انشائیہ: کرسی پر بیٹھ کر نماز -ایک سانحہ

عبدالرشید خان
 چھانہ پورہ، سرینگر
نماز کا بنیادی مقصد خالقِ کائنات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے اس کی بندگی اور اپنی وفاداری کا اظہار کرنا ہے۔ جب تک آدمی کا سر عرش والے کے سامنے فرش پر گر کر نہ پڑے، بندگی کا پورا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ معلمِ انسانیت نے اگرچہ تمام عبادات کے ساتھ ساتھ نماز کی ادائیگی کے اصول و ضوابط اور طریقہ مقرر کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے موجودہ دور میں ہم نے اپنی عقل و دانش کے مطابق نماز ادا کرنے کا ایک الگ طریقہ ایجاد کر لیا ہے، جس میں نہ کھڑا ہونا پڑتا ہے اور نہ ہی سجدے کی ضرورت رہتی ہے، اور یہ طریقہ روز بروز عام ہوتا جا رہا ہے۔
مثلاً کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا۔ آدمی ایک کلومیٹر دور سے پیدل چل کر اور پھر چالیس سیڑھیاں چڑھ کر جب جائے نماز تک پہنچ جاتا ہے تو دو رکعت نماز ادا کرنے کے لئے کرسی پر براجمان ہو جاتا ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ ایک ہٹا کٹا نوجوان، جو اپنے جسم کا بھاری بھرکم وزن لے کر دن رات ایک ٹانگ پر کھڑا رہ کر اور دونوں ہاتھوں سے محنت کرکے مال کماتا ہے، تھکن محسوس نہیں کرتا، تو بھلا ان دو رکعت نماز کے لئے کیوں کر کھڑا نہیں رہ سکتا؟
مانا کہ آدمی کی کمر میں درد ہے، لیکن کیا وہ درد صرف اللہ کی عبادت کے لئے ہی دردِ سر بن جاتا ہے، دنیاوی کام کاج کے لئے نہیں؟ دراصل کرسی پر نماز ادا کرنا اب عادت بن گیا ہے۔ پہلے پہل جب مسجدوں میں کرسی کا رواج نہ تھا، نہ جانے وہ سادہ، بے لوث لوگ کس طرح بیماری کی حالت میں بھی نماز ادا کرتے تھے اور اپنی مرادیں حاصل کرتے تھے۔
لیکن جب سے یہ کرسی دفتروں سے نکل کر گھروں سے ہوتے ہوئے ہماری عبادت گاہوں میں پہنچ چکی ہے، عبادات کا تقدس بھی پامال ہونے لگا ہے۔ دعائیں بے اثر، وعظ و تبلیغ بے معنی محسوس ہونے لگے ہیں۔ وہ سرکاری ملازم جو نوکری کے تیس سال کرسی تو دور، اسٹول پر بھی نہ بیٹھ پایا، ہر وقت “بڑے صاحب” کے دروازے پر کھڑا رہ کر کرسی پر آرام سے بیٹھے ہوئے اسے دیکھتا تھا اور دل ہی دل میں ارادہ کرتا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مسجد میں کرسی پر بیٹھ کر اپنا شوق پورا کرے گا، تب جا کر “بڑے صاحب” کو پتہ چلے گا۔
جیسا کہ ہم نے کہا، کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا اب فیشن بن گیا ہے۔ اب تو آدمی عبادات میں سہولیات کے ساتھ ساتھ اپنی عزت و وقار کے بارے میں بھی سوچنے لگا ہے۔ فرش پر دوسروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر نماز ادا کرنے سے وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کرنے لگا ہے۔ لیکن اسے کون سمجھائے کہ:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
نماز کا اصل مقصد یہی مساوات اور عاجزی ہے۔
اور ہاں، کرسی پر نماز ادا کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آدمی کو نہ صرف دوسروں پر نظر رہتی ہے بلکہ وہ خود بھی دوسروں کی نظروں میں آتا ہے، اور نمازی کہلا کر شہرت حاصل کرتا ہے۔ یہ لوگ بڑے دور اندیش ہوتے ہیں، مسجد میں موجود تمام افراد کو اپنی نماز کا گواہ بنا لیتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر کام آئیں۔
ہمارے ایک دوست، ماجد مجید صاحب، دوسروں سے منہ چھپاتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتے ہیں، کسی کونے میں بیٹھ کر امام اور مقتدی دونوں کی خبر لینے کے طاق میں رہتے ہیں۔
جدید تحقیق کے مطابق نماز ادا کرنے کا جو مسنون طریقہ ہے، اس میں جسم کے تمام اعضاء شامل ہوتے ہیں، اور ان حرکات و سکنات کی وجہ سے انسان کئی طرح کی بیماریوں سے دور رہتا ہے اور کئی بیماریوں سے نجات پاتا ہے۔ ایک بار ہمارا ایک دوست کمر درد کے علاج کے لئے بیرونِ ریاست ایک غیر مسلم وید کے پاس گیا۔ اس نے مریض کا نام پوچھ کر کہا: “تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ہو؟” مریض نے جواب دیا: “جی، میں پڑھتا ہوں۔” اس پر وید نے مسکراتے ہوئے کہا: “پھر تم رکوع اور سجدہ ٹھیک سے نہیں کرتے ہو، کیونکہ صحیح رکوع اور سجدہ کرنے والے آدمی کو کبھی کمر درد کی شکایت نہیں ہوتی۔”
نماز کا مقصد عجز و انکساری کے ساتھ خالقِ ارض و سما کے سامنے خود سپردگی ہے۔ جب آدمی بلا کسی شرعی عذر کے کرسی پر نماز ادا کرتا ہے تو اس کے اندر پشیمانی کے بجائے غرور و تکبر پیدا ہوتا ہے۔ نماز تو ادا ہو جاتی ہے، لیکن اس کا اصل مقصد اور مغز حاصل نہیں ہوتا۔ وہ رضائے الٰہی اور نماز کے سکون سے محروم رہتا ہے۔
زمین پر اپنا سر غرور کے ساتھ گرا کر جو مزہ اور سرور آدمی کو ملتا ہے، وہ کسی اور عبادت میں نہیں۔ بندہ سجدے کے دوران اپنے خالق کے بہت قریب ہوتا ہے بلکہ اس سے سرگوشیاں کرتا ہے۔ اگر مانگنے کا سلیقہ رکھتا ہو تو بن مانگے بھی پا لیتا ہے۔ نماز تو اس کے دیدار کا ایک بہانہ ہوتی ہے، اصل مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔
لیکن کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والا اس نعمت سے بھی محروم رہتا ہے۔ کاش ایک بار سچے دل سے سجدہ کرکے دیکھ لیتے!
بقولِ شاعر:
دل ہے مسلمان میرا، نہ تیرا
تو بھی نمازی، میں بھی نمازی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

انشائیہ: کرسی پر بیٹھ کر نماز -ایک سانحہ

عبدالرشید خان
 چھانہ پورہ، سرینگر
نماز کا بنیادی مقصد خالقِ کائنات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے اس کی بندگی اور اپنی وفاداری کا اظہار کرنا ہے۔ جب تک آدمی کا سر عرش والے کے سامنے فرش پر گر کر نہ پڑے، بندگی کا پورا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ معلمِ انسانیت نے اگرچہ تمام عبادات کے ساتھ ساتھ نماز کی ادائیگی کے اصول و ضوابط اور طریقہ مقرر کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے موجودہ دور میں ہم نے اپنی عقل و دانش کے مطابق نماز ادا کرنے کا ایک الگ طریقہ ایجاد کر لیا ہے، جس میں نہ کھڑا ہونا پڑتا ہے اور نہ ہی سجدے کی ضرورت رہتی ہے، اور یہ طریقہ روز بروز عام ہوتا جا رہا ہے۔
مثلاً کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا۔ آدمی ایک کلومیٹر دور سے پیدل چل کر اور پھر چالیس سیڑھیاں چڑھ کر جب جائے نماز تک پہنچ جاتا ہے تو دو رکعت نماز ادا کرنے کے لئے کرسی پر براجمان ہو جاتا ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ ایک ہٹا کٹا نوجوان، جو اپنے جسم کا بھاری بھرکم وزن لے کر دن رات ایک ٹانگ پر کھڑا رہ کر اور دونوں ہاتھوں سے محنت کرکے مال کماتا ہے، تھکن محسوس نہیں کرتا، تو بھلا ان دو رکعت نماز کے لئے کیوں کر کھڑا نہیں رہ سکتا؟
مانا کہ آدمی کی کمر میں درد ہے، لیکن کیا وہ درد صرف اللہ کی عبادت کے لئے ہی دردِ سر بن جاتا ہے، دنیاوی کام کاج کے لئے نہیں؟ دراصل کرسی پر نماز ادا کرنا اب عادت بن گیا ہے۔ پہلے پہل جب مسجدوں میں کرسی کا رواج نہ تھا، نہ جانے وہ سادہ، بے لوث لوگ کس طرح بیماری کی حالت میں بھی نماز ادا کرتے تھے اور اپنی مرادیں حاصل کرتے تھے۔
لیکن جب سے یہ کرسی دفتروں سے نکل کر گھروں سے ہوتے ہوئے ہماری عبادت گاہوں میں پہنچ چکی ہے، عبادات کا تقدس بھی پامال ہونے لگا ہے۔ دعائیں بے اثر، وعظ و تبلیغ بے معنی محسوس ہونے لگے ہیں۔ وہ سرکاری ملازم جو نوکری کے تیس سال کرسی تو دور، اسٹول پر بھی نہ بیٹھ پایا، ہر وقت “بڑے صاحب” کے دروازے پر کھڑا رہ کر کرسی پر آرام سے بیٹھے ہوئے اسے دیکھتا تھا اور دل ہی دل میں ارادہ کرتا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مسجد میں کرسی پر بیٹھ کر اپنا شوق پورا کرے گا، تب جا کر “بڑے صاحب” کو پتہ چلے گا۔
جیسا کہ ہم نے کہا، کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا اب فیشن بن گیا ہے۔ اب تو آدمی عبادات میں سہولیات کے ساتھ ساتھ اپنی عزت و وقار کے بارے میں بھی سوچنے لگا ہے۔ فرش پر دوسروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر نماز ادا کرنے سے وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کرنے لگا ہے۔ لیکن اسے کون سمجھائے کہ:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
نماز کا اصل مقصد یہی مساوات اور عاجزی ہے۔
اور ہاں، کرسی پر نماز ادا کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آدمی کو نہ صرف دوسروں پر نظر رہتی ہے بلکہ وہ خود بھی دوسروں کی نظروں میں آتا ہے، اور نمازی کہلا کر شہرت حاصل کرتا ہے۔ یہ لوگ بڑے دور اندیش ہوتے ہیں، مسجد میں موجود تمام افراد کو اپنی نماز کا گواہ بنا لیتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر کام آئیں۔
ہمارے ایک دوست، ماجد مجید صاحب، دوسروں سے منہ چھپاتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتے ہیں، کسی کونے میں بیٹھ کر امام اور مقتدی دونوں کی خبر لینے کے طاق میں رہتے ہیں۔
جدید تحقیق کے مطابق نماز ادا کرنے کا جو مسنون طریقہ ہے، اس میں جسم کے تمام اعضاء شامل ہوتے ہیں، اور ان حرکات و سکنات کی وجہ سے انسان کئی طرح کی بیماریوں سے دور رہتا ہے اور کئی بیماریوں سے نجات پاتا ہے۔ ایک بار ہمارا ایک دوست کمر درد کے علاج کے لئے بیرونِ ریاست ایک غیر مسلم وید کے پاس گیا۔ اس نے مریض کا نام پوچھ کر کہا: “تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ہو؟” مریض نے جواب دیا: “جی، میں پڑھتا ہوں۔” اس پر وید نے مسکراتے ہوئے کہا: “پھر تم رکوع اور سجدہ ٹھیک سے نہیں کرتے ہو، کیونکہ صحیح رکوع اور سجدہ کرنے والے آدمی کو کبھی کمر درد کی شکایت نہیں ہوتی۔”
نماز کا مقصد عجز و انکساری کے ساتھ خالقِ ارض و سما کے سامنے خود سپردگی ہے۔ جب آدمی بلا کسی شرعی عذر کے کرسی پر نماز ادا کرتا ہے تو اس کے اندر پشیمانی کے بجائے غرور و تکبر پیدا ہوتا ہے۔ نماز تو ادا ہو جاتی ہے، لیکن اس کا اصل مقصد اور مغز حاصل نہیں ہوتا۔ وہ رضائے الٰہی اور نماز کے سکون سے محروم رہتا ہے۔
زمین پر اپنا سر غرور کے ساتھ گرا کر جو مزہ اور سرور آدمی کو ملتا ہے، وہ کسی اور عبادت میں نہیں۔ بندہ سجدے کے دوران اپنے خالق کے بہت قریب ہوتا ہے بلکہ اس سے سرگوشیاں کرتا ہے۔ اگر مانگنے کا سلیقہ رکھتا ہو تو بن مانگے بھی پا لیتا ہے۔ نماز تو اس کے دیدار کا ایک بہانہ ہوتی ہے، اصل مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔
لیکن کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والا اس نعمت سے بھی محروم رہتا ہے۔ کاش ایک بار سچے دل سے سجدہ کرکے دیکھ لیتے!
بقولِ شاعر:
دل ہے مسلمان میرا، نہ تیرا
تو بھی نمازی، میں بھی نمازی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون