ملک کی سرحدیں صرف فوجی چوکیوں اور باڑ سے محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان سرحدی علاقوں میں بسنے والی آبادی بھی قومی سلامتی کا اہم حصار ہوتی ہے۔ برسوں تک دور افتادہ سرحدی دیہات بنیادی سہولیات، سڑکوں، روزگار، تعلیم اور صحت کی کمی کے باعث ہجرت کا شکار رہے، جس سے کئی سرحدی بستیاں کم آبادی والے علاقوں میں تبدیل ہوئیں۔
اسی پس منظر میں ’وائبرنٹ ولیجز پروگرام‘ ایک اہم قدم ہے۔ اس کا مقصد سرحدی علاقوں میں سڑک، بجلی، مواصلات، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات فراہم کرکے مقامی آبادی کو اپنے آبائی علاقوں میں بہتر مستقبل دینا ہے۔ پروگرام کے دونوں مراحل کے تحت 2616 سے زائد دیہات کو ترقی دینے کا ہدف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرحدی ترقی کو اب محض فلاحی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم اصل کامیابی منصوبوں کے اعلانات میں نہیں بلکہ ان کے زمینی نتائج میں ہے۔ بہتر سڑکیں، سیاحت، مقامی صنعت، تعلیمی مواقع اور پائیدار روزگار ہی وہ عوامل ہیں جو لوگوں کو ہجرت سے روک سکتے ہیں۔ سرحدی علاقوں کے نوجوانوں اور خواتین کو معاشی سرگرمیوں سے جوڑنا بھی ناگزیر ہے۔
سرحدی علاقوں میں سیاحت، دستکاری، زراعت، باغبانی اور مقامی مصنوعات کو فروغ دے کر روزگار کے مستقل مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ محض بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کافی نہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی نوجوانوں کو ہنر، کاروباری تربیت، ڈیجیٹل سہولیات اور بازار تک رسائی فراہم کی جائے۔ اس سے نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ ان علاقوں سے ہونے والی نقل مکانی بھی کم ہوگی۔ پروگرام کے تحت سیاحت، مقامی ثقافت، خود مدد گروپوں اور مقامی کاروبار کو فروغ دینے کی کوششیں اسی سمت میں اہم پیش رفت ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ سرحدی ترقی کے منصوبوں میں مقامی آبادی کو صرف مستفید ہونے والا نہیں بلکہ فعال شراکت دار بنایا جائے۔ اگر سرحدی گاؤں خوشحال، خودکفیل اور آباد رہیں گے تو یہ نہ صرف دیہی معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ ملک کی سرحدوں کو بھی ایک مضبوط سماجی حصار فراہم کریں گے۔ سرحد کا آخری گاؤں دراصل ملک کی پہلی حفاظتی دیوار ہے۔


