انشائیہ: اہتمامِ رمضان

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

ہم ماہِ رمضان کے مقدس مہینے سے گزر رہے ہیں۔ اس مہینے میں روزہ رکھنے والے لوگوں کو اللہ میاں کی طرف سے بذاتِ خود جزا ملتی ہے، اور وہ بھی کئی گنا۔
رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ (ہم بھی کیا لوگ ہیں، مختصر سی امت کو کئی خانوں میں بانٹ دیا ہے اور اس پر بھی فخر کہ میں ہی سب سے اعلیٰ اور بہتر ہوں) استقبالِ رمضان کے لیے جلسے، جلوس اور کانفرنسوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ مقررین عوام الناس کے دل و دماغ میں رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت کو اس قدر پختہ اور راسخ کر دیتے ہیں کہ لوگ کینہ، بغض، حسد، شرک، بددیانتی اور جھوٹی تہمت جیسی غلاظتوں کو اپنے نفس اور روح سے باہر نکالنے کے بجائے ہفتوں پہلے اپنے گھروں کی اندر اور باہر سے صفائی کرواتے ہیں۔ فرش سے لے کر ٹوٹے ہوئے برتن تک ہر چیز کو صاف کیا جاتا ہے اور گھر کی ساری غلاظت نکال کر باہر راہِ عام پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس طرح اہتمامِ رمضان شروع ہوتا ہے۔
کساد بازاری کا شکار دکاندار سال بھر اس امید پر جیتا ہے کہ رمضان آتے ہی اپنے پڑے ہوئے مال کو منہ مانگے داموں بیچ کر اہتمامِ رمضان کا حق ادا کرے گا۔ اور بیچارہ گاہک، جس کی کمر سال بھر مہنگائی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ٹوٹ چکی ہوتی ہے، وہ دور سے ہی دکاندار کے مال کو دیکھ کر اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے اور پانچ روپے کی چائے پینے کے لیے ہوٹل کے دروازے پر لٹکتے ہوئے پردے کو ہٹا کر اندر بیٹھے لوگوں کے ساتھ اہتمامِ رمضان کرتا ہے۔
ویسے تو ہوٹل والے ہر وقت فائدے میں ہی رہتے ہیں، رمضان ہو یا غیر رمضان۔ ان کے گاہک کھانے کے اتنے شوقین ہوتے ہیں کہ نہ آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ، بھوکے بھیڑیوں کی طرح گلے سڑے کھانے پر ایسے جھپٹ پڑتے ہیں گویا برسوں کے بعد کھانا ملا ہو۔ (یہاں یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اگر شیطان کو پورے مہینے کے لیے پابندِ سلاسل کیا جاتا ہے تو وہ بھلا اتنی بھاری اور مضبوط زنجیریں توڑ کر ہوٹلوں میں کیسے گھس پاتا ہے؟)
ہوٹل چھوڑ کر ہر شعبۂ زندگی سے وابستہ لوگ اپنے طور پر اہتمامِ رمضان کرتے ہیں۔ سبزی والے ہوں یا بیکری والے، رمضان آتے ہی چیزوں کے دام بڑھا کر اپنی بے لوث بندگی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ بلا ہو قصائی کی، جس جانور پر ترس کھا کر موت بھی اسے چھوڑ دیتی ہے، اسی پر اللہ کا نام لے کر ذبح کر کے رمضان کے مہینے میں کم تول کر لیکن اونچے داموں پر روزہ داروں کو کھلاتا ہے۔
اور ہاں، ٹور اور ٹریول والے حضرات رمضان کا اس لیے انتظار نہیں کرتے کہ وہ بھی عمرہ پر جانے والے عادی زائرین کے ساتھ خود بھی اپنے گناہوں سے نجات طلب کریں، بلکہ اس لیے کہ زیادہ سے زیادہ مال حاصل کریں۔ (یاد رہے رمضان کے مہینے میں حرمین الشریفین کے خادم روزہ داروں کے لیے سحری اور افطاری کا خود اہتمام کرتے ہیں اور اس طرح ٹور والے زائرین کو کھانا کھلانے سے بچ جاتے ہیں۔)
رمضان کے آتے ہی ہماری مساجد کھچا کھچ بھری رہتی ہیں۔ اذان کیا ہوئی، ہر کوئی ایرا غیرا بلا وضو (معاف کیجیے، وضو بنا کر) مسجد کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ دفتر میں بیٹھا بابو صبح سویرے سے رشوت لیتے لیتے تھک کر جب نماز کے لیے روانہ ہوتا ہے تو بیچارہ دینے والا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے کہ: "یا الٰہی! یہ کیا ماجرا ہے!” ایک طرف رشوت، دوسری طرف روزہ اور نماز کا اہتمام۔
ادھر نمازیوں کی دوڑ، ادھر مولوی صاحبان کی ریس۔ نماز اس قدر تیز رفتاری سے ادا کی جاتی ہے کہ لگتا ہے کوئی ان کے پیچھے پڑا ہوا ہو۔ نہ آگے کی فکر، نہ پیچھے کا غم۔ رمضان نمازی، جوتے چرانے والے، جیب کترے، غرض ہر پیشے کے لوگ مسجدوں میں حاضری دیتے ہیں۔ اور اس پر ستم یہ کہ نماز چھوڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ بحث و مباحثہ۔ ہر کوئی عالمِ دین اور مفتیِ اعظم بن بیٹھا ہے۔ کامل وضو کسے کہتے ہیں، اس کا علم نہیں۔
اور ہاں، رہی بات مولوی صاحبان کی۔ وہ بیچارے قناعت پسند، سال بھر اسی مہینے کے انتظار میں رہتے ہیں کہ کب اہتمامِ رمضان ہو اور ہم دھواں دار تقریروں سے لوگوں کے دلوں میں جہنم کا خوف پیدا کر کے زیادہ سے زیادہ انعام و اکرام حاصل کریں، تاکہ سال میں ایک بار گھر والوں کے سامنے ہماری عزت بڑھے۔ لوگ مولوی صاحب کی جیب میں دو چار روپے ڈال کر اس سے تو دعائیں لے لیتے ہیں، لیکن اللہ میاں کی خوشنودی حاصل نہیں کر پاتے۔
یوں تو رمضان کا مہینہ اخوت، بھائی چارے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا مہینہ ہے۔ یتیموں، بیواؤں، مفلسوں اور بیماروں کی امداد کے لیے اگرچہ گلی گلی بینڈ باجے کے ساتھ چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ (جب سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی جاتی ہے، لوگ بھی بے مروت ہو گئے ہیں، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔) نتیجتاً نہ یتیموں اور بیواؤں میں کمی آتی ہے اور نہ بیس سال سے بسترِ مرگ پر پڑا بیمار ہی صحت یاب ہوتا ہے۔ نہ جانے وہ چندہ کہاں اور کس کے کھاتے میں چلا جاتا ہے۔ یہی اہتمامِ رمضان کی اعلیٰ مثال ہے۔
کچھ بڑے دل والے لوگ رمضان کے پہلے دن سے ہی مسجدوں اور خانقاہوں کے باہر بیٹھے حاجت مندوں کے ہاتھ میں پانچ روپے کا نوٹ تھما کر ان پر احسان کرتے ہیں۔ کچھ لوگ روزہ داروں کی افطاری کے لیے گھر سے بڑی بڑی بالٹیوں میں شربت، پانی کی بوتلیں، سڑے ہوئے کھجور اور کیلے لے جا کر اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ماں باپ کو جیتے جی سوکھی روٹی اور خالص پانی کے لیے ترساتے رہے اور مرنے کے بعد ایصالِ ثواب کے لیے شربت اور حلوہ۔ واہ رے فرماں بردار اولاد! کیا اہتمامِ رمضان ہے؟
کچھ لوگ یتیم خانوں میں پکوان لے جاتے ہیں، گھر میں بہو بیٹیوں کے لیے اچھا کھانا نہیں، بہن بھائی کے ساتھ سال ہا سال سے لاتعلقی، اور یہاں یتیموں کے والی بنے بیٹھے ہیں۔
اب جبکہ چند دنوں بعد رمضان کا مبارک مہینہ اختتام پذیر ہونے والا ہے، کچھ لوگ اس فکر میں مرے جا رہے ہیں کہ بہو کے گھر سے کب "روزہ کشائی” آئے۔ اور بیچارے بہو کے والدین، جنہوں نے لڑکی کو جنم دے کر گویا بہت بڑا گناہ کیا ہو، اس غم میں مبتلا ہیں کہ اللہ کرے رمضان کا مہینہ نہ آئے۔ اس لیے کہ داماد جی کو افطاری پر بلانے کے لیے نہ جانے کون کون سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
وہ اور بات ہے کہ داماد جی کو رمضان المبارک چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔ رہی بات روزہ نہ رکھنے والوں کی، وہ رمضان شروع ہوتے ہی عید کی تیاری میں لگے رہتے ہیں۔ اور بیچارے روزہ دار، مہینہ بھر کی فاقہ کشی کے بعد نہ کھانا کھانے کے قابل رہتے ہیں اور نہ کمانے کے لائق۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

انشائیہ: اہتمامِ رمضان

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

ہم ماہِ رمضان کے مقدس مہینے سے گزر رہے ہیں۔ اس مہینے میں روزہ رکھنے والے لوگوں کو اللہ میاں کی طرف سے بذاتِ خود جزا ملتی ہے، اور وہ بھی کئی گنا۔
رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ (ہم بھی کیا لوگ ہیں، مختصر سی امت کو کئی خانوں میں بانٹ دیا ہے اور اس پر بھی فخر کہ میں ہی سب سے اعلیٰ اور بہتر ہوں) استقبالِ رمضان کے لیے جلسے، جلوس اور کانفرنسوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ مقررین عوام الناس کے دل و دماغ میں رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت کو اس قدر پختہ اور راسخ کر دیتے ہیں کہ لوگ کینہ، بغض، حسد، شرک، بددیانتی اور جھوٹی تہمت جیسی غلاظتوں کو اپنے نفس اور روح سے باہر نکالنے کے بجائے ہفتوں پہلے اپنے گھروں کی اندر اور باہر سے صفائی کرواتے ہیں۔ فرش سے لے کر ٹوٹے ہوئے برتن تک ہر چیز کو صاف کیا جاتا ہے اور گھر کی ساری غلاظت نکال کر باہر راہِ عام پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس طرح اہتمامِ رمضان شروع ہوتا ہے۔
کساد بازاری کا شکار دکاندار سال بھر اس امید پر جیتا ہے کہ رمضان آتے ہی اپنے پڑے ہوئے مال کو منہ مانگے داموں بیچ کر اہتمامِ رمضان کا حق ادا کرے گا۔ اور بیچارہ گاہک، جس کی کمر سال بھر مہنگائی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ٹوٹ چکی ہوتی ہے، وہ دور سے ہی دکاندار کے مال کو دیکھ کر اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے اور پانچ روپے کی چائے پینے کے لیے ہوٹل کے دروازے پر لٹکتے ہوئے پردے کو ہٹا کر اندر بیٹھے لوگوں کے ساتھ اہتمامِ رمضان کرتا ہے۔
ویسے تو ہوٹل والے ہر وقت فائدے میں ہی رہتے ہیں، رمضان ہو یا غیر رمضان۔ ان کے گاہک کھانے کے اتنے شوقین ہوتے ہیں کہ نہ آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ، بھوکے بھیڑیوں کی طرح گلے سڑے کھانے پر ایسے جھپٹ پڑتے ہیں گویا برسوں کے بعد کھانا ملا ہو۔ (یہاں یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اگر شیطان کو پورے مہینے کے لیے پابندِ سلاسل کیا جاتا ہے تو وہ بھلا اتنی بھاری اور مضبوط زنجیریں توڑ کر ہوٹلوں میں کیسے گھس پاتا ہے؟)
ہوٹل چھوڑ کر ہر شعبۂ زندگی سے وابستہ لوگ اپنے طور پر اہتمامِ رمضان کرتے ہیں۔ سبزی والے ہوں یا بیکری والے، رمضان آتے ہی چیزوں کے دام بڑھا کر اپنی بے لوث بندگی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ بلا ہو قصائی کی، جس جانور پر ترس کھا کر موت بھی اسے چھوڑ دیتی ہے، اسی پر اللہ کا نام لے کر ذبح کر کے رمضان کے مہینے میں کم تول کر لیکن اونچے داموں پر روزہ داروں کو کھلاتا ہے۔
اور ہاں، ٹور اور ٹریول والے حضرات رمضان کا اس لیے انتظار نہیں کرتے کہ وہ بھی عمرہ پر جانے والے عادی زائرین کے ساتھ خود بھی اپنے گناہوں سے نجات طلب کریں، بلکہ اس لیے کہ زیادہ سے زیادہ مال حاصل کریں۔ (یاد رہے رمضان کے مہینے میں حرمین الشریفین کے خادم روزہ داروں کے لیے سحری اور افطاری کا خود اہتمام کرتے ہیں اور اس طرح ٹور والے زائرین کو کھانا کھلانے سے بچ جاتے ہیں۔)
رمضان کے آتے ہی ہماری مساجد کھچا کھچ بھری رہتی ہیں۔ اذان کیا ہوئی، ہر کوئی ایرا غیرا بلا وضو (معاف کیجیے، وضو بنا کر) مسجد کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ دفتر میں بیٹھا بابو صبح سویرے سے رشوت لیتے لیتے تھک کر جب نماز کے لیے روانہ ہوتا ہے تو بیچارہ دینے والا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے کہ: "یا الٰہی! یہ کیا ماجرا ہے!” ایک طرف رشوت، دوسری طرف روزہ اور نماز کا اہتمام۔
ادھر نمازیوں کی دوڑ، ادھر مولوی صاحبان کی ریس۔ نماز اس قدر تیز رفتاری سے ادا کی جاتی ہے کہ لگتا ہے کوئی ان کے پیچھے پڑا ہوا ہو۔ نہ آگے کی فکر، نہ پیچھے کا غم۔ رمضان نمازی، جوتے چرانے والے، جیب کترے، غرض ہر پیشے کے لوگ مسجدوں میں حاضری دیتے ہیں۔ اور اس پر ستم یہ کہ نماز چھوڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ بحث و مباحثہ۔ ہر کوئی عالمِ دین اور مفتیِ اعظم بن بیٹھا ہے۔ کامل وضو کسے کہتے ہیں، اس کا علم نہیں۔
اور ہاں، رہی بات مولوی صاحبان کی۔ وہ بیچارے قناعت پسند، سال بھر اسی مہینے کے انتظار میں رہتے ہیں کہ کب اہتمامِ رمضان ہو اور ہم دھواں دار تقریروں سے لوگوں کے دلوں میں جہنم کا خوف پیدا کر کے زیادہ سے زیادہ انعام و اکرام حاصل کریں، تاکہ سال میں ایک بار گھر والوں کے سامنے ہماری عزت بڑھے۔ لوگ مولوی صاحب کی جیب میں دو چار روپے ڈال کر اس سے تو دعائیں لے لیتے ہیں، لیکن اللہ میاں کی خوشنودی حاصل نہیں کر پاتے۔
یوں تو رمضان کا مہینہ اخوت، بھائی چارے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا مہینہ ہے۔ یتیموں، بیواؤں، مفلسوں اور بیماروں کی امداد کے لیے اگرچہ گلی گلی بینڈ باجے کے ساتھ چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ (جب سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی جاتی ہے، لوگ بھی بے مروت ہو گئے ہیں، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔) نتیجتاً نہ یتیموں اور بیواؤں میں کمی آتی ہے اور نہ بیس سال سے بسترِ مرگ پر پڑا بیمار ہی صحت یاب ہوتا ہے۔ نہ جانے وہ چندہ کہاں اور کس کے کھاتے میں چلا جاتا ہے۔ یہی اہتمامِ رمضان کی اعلیٰ مثال ہے۔
کچھ بڑے دل والے لوگ رمضان کے پہلے دن سے ہی مسجدوں اور خانقاہوں کے باہر بیٹھے حاجت مندوں کے ہاتھ میں پانچ روپے کا نوٹ تھما کر ان پر احسان کرتے ہیں۔ کچھ لوگ روزہ داروں کی افطاری کے لیے گھر سے بڑی بڑی بالٹیوں میں شربت، پانی کی بوتلیں، سڑے ہوئے کھجور اور کیلے لے جا کر اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ماں باپ کو جیتے جی سوکھی روٹی اور خالص پانی کے لیے ترساتے رہے اور مرنے کے بعد ایصالِ ثواب کے لیے شربت اور حلوہ۔ واہ رے فرماں بردار اولاد! کیا اہتمامِ رمضان ہے؟
کچھ لوگ یتیم خانوں میں پکوان لے جاتے ہیں، گھر میں بہو بیٹیوں کے لیے اچھا کھانا نہیں، بہن بھائی کے ساتھ سال ہا سال سے لاتعلقی، اور یہاں یتیموں کے والی بنے بیٹھے ہیں۔
اب جبکہ چند دنوں بعد رمضان کا مبارک مہینہ اختتام پذیر ہونے والا ہے، کچھ لوگ اس فکر میں مرے جا رہے ہیں کہ بہو کے گھر سے کب "روزہ کشائی” آئے۔ اور بیچارے بہو کے والدین، جنہوں نے لڑکی کو جنم دے کر گویا بہت بڑا گناہ کیا ہو، اس غم میں مبتلا ہیں کہ اللہ کرے رمضان کا مہینہ نہ آئے۔ اس لیے کہ داماد جی کو افطاری پر بلانے کے لیے نہ جانے کون کون سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
وہ اور بات ہے کہ داماد جی کو رمضان المبارک چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔ رہی بات روزہ نہ رکھنے والوں کی، وہ رمضان شروع ہوتے ہی عید کی تیاری میں لگے رہتے ہیں۔ اور بیچارے روزہ دار، مہینہ بھر کی فاقہ کشی کے بعد نہ کھانا کھانے کے قابل رہتے ہیں اور نہ کمانے کے لائق۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں