عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک

سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ لگنے سے ہمیشہ کے لئے بینائی سے محروم ہونے والی انشا مشتاق کے لئے تقریباً نو برس بعد امید کی ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے ان کی بحالی کے دیرینہ وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایجنسی کی تکمیل کے لئے 41.16 لاکھ روپے کی بقایا رقم جاری کر دی ہے، جس سے ان کی خود کفالت اور باوقار زندگی کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔
حکومت کا یہ فیصلہ انشا کے لئے محض مالی امداد نہیں بلکہ ان برسوں کے انتظار، جدوجہد اور ناامیدی کے بعد انصاف کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امور صارفین ستیش شرما نے کہا کہ موجودہ حکومت، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں، ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہے جو برسوں سے ادھورے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انصاف میں تاخیر ہوئی، مگر انصاف سے انکار نہیں کیا گیا۔
سنہ 2018 میں انشا کے نام ایل پی جی ایجنسی منظور کی گئی تھی، تاہم مطلوبہ فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث منصوبہ کئی برس تک تعطل کا شکار رہا۔ اب حکومت کی منظوری کے بعد اس ایجنسی کو عملی شکل دی جا سکے گی، جس سے انشا کو مستقل ذریعہ معاش اور معاشی خود مختاری حاصل ہوگی۔
اس فیصلے پر جذباتی ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انشا مشتاق نے حکومت، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں انہوں نے بے شمار مشکلات برداشت کیں، اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا، "آج محسوس ہو رہا ہے کہ میرا انتظار رائیگاں نہیں گیا۔ یہ فیصلہ میرے لئے نئی امید، نئے حوصلے اور نئی زندگی کا پیغام ہے۔”
انشا، جو اس وقت بی اے کے آخری سال کی طالبہ ہیں، نے ایک بار پھر پورے ملک میں پیلٹ گنز پر مکمل پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی اور وہ نہیں چاہتیں کہ کسی اور کو بھی ایسی اذیت، معذوری اور صدمے سے گزرنا پڑے۔
سنہ 2016 میں پیلٹ لگنے سے بینائی سے محروم ہونے والی انشا مشتاق کی کہانی برسوں سے کشمیر کے درد کی ایک علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اب عمر عبداللہ حکومت کے اس اقدام نے نہ صرف ان کی بحالی کی راہ ہموار کی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ برسوں سے زیرِ التوا انسانی معاملات کو ترجیح دے کر متاثرین کو باعزت زندگی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک

سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ لگنے سے ہمیشہ کے لئے بینائی سے محروم ہونے والی انشا مشتاق کے لئے تقریباً نو برس بعد امید کی ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے ان کی بحالی کے دیرینہ وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایجنسی کی تکمیل کے لئے 41.16 لاکھ روپے کی بقایا رقم جاری کر دی ہے، جس سے ان کی خود کفالت اور باوقار زندگی کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔
حکومت کا یہ فیصلہ انشا کے لئے محض مالی امداد نہیں بلکہ ان برسوں کے انتظار، جدوجہد اور ناامیدی کے بعد انصاف کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امور صارفین ستیش شرما نے کہا کہ موجودہ حکومت، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں، ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہے جو برسوں سے ادھورے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انصاف میں تاخیر ہوئی، مگر انصاف سے انکار نہیں کیا گیا۔
سنہ 2018 میں انشا کے نام ایل پی جی ایجنسی منظور کی گئی تھی، تاہم مطلوبہ فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث منصوبہ کئی برس تک تعطل کا شکار رہا۔ اب حکومت کی منظوری کے بعد اس ایجنسی کو عملی شکل دی جا سکے گی، جس سے انشا کو مستقل ذریعہ معاش اور معاشی خود مختاری حاصل ہوگی۔
اس فیصلے پر جذباتی ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انشا مشتاق نے حکومت، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں انہوں نے بے شمار مشکلات برداشت کیں، اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا، "آج محسوس ہو رہا ہے کہ میرا انتظار رائیگاں نہیں گیا۔ یہ فیصلہ میرے لئے نئی امید، نئے حوصلے اور نئی زندگی کا پیغام ہے۔”
انشا، جو اس وقت بی اے کے آخری سال کی طالبہ ہیں، نے ایک بار پھر پورے ملک میں پیلٹ گنز پر مکمل پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی اور وہ نہیں چاہتیں کہ کسی اور کو بھی ایسی اذیت، معذوری اور صدمے سے گزرنا پڑے۔
سنہ 2016 میں پیلٹ لگنے سے بینائی سے محروم ہونے والی انشا مشتاق کی کہانی برسوں سے کشمیر کے درد کی ایک علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اب عمر عبداللہ حکومت کے اس اقدام نے نہ صرف ان کی بحالی کی راہ ہموار کی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ برسوں سے زیرِ التوا انسانی معاملات کو ترجیح دے کر متاثرین کو باعزت زندگی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں