LOC کے مکینوں کی داد رسی ؟

بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر ان علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو برسوں سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، فائرنگ، گولہ باری اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خاص طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب رہنے والے شہری بدترین حالات سے دوچار ہیں۔ نہ صرف ان کے روزمرہ معمولات متاثر ہوتے ہیں، بلکہ ان کی زندگی، مال، فصلیں، مکانات اور تعلیمی نظام بھی مسلسل خطرے میں رہتے ہیں۔
ایسے میں حکومت کی یہ اخلاقی، انسانی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ صرف بیانات اور معاوضے کافی نہیں، بلکہ طویل المدتی پالیسی، بہتر بنیادی ڈھانچہ، مستقل حفاظتی اقدامات، فوری ریلیف، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ ان علاقوں میں نوجوان نسل کو باوقار روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ احساس محرومی اور انتہا پسندی سے دور رہ سکیں۔ ہر بار جب سرحد پر گولہ باری ہوتی ہے تو اس کی قیمت ایک عام شہری چکاتا ہے – جس کا نہ کوئی قصور ہے، نہ کوئی آواز۔ ایسے میں ان کی آواز بننا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنا صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
آج جب بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ، تنازعات اور سیکیورٹی کی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں، ضروری ہے کہ ہم اپنی داخلی سرحدوں کو محفوظ بنائیں – اور اس کا آغاز ان ہی شہریوں سے ہوتا ہے جو سب سے قریب ہو کر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ محض ردِعمل تک محدود نہ رہے، بلکہ ایک فعال اور انسانی بنیاد پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ان علاقوں کے لوگوں کو تحفظ، سکون اور سہارا فراہم کرے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

LOC کے مکینوں کی داد رسی ؟

بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر ان علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو برسوں سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، فائرنگ، گولہ باری اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خاص طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب رہنے والے شہری بدترین حالات سے دوچار ہیں۔ نہ صرف ان کے روزمرہ معمولات متاثر ہوتے ہیں، بلکہ ان کی زندگی، مال، فصلیں، مکانات اور تعلیمی نظام بھی مسلسل خطرے میں رہتے ہیں۔
ایسے میں حکومت کی یہ اخلاقی، انسانی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ صرف بیانات اور معاوضے کافی نہیں، بلکہ طویل المدتی پالیسی، بہتر بنیادی ڈھانچہ، مستقل حفاظتی اقدامات، فوری ریلیف، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ ان علاقوں میں نوجوان نسل کو باوقار روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ احساس محرومی اور انتہا پسندی سے دور رہ سکیں۔ ہر بار جب سرحد پر گولہ باری ہوتی ہے تو اس کی قیمت ایک عام شہری چکاتا ہے – جس کا نہ کوئی قصور ہے، نہ کوئی آواز۔ ایسے میں ان کی آواز بننا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنا صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
آج جب بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ، تنازعات اور سیکیورٹی کی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں، ضروری ہے کہ ہم اپنی داخلی سرحدوں کو محفوظ بنائیں – اور اس کا آغاز ان ہی شہریوں سے ہوتا ہے جو سب سے قریب ہو کر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ محض ردِعمل تک محدود نہ رہے، بلکہ ایک فعال اور انسانی بنیاد پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ان علاقوں کے لوگوں کو تحفظ، سکون اور سہارا فراہم کرے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں