کیا ہم نے 2014 سے سبق سیکھا؟

آج کشمیر کی تاریخ کے ایک ہولناک باب کو بارہ برس مکمل ہوگئے۔ ستمبر 2014 کا تباہ کن سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ اس نے کشمیر کے شہری منصوبہ بندی، دریائی نظام، نکاسیٔ آب اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کردیا تھا۔ سری نگر سمیت وادی کے وسیع علاقوں میں پانی داخل ہوا، معمولات زندگی مفلوج ہوگئے اور ہزاروں خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ بارہ برس بعد بھی اس سانحے کی یاد تازہ ہے، مگر اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے آئندہ سیلاب کے خطرے کو واقعی کم کیا ہے؟
دریائے جہلم کشمیر کے ماحولیاتی اور معاشی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اس کی گنجائش، صفائی اور ڈریجنگ کا مسئلہ آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا۔ حکومت کو جہلم کی محض وقتی صفائی یا محدود ڈریجنگ کے بجائے ایک جامع اور سائنسی منصوبے کے تحت پورے دریائی نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔ دریا کے بہاؤ میں رکاوٹیں، گاد کا جمع ہونا اور معاون ندی نالوں کی محدود گنجائش ایسے عوامل ہیں جو شدید بارش کی صورت میں خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
لیکن خطرہ صرف جہلم تک محدود نہیں۔ حالیہ برسوں میں شہری سیلاب سری نگر کے لئے ایک نیا اور سنگین چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ شدید بارش کے بعد شہر کی سڑکوں، بازاروں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونا اب معمول بنتا جارہا ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران سری نگر کے معروف کلاک ٹاور اور اس کے اطراف پانی جمع ہونے کی تصاویر اور مناظر نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا کہ اگر چند گھنٹوں کی شدید بارش شہری نظام کو مفلوج کرسکتی ہے تو بڑے سیلاب کی صورت میں ہماری تیاری کس حد تک مؤثر ہوگی؟
یہ صورتحال محض ناقص ڈرینیج کا مسئلہ نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی کے بحران کی علامت ہے۔ قدرتی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر تعمیرات، ویٹ لینڈز کا سکڑنا، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور برساتی پانی کے لئے ناکافی نکاسیٔ آب نے سری نگر کی حساسیت میں اضافہ کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں کے واقعات میں اضافے کا امکان اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اب سیلاب سے بچاؤ کو محض ہنگامی ردعمل کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنائے۔ جہلم کی سائنسی بنیادوں پر مسلسل ڈریجنگ، فلڈ اسپل چینل کی گنجائش کی بحالی، معاون ندی نالوں کی صفائی، قدرتی ویٹ لینڈز کا تحفظ، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور سری نگر کے ڈرینیج نظام کی مکمل ازسرنو منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اسی کے ساتھ جدید موسمیاتی نگرانی، ریئل ٹائم واٹر مانیٹرنگ اور مؤثر ابتدائی وارننگ نظام کو نچلی سطح تک فعال کرنا ہوگا۔
2014 کا سیلاب ایک انتباہ تھا۔ حالیہ شدید بارشوں اور شہری سیلاب کے واقعات اس انتباہ کی دوبارہ یاد دہانی ہیں۔ ہمیں اگلی تباہی کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
بارہ برس بعد کشمیر کو صرف 2014 کے سیلاب کو یاد کرنے کی نہیں، بلکہ اس سے حاصل ہونے والے سبق کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جہلم کو اس کی قدرتی گنجائش واپس دلانا اور سری نگر کو شہری سیلاب سے محفوظ بنانا اب محض ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا بنیادی تقاضا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

کیا ہم نے 2014 سے سبق سیکھا؟

آج کشمیر کی تاریخ کے ایک ہولناک باب کو بارہ برس مکمل ہوگئے۔ ستمبر 2014 کا تباہ کن سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ اس نے کشمیر کے شہری منصوبہ بندی، دریائی نظام، نکاسیٔ آب اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کردیا تھا۔ سری نگر سمیت وادی کے وسیع علاقوں میں پانی داخل ہوا، معمولات زندگی مفلوج ہوگئے اور ہزاروں خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ بارہ برس بعد بھی اس سانحے کی یاد تازہ ہے، مگر اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے آئندہ سیلاب کے خطرے کو واقعی کم کیا ہے؟
دریائے جہلم کشمیر کے ماحولیاتی اور معاشی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اس کی گنجائش، صفائی اور ڈریجنگ کا مسئلہ آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا۔ حکومت کو جہلم کی محض وقتی صفائی یا محدود ڈریجنگ کے بجائے ایک جامع اور سائنسی منصوبے کے تحت پورے دریائی نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔ دریا کے بہاؤ میں رکاوٹیں، گاد کا جمع ہونا اور معاون ندی نالوں کی محدود گنجائش ایسے عوامل ہیں جو شدید بارش کی صورت میں خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
لیکن خطرہ صرف جہلم تک محدود نہیں۔ حالیہ برسوں میں شہری سیلاب سری نگر کے لئے ایک نیا اور سنگین چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ شدید بارش کے بعد شہر کی سڑکوں، بازاروں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونا اب معمول بنتا جارہا ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران سری نگر کے معروف کلاک ٹاور اور اس کے اطراف پانی جمع ہونے کی تصاویر اور مناظر نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا کہ اگر چند گھنٹوں کی شدید بارش شہری نظام کو مفلوج کرسکتی ہے تو بڑے سیلاب کی صورت میں ہماری تیاری کس حد تک مؤثر ہوگی؟
یہ صورتحال محض ناقص ڈرینیج کا مسئلہ نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی کے بحران کی علامت ہے۔ قدرتی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر تعمیرات، ویٹ لینڈز کا سکڑنا، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور برساتی پانی کے لئے ناکافی نکاسیٔ آب نے سری نگر کی حساسیت میں اضافہ کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں کے واقعات میں اضافے کا امکان اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اب سیلاب سے بچاؤ کو محض ہنگامی ردعمل کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنائے۔ جہلم کی سائنسی بنیادوں پر مسلسل ڈریجنگ، فلڈ اسپل چینل کی گنجائش کی بحالی، معاون ندی نالوں کی صفائی، قدرتی ویٹ لینڈز کا تحفظ، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور سری نگر کے ڈرینیج نظام کی مکمل ازسرنو منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اسی کے ساتھ جدید موسمیاتی نگرانی، ریئل ٹائم واٹر مانیٹرنگ اور مؤثر ابتدائی وارننگ نظام کو نچلی سطح تک فعال کرنا ہوگا۔
2014 کا سیلاب ایک انتباہ تھا۔ حالیہ شدید بارشوں اور شہری سیلاب کے واقعات اس انتباہ کی دوبارہ یاد دہانی ہیں۔ ہمیں اگلی تباہی کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
بارہ برس بعد کشمیر کو صرف 2014 کے سیلاب کو یاد کرنے کی نہیں، بلکہ اس سے حاصل ہونے والے سبق کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جہلم کو اس کی قدرتی گنجائش واپس دلانا اور سری نگر کو شہری سیلاب سے محفوظ بنانا اب محض ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا بنیادی تقاضا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں