حیات اندرابی
پلوامہ، کشمیر
دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج کو محض سڑکوں پر نکلنے والے افراد کا اجتماع نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ریاست اور عوام کے درمیان مکالمے کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشروں میں بڑی سیاسی، سماجی اور آئینی اصلاحات اکثر عوامی تحریکوں اور شہری مطالبات کے نتیجے میں سامنے آئیں۔ اسی لئے کسی بھی ریاست کے جمہوری کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اختلافِ رائے، تنقید اور احتجاج کے ساتھ کس انداز میں پیش آتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں جنوبی ایشیا کے دو مختلف خطوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ جمہوریت اور ریاستی طاقت کے درمیان توازن کس طرح قائم رکھا جاتا ہے۔ ایک طرف ہندوستان میں مختلف قومی اور علاقائی مسائل پر احتجاج دیکھنے میں آئے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں بھی عوام نے معاشی مشکلات، مہنگائی، بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمتوں اور دیگر عوامی مسائل پر بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے۔ دونوں مقامات کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے مختلف ہیں، اسی لئے ان کے ریاستی ردِعمل کا جائزہ بھی الگ زاویوں سے لیا جاتا ہے۔
جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کو ریاست کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ آئینی حق سمجھا جاتا ہے۔ شہریوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے مسائل حکومت کے سامنے رکھیں، پالیسیوں پر تنقید کریں اور پرامن انداز میں احتجاج کریں۔ اسی لئے دنیا کی بیشتر جمہوریتوں میں عدالتیں، آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی ایسے مواقع پر اہم کردار ادا کرتے ہیں تاکہ ریاستی طاقت کا استعمال قانون اور آئین کی حدود میں رہے۔
ہندوستان میں مختلف مواقع پر کسان تحریک، شہریت سے متعلق قوانین پر احتجاج، طلبہ کی تحریکیں اور حالیہ قومی سطح کے تعلیمی معاملات پر مظاہرے اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عوامی دباؤ سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بعض احتجاجوں کے دوران پولیس کارروائی اور انتظامی اقدامات بھی تنقید کا نشانہ بنے، تاہم ان معاملات پر عدالتی مداخلت، پارلیمانی مباحث اور میڈیا میں کھلی بحث جاری رہی۔ یہی عناصر کسی بھی جمہوری نظام کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔
ایک اور نمایاں فرق سیاسی قیادت کے عوام، بالخصوص نوجوانوںسے رابطے کے انداز میں بھی نظر آتا ہے۔NEET تنازع کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا کے ذریعے براہِ راست نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کے تحفظات کو تسلیم کیا اور تعلیمی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اگرچہ اس خطاب پر سیاسی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آئیں، تاہم یہ امر واضح تھا کہ ملک کی اعلیٰ ترین منتخب قیادت نے عوامی جذبات سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔
اس کے برعکس پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حالیہ عوامی احتجاج کے دوران سیاسی مکالمے کے بجائے زیادہ تر توجہ سکیورٹی اقدامات پر مرکوز رہی۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال، جانی نقصان، زخمی ہونے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے الزامات سامنے آئے، جبکہ حکام نے ان کارروائیوں کو امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ضروری قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا عوامی مطالبات کا جواب سیاسی قیادت اور جمہوری مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے یا ریاستی طاقت کے استعمال کے ذریعے۔ یہ تقابل اس وسیع تر بحث کو جنم دیتا ہے کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب مکالمے، آئینی اداروں اور عوامی رابطے سے دیا جاتا ہے، جبکہ جہاں سکیورٹی نقطۂ نظر غالب آ جائے وہاں شہری آزادیوں، جوابدہی اور عوامی اعتماد پر سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔
قومی سطح کے امتحانی نظام NEETسے متعلق حالیہ تنازع نے ہندوستان میں نوجوانوں کے اعتماد، تعلیمی شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب کے بارے میں وسیع بحث کو جنم دیا۔ مختلف شہروں میں طلبہ نے احتجاج کیا، سیاسی جماعتوں نے اپنی رائے پیش کی، عدالتوں میں درخواستیں دائر ہوئیں اور حکومت پر مسلسل عوامی دباؤ برقرار رہا۔ ایسے مواقع پر مختلف اداروں کے درمیان آئینی عمل جاری رہنا اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ جمہوری نظام میں اختلافات کو قانونی اور آئینی ذرائع سے حل کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ برس عوامی احتجاج بنیادی طور پر معاشی مسائل کے گرد گھومتا رہا۔ بجلی کے نرخ، مہنگائی، آٹے کی قیمتیں اور دیگر عوامی مطالبات کے حوالے سے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔ ان احتجاجوں کے دوران مختلف ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس میں طاقت کے استعمال، گرفتاریاں اور جانی نقصان کے واقعات کا بھی ذکر سامنے آیا، جبکہ پاکستانی حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ ان واقعات کے بارے میں مختلف فریقوں کے مؤقف الگ الگ رہے ہیں، تاہم ان احتجاجوں نے اس سوال کو ضرور نمایاں کیا کہ ریاستی طاقت اور عوامی حقوق کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام ہے، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ایک فعال جمہوریت میں آزاد عدلیہ، خودمختار میڈیا، مؤثر پارلیمنٹ، آئینی احتساب، شفاف انتظامیہ اور شہری آزادیوں کا تحفظ یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
جب شہری احتجاج کرتے ہیں تو ریاست کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ پہلا راستہ مذاکرات، مکالمے، قانونی عمل اور آئینی ذرائع کا ہے، جبکہ دوسرا راستہ طاقت کے استعمال کا۔ دنیا کے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ طویل المدت استحکام ہمیشہ پہلے راستے سے حاصل ہوتا ہے، کیونکہ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے لیکن پائیدار اعتماد نہیں۔
کسی بھی حکومت کی اصل طاقت صرف اس کی انتظامی صلاحیت یا سکیورٹی ڈھانچے میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب عوام محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، ان کے حقوق محفوظ ہیں اور عدالتیں آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، اگر اختلافِ رائے کو محض نظم و نسق کا مسئلہ سمجھ کر طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے تو وقتی طور پر حالات قابو میں آ سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں معاشرتی فاصلے اور سیاسی بے چینی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں آج ایک ایسے دور سے گزر رہی ہیں جہاں نوجوان آبادی، ڈیجیٹل میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور فوری اطلاعات نے ریاست اور عوام کے تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ اب کسی بھی احتجاج کی بازگشت صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتی بلکہ چند لمحوں میں عالمی سطح پر پہنچ جاتی ہے۔ اس لئے ہر ریاست کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آئینی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنائے، شہری آزادیوں کا تحفظ کرے اور عوامی اعتماد کو ترجیح دے۔
حقیقت یہ ہے کہ مضبوط ریاست وہ نہیں ہوتی جو صرف اپنی طاقت کا اظہار کرے بلکہ وہ ہوتی ہے جو اپنی آئینی قوت، ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی اعتماد کے ذریعے مشکلات کا سامنا کرے۔ اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی زندگی کی علامت ہے، بشرطیکہ اس کا جواب قانون، مکالمے اور انصاف کے ذریعے دیا جائے۔
ہندوستان ہو یا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، دونوں خطوں کے تجربات یہ واضح کرتے ہیں کہ احتجاج کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اسے عوامی احساسات، معاشی حقائق اور آئینی حقوق کے تناظر میں سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ اسی توازن میں جمہوریت کی بقا، ریاست کی مضبوطی اور عوام کے اعتماد کا مستقبل پوشیدہ ہے۔
ہندوستان کے جمہوری نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عوامی دباؤ، عدالتی نگرانی اور سیاسی احتساب اکثر حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے متعدد مواقع سامنے آئے ہیں جب عوامی احتجاج، پارلیمانی دباؤ یا سیاسی تنازعات کے نتیجے میں وزراء کو استعفیٰ دینا پڑا یا انہیں اپنے عہدوں سے دستبردار ہونا پڑا۔
تازہ مثال مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی ہے، جنہوں نے قومی امتحانی نظام سے متعلق شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ اگرچہ حکومت نے اپنے مؤقف کی وضاحت کی، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ جمہوری نظام میں عوامی دباؤ اور سیاسی احتساب حکومتی سطح تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل بھی ہندوستان میں کئی وزراء عوامی دباؤ، انتظامی ناکامی یا اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔ اس روایت کو جمہوری احتساب کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں عوامی نمائندے بالآخر پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (Pakistan-occupied Kashmir) میں گزشتہ برس عوامی احتجاج بنیادی طور پر مہنگائی، بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمتوں اور معاشی مشکلات کے خلاف سامنے آیا۔ متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں اور انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق بعض احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جن میں جانی نقصان، زخمی ہونے اور گرفتاریاں بھی رپورٹ ہوئیں۔ پاکستانی حکام نے ان اقدامات کو امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ضروری قرار دیا، جبکہ ناقدین نے طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔انسانی حقوق کے مبصرین مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ احتجاج سے نمٹنے کے لئے طاقت کے بجائے مذاکرات، شفاف تحقیقات اور آئینی طریقۂ کار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ایسے واقعات اس وسیع تر بحث کو جنم دیتے ہیں کہ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا معیار صرف اس کی طاقت نہیں بلکہ اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
ززز