں نے کہا نا، لیٹی رہو۔ بلکہ یہ لو تکیہ، اس کا سہارا لے کر بیٹھو۔ معمولی سا بخار تھا، اب بالکل ٹھیک ہو۔ یہ لو میرے ہاتھ کی کافی۔ پی کر بتاؤ، کیسی بناتی ہوں میں کافی۔ تمہاری حیثیت میری نظر میں کسی ضدی بچے سے بڑھ کر ہرگز نہیں، جو کسی من پسند چیز کے لئے مچلے۔
ایک بات بتائیں، مما! آپ اتنی میٹھی میٹھی نظروں سے مجھے گھورے کیوں جا رہی ہیں؟
ارے، گھور نہیں رہی ہوں بے وقوف، پیار سے دیکھ رہی ہوں۔
کیوں؟ دیکھنے کی تاب نہیں ہے نا۔ نہیں دیکھ پاتی ہو میری آنکھوں میں اپنے لئے یہ تڑپ، محبتوں کا یہ بحر۔
میں شرمندگی سے خود کو ٹٹولوں، چور نگاہوں سے اپنے اطراف میں دیکھوں اور سوچوں۔ بہو بن کر جب سے میں اس گھر میں آئی ہوں، میری یہ ساس، جسے میں مما کہتی ہوں، بھر بھر کر محبتوں کے خزانے لٹاتی ہے، اور ان محبتوں کو سمیٹتے میرا دامن تنگ ہونے لگا۔ سوچتی ہوں، کیا روئے زمین پر میرے جیسا زیادہ خوش نصیب بھی کوئی ہوگا؟
کیا سوچ رہی ہو؟
میں سوچ رہی ہوں، مما! میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے پھول کھلانے کے لئے آپ کا خیال ہی کافی ہے۔
تم نے سچ کہا۔ جس بہو میں انڈر اسٹینڈنگ ہو، محبت ہو، وہ سسرال میں ایک دوسرے کا دل جیت لیتی ہے۔ فرمانبرداری بہت بڑا انعام ہوتی ہے۔ ہر ایک کو نہیں ملتی، اور فرمانبرداری سے ہی نصیب کھلتے ہیں۔
زندگی میں جب محبتوں کی قدر نہ کی جائے، کسی کے خلوص اور چاہتوں کو ہمیشہ بدگمانی کے دھاگوں میں پرو دیا جائے، تو ایک وقت اس شخص پر ایسا بھی آتا ہے کہ جب اس کے اپنے خلوص اور سچائی کو منافقت اور دھوکے کی مار کھانی پڑتی ہے، اور یہ مار بڑی اذیت ناک اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔
رشتے ناطے کانچ کی مانند ہوتے ہیں، دیکھنے میں شفاف، بے داغ اور خوبصورت، لیکن انہیں برتنے میں احتیاط لازم ہے، ورنہ کرچیاں جڑتی نہیں، زخم خوردہ کر دیتی ہیں، اور رشتوں کی رسی تب کمزور ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کی غلط فہمی سے پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب بھی خود بنا لیتا ہے۔
رشتہ کسی بھی نوعیت کا ہو، اسے قائم و دائم رکھنے کے لئے اعتماد اور اعتبار کے بغیر رشتے کبھی نہیں پنپ سکتے۔ رشتوں کی بقا کے لئے اعتماد و احترام ہی بنیادی شرائط ہیں۔ جب کبھی یہ اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے تو مضبوط سے مضبوط بندھن بھی کچی ڈور کے مانند ایک پل میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اس ٹوٹی ڈور میں چاہے کتنی ہی گرہیں کیوں نہ لگا دی جائیں، وہ ڈور پہلے جیسی مضبوط اور پائیدار نہیں بن سکتی۔
جس طرح شیشے میں آیا بال نہیں نکالا جا سکتا، بالکل اسی طرح کھویا ہوا، ٹوٹا ہوا اعتماد بحال کرنا بھی قطعی ممکن نہیں۔ شیشہ توڑنے کے لئے ایک پتھر کافی ہوتا ہے اور دل توڑنے کے لئے ایک لفظ۔ اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرو، کیونکہ انسان پہاڑوں سے نہیں، پتھروں سے بھی ٹھوکر کھاتا ہے۔
انسان کی فطرت، انسانی حقوق کی پاسداری، اخلاقی اقدار کی حفاظت اور ایثار و ہمدردی کے جذبے سے عبارت ہے۔ گھر کا تصور کریں تو خیال دل میں آتا ہے کہ گھر کیسا ہونا چاہیے۔ صاف ستھرا، سجا ہوا، خوبصورت، لیکن گھر کے لوگوں کے دل جڑے ہوئے نہ ہوں تو گھر مکان بن جاتا ہے، جس میں افراد ایک دوسرے سے اجنبی ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی ضروریات اور احساسات سے بے نیاز۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سسرال کسی بھی دلہن کے لئے چٹان کے مانند ہوتی ہے۔ یہ بات بالکل سچ ہے۔ ہم لڑکیاں زندگی کے اتنے سال جس گھر میں گزارتے ہیں، جہاں اماں ابا کی انگلی تھام کر ہم اپنا پہلا قدم اٹھاتے ہیں، جہاں ہم پہلا لفظ اپنے لبوں سے ادا کرتے ہیں، جہاں ممتا کے ہاتھوں پہلا لقمہ ہمارے حلق میں اترتا ہے، بچیاں باپ کے کندھے پر سوار ہو کر گھومتی ہیں، وہ تکیہ ہمارا رازدار ہوتا ہے، جس میں عمر کے کئی سال ہم سر رکھ کر اپنے دکھ سکھ سناتے سناتے سو جاتے ہیں، اور پھر اچانک ہی ان سب کو چھوڑ کر نئے گھر، نئے ماحول اور نئے لوگوں میں ایڈجسٹ ہونا ہوتا ہے۔
وہاں کے رسم و رواج، طور طریقے اور دوسروں کے مطابق زندگی گزارنی ہوتی ہے، جہاں نہ راتیں ہم اپنی مرضی سے سو سکتے ہیں اور نہ دن میں، جہاں ہمیں ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر ادا کرنا پڑتا ہے۔ گویا کہ آج سے تمہاری زندگی پر دوسروں کا حق زیادہ ہے۔
میرا تجربہ ہے، بہو کا صبر بہرحال اس چٹان کو توڑ ہی دیتا ہے۔ تجھے زندگی کا تجربہ نہیں، اور تجھے اس بات کا علم بھی نہیں۔ عورت ایک زندگی نہیں جیتی، کئی زندگیاں وہ گزارتی ہے۔ ایک زندگی میں وہ کسان ہوتی ہے، جس میں اعمال کے بیج بوتی ہے، اور باقی زندگیاں اس کی فصل کاٹتی رہتی ہیں، اور یہ مشقت اس کے جانے کے بعد اس کی نسلوں کے حصے میں آتی ہے۔
کامیاب وہ نہیں جس نے اپنی زندگی جی۔ کامیاب وہ ہے جس نے ایسی زندگی جی، جو باقی زندگیوں کے لئے مشعلِ راہ بن گئی۔ اور ماں وہ شے ہے جس کی روشنی تلے اولاد کے نصیب لکھے جاتے ہیں۔
یہ دنیا کا دستور ہے، اپنی ذمہ داری کو تمہیں خود پورا کرنا ہوگا، اور زندگی ایسی عورت کے لئے اس جملے سے شروع ہو کر اسی جملے پر ختم ہو جاتی ہے۔
فطرت ایسے ہی خود میں گم کر کے کچھ لمحوں کے لئے ہی سہی، مگر ہمیں بے معنی سوچوں اور الجھنوں سے آزاد کر کے نئی امید اور امنگ دیتی ہے، اور روح کے اندر کے خزانے آدمی کے چہرے پر حسن بن کے چھلکتے ہیں۔ ہر مرد کی روح اس کے چہرے، اس کی آنکھوں اور اس کے جسم کی ہر جنبش سے عیاں ہو جاتی ہے۔
تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اور اپنا دم سنبھالتے ہوئے پھر کہنا شروع کیا:
نفرت اور بدلے کا جذبہ انتہائی طاقتور ہوتا ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ طاقت کا جذبہ ایمان میں ہوتا ہے، جو انسان کو حیوان بننے سے روک دیتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی پر اکسا کر انسانیت کی معراج پر پہنچا دیتا ہے۔ ورنہ نفرت و بدلے کی طاقت سے مغلوب ہو کر انسان، انسان کو ہی نیست و نابود کرنے پر تلا رہتا ہے۔
بددعاؤں کی بنیاد پر بننے والے گھر نمک کے مکان ہوتے ہیں، جو قطرہ قطرہ آنسو سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ دوسروں کی راہ میں انگارے بچھا کر اپنی زندگی کو لوگ گلزار کیسے بنا سکتے ہیں؟
تم شاید میری باتوں سے بور ہو گئی ہو۔ خیر۔۔۔ آخری نصیحت کرتی ہوں۔ غلط فہمی مت پالو۔ یہ غلط فہمیاں رشتوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ ان سے بچو! یہ شیطانی طور طریقے ہیں۔ اپنے دل میں اچھی باتیں اور اچھے خیالات کو جگہ دو، خوش رہو گی، ورنہ یہ وسوسے تمہیں کمزور کر دیں گے۔
رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے میں ہے۔ یہ سب اس لئے میں کہتی ہوں! ہم سب جس ماحول کے پروردہ ہیں، اس میں محبت، خلوص، ایثار اور وفاداری کا کہیں شائبہ تک نہیں ملتا۔ آج کا سبق تمہارے لئے بس اتنا ہی۔
کافی کے دو مگ اٹھا کر وہ کچن کی طرف جانے لگی۔
مما کے جانے کے بعد میں سوچنے لگی۔ محبت انسان کو کیسے بدل دیتی ہے، یقین نہیں آتا۔ میں خود کو بے حد مصروف رکھنے لگی، مگر باوجود اس قدر مصروفیت کے، میرا دھیان کبھی کبھار اپنی ساس کی گفتگو پر چلا جاتا۔ ان کا بس چلے تو تمام اچھائیاں اور دنیا بھر کی سلیقہ مندی میرے اندر کوٹ کوٹ کر بھر دیتیں۔
کیا اس طرح بھی ہوتا ہے کہ کوئی لمحوں میں اتنا قریب آ جائے، جیسے صدیوں کی آشنائی ہو؟
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے، جب میں نے مما سے اپنی خواہش کا اظہار کیا، تو انہوں نے پہلے سر سے پاؤں تک مجھے بغور دیکھا، پھر دھیرے دھیرے سے مسکرائیں، گویا کہ میری بے وقوفی جانچ لی ہو۔
بہترین تربیت، عمدہ اخلاق، اچھی عادات، مضبوط قوتِ ارادی، لیکن بعض اوقات ان سب اوصاف کے باوجود غصہ، دکھ، تکلیف میں انسان کے منہ سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں، جنہیں بعد میں ٹھنڈے دماغ سے سوچا جائے تو سوائے ندامت اور شرمندگی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
بعض حقائق سات پردوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور زندگی ایک ناسمجھ پہیلی لگنے لگتی ہے۔ میری ساس، یعنی میری مما، ہمیشہ بات ختم کر کے ان کے پروقار چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ سجا لیتی ہیں اور کہتی ہیں:
"مجھے کردار متاثر کرتا ہے۔ مجھے علم جھکا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی چیز جھکائے، یہ ممکن نہیں۔ میرا احساس میرے لئے بہت قیمتی ہے۔ میرا ذوق، میری پاکیزگی، میری ذاتی تکریم پر کوئی شب خون مارے اور میں سہہ جاؤں؟ میں تو کہتی ہوں، عورت ذات ہی ایسی ہے، ذرا سی بات پر ایسے خوش کہ جان تک قربان کر ڈالے، اور معمولی بات پر ایسے ناخوش ہو جاتی ہے جیسے آسمان سر پر آ گرا ہو۔ خدا کے لئے گہرائی میں سوچو، مت بناؤ خود کو بے وقوف۔”
کھٹ، کھٹ۔
میں نے ماں کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے آواز آئی:
"کیسی اودھم مچا رکھی ہے کم بختوں نے۔ دو پل بھی آرام نہیں کرنے دیتے۔ آتی ہوں۔ دروازہ توڑنے کا ارادہ ہے کیا؟”
دروازہ کھلا تو میں اپنی ماں کے سامنے کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے مجھے خود سے لپٹا کر اور مجھے بازو سے پکڑ کر میرا رخ اپنے سامنے کرتے ہوئے کہا:
"ہائے، میں واری جاؤں اپنی بچی پر۔ زردی پھر گئی ہے میری بیٹی کے چہرے پر۔ کتنی کمزور ہو گئی ہے۔ یہ سب اس ڈائن کا قصور ہے۔ تیری ساس کو موت آئے، اس کا ایکسیڈنٹ ہو جائے، کوئی بم پھٹ جائے اس پر۔ کاش شام سے پہلے میں اس کی موت کی خبر سنوں۔ چل اندر چل۔ تو آتی ہے تو تیرے پیچھے میرے لئے دنیا کی ساری خوشیاں چلی آتی ہیں، اور جب تو جاتی ہے تو میں اور میری تنہائی رہ جاتی ہے۔”
بیٹی کے دونوں ہاتھ خالی دیکھ کر اور غصہ ہو گئی۔
"توبہ ہے! دنیا میں اخلاق نام کی کوئی چیز باقی رہ ہی نہیں گئی۔ کنجوس لوگ۔ حد نہیں، تیری ساس کو شرم نہیں آئی تجھے خالی ہاتھ بھیج کر۔ کم از کم کیلے کا ایک درجن ہی تمہارے ہاتھ بھیج دیتی۔ میرے دل پر تو کسی نے چھریاں چلا دیں۔ جلدی سے مجھے فون دے اور نمبر بتا اس ڈائن کا۔ خیر، رہنے دے۔۔۔ ایسے لوگوں کے منہ لگنے کا کیا فائدہ کہ بعد میں سارا دن اپنا ہی منہ دیکھتا رہے۔”
"دور کر دے ان نحوستوں کو اپنے اوپر سے۔ میں نے ترے اس سپولے پر اعتبار کیا جو ترا ہاتھ اس نامراد کے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ مجھے سارے کا سارا اچھا لگتا تھا۔ مجھے کیا پتا وہ گرگٹ ہے۔ جس طرح گرگٹ جگہ اور موقع دیکھ کر رنگ بدل لیتا ہے، اسی طرح وہ ماں کا لاڈلا میرے سامنے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ اب مجھے کیا پتا تھا؟ اس ہاتھ کے پیچھے ایک بہت بڑی ڈائن بیٹھی ہے۔ بیڑا غرق ہو اس نامراد عورت کا۔”
"اختیارات ایک بندے کے ہاتھ میں ہوں تو فیصلے درست ہوتے ہیں۔ ہر ایک کی سنو تو بنتا کچھ نہیں، بس بننے کی حسرت ہی رہ جاتی ہے۔ میں اتنی بولتی جا رہی ہوں اور تو خاموش بیٹھی ہے۔ کیا بات ہے؟ آج میری کوئل کوک نہیں رہی ہے، بڑی خاموش ہے۔ غصہ بھی ہے۔ تم اچھی طرح سے جانتی ہو، میری نظروں سے کچھ نہیں چھپا رہ سکتا۔”
ماں نے بھویں اچکا کر کہا۔
میں نے آہستہ سے کہا:
"شکر کرتی ہوں ماں، انہوں نے مجھے قبول کیا۔ ورنہ آپ کی عادات، آپ کا طور طریقہ، کیا کوئی ایک خوبی تھی مجھ میں، جو کوئی میرے بارے میں سوچتا؟”
بیٹی کی بات پر ماں کو مرچیں لگ گئیں۔
"مت سوچا کرو اتنی باتیں۔ اللہ نے یہ چھوٹا سا دماغ دیا ہے نا، اس میں بس میری یاد اور میری سوچ رکھا کرو۔ خوش رہنے کی دعا دینا میرا کام ہے، پر خوش رکھنے کی ذمہ داری تمہاری ساس کو ہونی چاہیے نا۔ ماں سے بڑا دل کسی کا نہیں ہوتا اور ماں کے سوا اتنی باتیں کوئی سن بھی نہیں سکتا۔”
"ایسی بات نہیں ہے ماں۔ اللہ کا شکر ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
بیٹی کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے بولی:
"بندے کو اور کرنا بھی کیا ہے، سوائے شکر کرنے کے۔ اب بول، وہ کیا بکواس کر رہی تھی میرے بارے میں؟ مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا۔ بول، جلدی سے بول، جو کچھ کہا ہے۔ گونگی ہے کیا؟ بولتی کیوں نہیں؟”
"کچھ نہیں ماں، وہ آپ کے بارے میں کچھ نہیں کہتی۔”
"ارے، کہے گی بھی وہ کیسے؟ جب تمہاری شادی ہوئی، اس وقت تک میں نے تجھے ایک چائے کا کپ بھی بنانے نہیں دیا۔ جھاڑو لگانا تو دور کی بات ہے۔ کیسا زمانہ آ گیا۔ لوگوں کے گھر کے کاموں کے لئے نوکرانی کی ضرورت ہوتی ہے تو بہو لے آتے ہیں۔ بغیر تنخواہ، بغیر چھٹی کی ملازمہ۔ چوبیس گھنٹے کی مفت سروس۔”
"گھر صاف ستھرا ہو، کھانا لذیذ اور وقت پر مہیا ہو، کپڑے دھلے، استری شدہ الماری میں نظر آئیں، اور خود یوں لگے جیسے ابھی ابھی پارلر سے لشکارے مارتی آ رہی ہو۔ یعنی بیوی نہ ہو، کوئی بجلی کا بٹن ہو، یا افسانوی ہیروئن جو پلک جھپکنے میں پہاڑ بھی توڑ لائے اور بچوں کو بھی خود بہلائے۔ یہی وجہ ہے، اس ڈائن نے تجھے سارے فن میں طاق کر دیا۔ مکار عورت۔ وہ نہ جیے گی نہ مرے گی، اسی طرح گھٹ گھٹ کے مر جائے گی۔”
"آج تمہاری یاد بہت آ رہی تھی۔ میرے اندر بے بسی ہی بے بسی تھی۔”
"کیوں ماں! بھیا، بھابی نہیں آتے آپ کے پاس؟”
"دفع کرو۔ دور کرو میری نظروں سے ان کو۔ ان کے خون میں نہ وفا ہے نہ فیض۔ جورو کا غلام بن گیا۔ سارے چٹخارے ان کے اپنے ہیں۔ مردود کہیں کے۔”
ماں نے لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچایا۔ ماں کا یہ انداز دیکھ کر میرے اوپر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ آج پہلی بار میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑا۔
"کیا بات ہے؟ آج تم نے اپنی ساس کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ کیا جادو ٹونا کیا ہے اس نے تم پر؟”
"میں اپنی ساس کے بارے میں کیا کہوں ماں؟ ان کی صرف ایک ہی پریشانی ہے، اگلے کی سنتی ہی نہیں۔ سنتی ہے تو سمجھتی نہیں، سمجھ بھی جاتی ہیں تو قائل نہیں ہوتی، اور قائل بھی ہو جائیں تو اقرار نہیں کرتیں۔”
"ارے، تو کیوں گھبراتی ہے؟ اس کو میں اقرار کراؤں گی۔ میرے کہے الفاظ اس کا جینا مشکل کر دیں گے۔ میرے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ میں کھڑ کھڑے بغیر مرے جنت میں پہنچ جاؤں گی اور اس کو جہنم میں چھوڑ دوں گی۔”
"میری ہر بات غور سے سنتی رہنا، ایسا نہ ہو کہ ایک کان سے سنو گی اور دوسرے کان سے باہر نکال دو گی۔ ہر کوئی میرے مشورے کا غلام ہے۔ جس طرح میں دوسروں کو ٹینشن دیتی ہوں، دوسرے کے سکون کو غارت کر دیتی ہوں، اسی طرح تو بھی اپنی ساس کے سکون کو غارت کر دے اور خود ٹینشن کے بغیر خوش رہ۔ ماں ہوں تمہاری، تیرے ہر اچھے برے کی ساتھی ہوں۔”
"مگر ایک بات یاد رکھنا! زندگی میں اس بات کو کبھی نہیں بھولنا۔ بری سے بری عورت کو بھی پتا ہوتا ہے کہ کب چپ ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ بہو مرے تو شوہروں کو دوسری فکریں ستانے لگتی ہیں۔ خیر۔۔۔”
"میں خود اس بات پر حیران ہوں، جب بھی میں تیری ساس کے سامنے جاتی ہوں، پتا نہیں چپ سی کیوں لگ جاتی ہے؟ کون سی چڑیل کی روح اس میں سمائی ہوئی ہے۔ وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہوتی۔ جادوگرنی کہیں کی۔ پتا نہیں کیا بکتی رہتی ہے۔ میرے پلے تو اس کا ایک لفظ بھی نہیں پڑتا۔”
"اس دفعہ میں نے طے کر لیا ہے، جب بھی میں اس سے ملوں گی، اس کی باتوں کے خوبصورت کھلونوں سے نہیں بہلوں گی۔ دکھاوا کرتی رہتی ہے، مکار کہیں کی۔ ویسے اس کا بھی کوئی قصور نہیں۔ آج کل دکھاوا ہی تو سب کچھ ہے۔ یہاں کس کے اندر جھانکنے کی کس کو فرصت ہے؟ اور پھر لوگوں کی پیاز کی طرح پرت در پرت شخصیت کب ان کی اصلیت تک پہنچنے دیتی ہے؟ تو فکر نہیں کرنا، میں اس کی اصلیت تک پہنچ کے رہوں گی۔ تیری ماں ہوں، کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ اگر وہ ڈائن ہے تو میں بھی ایک نمبر کی چڑیل ہوں۔ اسے قبر سے کھینچ کر لے آؤں گی۔”
اوہو۔ اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے کہا:
"پتا نہیں سر کیوں بھاری بھاری ہونے لگا۔ اتنی ڈھیر ساری باتیں کر کے میرے سر میں درد ہونے لگا۔ دیکھ اپنی آنکھوں سے، دیکھ، کسی قسم کا جادو ٹونا کرتی ہے تیری ساس میرے اوپر۔ بہتر ہے خاموش رہنا۔ آتی جاتی رہنا۔ زندگی کا احساس رہتا ہے، میری بچی۔”
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے
mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز


