ڈرگس: کہانی

شبیر احمد میر

جب وہ چھوٹا تھا تو فرشتوں کی طرح معصوم تھا ۔اسکے قہقے اور قلکاریاں کھیت اور کھلیانوں میں گونجتے رہتے تھے ۔ میرا بیٹا۔ میری عمر بھر کی پونجی تھی! عمر بھی کی پونجی! وہ جب جوان ہوا۔ تو جب بھی گھر کے اندر داخل ہوتا ۔اس کے ہاتھوں میںرشہ اور پائوںمیں لغزشیں ہوتی ۔سر اور داڑھی کے بال بڑھے ہوئے بے ترتیب ۔وہ پیر رکھتا کہیں تھا اور پڑتا کہیں تھا ۔وہ گرتا پڑتا بڑھتا جا رہا تھا۔ شریف خاندان کا رکن اور معاشرے کا ایک ذمہ دار فردد تھا ۔ میں اسے لاکھوں میں خیال کرتی۔ جسکی بہن اس کا احترام ہی نہیں اس سے والہانہ محبت کرتی۔ جس کا گھر اس کے لیے سکون وعافیت کا گہوارہ تھا ۔میں ایک ماں ہوں اور میں بیٹے کے دل کی بات اس کے چہرے سے معلوم کر لیتی ہوں۔ میں اس کے اند ر ونی طوفان سے اچھی طرح آ گاہ ہو گئی ۔ جب جوان بیٹا ڈرگس لیتا ہو اور ایسی ہی الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگے۔ تو پھر میں کیا کروں ؟ کیسا چہرہ بنا رکھا ہے اس نے ۔کیسی حالت ہوگئی ہے اسکی ۔اب اس کا چہرہ اداس اور آنکھیں ویران ۔جس میں کبھی چمک ہوا کرتی تھی۔ اب کتنی اجڑی اور خالی خالی لگ رہی ہیں۔اس نے یہ بھی نہیں سوچا ۔کہ اسکی ایسی حالت دیکھ کر میں کیسے جیوں گی۔ جی چاہتا ہے اپنا سرپھاڑ لوں اور دیواروں سے سرٹکراتے ٹکراتے مرجائو ں۔ کلیجہ پھٹا جارہا ہے! بھلا مجھ میں اتنا حوصلہ کہا ں ۔کہ اس کا غم برداشت کر سکوں ۔ مجھے تو کسی کروٹ چین نہیں ۔سو بھی نہیں سکتی۔ دل چاہتا ہے اپنے بال نوچوں ۔دیواروں کی نظر ہو جاوں۔ کوئی تو ایسا طریقہ ہو ۔کہ میں خود کو سنبھا سکوں ۔ دل تو خون اگلنے لگتا ہے اور نگاہیں برس پڑتی ہیں۔ایک طوفان ہے جسکی زد میں ، میںبہہ نکلی۔بیٹے کی وجہ سے میں زندگی سے بیزار ہو گئی۔ عرصہ حیات میرے اوپر تنگ ہو چکا۔ اب صرف ایک آرزو ہے میری موت مشکل نہ ہو۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ زندگی کبھی کسی مشکل سے دوچار ہو گی یا پھر کسی مقام پر آکر ایک سوالیہ نشان بن جائے گی۔ وہ چند لمحات تک خاموش رہ کر اپنے زہن میں بکھرے ہوئے خیالات کو ایک نقطے پر مرکوز کرتی رہی ۔پھر ٹھہرے ہوئے انداز میںکہنے لگی!
وہ بستر مرگ پر سوچوں میںگھرا قطرہ قطرہ کی طرح پگھل کر ختم ہورہا تھا ۔ وہ اس وقت کسی دلدل پر کھڑا اور لمحہ لمحہ اس دلدل میںدھنس رہا تھا اور اسکے پاس اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ ازیت ناک موت مرنے سے پہلے پھڑ پھڑا کر زندگی کی آرزو کرتا ہے ۔وہ اس وقت صدمے کی اس اسٹیج پر تھا۔ کہ جہاں انسان کا جسم اس کا دل و دماغ اوراس کی عقل بیک وقت مفلوج ہو کے رہ جاتی ہے اور پھر اس اسٹیج سے واپس آنا مریض اور ڈاکٹر کے اختیار میں نہیں رہتا۔ بلکہ ا ﷲکی طرف سے ایک معجزہ بن جاتا ہے اور پھر ہمیں اس مجعزہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب میں نے اسے پکارا !بیٹے۔ یہ آواز اس کے دل میں اتر گئی۔ اس نے آنکھیں کھولیں ۔اسے پتہ نہ چلا ۔یہ آواز کون سے کونے نے ابھری تھی۔ لیکن وہ سمجھ گیا یہ آواز میٹھی اور پیار بھری ہے۔ اس نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔ اسکی سنجیدگی کو برداشت کرنا میرے لیے عذاب بن گیا تھا۔ مین چیخ چیخ کر اللہ سے کہتی ! یا تو اس بت کے اندر جان ڈال دے یا پھر مجھے بھی کسی پتھر کی طرح بے جان بت میں تبدیل کر دے۔ جن انسانوں کی روحیں دوسرے انسانوں کے ہاتھوں مرتی ہیں۔ ان انسانوں کو بڑی کرب ناک سزائیں ملتی ہیں۔ وہ شاک کی حالت میں بول رہی تھی۔ کہ خود غرضی کا اتنا وسیع پیمانہ ہوتا ہے ۔کہ کچھ پیسوں کی خاطر کسی کے جوان بیٹے کی ہستی اور اس کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے ختم کردیئے جائیں ۔یہ اتو ان کی گھٹیا چھچھوری اور غیر انسانی فطرت کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے۔ ہماری تو نسلوں کو بر باد کیا جارہا ہے۔ پتہ نہیں۔ ہمیں کن چیزوں میں الجھا دیا گیا ہے۔ کہ ہماری نسل ان چیزوں سے نکل ہی نہیں پاتی۔ اللہ ان ظالموں کو دنیا و اخرت میں رسوا اور بر باد کرے۔ جنہوں نے تھوڑے روپیوں کی خاطر اپنی گور کالی کی ۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنی طرح کا انسان سمجھنے پر تیارہی نہیں۔ موجودہ دور میں انسانیت کا خطرناک دشمن ا نسان ہی تو ہے۔اﷲتعالی ہمارے ساتھ کبھی برا نہیں کرتا۔ بلکہ ہم خود اپنی عقل و سمجھ کے ہاتھوں خود اپنے لیے ایسا راستہ چن لیتے ہیں جس پر چلکر ہمارے پاوں زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری روح بھی زخمی ہو جاتی ہے۔ اولاد جوان ہو جائے تو اپنی من مانی کرنے لگتی ہے اور ماں باپ بے بس ہو جاتے ہیں ۔ایسی حالت میں دل چاہتا ہے۔ کہ عالم دیوانگی میں بال کھولے اپنے کپڑے نوچ کر ننگے پائوں سڑکوں پر بھاگتی پھروں ۔لیکن حیا کی زنجیریں مجھے باندھ کے رکھتی ہیں ۔ وہ جتنا سوچتی۔ اتنی ہی اس کے اندر چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ دل چاہ رہا تھا گھر کی ایک ایک چیز کو آگ لگا دوں ۔اس کے لیے لمحہ لمحہ بہت بھاری تھا اور وقت اس کے لیے رینگ رینگ کر گزر رہا تھا ۔اس کو اپنے بیٹے پر اتنا یقین تھا کہ پہاڑ بھی ٹوٹ پڑے ۔مگر اس کا یقین ہلکا نہ ہوتا۔ اسکی آواز بھیگ رہی تھی۔ اس کا دل جیسے بند ہونے لگا ۔اس کا دل دکھ کی اتھا ہ میںگزر رہا تھا ۔جیسے مان اور اعتبار کی کرچیوں سے زخم زخم ہو رہا تھا ۔ اور یہ نو کیلے کانچ اسے شام سویرے نوکیں چھبوتے تھے ۔ میرے بیٹے کا قصور لوگوں نے میرے کھاتے میں لکھ دیا۔ وہ شدتوں سے رو پڑتی ۔کتنا دکھ۔ کتنا کرب تھا۔اس کی آنکھوں میں جو آنسووں کی سورت میں بہہ نکلا۔ اس کے اندر عجیب سی دھند کہر اور دھول کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ بیتے ہوے دنوں کے تیر اس کے کلیجے کو چھلنی اور احساسات کو لہولہاں کر رہے تھے اور ماضی کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ بیٹے کی حالت دیکھ کر میرے دل میں ایک برچھی سی اتر گئی اور میں کٹے ہوئے شہتیر کی طرح وہاں ہی فرش پر بیٹھ گئی ۔ ایک آندھی سی اٹھی اور مجھے تہس نہس تخت و تاراج کرنے لگی۔ اسی وقت دور کسی کتے کی رونے کی آواز آئی ۔تو میرا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا۔ میرا سینہ درد اور خوف سے پھٹنے گا اور چاند بھی کھڑکی کے راستے سے اندر چلا آیا اور دیکھ رہا تھا۔ چاند نے اس کے جسم کو دیکھ کر نفرت سے منہ موڑ لیا اور بادل کے ٹکڑے میں چھپ گیا۔ میرے بیٹے کے لیے زندگی کا ہر ہر لمحہ ازیت سے پر تھا۔ اسکی ہر سانس میں آہیں اور سسکیاں تھیں۔ یہ کیسی ازیت تھی ۔جس سے صرف وہی آشنا تھا۔ یہ کیسا الاو تھا ۔جس میں صرف وہی جل رہا تھا۔ اس کو تڑپتا دیکھ کر مجھے اپنی جوانی کے دن یا د آگئے ۔
ہم زندگی کے اس دور میں تھے ۔جسے سب سے حسین دور کہا جاتا ہے۔ جس میں انسان اگر جوانی کے زعم میں اپنی سحر انگیز و پرکشش شخصیت کے نشے میں تھوڑا بہک بھی جاتا۔ تو اسے جوانی کی ایک خوبصورت بھول سمجھ کر۔ خود کو یوں ۔بری الذمہ قرار دیا جاتا جیسے وہ بھول اور کوتاہی کسی نے زبردستی کروائی ہو۔ وہ اپنے خاندان کا فخر ہوتا تھا ۔ ماں باپ کا زعم ہو تا تھا۔ جسکی تمنا ہر ماں باپ کرتا تھا۔ اسکی بات بہت انمول ہوتی تھی جس میںالفاظ کم اور معانی زیادہ ہوتی تھی۔ میں سوچوں میں گم تھی۔ کہ اچانک میرے جوان بیٹے کی گردن ایک طرف لڑھک گئی اور اس کی روح اس کے جسم سے پرواز کر گئی ۔ مر کر بھی اسکی بے قراری۔ تڑ پ۔ بے چینی۔ تپش۔ آگ اس کے چہرے سے ظاہر تھی۔ میری ہتھیلیاں پسینے میںنم ہو گئیں۔ میں نے اسکی کھلی آنکھوں میں جھانکا۔ جو میرے چہرے پر مرکوز تھیں ۔ بعض اوقات بہت عرصے تک کچھ ٹھیک نہ ہو تو ہتھیلی پر آجاتا ہے ۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکی سرخ آنکھوں کو بند کیا۔ یہ بڑا جگر پاش مرحلہ ہوتا ہے ۔ دماغ معاوف ہو جاتا ہے اور سینہ پھٹ جاتا ہے ۔یہ منظر دیکھ کر کیا کسی میں جینے کی سکت رہ جاتی ہے۔ اس وقت میرا زہن تاریکی میں ڈوب رہا تھا اور بیٹے کی موت کے اندھیرے میں میں خود بھی ڈوپ گئی ۔ میرے بیٹے نے جو راستہ اپنایا تھاوہ کسی حال میں بھی۔ صرف اندھیروں کی ہی سمت جاتا ہے ۔واقعی زمین و آسمان سب الٹ جانے کو ہیں اور قیامت برپا ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ جس میں چھوٹے غم واویلا کرتے ہیں اور بڑے غم خاموش رہتے ہیں۔ غور سے دیکھا جائے زندگی کیا ہے ؟ صرف وقت !پس اگر ہم اس کو ضائع کرتے ہیں تو گویا زندگی برباد کرتے ہیں۔ اگر ہم گزشتہ زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ۔ اس میں اس قسم کے سنہرے موقعے کثرت سے آتے ہیں۔ جن کو ہم نے خود کھودیا ۔ کچھ لوگ زندگی کو سمجھ نہیں پاتے اور نہ زندگی انہیںسمجھ پاتی ہے۔ اس لیے دونوں اجنبی بن کر ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ مقصد کے بغیر۔ اپنی منزل طے کررہے ہوتے ہیں۔ ان کا یہی انجام ہوتا ہے تو بالا اخر ہو ا کا ایک تیز جھونکا آتا ہے اور انہیں زندگی سے جدا کر دیتا ہے۔ جو شخص حالات اور حادثات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا ۔وہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے ۔انسان اگر اچھے اعمال کرتا ہے تو اچھا ہی معاوضہ پاتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ مجھے یہ کہانی کسی کو سنانے کا خیال ہی زہن میں نہیں آیا۔ اب پہلی بار میرے زہن میں یہ خیال پیدا ہوا۔ اس وقت ااسکی نظریں خلاء میں بھٹک رہی تھیں ۔ جیسے کسی کو تلاش کررہی ہوں ۔ میں نے کسی کا دل نہیں دکھایا۔ کسی کا نقصان نہیں کیا۔ کسی سے جھگڑا نہیںکیا۔ پھر بھلا مجھے ایسی کڑی سزا کیوں مل گئی ۔ میں صرف یہی کہوں گی بچوں کی مائوں کو ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھنی چاہیے ۔ بعض اوقات بہت معمولی سی غفلت ۔بہت بڑے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔ بچوں پر ہر لمحہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بچے جوان بھی ہوتے ہیں اور ان کے مزاجوں میں تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ دھیرے دھیرے عمر کی حدیں پھلانگتے ہوئے ۔جوانی کی رنگینی سرحدوں میں قدم رکھتے ہیں تو بے شمار آرزوئیں پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں او ر وہ انوکھے خواب دیکھتا ہے۔ ان کی غیر معمولی و غیر زمہ دارانہ حرکتوں سے ماں باپ دنیا کے سارے عذابوں سے زیا دہ سخت ہے۔ ہمارے بچے قوم وملت کے مستقبل ہیں۔بچے تو معصوم اور نادان ہوتے ہیں۔ انہیں نہ تو عملی زندگی کا شعور ہوتا ہے اور نہ ہی تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہئے کہ بچوں کو شروع سے ہی دینی تعلیم کی بنا پر ایسی زہن سازی کریں ۔کہ ان برائیوں سے بچ سکیں۔ ان کے ہر چھوٹے بڑے عمل پر غور کریں۔ تو ہم سہی وقت پر بچوں سے کوئی بھی غلطی سرزد ہونے سے روک سکتے ہیں۔ بس ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت اسے اپنی کمزوری پر سخت غصہ آرہا تھا۔ اس کے گھر کا ماحول ۔میت کے گھر جیسا ہو گیا تھا۔ سسکیوں اور آہوں بھر سوگورار اور غمگین ۔جہاں سے بیٹے کا جنازہ نکلا تھا مگر ماں باپ کے لیے زلت و رسوائی کا گلے میں طوق ڈال کر ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

ڈرگس: کہانی

شبیر احمد میر

جب وہ چھوٹا تھا تو فرشتوں کی طرح معصوم تھا ۔اسکے قہقے اور قلکاریاں کھیت اور کھلیانوں میں گونجتے رہتے تھے ۔ میرا بیٹا۔ میری عمر بھر کی پونجی تھی! عمر بھی کی پونجی! وہ جب جوان ہوا۔ تو جب بھی گھر کے اندر داخل ہوتا ۔اس کے ہاتھوں میںرشہ اور پائوںمیں لغزشیں ہوتی ۔سر اور داڑھی کے بال بڑھے ہوئے بے ترتیب ۔وہ پیر رکھتا کہیں تھا اور پڑتا کہیں تھا ۔وہ گرتا پڑتا بڑھتا جا رہا تھا۔ شریف خاندان کا رکن اور معاشرے کا ایک ذمہ دار فردد تھا ۔ میں اسے لاکھوں میں خیال کرتی۔ جسکی بہن اس کا احترام ہی نہیں اس سے والہانہ محبت کرتی۔ جس کا گھر اس کے لیے سکون وعافیت کا گہوارہ تھا ۔میں ایک ماں ہوں اور میں بیٹے کے دل کی بات اس کے چہرے سے معلوم کر لیتی ہوں۔ میں اس کے اند ر ونی طوفان سے اچھی طرح آ گاہ ہو گئی ۔ جب جوان بیٹا ڈرگس لیتا ہو اور ایسی ہی الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگے۔ تو پھر میں کیا کروں ؟ کیسا چہرہ بنا رکھا ہے اس نے ۔کیسی حالت ہوگئی ہے اسکی ۔اب اس کا چہرہ اداس اور آنکھیں ویران ۔جس میں کبھی چمک ہوا کرتی تھی۔ اب کتنی اجڑی اور خالی خالی لگ رہی ہیں۔اس نے یہ بھی نہیں سوچا ۔کہ اسکی ایسی حالت دیکھ کر میں کیسے جیوں گی۔ جی چاہتا ہے اپنا سرپھاڑ لوں اور دیواروں سے سرٹکراتے ٹکراتے مرجائو ں۔ کلیجہ پھٹا جارہا ہے! بھلا مجھ میں اتنا حوصلہ کہا ں ۔کہ اس کا غم برداشت کر سکوں ۔ مجھے تو کسی کروٹ چین نہیں ۔سو بھی نہیں سکتی۔ دل چاہتا ہے اپنے بال نوچوں ۔دیواروں کی نظر ہو جاوں۔ کوئی تو ایسا طریقہ ہو ۔کہ میں خود کو سنبھا سکوں ۔ دل تو خون اگلنے لگتا ہے اور نگاہیں برس پڑتی ہیں۔ایک طوفان ہے جسکی زد میں ، میںبہہ نکلی۔بیٹے کی وجہ سے میں زندگی سے بیزار ہو گئی۔ عرصہ حیات میرے اوپر تنگ ہو چکا۔ اب صرف ایک آرزو ہے میری موت مشکل نہ ہو۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ زندگی کبھی کسی مشکل سے دوچار ہو گی یا پھر کسی مقام پر آکر ایک سوالیہ نشان بن جائے گی۔ وہ چند لمحات تک خاموش رہ کر اپنے زہن میں بکھرے ہوئے خیالات کو ایک نقطے پر مرکوز کرتی رہی ۔پھر ٹھہرے ہوئے انداز میںکہنے لگی!
وہ بستر مرگ پر سوچوں میںگھرا قطرہ قطرہ کی طرح پگھل کر ختم ہورہا تھا ۔ وہ اس وقت کسی دلدل پر کھڑا اور لمحہ لمحہ اس دلدل میںدھنس رہا تھا اور اسکے پاس اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ ازیت ناک موت مرنے سے پہلے پھڑ پھڑا کر زندگی کی آرزو کرتا ہے ۔وہ اس وقت صدمے کی اس اسٹیج پر تھا۔ کہ جہاں انسان کا جسم اس کا دل و دماغ اوراس کی عقل بیک وقت مفلوج ہو کے رہ جاتی ہے اور پھر اس اسٹیج سے واپس آنا مریض اور ڈاکٹر کے اختیار میں نہیں رہتا۔ بلکہ ا ﷲکی طرف سے ایک معجزہ بن جاتا ہے اور پھر ہمیں اس مجعزہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب میں نے اسے پکارا !بیٹے۔ یہ آواز اس کے دل میں اتر گئی۔ اس نے آنکھیں کھولیں ۔اسے پتہ نہ چلا ۔یہ آواز کون سے کونے نے ابھری تھی۔ لیکن وہ سمجھ گیا یہ آواز میٹھی اور پیار بھری ہے۔ اس نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔ اسکی سنجیدگی کو برداشت کرنا میرے لیے عذاب بن گیا تھا۔ مین چیخ چیخ کر اللہ سے کہتی ! یا تو اس بت کے اندر جان ڈال دے یا پھر مجھے بھی کسی پتھر کی طرح بے جان بت میں تبدیل کر دے۔ جن انسانوں کی روحیں دوسرے انسانوں کے ہاتھوں مرتی ہیں۔ ان انسانوں کو بڑی کرب ناک سزائیں ملتی ہیں۔ وہ شاک کی حالت میں بول رہی تھی۔ کہ خود غرضی کا اتنا وسیع پیمانہ ہوتا ہے ۔کہ کچھ پیسوں کی خاطر کسی کے جوان بیٹے کی ہستی اور اس کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے ختم کردیئے جائیں ۔یہ اتو ان کی گھٹیا چھچھوری اور غیر انسانی فطرت کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے۔ ہماری تو نسلوں کو بر باد کیا جارہا ہے۔ پتہ نہیں۔ ہمیں کن چیزوں میں الجھا دیا گیا ہے۔ کہ ہماری نسل ان چیزوں سے نکل ہی نہیں پاتی۔ اللہ ان ظالموں کو دنیا و اخرت میں رسوا اور بر باد کرے۔ جنہوں نے تھوڑے روپیوں کی خاطر اپنی گور کالی کی ۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنی طرح کا انسان سمجھنے پر تیارہی نہیں۔ موجودہ دور میں انسانیت کا خطرناک دشمن ا نسان ہی تو ہے۔اﷲتعالی ہمارے ساتھ کبھی برا نہیں کرتا۔ بلکہ ہم خود اپنی عقل و سمجھ کے ہاتھوں خود اپنے لیے ایسا راستہ چن لیتے ہیں جس پر چلکر ہمارے پاوں زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری روح بھی زخمی ہو جاتی ہے۔ اولاد جوان ہو جائے تو اپنی من مانی کرنے لگتی ہے اور ماں باپ بے بس ہو جاتے ہیں ۔ایسی حالت میں دل چاہتا ہے۔ کہ عالم دیوانگی میں بال کھولے اپنے کپڑے نوچ کر ننگے پائوں سڑکوں پر بھاگتی پھروں ۔لیکن حیا کی زنجیریں مجھے باندھ کے رکھتی ہیں ۔ وہ جتنا سوچتی۔ اتنی ہی اس کے اندر چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ دل چاہ رہا تھا گھر کی ایک ایک چیز کو آگ لگا دوں ۔اس کے لیے لمحہ لمحہ بہت بھاری تھا اور وقت اس کے لیے رینگ رینگ کر گزر رہا تھا ۔اس کو اپنے بیٹے پر اتنا یقین تھا کہ پہاڑ بھی ٹوٹ پڑے ۔مگر اس کا یقین ہلکا نہ ہوتا۔ اسکی آواز بھیگ رہی تھی۔ اس کا دل جیسے بند ہونے لگا ۔اس کا دل دکھ کی اتھا ہ میںگزر رہا تھا ۔جیسے مان اور اعتبار کی کرچیوں سے زخم زخم ہو رہا تھا ۔ اور یہ نو کیلے کانچ اسے شام سویرے نوکیں چھبوتے تھے ۔ میرے بیٹے کا قصور لوگوں نے میرے کھاتے میں لکھ دیا۔ وہ شدتوں سے رو پڑتی ۔کتنا دکھ۔ کتنا کرب تھا۔اس کی آنکھوں میں جو آنسووں کی سورت میں بہہ نکلا۔ اس کے اندر عجیب سی دھند کہر اور دھول کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ بیتے ہوے دنوں کے تیر اس کے کلیجے کو چھلنی اور احساسات کو لہولہاں کر رہے تھے اور ماضی کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ بیٹے کی حالت دیکھ کر میرے دل میں ایک برچھی سی اتر گئی اور میں کٹے ہوئے شہتیر کی طرح وہاں ہی فرش پر بیٹھ گئی ۔ ایک آندھی سی اٹھی اور مجھے تہس نہس تخت و تاراج کرنے لگی۔ اسی وقت دور کسی کتے کی رونے کی آواز آئی ۔تو میرا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا۔ میرا سینہ درد اور خوف سے پھٹنے گا اور چاند بھی کھڑکی کے راستے سے اندر چلا آیا اور دیکھ رہا تھا۔ چاند نے اس کے جسم کو دیکھ کر نفرت سے منہ موڑ لیا اور بادل کے ٹکڑے میں چھپ گیا۔ میرے بیٹے کے لیے زندگی کا ہر ہر لمحہ ازیت سے پر تھا۔ اسکی ہر سانس میں آہیں اور سسکیاں تھیں۔ یہ کیسی ازیت تھی ۔جس سے صرف وہی آشنا تھا۔ یہ کیسا الاو تھا ۔جس میں صرف وہی جل رہا تھا۔ اس کو تڑپتا دیکھ کر مجھے اپنی جوانی کے دن یا د آگئے ۔
ہم زندگی کے اس دور میں تھے ۔جسے سب سے حسین دور کہا جاتا ہے۔ جس میں انسان اگر جوانی کے زعم میں اپنی سحر انگیز و پرکشش شخصیت کے نشے میں تھوڑا بہک بھی جاتا۔ تو اسے جوانی کی ایک خوبصورت بھول سمجھ کر۔ خود کو یوں ۔بری الذمہ قرار دیا جاتا جیسے وہ بھول اور کوتاہی کسی نے زبردستی کروائی ہو۔ وہ اپنے خاندان کا فخر ہوتا تھا ۔ ماں باپ کا زعم ہو تا تھا۔ جسکی تمنا ہر ماں باپ کرتا تھا۔ اسکی بات بہت انمول ہوتی تھی جس میںالفاظ کم اور معانی زیادہ ہوتی تھی۔ میں سوچوں میں گم تھی۔ کہ اچانک میرے جوان بیٹے کی گردن ایک طرف لڑھک گئی اور اس کی روح اس کے جسم سے پرواز کر گئی ۔ مر کر بھی اسکی بے قراری۔ تڑ پ۔ بے چینی۔ تپش۔ آگ اس کے چہرے سے ظاہر تھی۔ میری ہتھیلیاں پسینے میںنم ہو گئیں۔ میں نے اسکی کھلی آنکھوں میں جھانکا۔ جو میرے چہرے پر مرکوز تھیں ۔ بعض اوقات بہت عرصے تک کچھ ٹھیک نہ ہو تو ہتھیلی پر آجاتا ہے ۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکی سرخ آنکھوں کو بند کیا۔ یہ بڑا جگر پاش مرحلہ ہوتا ہے ۔ دماغ معاوف ہو جاتا ہے اور سینہ پھٹ جاتا ہے ۔یہ منظر دیکھ کر کیا کسی میں جینے کی سکت رہ جاتی ہے۔ اس وقت میرا زہن تاریکی میں ڈوب رہا تھا اور بیٹے کی موت کے اندھیرے میں میں خود بھی ڈوپ گئی ۔ میرے بیٹے نے جو راستہ اپنایا تھاوہ کسی حال میں بھی۔ صرف اندھیروں کی ہی سمت جاتا ہے ۔واقعی زمین و آسمان سب الٹ جانے کو ہیں اور قیامت برپا ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ جس میں چھوٹے غم واویلا کرتے ہیں اور بڑے غم خاموش رہتے ہیں۔ غور سے دیکھا جائے زندگی کیا ہے ؟ صرف وقت !پس اگر ہم اس کو ضائع کرتے ہیں تو گویا زندگی برباد کرتے ہیں۔ اگر ہم گزشتہ زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ۔ اس میں اس قسم کے سنہرے موقعے کثرت سے آتے ہیں۔ جن کو ہم نے خود کھودیا ۔ کچھ لوگ زندگی کو سمجھ نہیں پاتے اور نہ زندگی انہیںسمجھ پاتی ہے۔ اس لیے دونوں اجنبی بن کر ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ مقصد کے بغیر۔ اپنی منزل طے کررہے ہوتے ہیں۔ ان کا یہی انجام ہوتا ہے تو بالا اخر ہو ا کا ایک تیز جھونکا آتا ہے اور انہیں زندگی سے جدا کر دیتا ہے۔ جو شخص حالات اور حادثات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا ۔وہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے ۔انسان اگر اچھے اعمال کرتا ہے تو اچھا ہی معاوضہ پاتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ مجھے یہ کہانی کسی کو سنانے کا خیال ہی زہن میں نہیں آیا۔ اب پہلی بار میرے زہن میں یہ خیال پیدا ہوا۔ اس وقت ااسکی نظریں خلاء میں بھٹک رہی تھیں ۔ جیسے کسی کو تلاش کررہی ہوں ۔ میں نے کسی کا دل نہیں دکھایا۔ کسی کا نقصان نہیں کیا۔ کسی سے جھگڑا نہیںکیا۔ پھر بھلا مجھے ایسی کڑی سزا کیوں مل گئی ۔ میں صرف یہی کہوں گی بچوں کی مائوں کو ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھنی چاہیے ۔ بعض اوقات بہت معمولی سی غفلت ۔بہت بڑے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔ بچوں پر ہر لمحہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بچے جوان بھی ہوتے ہیں اور ان کے مزاجوں میں تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ دھیرے دھیرے عمر کی حدیں پھلانگتے ہوئے ۔جوانی کی رنگینی سرحدوں میں قدم رکھتے ہیں تو بے شمار آرزوئیں پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں او ر وہ انوکھے خواب دیکھتا ہے۔ ان کی غیر معمولی و غیر زمہ دارانہ حرکتوں سے ماں باپ دنیا کے سارے عذابوں سے زیا دہ سخت ہے۔ ہمارے بچے قوم وملت کے مستقبل ہیں۔بچے تو معصوم اور نادان ہوتے ہیں۔ انہیں نہ تو عملی زندگی کا شعور ہوتا ہے اور نہ ہی تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہئے کہ بچوں کو شروع سے ہی دینی تعلیم کی بنا پر ایسی زہن سازی کریں ۔کہ ان برائیوں سے بچ سکیں۔ ان کے ہر چھوٹے بڑے عمل پر غور کریں۔ تو ہم سہی وقت پر بچوں سے کوئی بھی غلطی سرزد ہونے سے روک سکتے ہیں۔ بس ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت اسے اپنی کمزوری پر سخت غصہ آرہا تھا۔ اس کے گھر کا ماحول ۔میت کے گھر جیسا ہو گیا تھا۔ سسکیوں اور آہوں بھر سوگورار اور غمگین ۔جہاں سے بیٹے کا جنازہ نکلا تھا مگر ماں باپ کے لیے زلت و رسوائی کا گلے میں طوق ڈال کر ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون