کشمیر کے کسانوں کی بے بسی کا منظر شاید ہی کسی اور صورت میں اتنا نمایاں نظر آئے جتنا کہ وہ سیب جو سری نگر-جموں شاہراہ پر کھڑے ٹرکوں کے پچھلے حصوں میں سڑ کر کالے پڑ جاتے ہیں۔ لگاتار بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد یہ واحد قومی شاہراہ تقریباً تین ہفتے تک بھاری گاڑیوں کے لیے بند رہی۔ اس دوران ہزاروں ٹرک، لاکھوں روپے مالیت کے سیب لے کر راستے میں اٹکے رہے۔ کسان، جنہوں نے پورے سال محنت کی تھی، اپنی محنت کو ضائع ہوتے دیکھتے رہے۔
کشمیر پورے ملک کی سیب کی پیداوار کا 80 فیصد فراہم کرتا ہے۔ یہ محض ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ ایک پوری معیشت کا سہارا ہے۔ کٹائی کے وقت شاہراہ کی بندش براہِ راست مالی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ ٹرک مالکان کے لیے بھی یہ لمحہ زندگی اور موت کے برابر ہوتا ہے۔ اس ہفتے جب شاہراہ کھلی اور ٹرک چلے تو کچھ راحت ملی، لیکن نقصان بہت بڑا ہو چکا تھا۔ جو کریٹ کبھی چھ سو روپے میں بکتے تھے، اب بمشکل چار سو روپے میں ہاتھ آ رہے ہیں، وہ بھی اگر بچ گئے ہوں۔ کئی کسانوں کے حصے میں تو صرف سڑک کنارے بکھرے سڑے ہوئے سیب بچے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال یہی منظرنامہ دہرانا مقدر ہے؟ کشمیر کا موسمی پیٹرن نیا نہیں، بارشیں اور مٹی کے تودے معمول کی بات ہیں۔ اس کے باوجود ہر سال وہی حال: بند شاہراہ، سڑتے سیب، خالی وعدے۔ یہ صورتِ حال نہ تو ناقابلِ پیش بینی تھی اور نہ ہی ناگزیر، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی پائیدار حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔
ایپل ہارویسٹ کو علاقائی نہیں، قومی اقتصادی ترجیح کا درجہ دینا ہوگا۔ متبادل راستے اور کولڈ اسٹوریج موسم برسات سے پہلے تیار ہوں۔ ریلوے یا سڑک کے ذریعے خصوصی فریٹ کوریڈورز صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملی پیمانے پر فعال ہوں۔ سب سے بڑھ کر ایسا ایمرجنسی پلان بنے کہ آئندہ کسانوں کو اپنی سال بھر کی کمائی سڑک کنارے پھینکنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
حکومتی دعوے اور فوری اقدامات مرہم پٹی سے زیادہ کچھ نہیں۔ بڈگام سے دہلی تک شروع کی گئی پارسل ٹرین فی دن صرف ایک ٹرک کی گنجائش رکھتی ہے۔ کیا یہ دو ملین ٹن کی صنعت کے لیے کوئی حل ہے؟ مغل روڈ بھی بھاری ٹرکوں کے لیے غیر موزوں ثابت ہوئی۔ اور بار بار کی یقین دہانیاں کہ "شاہراہ چوبیس گھنٹے کلیئر رہے گی”، ان کسانوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہیں جن کے سیب ان وعدوں کے دوران سڑ گئے؟
کشمیر کے سیب مقامی ہی نہیں قومی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کو قدرتی آفات اور انتظامی سستی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ناقابلِ فہم ہے
سڑے سیب اور بے حسی
سڑے سیب اور بے حسی
کشمیر کے کسانوں کی بے بسی کا منظر شاید ہی کسی اور صورت میں اتنا نمایاں نظر آئے جتنا کہ وہ سیب جو سری نگر-جموں شاہراہ پر کھڑے ٹرکوں کے پچھلے حصوں میں سڑ کر کالے پڑ جاتے ہیں۔ لگاتار بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد یہ واحد قومی شاہراہ تقریباً تین ہفتے تک بھاری گاڑیوں کے لیے بند رہی۔ اس دوران ہزاروں ٹرک، لاکھوں روپے مالیت کے سیب لے کر راستے میں اٹکے رہے۔ کسان، جنہوں نے پورے سال محنت کی تھی، اپنی محنت کو ضائع ہوتے دیکھتے رہے۔
کشمیر پورے ملک کی سیب کی پیداوار کا 80 فیصد فراہم کرتا ہے۔ یہ محض ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ ایک پوری معیشت کا سہارا ہے۔ کٹائی کے وقت شاہراہ کی بندش براہِ راست مالی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ ٹرک مالکان کے لیے بھی یہ لمحہ زندگی اور موت کے برابر ہوتا ہے۔ اس ہفتے جب شاہراہ کھلی اور ٹرک چلے تو کچھ راحت ملی، لیکن نقصان بہت بڑا ہو چکا تھا۔ جو کریٹ کبھی چھ سو روپے میں بکتے تھے، اب بمشکل چار سو روپے میں ہاتھ آ رہے ہیں، وہ بھی اگر بچ گئے ہوں۔ کئی کسانوں کے حصے میں تو صرف سڑک کنارے بکھرے سڑے ہوئے سیب بچے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال یہی منظرنامہ دہرانا مقدر ہے؟ کشمیر کا موسمی پیٹرن نیا نہیں، بارشیں اور مٹی کے تودے معمول کی بات ہیں۔ اس کے باوجود ہر سال وہی حال: بند شاہراہ، سڑتے سیب، خالی وعدے۔ یہ صورتِ حال نہ تو ناقابلِ پیش بینی تھی اور نہ ہی ناگزیر، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی پائیدار حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔
ایپل ہارویسٹ کو علاقائی نہیں، قومی اقتصادی ترجیح کا درجہ دینا ہوگا۔ متبادل راستے اور کولڈ اسٹوریج موسم برسات سے پہلے تیار ہوں۔ ریلوے یا سڑک کے ذریعے خصوصی فریٹ کوریڈورز صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملی پیمانے پر فعال ہوں۔ سب سے بڑھ کر ایسا ایمرجنسی پلان بنے کہ آئندہ کسانوں کو اپنی سال بھر کی کمائی سڑک کنارے پھینکنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
حکومتی دعوے اور فوری اقدامات مرہم پٹی سے زیادہ کچھ نہیں۔ بڈگام سے دہلی تک شروع کی گئی پارسل ٹرین فی دن صرف ایک ٹرک کی گنجائش رکھتی ہے۔ کیا یہ دو ملین ٹن کی صنعت کے لیے کوئی حل ہے؟ مغل روڈ بھی بھاری ٹرکوں کے لیے غیر موزوں ثابت ہوئی۔ اور بار بار کی یقین دہانیاں کہ "شاہراہ چوبیس گھنٹے کلیئر رہے گی”، ان کسانوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہیں جن کے سیب ان وعدوں کے دوران سڑ گئے؟
کشمیر کے سیب مقامی ہی نہیں قومی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کو قدرتی آفات اور انتظامی سستی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ناقابلِ فہم ہے


