انسان نے اپنی تاریخ میں بے شمار سوالات کے جواب تلاش کیے ہیں، مگر شاید سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ انسان جنگ کیوں کرتا ہے، جب کہ وہ خود امن کا سب سے زیادہ محتاج ہے؟ مذہب، فلسفہ اور روحانی روایتوں نے انسانی وجود اور زندگی کے سوالات کو اپنے اپنے انداز میں سمجھنے کی کوشش کی ہے، لیکن جنگ کے سامنے انسانی دانش اکثر بے بس دکھائی دیتی ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ اسی انسانی تضاد کی ایک تلخ مثال ہے۔ روس نے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملوں میں شدت پیدا کی ہے، جبکہ یوکرین روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ اس تصادم کے اثرات دونوں ممالک سے نکل کر یورپ کی سلامتی اور عالمی توانائی و تجارت تک پہنچ رہے ہیں۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ جنگ اب صرف محاذوں تک محدود نہیں رہی۔ توانائی کے مراکز، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راستے بھی تنازع کا حصہ بن رہے ہیں۔ یورپ میں تخریب کاری کے شبہات اور ممکنہ روسی روابط سے متعلق تحقیقات اس خدشے کو بڑھا رہی ہیں کہ کسی بڑے واقعے میں انسانی جانوں کا نقصان جنگ کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
ایسے میں عالمی برادری کو جنگ کی شدت بڑھنے کا انتظار کرنے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ روس اور یوکرین دونوں کے لئے فوری طور پر پیچھے ہٹنا سیاسی طور پر مشکل ہوسکتا ہے، لیکن جنگ کا جاری رہنا کسی فریق کے لئے مستقل حل نہیں۔ پہلا قدم مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ جنگ بندی کی بنیاد قائم کرنا ہونا چاہیے۔
توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو حملوں سے محفوظ رکھنا، انسانی امداد کی راہ ہموار کرنا اور بحیرۂ اسود میں تجارتی جہاز رانی کو تحفظ دینا اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات ہوسکتے ہیں۔ چھوٹے مگر قابلِ عمل اقدامات ہی بڑے مذاکرات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
اس معاملے میں ہندوستان کا کردار اہم ہے۔ نئی دہلی اپنی متوازن سفارتی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے آئندہ BRICS سربراہی اجلاس میں روس اور چین سمیت اہم ممالک کے ساتھ جنگ بندی اور اعتماد سازی کے لئے اجتماعی آواز بلند کرسکتا ہے۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ توانائی، عالمی تجارت اور معاشی استحکام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
مذہبی روایتوں میں جنت کو امن اور خدا کی قربت کی کیفیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر انسان اپنی آخری منزل کو امن سے جوڑتا ہے تو زمین پر اس کی سیاست مسلسل جنگ اور تباہی کی طرف کیوں بڑھتی ہے؟ شاید اس سوال کا حتمی جواب انسانی عقل سے باہر ہو، مگر اتنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے کہ ہم جنگ کو ناگزیر سمجھنے سے انکار کریں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ میزائلوں کی آواز پر مذاکرات کی آواز غالب آئے۔
جنگ، امن اور انسان کی بقا
جنگ، امن اور انسان کی بقا
انسان نے اپنی تاریخ میں بے شمار سوالات کے جواب تلاش کیے ہیں، مگر شاید سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ انسان جنگ کیوں کرتا ہے، جب کہ وہ خود امن کا سب سے زیادہ محتاج ہے؟ مذہب، فلسفہ اور روحانی روایتوں نے انسانی وجود اور زندگی کے سوالات کو اپنے اپنے انداز میں سمجھنے کی کوشش کی ہے، لیکن جنگ کے سامنے انسانی دانش اکثر بے بس دکھائی دیتی ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ اسی انسانی تضاد کی ایک تلخ مثال ہے۔ روس نے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملوں میں شدت پیدا کی ہے، جبکہ یوکرین روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ اس تصادم کے اثرات دونوں ممالک سے نکل کر یورپ کی سلامتی اور عالمی توانائی و تجارت تک پہنچ رہے ہیں۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ جنگ اب صرف محاذوں تک محدود نہیں رہی۔ توانائی کے مراکز، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راستے بھی تنازع کا حصہ بن رہے ہیں۔ یورپ میں تخریب کاری کے شبہات اور ممکنہ روسی روابط سے متعلق تحقیقات اس خدشے کو بڑھا رہی ہیں کہ کسی بڑے واقعے میں انسانی جانوں کا نقصان جنگ کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
ایسے میں عالمی برادری کو جنگ کی شدت بڑھنے کا انتظار کرنے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ روس اور یوکرین دونوں کے لئے فوری طور پر پیچھے ہٹنا سیاسی طور پر مشکل ہوسکتا ہے، لیکن جنگ کا جاری رہنا کسی فریق کے لئے مستقل حل نہیں۔ پہلا قدم مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ جنگ بندی کی بنیاد قائم کرنا ہونا چاہیے۔
توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو حملوں سے محفوظ رکھنا، انسانی امداد کی راہ ہموار کرنا اور بحیرۂ اسود میں تجارتی جہاز رانی کو تحفظ دینا اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات ہوسکتے ہیں۔ چھوٹے مگر قابلِ عمل اقدامات ہی بڑے مذاکرات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
اس معاملے میں ہندوستان کا کردار اہم ہے۔ نئی دہلی اپنی متوازن سفارتی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے آئندہ BRICS سربراہی اجلاس میں روس اور چین سمیت اہم ممالک کے ساتھ جنگ بندی اور اعتماد سازی کے لئے اجتماعی آواز بلند کرسکتا ہے۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ توانائی، عالمی تجارت اور معاشی استحکام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
مذہبی روایتوں میں جنت کو امن اور خدا کی قربت کی کیفیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر انسان اپنی آخری منزل کو امن سے جوڑتا ہے تو زمین پر اس کی سیاست مسلسل جنگ اور تباہی کی طرف کیوں بڑھتی ہے؟ شاید اس سوال کا حتمی جواب انسانی عقل سے باہر ہو، مگر اتنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے کہ ہم جنگ کو ناگزیر سمجھنے سے انکار کریں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ میزائلوں کی آواز پر مذاکرات کی آواز غالب آئے۔


