کشمیر عالمی فلمی نقشے پر واپسی کے لئے تیار

 

جنگ فیچر ڈیسک

ایک زمانہ تھا جب کشمیر کے برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں، جھیلیں اور چنار ہندوستانی سینما کی پہچان تھے۔ بالی ووڈ کی بے شمار یادگار فلمیں وادی کی حسین فضاؤں میں فلمائی گئیں اور کشمیر کو "جنتِ ارضی” کے ساتھ ساتھ ہندوستانی فلمی صنعت کا قدرتی اسٹوڈیو بھی سمجھا جاتا تھا۔ مگر بدامنی، تشدد اور غیر یقینی حالات نے اس سنہری رشتے کو بتدریج کمزور کر دیا اور فلم سازوں نے رخِ سفر دوسرے ممالک اور مقامات کی جانب موڑ لیا۔
اب برسوں بعد جموں و کشمیر حکومت اس گمشدہ فلمی شناخت کو دوبارہ زندہ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔ IFFJK (انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر) اسی نئی سوچ کا پہلا عملی قدم ہے، جسے حکومت صرف ایک فلمی میلہ نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافتی، معاشی اور تخلیقی بحالی کی تحریک قرار دے رہی ہے۔

"کشمیر اب بدل چکا ہے

رائل اسپرنگس گالف کورس میں IFFJK-2026 کے لوگو کی رونمائی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر کو اب صرف بندوق، دھماکوں اور تشدد کی عینک سے دیکھنے کا دور ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کئی فلموں میں کشمیر کو صرف خونریزی، گولی باری اور خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ وادی کی حقیقت اب تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق کشمیر آج امن، ثقافت، مہمان نوازی، فن اور امید کا پیغام دیتا ہے، اور فلم سازوں کو بھی اسی بدلتی ہوئی حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے بعض فلموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند فلم سازوں نے تجارتی مفادات یا پروپیگنڈے کے لئے کشمیر کی غلط تصویر پیش کی، تاہم پوری فلمی صنعت کو اس بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا کیونکہ متعدد فلم ساز انسانیت، محبت اور سماجی اقدار پر مبنی بہترین تخلیقات بھی پیش کر رہے ہیں۔

صرف قدرتی حسن کافی نہیں

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف خوبصورت مناظر فلم سازوں کو متوجہ کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اگر کشمیر کو عالمی فلمی مرکز بنانا ہے تو فلم سازوں کے لئے شوٹنگ کو آسان، کم خرچ اور پیشہ ورانہ سہولیات سے آراستہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اس سمت میں اقدامات کر رہی ہے تاکہ مقامی نوجوانوں کو فلم سازی کے ہر شعبے میں تربیت دی جا سکے اور وادی میں ایسا ماحول پیدا ہو جہاں عالمی معیار کی فلمیں تیار ہوں۔

فلمی ورثے کی بحالی کا خواب

عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بالی ووڈ اور کشمیر ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تھے۔ کوئی فلم اس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی جب تک اس کا کوئی منظر یا گیت کشمیر میں فلمایا نہ جاتا۔
انہوں نے کہا کہ حالات کی خرابی نے اس تاریخی تعلق کو منقطع کر دیا اور جس کا نقصان کشمیر کو ہوا، اس کا فائدہ دوسرے ممالک، خصوصاً سوئٹزرلینڈ جیسے مقامات کو پہنچا۔
انہوں نے معروف فلم ساز مظفر علی کی ادھوری فلم "زونی” کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس فلم کی تکمیل کشمیر کی حقیقی تصویر کو نئی نسل کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

IFFJK: صرف میلہ نہیں، عالمی شناخت کی بنیاد

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ IFFJK کا مقصد صرف چند روزہ فلمی تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک باوقار فلمی میلے کی حیثیت دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں اس کے پروگرام جموں تک بھی توسیع دی جائے گی اور حکومت چاہتی ہے کہ دنیا بھر کے فلم ساز کشمیر آنے کو اپنی ترجیح بنائیں۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سرینگر ہوائی اڈے کی ممکنہ بندش کے خدشات نے ابتدائی منصوبہ بندی کو متاثر کیا تھا، تاہم مرکزی حکومت کے فیصلے سے یہ رکاوٹ دور ہو گئی۔

مقامی فلم سازوں کے لئے پہلی بار خصوصی پلیٹ فارم

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ IFFJK میں مقامی فلم سازوں اور ڈاکیومنٹری بنانے والوں کے لئے خصوصی شعبہ اور الگ ایوارڈز رکھے جائیں گے تاکہ کشمیر کی نئی تخلیقی نسل کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل سکے۔
ان کے مطابق وادی میں بے شمار باصلاحیت نوجوان موجود ہیں، لیکن مناسب پلیٹ فارم نہ ہونے کے باعث وہ اپنی شناخت قائم نہیں کر پاتے۔
"

کشمیری نوجوان سب سے زیادہ باصلاحیت ہیں” — امتیاز علی

معروف فلم ساز امتیاز علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوان تخلیقی صلاحیتوں کے اعتبار سے ملک کے ذہین ترین نوجوانوں میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر صرف اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے منفرد نہیں بلکہ یہاں کے لوگ، ان کی سوچ، حساسیت اور فنکارانہ صلاحیتیں بھی غیر معمولی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ IFFJK نوجوانوں کو فلم، تھیٹر، کہانی نویسی اور دیگر تخلیقی میدانوں میں آگے بڑھنے کا نیا حوصلہ دے گا۔

"یہ تاریخی لمحہ ہے” — چیف سیکرٹری

چیف سیکرٹری اٹل ڈولو نے تقریب کو جموں و کشمیر اور بالی ووڈ کے تاریخی تعلق کی بحالی کا سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وادی میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ہے جہاں نوجوان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے بتایا کہ IFFJK کے لئے اب تک 25 سے زائد ممالک سے تقریباً 400 فلمیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ فلموں کے اندراج کی آخری تاریخ 30 جولائی مقرر ہے۔

کشمیر کی نئی کہانی

ستمبر میں منعقد ہونے والا IFFJK محض ایک فلمی میلہ نہیں بلکہ کشمیر کی نئی شناخت، نئی معیشت، نئی تخلیقی سوچ اور نئی عالمی پہچان کی بنیاد بننے کی کوشش ہے۔ اگر یہ خواب حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے تو وادی ایک بار پھر دنیا کے فلم سازوں، فنکاروں اور تخلیق کاروں کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے، مگر اس بار صرف اپنے دلکش مناظر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی امن پسند، تخلیقی اور باصلاحیت شناخت کے سبب۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

کشمیر عالمی فلمی نقشے پر واپسی کے لئے تیار

 

جنگ فیچر ڈیسک

ایک زمانہ تھا جب کشمیر کے برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں، جھیلیں اور چنار ہندوستانی سینما کی پہچان تھے۔ بالی ووڈ کی بے شمار یادگار فلمیں وادی کی حسین فضاؤں میں فلمائی گئیں اور کشمیر کو "جنتِ ارضی” کے ساتھ ساتھ ہندوستانی فلمی صنعت کا قدرتی اسٹوڈیو بھی سمجھا جاتا تھا۔ مگر بدامنی، تشدد اور غیر یقینی حالات نے اس سنہری رشتے کو بتدریج کمزور کر دیا اور فلم سازوں نے رخِ سفر دوسرے ممالک اور مقامات کی جانب موڑ لیا۔
اب برسوں بعد جموں و کشمیر حکومت اس گمشدہ فلمی شناخت کو دوبارہ زندہ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔ IFFJK (انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر) اسی نئی سوچ کا پہلا عملی قدم ہے، جسے حکومت صرف ایک فلمی میلہ نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافتی، معاشی اور تخلیقی بحالی کی تحریک قرار دے رہی ہے۔

"کشمیر اب بدل چکا ہے

رائل اسپرنگس گالف کورس میں IFFJK-2026 کے لوگو کی رونمائی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر کو اب صرف بندوق، دھماکوں اور تشدد کی عینک سے دیکھنے کا دور ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کئی فلموں میں کشمیر کو صرف خونریزی، گولی باری اور خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ وادی کی حقیقت اب تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق کشمیر آج امن، ثقافت، مہمان نوازی، فن اور امید کا پیغام دیتا ہے، اور فلم سازوں کو بھی اسی بدلتی ہوئی حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے بعض فلموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند فلم سازوں نے تجارتی مفادات یا پروپیگنڈے کے لئے کشمیر کی غلط تصویر پیش کی، تاہم پوری فلمی صنعت کو اس بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا کیونکہ متعدد فلم ساز انسانیت، محبت اور سماجی اقدار پر مبنی بہترین تخلیقات بھی پیش کر رہے ہیں۔

صرف قدرتی حسن کافی نہیں

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف خوبصورت مناظر فلم سازوں کو متوجہ کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اگر کشمیر کو عالمی فلمی مرکز بنانا ہے تو فلم سازوں کے لئے شوٹنگ کو آسان، کم خرچ اور پیشہ ورانہ سہولیات سے آراستہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اس سمت میں اقدامات کر رہی ہے تاکہ مقامی نوجوانوں کو فلم سازی کے ہر شعبے میں تربیت دی جا سکے اور وادی میں ایسا ماحول پیدا ہو جہاں عالمی معیار کی فلمیں تیار ہوں۔

فلمی ورثے کی بحالی کا خواب

عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بالی ووڈ اور کشمیر ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تھے۔ کوئی فلم اس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی جب تک اس کا کوئی منظر یا گیت کشمیر میں فلمایا نہ جاتا۔
انہوں نے کہا کہ حالات کی خرابی نے اس تاریخی تعلق کو منقطع کر دیا اور جس کا نقصان کشمیر کو ہوا، اس کا فائدہ دوسرے ممالک، خصوصاً سوئٹزرلینڈ جیسے مقامات کو پہنچا۔
انہوں نے معروف فلم ساز مظفر علی کی ادھوری فلم "زونی” کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس فلم کی تکمیل کشمیر کی حقیقی تصویر کو نئی نسل کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

IFFJK: صرف میلہ نہیں، عالمی شناخت کی بنیاد

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ IFFJK کا مقصد صرف چند روزہ فلمی تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک باوقار فلمی میلے کی حیثیت دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں اس کے پروگرام جموں تک بھی توسیع دی جائے گی اور حکومت چاہتی ہے کہ دنیا بھر کے فلم ساز کشمیر آنے کو اپنی ترجیح بنائیں۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سرینگر ہوائی اڈے کی ممکنہ بندش کے خدشات نے ابتدائی منصوبہ بندی کو متاثر کیا تھا، تاہم مرکزی حکومت کے فیصلے سے یہ رکاوٹ دور ہو گئی۔

مقامی فلم سازوں کے لئے پہلی بار خصوصی پلیٹ فارم

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ IFFJK میں مقامی فلم سازوں اور ڈاکیومنٹری بنانے والوں کے لئے خصوصی شعبہ اور الگ ایوارڈز رکھے جائیں گے تاکہ کشمیر کی نئی تخلیقی نسل کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل سکے۔
ان کے مطابق وادی میں بے شمار باصلاحیت نوجوان موجود ہیں، لیکن مناسب پلیٹ فارم نہ ہونے کے باعث وہ اپنی شناخت قائم نہیں کر پاتے۔
"

کشمیری نوجوان سب سے زیادہ باصلاحیت ہیں” — امتیاز علی

معروف فلم ساز امتیاز علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوان تخلیقی صلاحیتوں کے اعتبار سے ملک کے ذہین ترین نوجوانوں میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر صرف اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے منفرد نہیں بلکہ یہاں کے لوگ، ان کی سوچ، حساسیت اور فنکارانہ صلاحیتیں بھی غیر معمولی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ IFFJK نوجوانوں کو فلم، تھیٹر، کہانی نویسی اور دیگر تخلیقی میدانوں میں آگے بڑھنے کا نیا حوصلہ دے گا۔

"یہ تاریخی لمحہ ہے” — چیف سیکرٹری

چیف سیکرٹری اٹل ڈولو نے تقریب کو جموں و کشمیر اور بالی ووڈ کے تاریخی تعلق کی بحالی کا سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وادی میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ہے جہاں نوجوان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے بتایا کہ IFFJK کے لئے اب تک 25 سے زائد ممالک سے تقریباً 400 فلمیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ فلموں کے اندراج کی آخری تاریخ 30 جولائی مقرر ہے۔

کشمیر کی نئی کہانی

ستمبر میں منعقد ہونے والا IFFJK محض ایک فلمی میلہ نہیں بلکہ کشمیر کی نئی شناخت، نئی معیشت، نئی تخلیقی سوچ اور نئی عالمی پہچان کی بنیاد بننے کی کوشش ہے۔ اگر یہ خواب حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے تو وادی ایک بار پھر دنیا کے فلم سازوں، فنکاروں اور تخلیق کاروں کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے، مگر اس بار صرف اپنے دلکش مناظر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی امن پسند، تخلیقی اور باصلاحیت شناخت کے سبب۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں