روس اور یوکرین کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں تیزی نے جنگ کو ایک خطرناک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس تنازعے کے اثرات نیٹو کی حدود تک پہنچنے لگے ہیں۔ ڈرونز کے واقعات، سرحدی علاقوں میں میزائلوں کے گرنے، سائبر حملوں اور تخریب کاری کی اطلاعات اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ اب محض روس اور یوکرین تک محدود رہنے کا خطرہ نہیں رکھتی۔
روس نے یوکرین کے بڑے حصے پر قبضہ ضرور کیا ہے، لیکن اسے فیصلہ کن فتح حاصل نہیں ہوئی۔ دوسری طرف یوکرین نے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور فوجی تنصیبات کو طویل فاصلے کے حملوں کا نشانہ بنا کر ماسکو پر معاشی دباؤ بڑھایا ہے۔ یورپی حمایت کے باعث کیف بھی روسی حملوں کے باوجود مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوں جنگ ایک ایسے تعطل میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر فتح کسی کے ہاتھ نہیں آ رہی۔
یہ تعطل ہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ داخلی دباؤ، میدانِ جنگ میں محدود پیش رفت اور بڑھتی ہوئی عسکری لاگت روس کو مزید جارحانہ قدم اٹھانے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے مغربی ہتھیاروں کے استعمال نے روس کے لئے خطرے کی نئی سرحدیں پیدا کر دی ہیں۔ اگر روس نے نیٹو کی کسی رکن ریاست کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی یا بڑے پیمانے پر سائبر حملہ کیا تو معاملہ فوری طور پر ایک وسیع تر عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر اس وقت، جب دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی کشیدگی عروج پر ہے، کسی نئی محاذ آرائی کا آغاز انتہائی تباہ کن ہوگا۔ روس اور نیٹو دونوں جوہری طاقتیں ہیں؛ اس لئے غلط اندازہ یا محدود کارروائی بھی ناقابلِ واپسی تصادم کا راستہ کھول سکتی ہے۔ روس کے لئے بھی یہ راستہ فائدہ مند نہیں۔ مزید محاذ کھولنے کے بجائے ماسکو کو سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے۔ یوکرین اور مغربی ممالک کو بھی ایسے مذاکرات کے لئے آمادہ ہونا ہوگا جو سلامتی کے خدشات، علاقائی خودمختاری اور دیرپا امن—تینوں کو سامنے رکھیں۔
جنگ کا تعطل امن کی دلیل نہیں، لیکن یہ جنگ کو مزید پھیلانے کا جواز بھی نہیں۔ روس۔یوکرین تنازعے کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر تلاش کرنا ہی یورپ اور دنیا کے مفاد میں ہے۔


