فرینڈ شپ: کہانی

شبیر احمد میر

میں یہاں! اس وقت تم لوگوں کے سامنے کوئی لو اسٹوری بکھیرنے والی نہیں ہوں ۔بلکہ میں تو اپنی زندگی میں موجود ایک ایسے رشتے کے متعلق بات کرر ہی ہوں۔ جس سے میں کئی سالوں سے روشناس ہوئی۔ جو میرے باعث خوشی اور سکون بن گیا ۔ ویسے ہر انسان کی زندگی میں کوئی شخص۔ کوئی رشتہ ایسا ضرورہوتا ہے جو ایک لمحے ایک پل کے لیے ہی سہی اس کے لبوں پر مسکان کی وجہ بن سکتا ہے۔ ہاں ۔میں بات کررہی ہوں ۔ایسی دوستی کی جس میں دونوں طرف سے خوش شکل و خوش اطوار ہونے کے ساتھ عقل سلیم اور درد قلبی بھی رکھتا ہو ۔ راکھ میں دبی چنگاری کی مانند ۔دکھوں بھری زندگی میں خوشیوں کا سامان بن سکتا ہے ۔جب ہی تو اس نے پہلی ملاقات میں ہی ۔میرے قلب سوز کو جانچ لیا ۔لیکن میں نادان اسے سمجھ نہ سکی ۔ دوستی وہ بھی ایک لڑکے سے ۔بچپن گرز گیا ۔ہم شعور کی سیڑ ھی پر کھڑے ہیں۔ یہان ایک بار گرنا پوری زندگی کا روگ بن جاتا ہے ۔میں ایک جوان لڑکی ہوں اور وہ ایک جوان لڑکا ۔میرے اختیار میں کہاںتھا فرینڈ شپ کرنا ۔جب بھی میں فرینڈ شپ کے بارے میں سوچتی تو زندگی کی ساری حیرتوں نے میرے وجود پر چڑھائی کر دینا شروع کر دئے۔ سوچتے سوچتے جب ادا س ہو جاتی۔ تو مجھے یقین ہو جاتا کہ اس نے بھی میرے دل کی پل پل کی خبر رکھی ہے ۔ عورت ایک قابل احترام ہستی ہے۔ میرے نزدیک جو ماں ہے ۔بہن ہے ۔بیٹی ہے ۔پھر بیوی میں اپنے آپ کو صرف ان رشتون تک محدود رکھنا چاہتی تھی ۔ میرے لیے یہ فرینڈ شپ کرنا اول نمبر کے خرافاتوں میںایک ہے ۔جسے آجکل اسے انجوائن منٹ تو کبھی تھرل اور کبھی ایڈونچر کا نام دیتے ہیں ۔ ہم اکثر جوہے ۔جیسا ہے۔ کی بنیا د پر قبول کر لینے کے بجائے کیوں ہے؟کیسا ہے ؟کی کھوج میں نکل پڑتے ہیں۔ سوچنا اور گہرائی میں اتر کر سوچنا جیسے خطرناک عارضے میںمبتلا ہیں ۔ کوئی لمحہ زندگی میں اس طرح وارد ہوتا ہے کہ اپنے وقت پر وہ بڑا منحوس اور سخت لگتا ہے۔ مگر بعد میں یہی وہ لمحہ ہمارے لیے مبارک ثابت ہوتا ہے اور پھر ہم زندگی بھر اس لمحے کو اپنی یاداشت اور اشکوں سے قرض اتارتے رہتے ہیں ۔ ایک انسان کتنا نادان ہے وہ یہی تو نہیں جانتا کہ اسے زندگی میں کب کب اور کہاں کہاں ہنسنا اور کس کس بات کو رونا ہے ۔
اس وقت اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور ا ٓسمان سے برسنے والا پانی اس کی آنکھوں کی برسات پر پردہ ڈال رہا تھا ۔ہم میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ بارش شروع ہو جائے ۔میں جاکر دیکھتی ہوں۔ اسے کہاں تلاش کیا جاسکتا ہے ؟
سب نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا !چپ کر بے ہودہ ! وقت کی نزاکت کو محسوس کیئے بغیر بولتی جاتی ہے ۔ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کچھ سوچتے ہوئے پھر کہنا شروع کیا ۔
دوستی ایک خوشبو کی طرح ہو تی ہے ۔اسکو تلاشنا نہیں پڑتا ۔ یہ دل کی دھڑکنوں اور دل میںدوڑتا ہے اور زندگی کی ہر گھڑی میںرہنمائی کرتا ہے ۔یہ آپ کی طرف۔ اس وقت آتا ہے جب ساری دنیا آپ کو چھوڑ چکی ہوتی ہے ۔دوستی کا یہ خوبصورت رشتہ انسانی زندگی کو سیراب کر کے اسے شاداب بناتا ہے۔ دوستی کے بٖغیر زندگی بے آب وگیا صحر کے مانند ہے ۔ دوستی مفاہمت سے شروع ہو کر اخلاص اور ایثار پر ختم ہو جاتی ہے۔ ایک اچھا دوست کراہ ارض پر بہت بڑا تحفہ ہے۔ مرد اور عورت اس دنیا کو خوبصورت رنگوں سے سجانے والے جن کی محبت اور جائز رشتوں کی چاندنی ہر سو بکھیرتی ہے اور جب دوستی کی آڑ میںان رشتوں میںبد کرداراور عیاش مرد غلیظ رشتوں کی غلاظتیں بکھیرتے ہیں تو عورت اور مر د کا وہ مقدس اور محبت بھرا رشتہ داغدار ہو جاتا ہے ۔ان رشتوں کو پامال کرنے والے انسان نما گدھ ہوتے ہیں۔ زندگی میں کچھ لمس اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ اکثر کسی قیمت پر بھی نہیں ملتے ۔جیسے ماں کا لمس۔ بچے کا لمس۔ کسی بزرگ ہستی کا لمس۔ ضحیف اور کمزور ہاتھوں کا مہربان لمس ہوتا ہے ۔ زندگی میں اس سے کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود ہمیں ہمیشہ اس کی مدد اور سہارے کے لیے محتاج رہنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی اس کی زندگی کا کوئی رخ ہمیںآئینہ دکھا جاتا ہے اور اس میں نظر آنے والا منظر وہی ہوتا ہے ۔جس سے ہم نظریں چرا رہے ہوتے ہیں۔
ہم غور سے دیکھ رہے تھے ۔ماضی کے جھروکوں سے دھند لے انداز میں اس کے چہرے سے ابھریں اور اس کے زہن پر سوار ہونے لگیں اور وہ خیالوں میں کھوگئی ۔اس وقت وہ ہمارے اس ماحول میں مکمل طورپر موجود نہیں تھی۔ مگر بول رہی تھی ۔
کچھ سال پہلے مجھے اپنے قریبی رشتہ دار کو فون پر ایک اہم بات کرنی تھی۔ جس کا نمبر 7979797762 تھا۔ غلطی سے نمبر ڈائل کرتے کرتے 2 کے بجائے1 ڈائل کیا۔ یعنی 7979797761 دوسری طرف سے آواز آئی ۔جی کون؟ میںنے پہچانا نہیں؟ انجانی سی آواز سن کر میرے لبوں سے اتنا ہی نکلا۔ معاف کرنا رانگ نمبر ڈائل کیا اور میں فون کاٹنے لگی۔ اس آدمی نے پھر سے کہنا شروع کیا۔
میڈم۔ فون نہیں کاٹنا۔ اب تو کال لگ ہی گئی ہے ۔مہربانی کر کے اپنے بارے میں۔اپنے شہر کے بارے میں کچھ تو بتائیں؟ ہم اس وقت بہت ہی بوریت محسوس کررہے ہیں۔ آپ سے بات کرکے کچھ تو راحت ملے گی۔ کیونکہ انسانی فطرت ہے۔ جب بھی کوئی خوبصورت چیز دیکھتا ہے۔ توو ہ اسے دیکھتا ہی رہتا ہے اور جب بھی کوئیء میٹھی آواز سنتا ہے تو اس کے کانوں میں رس گھول دیتا ہے۔ اس حقیقت سے انکا ر بھی نہیں کیا جاسکتا ۔کہ ہم اپنے اندر چھپ چھپ کر وقت گزارنے کے لیے بہت کچھ کرتے رہتے ہیں ۔
مسٹر !کتنے سال ہوگئے پاگل خانے میں؟جہاں تک میرا اندازہ ہے ہمارے ملک کا سب سے بڑا پاگل خانہ آگر ہ میں ہے ۔ مجھے یقین ہے۔ آپ شاید ۔وہاں سے ہی بول رہے ہیں ۔ اس دنیا میں پاگل ہی ایسے ہوتے ہیں ۔جو اپنے اندر چھپ چھپ کر بہت کچھ کرتے رہتے ہیں ۔آ پ کے ساتھ مجھے بڑی ہمدردی پیدا ہوگئی ۔ شاید ڈاکٹر لوگ آپ کو ٹھیک نہیں کر سکے ۔اب تھوڑی بہت میں بھی کوشش کروں گی آپ کو ٹھیک کرنے میں ۔شاید آپ ٹھیک ہو جائیں؟
زرا غور سے سنیئے اور یا رکھیئے۔میںایک خوش شکل و خوش لباس۔ ستائیس سال کی لڑکی کی تصویر پر پوری اتر رہی ہوں۔ ابھی خود ساختہ تعریفیں آئینے سے وصولنے کا سلسلہ جاری ہے ۔میرے گھنے ریشمی سیاہ سلکی بال شانوںسے پھسلتے ہوئے آبشار کی مانند میری پیٹھ پر پھسلتے چلے جاتے ہیں ۔یہاں تک کہ کمر سے نیچے تک جیسے ۔کالی گھٹا وں نے ڈیرہ ڈال لیا ہو ۔رہا شہر! اس خوبصورت شہر سر ینگر میں ہمارا جنم ہوا اور ابھی تک اسی شہر میں جی رہی ہوں۔۔۔ اور کچھ جانکاری چائیے ۔جہاں پناہ شہنشاہ اعظم کو ۔
دیکھئے میڈم ۔ یہ جو آپ نے اپنا خوبصورت حلیہ بیان کیا ہے۔ اس سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں۔ اللہ کا شکر کریں ۔جس نے آپ کو حسن کی دولت سے نوازا اور آپ کا فرض بنتا ہے۔ آپ اپنے حسن کو اپنے ہونے والے میاں کے لیے سنبھال کر رکھیئے گا۔ آپ کی آواز اور آپ کا لب و لہجہ بہت ہی خوبصورت ہے جسکی وجہ سے ہم آپ سے فیرنڈ شپ کرنا چاہتے ہیں۔یہ میری دوستی ہوگی کوئی مذاق نہیں ہو گا۔ ایک لاکھ مرتبہ بھی انکار کر کے دیکھ لیں۔ ہم آپ کو اپنا دوست بنا کے ہی رکھیں گے۔ پھر ہم آپ کے ساتھ ہمیشہ سایے کی طرح ہوں گے ۔
دیکھئے جناب۔۔! میں چاند ہوں۔ ہر آنگن میں اترنا میرا مقصد ہے اور کسی کی مٹھی میں قید نہ ہونا میرا حاصل ۔ کوشش جاری رکھئے۔ جنگل کے ننھے پرندے اور صبر کی نیت کرو۔ اللہ صبر دے گا۔ اس کے بعد میں خوب ہنسی ۔۔۔
ہنستی کیوں ہو ؟ آپ اپنے آپ کو خوش قسمت کیوں نہیںسمجھتی؟اس کا احساس تو ہونا چاہیے تمہیں ۔جو میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔ بعض لوگ نہ صرف زندگی بلکہ مرنے کے بعد بھی دوستی کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ ان لوگوں میں ،میں بھی ایک ہوں۔
میںنے اپنے دانت پیستے ہوئے اور غصے میں کہا ۔مر کیوںنہیں جاتے ؟دیر کس بات کی۔ اگر آپ ابھی خود کشی کریں گے۔ تو میں وعدہ کرتی ہوں میں ابھی۔ اسی وقت آپ کے جنازے میںشریک ہو جاوں گی ۔
ارے میڈم۔۔! خودکشی کریںمیرے دشمن ۔آپ کے ہنسنے میں کتنا نرم احساس ہے ۔۔۔ویسے ایک بات کہوں۔ جو انسان زور زور سے ہنستا ہے ۔اس میں سکون کی کمی ہوتی ہے۔ آج میں آپ کے سکون کے لیے دعا ضرور مانگوں گا ۔ دوستی کرنے والے ہزار دلیلیں ڈھونڈ لیتے ہیں ۔میں بھی کوئی نہ کوئی دلیل ڈھونڈ ہی لوں گا۔ جس سے تم دوستی پر یقین کر لوگی ۔ دنیا میں بہت ہی کم لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں دوستی جیسی نعمت ملا کرتی ہے۔ جب میری دوستی ۔۔آپ کے ساتھ ہو جائیگی۔ آپ کے دل کے چہرے پر نور ہو گا اور میرے وجود کے چہرے پر شکر ۔اس کے بعد اگر میں مر جائوں گا تو یقین کر لوگی ۔میری وفا داری پر؟ میری دوستی پر؟ میری منزل دوستی ہے۔ فرینڈ شپ ہے۔ مجھے منزل پر پہنچا دو۔ مجھے یوں نہ ٹھکرائو۔ میرے وجود کی نفی نہ کرو۔ عجیب دل ہلا دینے والا ۔۔۔احسا س تھا ۔۔۔سوال تھا۔ جس نے میرے اندر زلزلہ برپا کردیا۔ میں سچے اور بے لوث جذبون کی آنچ سے دھیر ے دھیرے پگلنے لگی اور کافی دیر تک سوچوں کے بھنو رمیں الجھی رہی اور کہا ۔ ویسے میں۔ سمجھتی ہوں۔ تمہاری سوچ صرف اتنی ہے۔ جتنی کہ اس پروانے کی۔ جوشمع کے گرد منڈلاتی ہے اور آن واحد میں بھسم ہو جاتاہے ۔کیونکہ مجھے اس پر یقین ہے ۔دوستی کی آڑ میںجوبھی کچھ غلط ہوتا ہے وہ بھسم ہو کر رہ جاتا ہے ۔
خاموش ۔۔۔!بد تمیز لڑکی۔۔۔! بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تمہیں ۔تہمیں یہ بھی نہیں پتہ۔۔۔؟ مثبت سوچ ہر شخص کے لیے مشعل کی حثیت رکھتی ہے۔ اس کی روشنی میںوہ اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ مگر مجھے لگ رہا ہے تم جیسے لوگ خیالوں ۔ خوابوں اور زہن میں آئیے نکات خواہ وہ کتنے ہی مضر کیوںنہ ہوں ان پر فوراً عمل پیر ا ہو جاتے ہیں۔کاش ایسے لوگ وقت گزرنے سے قبل سوچ سکیں۔ سمجھ سکیں۔ لیکن نہ وہ سوچتے ہیں اور جب یہ لوگ جان پاتے ہیں۔تب ان کو سمجھ آتی ہے۔ مگر جب وقت اپنی چال چل چکا ہوتا ہے اور پھر وہ سوچتے رہ جاتے ہیں۔ان کی زندگی بے کیف ۔بے رنگ۔ صبح ہو تی ہے۔ شام ہوتی ہے۔ یوں ہی زندگی ان کی تما م ہوتی ہے۔ نہ وہ سوچتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے جینا کسے کہتے ہیں؟ اس وقت اس کے چہرے پر جو غصہ تھا وہ اس کی باتوں اور لہجے سے بھی عیاں تھا اور میرے دل میں اسے لفظوں نے لہجے کی تڑپ اور بے قراری نے میرے اندر بھی ایک نئی روح پھونک دی اور میں نے خوش ہو کر کہا ۔
جینے کا فلسفہ میںنہیںسننا چاہتی۔ اب ہم آپ کے دوست ہیں اور میں وعدہ کرتی ہوں میںاپنی جان پر کھیل کر آپ کے ساتھ گہری فرینڈ شپ نبھائو گی ۔
مبارک ہو میڈم! بغیر کسی محنت والجھن کے آپ اتنی جلدی میری دوست بن گئیں ۔اب ہم آپ کو اپنے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔
میرا نام دوستی ہے ۔زلالت کے شہر میں جنم لیا اور زلیلوں کے درمیان اپنا بچپن اور نصف جوانی گزار دی ۔ زلیل اور کمینے لوگوں سے دوربھاگا اور پیار بھرے اس شہر میں ہجرت کی او ر اسی شہر میں ہم نے قلم اٹھایا اور تب سے لکھتا رہتا ہوں۔
اٹھاتے ہیںقلم تو زندگی تحریر کرتے ہیں
سیاہی سے سدا ہم روشنی تحریر کرتے ہیں
دوستی کی بدولت سے۔ اس نے میرے گھر کے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبتوں۔ وفائوں کے بیج بوڈالے۔ اس کے بات کرنے کا سلیقہ ہی الگ تھا۔ محبتوں اور شفقتوں کا سمندر تھا۔ وہ اکثر کہتے ۔اللہ کے نزدیک ہونے کے لیے اللہ کے بندوں سے نزدیک ہو جائو ۔ وہ میرے یقین و ایمان سے بھی زیادہ جوان تھا۔ لرزتے آنسو لیے وہ مجھ سے کہتے ۔تم تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ۔دل کا سرور ہو۔ بس یہ سوچ کر گھبر اتا ہوں کہ تجھے پرائے گھر رخصت کرنا پڑے گا۔ تم تو میرے لیے دنیا کی سب سے حسین۔ سب سے زہین ۔وفادار ۔محبت کرنے والی ماں بھی ہو۔ بہن بھی اور بیٹی بھی۔ میرے ہر معاملے میںبہت ہی زمہ دار ہو۔ میری کتنی مشکلیں تم آسان کرتی رہتی ہو ۔واقعی تیرے قدموں کے نیچے میری جنت ہے ۔
میں بہتے آنسوں کے ساتھ اسے ڈانٹتے ہوئے کہتی ۔
ایسا نہ کہو۔ آپ کی طرف سے سخت باپ کی طرح ڈانٹ۔۔۔ بھی بہت پیاری لگتی ہے مجھے ۔ اگر اس دنیا میں آپ جیسے مخلص اور بے لوث چاہنے والے نہ ہوتے۔ تو میں یہ دنیا چھوڑنے کے لیے ایک لمحہ کی بھی دیر نہ کرتی۔ وہ شرارت سے جو بھی کہتا۔ سیدھا دل میں اتر جاتا۔ ایک دن میں گاڑی میں سوار ہوگئی۔ گاڑی تیزسڑک پر دوڑ رہی تھی ۔درخت ۔دوکانیں ہر چیز پیچھے چھوڑتی ہوئی آگے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کہ اچانک گاڑی کا ایکسڈنٹ ہو گیا۔ گاڑی گہری کھائی میں جاگری۔ یہ منظر سوچ کر اس وقت اس کے چہرے پرسے پسینہ تیزی سے بہنے لگا۔ گلہ بار بار خشک ہونے لگا۔ جسے وہ ترکرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ مگر جذباتی ہو کر بول رہی تھی۔ میرا یہ بازو بری طرح ٹوٹ گیا اور ہسپتال میں ڈاکٹروں نے اسے میری کہنی سے کاٹ دیا ۔یہ بازو میرے جسم سے الگ ہو گیا اسی بازو کو انہوں نے مجھے لکھنے لکھانے کی خوب تربیت دی ۔کیونکہ میرے پاس الفاظ نہیںتھے ۔ہسپتال میں میرے اپنوں نے مجھے خون دینے سے انکار کر دیا مگر وہ مجھے اپنا خون دیتے رہے اپنا بازو بھی کاٹ کر مجھے دے دیا۔ ڈاکٹر وں نے سرجری کرکے اس کے بازو کو میرے جسم کے ساتھ فٹ کیا۔ بازو پر سے اپنا دوپٹہ ہٹا کر ہمیں دکھایا۔ بازو کو دیکھتے ہی ہم سبوںکے منہ سے زور کی چیخ نکل گئی ۔
اللہ مر دکا بازو ۔آجکل کے زمانے میںایسی دوستی ۔۔۔؟ان ہی لوگوں کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے ۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ ہماری طرف سے ایسی دوستی پر ہزاروں سلام۔ ہم اس سے ملنا چاہتے ہیں۔ اب وہ ہے کہاں؟یہ سن کر اسکی آنکھوں سے آنسو ڈھلک ڈھلک کر کے دامن میں جذب ہونے لگے ۔ تھر تھر کانپنے لگی۔ اس کے جسم کا خون جیسے منجمند ہونے لگا ۔اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھی اور ہچکیاں لیتے ہوئے بولی۔ میں ابھی زندہ ہوں مرنے کی کوشش کی لیکن مرنہ سکی۔ میں ساری زندگی اپنے آپ کو سزا دیتی رہوں گی ۔ ان کی جدائی سے میرا سانس لینا بھی دو بھر ہو گیا ہے ۔ جی چاہتا ہے اپنا سر پھاڑ لوں۔ اپنے بال نوچوں دیواروں سے سر ٹکراتے ٹکراتے مر جائوں۔ خود کو کیسے سنبھال کے رکھا ہے ۔میں روتی ہوں۔ سسکتی ہوں۔ پھر دوڑ کے ان کے قبر پر بیٹھ کر گھنٹوں ان سے باتیں کرتی رہتی ہوں۔ تب جا کر مجھے قرار آتا ہے۔ ہم صبر کے سوا کچھ کر بھی نہیں سکتے ۔وہ ایک لمحے کے لیے چپ ہو گی اور پھر بے چارگی سے بولی ۔ اللہ کے بعد ۔ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے ۔صرف دوستی ہی ایسا انمول رشتہ قائم رکھ سکتا ہے ۔یہ دوستی عمر کے کسی بھی حصے میں اپنے آپ کو اس طرح سنوار رکھتی ہے جیسے دل کے کسی گوشے میں کوئی احساس دھیمے دھیمے سروں میںگنگنا رہا ہو۔ باقی یہ جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا میرے نصیب میں تھا۔ میںاپنے دوست کی قبر کی مٹی پر واری اور صدقے جائوں۔ وہ پیٹھ موڑ کر کھڑی ہو گئی اور چلتے چلتے ٹھہری۔ پھر ساکت ہوئی۔ پھر بت بنی اور بلا آخر بے جان ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

فرینڈ شپ: کہانی

شبیر احمد میر

میں یہاں! اس وقت تم لوگوں کے سامنے کوئی لو اسٹوری بکھیرنے والی نہیں ہوں ۔بلکہ میں تو اپنی زندگی میں موجود ایک ایسے رشتے کے متعلق بات کرر ہی ہوں۔ جس سے میں کئی سالوں سے روشناس ہوئی۔ جو میرے باعث خوشی اور سکون بن گیا ۔ ویسے ہر انسان کی زندگی میں کوئی شخص۔ کوئی رشتہ ایسا ضرورہوتا ہے جو ایک لمحے ایک پل کے لیے ہی سہی اس کے لبوں پر مسکان کی وجہ بن سکتا ہے۔ ہاں ۔میں بات کررہی ہوں ۔ایسی دوستی کی جس میں دونوں طرف سے خوش شکل و خوش اطوار ہونے کے ساتھ عقل سلیم اور درد قلبی بھی رکھتا ہو ۔ راکھ میں دبی چنگاری کی مانند ۔دکھوں بھری زندگی میں خوشیوں کا سامان بن سکتا ہے ۔جب ہی تو اس نے پہلی ملاقات میں ہی ۔میرے قلب سوز کو جانچ لیا ۔لیکن میں نادان اسے سمجھ نہ سکی ۔ دوستی وہ بھی ایک لڑکے سے ۔بچپن گرز گیا ۔ہم شعور کی سیڑ ھی پر کھڑے ہیں۔ یہان ایک بار گرنا پوری زندگی کا روگ بن جاتا ہے ۔میں ایک جوان لڑکی ہوں اور وہ ایک جوان لڑکا ۔میرے اختیار میں کہاںتھا فرینڈ شپ کرنا ۔جب بھی میں فرینڈ شپ کے بارے میں سوچتی تو زندگی کی ساری حیرتوں نے میرے وجود پر چڑھائی کر دینا شروع کر دئے۔ سوچتے سوچتے جب ادا س ہو جاتی۔ تو مجھے یقین ہو جاتا کہ اس نے بھی میرے دل کی پل پل کی خبر رکھی ہے ۔ عورت ایک قابل احترام ہستی ہے۔ میرے نزدیک جو ماں ہے ۔بہن ہے ۔بیٹی ہے ۔پھر بیوی میں اپنے آپ کو صرف ان رشتون تک محدود رکھنا چاہتی تھی ۔ میرے لیے یہ فرینڈ شپ کرنا اول نمبر کے خرافاتوں میںایک ہے ۔جسے آجکل اسے انجوائن منٹ تو کبھی تھرل اور کبھی ایڈونچر کا نام دیتے ہیں ۔ ہم اکثر جوہے ۔جیسا ہے۔ کی بنیا د پر قبول کر لینے کے بجائے کیوں ہے؟کیسا ہے ؟کی کھوج میں نکل پڑتے ہیں۔ سوچنا اور گہرائی میں اتر کر سوچنا جیسے خطرناک عارضے میںمبتلا ہیں ۔ کوئی لمحہ زندگی میں اس طرح وارد ہوتا ہے کہ اپنے وقت پر وہ بڑا منحوس اور سخت لگتا ہے۔ مگر بعد میں یہی وہ لمحہ ہمارے لیے مبارک ثابت ہوتا ہے اور پھر ہم زندگی بھر اس لمحے کو اپنی یاداشت اور اشکوں سے قرض اتارتے رہتے ہیں ۔ ایک انسان کتنا نادان ہے وہ یہی تو نہیں جانتا کہ اسے زندگی میں کب کب اور کہاں کہاں ہنسنا اور کس کس بات کو رونا ہے ۔
اس وقت اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور ا ٓسمان سے برسنے والا پانی اس کی آنکھوں کی برسات پر پردہ ڈال رہا تھا ۔ہم میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ بارش شروع ہو جائے ۔میں جاکر دیکھتی ہوں۔ اسے کہاں تلاش کیا جاسکتا ہے ؟
سب نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا !چپ کر بے ہودہ ! وقت کی نزاکت کو محسوس کیئے بغیر بولتی جاتی ہے ۔ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کچھ سوچتے ہوئے پھر کہنا شروع کیا ۔
دوستی ایک خوشبو کی طرح ہو تی ہے ۔اسکو تلاشنا نہیں پڑتا ۔ یہ دل کی دھڑکنوں اور دل میںدوڑتا ہے اور زندگی کی ہر گھڑی میںرہنمائی کرتا ہے ۔یہ آپ کی طرف۔ اس وقت آتا ہے جب ساری دنیا آپ کو چھوڑ چکی ہوتی ہے ۔دوستی کا یہ خوبصورت رشتہ انسانی زندگی کو سیراب کر کے اسے شاداب بناتا ہے۔ دوستی کے بٖغیر زندگی بے آب وگیا صحر کے مانند ہے ۔ دوستی مفاہمت سے شروع ہو کر اخلاص اور ایثار پر ختم ہو جاتی ہے۔ ایک اچھا دوست کراہ ارض پر بہت بڑا تحفہ ہے۔ مرد اور عورت اس دنیا کو خوبصورت رنگوں سے سجانے والے جن کی محبت اور جائز رشتوں کی چاندنی ہر سو بکھیرتی ہے اور جب دوستی کی آڑ میںان رشتوں میںبد کرداراور عیاش مرد غلیظ رشتوں کی غلاظتیں بکھیرتے ہیں تو عورت اور مر د کا وہ مقدس اور محبت بھرا رشتہ داغدار ہو جاتا ہے ۔ان رشتوں کو پامال کرنے والے انسان نما گدھ ہوتے ہیں۔ زندگی میں کچھ لمس اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ اکثر کسی قیمت پر بھی نہیں ملتے ۔جیسے ماں کا لمس۔ بچے کا لمس۔ کسی بزرگ ہستی کا لمس۔ ضحیف اور کمزور ہاتھوں کا مہربان لمس ہوتا ہے ۔ زندگی میں اس سے کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود ہمیں ہمیشہ اس کی مدد اور سہارے کے لیے محتاج رہنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی اس کی زندگی کا کوئی رخ ہمیںآئینہ دکھا جاتا ہے اور اس میں نظر آنے والا منظر وہی ہوتا ہے ۔جس سے ہم نظریں چرا رہے ہوتے ہیں۔
ہم غور سے دیکھ رہے تھے ۔ماضی کے جھروکوں سے دھند لے انداز میں اس کے چہرے سے ابھریں اور اس کے زہن پر سوار ہونے لگیں اور وہ خیالوں میں کھوگئی ۔اس وقت وہ ہمارے اس ماحول میں مکمل طورپر موجود نہیں تھی۔ مگر بول رہی تھی ۔
کچھ سال پہلے مجھے اپنے قریبی رشتہ دار کو فون پر ایک اہم بات کرنی تھی۔ جس کا نمبر 7979797762 تھا۔ غلطی سے نمبر ڈائل کرتے کرتے 2 کے بجائے1 ڈائل کیا۔ یعنی 7979797761 دوسری طرف سے آواز آئی ۔جی کون؟ میںنے پہچانا نہیں؟ انجانی سی آواز سن کر میرے لبوں سے اتنا ہی نکلا۔ معاف کرنا رانگ نمبر ڈائل کیا اور میں فون کاٹنے لگی۔ اس آدمی نے پھر سے کہنا شروع کیا۔
میڈم۔ فون نہیں کاٹنا۔ اب تو کال لگ ہی گئی ہے ۔مہربانی کر کے اپنے بارے میں۔اپنے شہر کے بارے میں کچھ تو بتائیں؟ ہم اس وقت بہت ہی بوریت محسوس کررہے ہیں۔ آپ سے بات کرکے کچھ تو راحت ملے گی۔ کیونکہ انسانی فطرت ہے۔ جب بھی کوئی خوبصورت چیز دیکھتا ہے۔ توو ہ اسے دیکھتا ہی رہتا ہے اور جب بھی کوئیء میٹھی آواز سنتا ہے تو اس کے کانوں میں رس گھول دیتا ہے۔ اس حقیقت سے انکا ر بھی نہیں کیا جاسکتا ۔کہ ہم اپنے اندر چھپ چھپ کر وقت گزارنے کے لیے بہت کچھ کرتے رہتے ہیں ۔
مسٹر !کتنے سال ہوگئے پاگل خانے میں؟جہاں تک میرا اندازہ ہے ہمارے ملک کا سب سے بڑا پاگل خانہ آگر ہ میں ہے ۔ مجھے یقین ہے۔ آپ شاید ۔وہاں سے ہی بول رہے ہیں ۔ اس دنیا میں پاگل ہی ایسے ہوتے ہیں ۔جو اپنے اندر چھپ چھپ کر بہت کچھ کرتے رہتے ہیں ۔آ پ کے ساتھ مجھے بڑی ہمدردی پیدا ہوگئی ۔ شاید ڈاکٹر لوگ آپ کو ٹھیک نہیں کر سکے ۔اب تھوڑی بہت میں بھی کوشش کروں گی آپ کو ٹھیک کرنے میں ۔شاید آپ ٹھیک ہو جائیں؟
زرا غور سے سنیئے اور یا رکھیئے۔میںایک خوش شکل و خوش لباس۔ ستائیس سال کی لڑکی کی تصویر پر پوری اتر رہی ہوں۔ ابھی خود ساختہ تعریفیں آئینے سے وصولنے کا سلسلہ جاری ہے ۔میرے گھنے ریشمی سیاہ سلکی بال شانوںسے پھسلتے ہوئے آبشار کی مانند میری پیٹھ پر پھسلتے چلے جاتے ہیں ۔یہاں تک کہ کمر سے نیچے تک جیسے ۔کالی گھٹا وں نے ڈیرہ ڈال لیا ہو ۔رہا شہر! اس خوبصورت شہر سر ینگر میں ہمارا جنم ہوا اور ابھی تک اسی شہر میں جی رہی ہوں۔۔۔ اور کچھ جانکاری چائیے ۔جہاں پناہ شہنشاہ اعظم کو ۔
دیکھئے میڈم ۔ یہ جو آپ نے اپنا خوبصورت حلیہ بیان کیا ہے۔ اس سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں۔ اللہ کا شکر کریں ۔جس نے آپ کو حسن کی دولت سے نوازا اور آپ کا فرض بنتا ہے۔ آپ اپنے حسن کو اپنے ہونے والے میاں کے لیے سنبھال کر رکھیئے گا۔ آپ کی آواز اور آپ کا لب و لہجہ بہت ہی خوبصورت ہے جسکی وجہ سے ہم آپ سے فیرنڈ شپ کرنا چاہتے ہیں۔یہ میری دوستی ہوگی کوئی مذاق نہیں ہو گا۔ ایک لاکھ مرتبہ بھی انکار کر کے دیکھ لیں۔ ہم آپ کو اپنا دوست بنا کے ہی رکھیں گے۔ پھر ہم آپ کے ساتھ ہمیشہ سایے کی طرح ہوں گے ۔
دیکھئے جناب۔۔! میں چاند ہوں۔ ہر آنگن میں اترنا میرا مقصد ہے اور کسی کی مٹھی میں قید نہ ہونا میرا حاصل ۔ کوشش جاری رکھئے۔ جنگل کے ننھے پرندے اور صبر کی نیت کرو۔ اللہ صبر دے گا۔ اس کے بعد میں خوب ہنسی ۔۔۔
ہنستی کیوں ہو ؟ آپ اپنے آپ کو خوش قسمت کیوں نہیںسمجھتی؟اس کا احساس تو ہونا چاہیے تمہیں ۔جو میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔ بعض لوگ نہ صرف زندگی بلکہ مرنے کے بعد بھی دوستی کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ ان لوگوں میں ،میں بھی ایک ہوں۔
میںنے اپنے دانت پیستے ہوئے اور غصے میں کہا ۔مر کیوںنہیں جاتے ؟دیر کس بات کی۔ اگر آپ ابھی خود کشی کریں گے۔ تو میں وعدہ کرتی ہوں میں ابھی۔ اسی وقت آپ کے جنازے میںشریک ہو جاوں گی ۔
ارے میڈم۔۔! خودکشی کریںمیرے دشمن ۔آپ کے ہنسنے میں کتنا نرم احساس ہے ۔۔۔ویسے ایک بات کہوں۔ جو انسان زور زور سے ہنستا ہے ۔اس میں سکون کی کمی ہوتی ہے۔ آج میں آپ کے سکون کے لیے دعا ضرور مانگوں گا ۔ دوستی کرنے والے ہزار دلیلیں ڈھونڈ لیتے ہیں ۔میں بھی کوئی نہ کوئی دلیل ڈھونڈ ہی لوں گا۔ جس سے تم دوستی پر یقین کر لوگی ۔ دنیا میں بہت ہی کم لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں دوستی جیسی نعمت ملا کرتی ہے۔ جب میری دوستی ۔۔آپ کے ساتھ ہو جائیگی۔ آپ کے دل کے چہرے پر نور ہو گا اور میرے وجود کے چہرے پر شکر ۔اس کے بعد اگر میں مر جائوں گا تو یقین کر لوگی ۔میری وفا داری پر؟ میری دوستی پر؟ میری منزل دوستی ہے۔ فرینڈ شپ ہے۔ مجھے منزل پر پہنچا دو۔ مجھے یوں نہ ٹھکرائو۔ میرے وجود کی نفی نہ کرو۔ عجیب دل ہلا دینے والا ۔۔۔احسا س تھا ۔۔۔سوال تھا۔ جس نے میرے اندر زلزلہ برپا کردیا۔ میں سچے اور بے لوث جذبون کی آنچ سے دھیر ے دھیرے پگلنے لگی اور کافی دیر تک سوچوں کے بھنو رمیں الجھی رہی اور کہا ۔ ویسے میں۔ سمجھتی ہوں۔ تمہاری سوچ صرف اتنی ہے۔ جتنی کہ اس پروانے کی۔ جوشمع کے گرد منڈلاتی ہے اور آن واحد میں بھسم ہو جاتاہے ۔کیونکہ مجھے اس پر یقین ہے ۔دوستی کی آڑ میںجوبھی کچھ غلط ہوتا ہے وہ بھسم ہو کر رہ جاتا ہے ۔
خاموش ۔۔۔!بد تمیز لڑکی۔۔۔! بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تمہیں ۔تہمیں یہ بھی نہیں پتہ۔۔۔؟ مثبت سوچ ہر شخص کے لیے مشعل کی حثیت رکھتی ہے۔ اس کی روشنی میںوہ اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ مگر مجھے لگ رہا ہے تم جیسے لوگ خیالوں ۔ خوابوں اور زہن میں آئیے نکات خواہ وہ کتنے ہی مضر کیوںنہ ہوں ان پر فوراً عمل پیر ا ہو جاتے ہیں۔کاش ایسے لوگ وقت گزرنے سے قبل سوچ سکیں۔ سمجھ سکیں۔ لیکن نہ وہ سوچتے ہیں اور جب یہ لوگ جان پاتے ہیں۔تب ان کو سمجھ آتی ہے۔ مگر جب وقت اپنی چال چل چکا ہوتا ہے اور پھر وہ سوچتے رہ جاتے ہیں۔ان کی زندگی بے کیف ۔بے رنگ۔ صبح ہو تی ہے۔ شام ہوتی ہے۔ یوں ہی زندگی ان کی تما م ہوتی ہے۔ نہ وہ سوچتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے جینا کسے کہتے ہیں؟ اس وقت اس کے چہرے پر جو غصہ تھا وہ اس کی باتوں اور لہجے سے بھی عیاں تھا اور میرے دل میں اسے لفظوں نے لہجے کی تڑپ اور بے قراری نے میرے اندر بھی ایک نئی روح پھونک دی اور میں نے خوش ہو کر کہا ۔
جینے کا فلسفہ میںنہیںسننا چاہتی۔ اب ہم آپ کے دوست ہیں اور میں وعدہ کرتی ہوں میںاپنی جان پر کھیل کر آپ کے ساتھ گہری فرینڈ شپ نبھائو گی ۔
مبارک ہو میڈم! بغیر کسی محنت والجھن کے آپ اتنی جلدی میری دوست بن گئیں ۔اب ہم آپ کو اپنے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔
میرا نام دوستی ہے ۔زلالت کے شہر میں جنم لیا اور زلیلوں کے درمیان اپنا بچپن اور نصف جوانی گزار دی ۔ زلیل اور کمینے لوگوں سے دوربھاگا اور پیار بھرے اس شہر میں ہجرت کی او ر اسی شہر میں ہم نے قلم اٹھایا اور تب سے لکھتا رہتا ہوں۔
اٹھاتے ہیںقلم تو زندگی تحریر کرتے ہیں
سیاہی سے سدا ہم روشنی تحریر کرتے ہیں
دوستی کی بدولت سے۔ اس نے میرے گھر کے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبتوں۔ وفائوں کے بیج بوڈالے۔ اس کے بات کرنے کا سلیقہ ہی الگ تھا۔ محبتوں اور شفقتوں کا سمندر تھا۔ وہ اکثر کہتے ۔اللہ کے نزدیک ہونے کے لیے اللہ کے بندوں سے نزدیک ہو جائو ۔ وہ میرے یقین و ایمان سے بھی زیادہ جوان تھا۔ لرزتے آنسو لیے وہ مجھ سے کہتے ۔تم تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ۔دل کا سرور ہو۔ بس یہ سوچ کر گھبر اتا ہوں کہ تجھے پرائے گھر رخصت کرنا پڑے گا۔ تم تو میرے لیے دنیا کی سب سے حسین۔ سب سے زہین ۔وفادار ۔محبت کرنے والی ماں بھی ہو۔ بہن بھی اور بیٹی بھی۔ میرے ہر معاملے میںبہت ہی زمہ دار ہو۔ میری کتنی مشکلیں تم آسان کرتی رہتی ہو ۔واقعی تیرے قدموں کے نیچے میری جنت ہے ۔
میں بہتے آنسوں کے ساتھ اسے ڈانٹتے ہوئے کہتی ۔
ایسا نہ کہو۔ آپ کی طرف سے سخت باپ کی طرح ڈانٹ۔۔۔ بھی بہت پیاری لگتی ہے مجھے ۔ اگر اس دنیا میں آپ جیسے مخلص اور بے لوث چاہنے والے نہ ہوتے۔ تو میں یہ دنیا چھوڑنے کے لیے ایک لمحہ کی بھی دیر نہ کرتی۔ وہ شرارت سے جو بھی کہتا۔ سیدھا دل میں اتر جاتا۔ ایک دن میں گاڑی میں سوار ہوگئی۔ گاڑی تیزسڑک پر دوڑ رہی تھی ۔درخت ۔دوکانیں ہر چیز پیچھے چھوڑتی ہوئی آگے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کہ اچانک گاڑی کا ایکسڈنٹ ہو گیا۔ گاڑی گہری کھائی میں جاگری۔ یہ منظر سوچ کر اس وقت اس کے چہرے پرسے پسینہ تیزی سے بہنے لگا۔ گلہ بار بار خشک ہونے لگا۔ جسے وہ ترکرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ مگر جذباتی ہو کر بول رہی تھی۔ میرا یہ بازو بری طرح ٹوٹ گیا اور ہسپتال میں ڈاکٹروں نے اسے میری کہنی سے کاٹ دیا ۔یہ بازو میرے جسم سے الگ ہو گیا اسی بازو کو انہوں نے مجھے لکھنے لکھانے کی خوب تربیت دی ۔کیونکہ میرے پاس الفاظ نہیںتھے ۔ہسپتال میں میرے اپنوں نے مجھے خون دینے سے انکار کر دیا مگر وہ مجھے اپنا خون دیتے رہے اپنا بازو بھی کاٹ کر مجھے دے دیا۔ ڈاکٹر وں نے سرجری کرکے اس کے بازو کو میرے جسم کے ساتھ فٹ کیا۔ بازو پر سے اپنا دوپٹہ ہٹا کر ہمیں دکھایا۔ بازو کو دیکھتے ہی ہم سبوںکے منہ سے زور کی چیخ نکل گئی ۔
اللہ مر دکا بازو ۔آجکل کے زمانے میںایسی دوستی ۔۔۔؟ان ہی لوگوں کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے ۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ ہماری طرف سے ایسی دوستی پر ہزاروں سلام۔ ہم اس سے ملنا چاہتے ہیں۔ اب وہ ہے کہاں؟یہ سن کر اسکی آنکھوں سے آنسو ڈھلک ڈھلک کر کے دامن میں جذب ہونے لگے ۔ تھر تھر کانپنے لگی۔ اس کے جسم کا خون جیسے منجمند ہونے لگا ۔اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھی اور ہچکیاں لیتے ہوئے بولی۔ میں ابھی زندہ ہوں مرنے کی کوشش کی لیکن مرنہ سکی۔ میں ساری زندگی اپنے آپ کو سزا دیتی رہوں گی ۔ ان کی جدائی سے میرا سانس لینا بھی دو بھر ہو گیا ہے ۔ جی چاہتا ہے اپنا سر پھاڑ لوں۔ اپنے بال نوچوں دیواروں سے سر ٹکراتے ٹکراتے مر جائوں۔ خود کو کیسے سنبھال کے رکھا ہے ۔میں روتی ہوں۔ سسکتی ہوں۔ پھر دوڑ کے ان کے قبر پر بیٹھ کر گھنٹوں ان سے باتیں کرتی رہتی ہوں۔ تب جا کر مجھے قرار آتا ہے۔ ہم صبر کے سوا کچھ کر بھی نہیں سکتے ۔وہ ایک لمحے کے لیے چپ ہو گی اور پھر بے چارگی سے بولی ۔ اللہ کے بعد ۔ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے ۔صرف دوستی ہی ایسا انمول رشتہ قائم رکھ سکتا ہے ۔یہ دوستی عمر کے کسی بھی حصے میں اپنے آپ کو اس طرح سنوار رکھتی ہے جیسے دل کے کسی گوشے میں کوئی احساس دھیمے دھیمے سروں میںگنگنا رہا ہو۔ باقی یہ جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا میرے نصیب میں تھا۔ میںاپنے دوست کی قبر کی مٹی پر واری اور صدقے جائوں۔ وہ پیٹھ موڑ کر کھڑی ہو گئی اور چلتے چلتے ٹھہری۔ پھر ساکت ہوئی۔ پھر بت بنی اور بلا آخر بے جان ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں