کشمیری باغبانوں کی پکار

کشمیری سیب کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف ایک پھل نہیں بلکہ وادی کی شناخت اور سماجی و معاشی قدر کی پہچان ہے۔ مگر بدلتے موسمی حالات نے اس صنعت کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ غیر متوقع بارشیں، طوفان اور طویل سیلابی کیفیت نے سیب کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں باغبانوں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔جنوبی کشمیر کے باغات میں تیار مال ہفتوں ٹرکوں میں پھنسا رہا کیونکہ قومی شاہراہ NH-44 بارش کے سبب بند رہی۔ سیب چونکہ خراب ہونے والا پھل ہے، اس کا شیلف لائف محدود ہے۔ تاخیر سے ترسیل نے لاکھوں ڈبے ضائع کر دیے۔ اندازے کے مطابق صرف اگست اور ستمبر میں ہی تقریباً 6 سے 7 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے نئی بیماریاں اور کیڑے، بالخصوص "لیف مائنر پیسٹ” جس نے باغات کو جکڑ لیا ہے۔ یہ کیڑا سال میں کئی مرتبہ پیدا ہوتا ہے اور بروقت انسداد نہ ہو تو پوری فصل کو برباد کر دیتا ہے۔ باغبان لاعلمی اور مناسب رہنمائی نہ ملنے کے باعث مؤثر دوا استعمال نہیں کر پاتے۔ ایسے میں زرعی تحقیقی ادارے، بالخصوص شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SKUAST) پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جدید تحقیق، کسانوں کی تربیت اور بروقت رہنمائی کے ذریعے اس آفت کا تدارک کریں۔ ناقص سڑک ڈھانچہ، ناکافی کولڈ اسٹوریج اور منڈیوں میں بروقت رسائی نہ ہونے کے باعث سیب کی سپلائی چین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس خلا کو بروکر اور دلال پورا کرتے ہیں جو باغبانوں کی محنت کا اصل منافع ہڑپ کر لیتے ہیں۔ مزید ستم یہ کہ چاول یا گندم کی طرح سیب کے لیے کوئی "کم از کم امدادی قیمت” مقرر نہیں، جس کی وجہ سے باغبان ہر سال غیر یقینی کا شکار رہتے ہیں۔
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ جس سیب نے کشمیر کو عالمی شہرت بخشی، آج وہی باغبانوں کے لیے معاشی بوجھ اور قرض کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ حکومتِ جموں و کشمیر کو چاہیے کہ ہنگامی بنیادوں پر متبادل شاہراہوں، سستے ٹرانسپورٹ ذرائع اور جدید کولڈ اسٹوریج کی فراہمی یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ باغبانوں کو براہِ راست منڈیوں سے جوڑنے کے لیے دلال مافیا کا کردار ختم کرنا ہوگا۔اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر کی سیب کی صنعت جو لاکھوں خاندانوں کی زندگی سے جڑی ہے، ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہوگی۔ یہ صرف باغبانوں کی جنگ نہیں، بلکہ کشمیر کی شناخت کو بچانے کی جدوجہد ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی بھاری بارش اور فلیش فلڈ کے خطرے کی پیش گوئی

سرینگر: محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری بارش، بالائی کیچمنٹ...

چار منزلہ عمارت منہدم، 9 افراد ہلاک، متعدد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ

  مہاراشٹر کے بھیونڈی میں جمعہ کو چار منزلہ عمارت...

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

جنگلاتی حقوق کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ قبائلی برادری کے لئے تاریخی قدم/عمران نبی ڈار

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: NC کے ریاستی ترجمان...

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی بھاری بارش اور فلیش فلڈ کے خطرے کی پیش گوئی

سرینگر: محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری بارش، بالائی کیچمنٹ...

چار منزلہ عمارت منہدم، 9 افراد ہلاک، متعدد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ

  مہاراشٹر کے بھیونڈی میں جمعہ کو چار منزلہ عمارت...

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

جنگلاتی حقوق کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ قبائلی برادری کے لئے تاریخی قدم/عمران نبی ڈار

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: NC کے ریاستی ترجمان...

کشمیری باغبانوں کی پکار

کشمیری سیب کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف ایک پھل نہیں بلکہ وادی کی شناخت اور سماجی و معاشی قدر کی پہچان ہے۔ مگر بدلتے موسمی حالات نے اس صنعت کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ غیر متوقع بارشیں، طوفان اور طویل سیلابی کیفیت نے سیب کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں باغبانوں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔جنوبی کشمیر کے باغات میں تیار مال ہفتوں ٹرکوں میں پھنسا رہا کیونکہ قومی شاہراہ NH-44 بارش کے سبب بند رہی۔ سیب چونکہ خراب ہونے والا پھل ہے، اس کا شیلف لائف محدود ہے۔ تاخیر سے ترسیل نے لاکھوں ڈبے ضائع کر دیے۔ اندازے کے مطابق صرف اگست اور ستمبر میں ہی تقریباً 6 سے 7 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے نئی بیماریاں اور کیڑے، بالخصوص "لیف مائنر پیسٹ” جس نے باغات کو جکڑ لیا ہے۔ یہ کیڑا سال میں کئی مرتبہ پیدا ہوتا ہے اور بروقت انسداد نہ ہو تو پوری فصل کو برباد کر دیتا ہے۔ باغبان لاعلمی اور مناسب رہنمائی نہ ملنے کے باعث مؤثر دوا استعمال نہیں کر پاتے۔ ایسے میں زرعی تحقیقی ادارے، بالخصوص شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SKUAST) پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جدید تحقیق، کسانوں کی تربیت اور بروقت رہنمائی کے ذریعے اس آفت کا تدارک کریں۔ ناقص سڑک ڈھانچہ، ناکافی کولڈ اسٹوریج اور منڈیوں میں بروقت رسائی نہ ہونے کے باعث سیب کی سپلائی چین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس خلا کو بروکر اور دلال پورا کرتے ہیں جو باغبانوں کی محنت کا اصل منافع ہڑپ کر لیتے ہیں۔ مزید ستم یہ کہ چاول یا گندم کی طرح سیب کے لیے کوئی "کم از کم امدادی قیمت” مقرر نہیں، جس کی وجہ سے باغبان ہر سال غیر یقینی کا شکار رہتے ہیں۔
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ جس سیب نے کشمیر کو عالمی شہرت بخشی، آج وہی باغبانوں کے لیے معاشی بوجھ اور قرض کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ حکومتِ جموں و کشمیر کو چاہیے کہ ہنگامی بنیادوں پر متبادل شاہراہوں، سستے ٹرانسپورٹ ذرائع اور جدید کولڈ اسٹوریج کی فراہمی یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ باغبانوں کو براہِ راست منڈیوں سے جوڑنے کے لیے دلال مافیا کا کردار ختم کرنا ہوگا۔اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر کی سیب کی صنعت جو لاکھوں خاندانوں کی زندگی سے جڑی ہے، ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہوگی۔ یہ صرف باغبانوں کی جنگ نہیں، بلکہ کشمیر کی شناخت کو بچانے کی جدوجہد ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں