امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حالیہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات بظاہر مضبوط ہونے کے باوجود کئی نئے چیلنجوں سے دوچار ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قائم اسٹریٹجک اتحاد کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا رہا ہے، تاہم غزہ کی جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی، لبنان کی صورتحال اور خطے میں بدلتے ہوئے سفارتی و تزویراتی حالات نے اس تعلق کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔
1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو اپنی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا مرکزی اتحادی بنایا۔ عسکری، سفارتی اور اقتصادی تعاون نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں، لیکن حالیہ برسوں میں عالمی سیاست اور امریکی داخلی رائے عامہ میں آنے والی تبدیلیوں نے اس دیرینہ تعلق کے کئی پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر غزہ میں جاری جنگ کے باعث انسانی بحران اور شہری ہلاکتوں نے دنیا بھر میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے، جس کا اثر امریکی عوام اور سیاسی حلقوں پر بھی نمایاں طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ میں ایک نئی نسل ابھر رہی ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو روایتی زاویے سے دیکھنے کے بجائے انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور شہری جانوں کے تحفظ کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی کانگریس کے بعض ارکان کی جانب سے اسرائیل کے لئے فوجی امداد پر نظرثانی کے مطالبات اور بعض سیاسی شخصیات کی تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل کے لئے غیر مشروط حمایت کا ماحول پہلے جیسا نہیں رہا۔
دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو بھی داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ غزہ کی جنگ، یرغمالیوں کا مسئلہ، عدالتی اصلاحات پر تنازع اور سکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات نے ان کی حکومت کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات ان کے لئے سیاسی طور پر بھی اہم ہیں، مگر اگر واشنگٹن اپنی ترجیحات میں تبدیلی لاتا ہے تو اسرائیل کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ سول جوہری تعاون کے معاہدے نے بھی اسرائیل میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا تو اس کی اسٹریٹجک برتری متاثر ہو سکتی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اس کی سفارتی کوششیں بھی نئے مرحلے میں داخل ہو جائیں گی۔ اگرچہ یہ خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم خطے میں وسیع تر استحکام کے لئے تمام فریقوں کو باہمی اعتماد اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کو فروغ دینا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اور اسرائیل دونوں کو داخلی سیاسی دباؤ، بدلتی عوامی رائے اور پیچیدہ علاقائی حالات کا سامنا ہے۔ ایسے میں صرف عسکری طاقت یا سیاسی اتحاد دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا راستہ جنگ کے تسلسل سے نہیں بلکہ مذاکرات، بین الاقوامی قانون کے احترام، انسانی جانوں کے تحفظ اور منصفانہ سیاسی حل سے ہی ہموار ہو سکتا ہے۔
آنے والے مہینے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے جو خطے میں امن، استحکام اور عوامی فلاح کے امکانات کو مضبوط بنائیں۔ یہی راستہ عالمی سلامتی اور دیرپا امن کے لئے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ
امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حالیہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات بظاہر مضبوط ہونے کے باوجود کئی نئے چیلنجوں سے دوچار ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قائم اسٹریٹجک اتحاد کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا رہا ہے، تاہم غزہ کی جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی، لبنان کی صورتحال اور خطے میں بدلتے ہوئے سفارتی و تزویراتی حالات نے اس تعلق کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔
1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو اپنی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا مرکزی اتحادی بنایا۔ عسکری، سفارتی اور اقتصادی تعاون نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں، لیکن حالیہ برسوں میں عالمی سیاست اور امریکی داخلی رائے عامہ میں آنے والی تبدیلیوں نے اس دیرینہ تعلق کے کئی پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر غزہ میں جاری جنگ کے باعث انسانی بحران اور شہری ہلاکتوں نے دنیا بھر میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے، جس کا اثر امریکی عوام اور سیاسی حلقوں پر بھی نمایاں طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ میں ایک نئی نسل ابھر رہی ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو روایتی زاویے سے دیکھنے کے بجائے انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور شہری جانوں کے تحفظ کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی کانگریس کے بعض ارکان کی جانب سے اسرائیل کے لئے فوجی امداد پر نظرثانی کے مطالبات اور بعض سیاسی شخصیات کی تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل کے لئے غیر مشروط حمایت کا ماحول پہلے جیسا نہیں رہا۔
دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو بھی داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ غزہ کی جنگ، یرغمالیوں کا مسئلہ، عدالتی اصلاحات پر تنازع اور سکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات نے ان کی حکومت کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات ان کے لئے سیاسی طور پر بھی اہم ہیں، مگر اگر واشنگٹن اپنی ترجیحات میں تبدیلی لاتا ہے تو اسرائیل کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ سول جوہری تعاون کے معاہدے نے بھی اسرائیل میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا تو اس کی اسٹریٹجک برتری متاثر ہو سکتی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اس کی سفارتی کوششیں بھی نئے مرحلے میں داخل ہو جائیں گی۔ اگرچہ یہ خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم خطے میں وسیع تر استحکام کے لئے تمام فریقوں کو باہمی اعتماد اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کو فروغ دینا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اور اسرائیل دونوں کو داخلی سیاسی دباؤ، بدلتی عوامی رائے اور پیچیدہ علاقائی حالات کا سامنا ہے۔ ایسے میں صرف عسکری طاقت یا سیاسی اتحاد دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا راستہ جنگ کے تسلسل سے نہیں بلکہ مذاکرات، بین الاقوامی قانون کے احترام، انسانی جانوں کے تحفظ اور منصفانہ سیاسی حل سے ہی ہموار ہو سکتا ہے۔
آنے والے مہینے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے جو خطے میں امن، استحکام اور عوامی فلاح کے امکانات کو مضبوط بنائیں۔ یہی راستہ عالمی سلامتی اور دیرپا امن کے لئے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔


