ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت

جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی یا عسکری کشیدگی بڑھتی ہے، تو دونوں ممالک کے نیوز چینلز کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس طاقت کو امن، فہم و فراست یا سچائی کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اکثر میڈیا ادارے سنسنی خیزی، اشتعال انگیزی اور قوم پرستی پر مبنی جذباتی رپورٹنگ کا سہارا لیتے ہیں۔

حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح میڈیا حساس صورتحال کو عوامی خوف و ہراس میں بدل دیتا ہے۔ٹی وی مباحثے چیخ و پکار سے بھرے ہوتے ہیں، گرافکس میدانِ جنگ کی منظر کشی کرتے ہیں، اور سرخیاں ایسی ہوتی ہیں جو دشمنی کو ہوا دیتی ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو معلومات دینا نہیں بلکہ جذبات بھڑکانا اور ریٹنگ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اس روش سے نہ صرف عوام میں بے چینی بڑھتی ہے بلکہ حکومتوں پر بھی دباؤ پڑتا ہے کہ وہ سخت گیر مؤقف اپنائیں، جس سے مذاکرات اور سفارت کاری کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔عام شہری، خصوصاً وہ لوگ جو سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں یا جن کے تعلقات سرحد پار کے خاندانوں سے ہیں، اس میڈیا جنگ کا سب سے زیادہ شکار بنتے ہیں۔حل ذمہ دارانہ صحافت میں پوشیدہ ہے۔

بھارت اور پاکستان کے میڈیا اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ ان پر سچائی، توازن اور عوامی شعور کی فراہمی کی بھاری اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کی اولین ترجیح سنسنی نہیں بلکہ امن ہونی چاہیے۔ صحافیوں کے درمیان سرحد پار تبادلے، حقائق کی مشترکہ تصدیق، اور میڈیا کو احتساب کے دائرے میں لانے والے ضابطے اس سمت میں مفید قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے سامنے غربت، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے سنگین مسائل موجود ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ عوام کو خوف نہیں بلکہ شعور دے۔ ایک بالغ، امن پسند اور سچ پر مبنی میڈیا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے، بلکہ دونوں قوموں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت

جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی یا عسکری کشیدگی بڑھتی ہے، تو دونوں ممالک کے نیوز چینلز کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس طاقت کو امن، فہم و فراست یا سچائی کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اکثر میڈیا ادارے سنسنی خیزی، اشتعال انگیزی اور قوم پرستی پر مبنی جذباتی رپورٹنگ کا سہارا لیتے ہیں۔

حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح میڈیا حساس صورتحال کو عوامی خوف و ہراس میں بدل دیتا ہے۔ٹی وی مباحثے چیخ و پکار سے بھرے ہوتے ہیں، گرافکس میدانِ جنگ کی منظر کشی کرتے ہیں، اور سرخیاں ایسی ہوتی ہیں جو دشمنی کو ہوا دیتی ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو معلومات دینا نہیں بلکہ جذبات بھڑکانا اور ریٹنگ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اس روش سے نہ صرف عوام میں بے چینی بڑھتی ہے بلکہ حکومتوں پر بھی دباؤ پڑتا ہے کہ وہ سخت گیر مؤقف اپنائیں، جس سے مذاکرات اور سفارت کاری کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔عام شہری، خصوصاً وہ لوگ جو سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں یا جن کے تعلقات سرحد پار کے خاندانوں سے ہیں، اس میڈیا جنگ کا سب سے زیادہ شکار بنتے ہیں۔حل ذمہ دارانہ صحافت میں پوشیدہ ہے۔

بھارت اور پاکستان کے میڈیا اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ ان پر سچائی، توازن اور عوامی شعور کی فراہمی کی بھاری اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کی اولین ترجیح سنسنی نہیں بلکہ امن ہونی چاہیے۔ صحافیوں کے درمیان سرحد پار تبادلے، حقائق کی مشترکہ تصدیق، اور میڈیا کو احتساب کے دائرے میں لانے والے ضابطے اس سمت میں مفید قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے سامنے غربت، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے سنگین مسائل موجود ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ عوام کو خوف نہیں بلکہ شعور دے۔ ایک بالغ، امن پسند اور سچ پر مبنی میڈیا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے، بلکہ دونوں قوموں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں