سبز مستقبل کی جانب امید افزا سفر

زمین کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، موسم بے ترتیب ہوتے جا رہے ہیں اور فضائی آلودگی انسانی صحت کے لئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں دنیا بھر کے ممالک ایسے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں جو ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے ماحول کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔ توانائی اور نقل و حمل کے شعبے میں ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کو اسی تناظر میں مستقبل کی امید سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا صرف چند دنوں میں بارہ سو کلومیٹر سے زائد کا کامیاب سفر طے کرنا اور تین ہزار دو سو لیٹر سے زیادہ ڈیزل کی بچت کرنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس تجرباتی منصوبے نے ثابت کیا ہے کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی محض ایک تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت بن سکتی ہے۔ اگر اس منصوبے کو مزید بہتر منصوبہ بندی، تحقیق اور سرمایہ کاری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ بھارتی ریلوے کی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ روایتی ڈیزل انجنوں کے مقابلے میں کاربن کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کرتی ہیں۔ جب پوری دنیا عالمی حدت (Global Warming) اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نبرد آزما ہے تو ایسے منصوبے صرف ایک ملک کی ترقی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہیں۔ ہر وہ قدم جو فضا میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرے، آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ زمین کی ضمانت بنتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو کامیاب بنانے کے لئے صرف ایک یا دو تجرباتی منصوبے کافی نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پائلٹ پروجیکٹ کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور مرحلہ وار ملک کے دیگر ریلوے روٹس تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ اگر یہ تجربہ مختلف جغرافیائی اور موسمی حالات میں بھی کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں بھارت ڈیزل پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی درآمد پر ہونے والے بھاری اخراجات میں بھی نمایاں کمی لا سکتا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی ایک اور اہم پیغام بھی دیتی ہے کہ ترقی اور ماحولیات ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور مؤثر حکومتی پالیسیوں کے ذریعے معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو بیک وقت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جسے اکیسویں صدی کی پائیدار ترقی کا بنیادی اصول قرار دیا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائیڈروجن ٹرین جیسے منصوبوں کو محض نمائشی کامیابی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ایک جامع قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی، شمسی اور ہوائی بجلی، برقی گاڑیوں اور صاف ایندھن کے دیگر ذرائع کو بھی فروغ دیا جائے تاکہ بھارت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں ایک مؤثر اور ذمہ دار کردار ادا کر سکے۔
اگر آج ہم ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کی کامیابی اسی روشن مستقبل کی ایک امید افزا جھلک ہے، جسے ایک کامیاب تجربے تک محدود رکھنے کے بجائے قومی سطح کی سبز ٹرانسپورٹ پالیسی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

سبز مستقبل کی جانب امید افزا سفر

زمین کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، موسم بے ترتیب ہوتے جا رہے ہیں اور فضائی آلودگی انسانی صحت کے لئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں دنیا بھر کے ممالک ایسے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں جو ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے ماحول کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔ توانائی اور نقل و حمل کے شعبے میں ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کو اسی تناظر میں مستقبل کی امید سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا صرف چند دنوں میں بارہ سو کلومیٹر سے زائد کا کامیاب سفر طے کرنا اور تین ہزار دو سو لیٹر سے زیادہ ڈیزل کی بچت کرنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس تجرباتی منصوبے نے ثابت کیا ہے کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی محض ایک تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت بن سکتی ہے۔ اگر اس منصوبے کو مزید بہتر منصوبہ بندی، تحقیق اور سرمایہ کاری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ بھارتی ریلوے کی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ روایتی ڈیزل انجنوں کے مقابلے میں کاربن کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کرتی ہیں۔ جب پوری دنیا عالمی حدت (Global Warming) اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نبرد آزما ہے تو ایسے منصوبے صرف ایک ملک کی ترقی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہیں۔ ہر وہ قدم جو فضا میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرے، آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ زمین کی ضمانت بنتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو کامیاب بنانے کے لئے صرف ایک یا دو تجرباتی منصوبے کافی نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پائلٹ پروجیکٹ کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور مرحلہ وار ملک کے دیگر ریلوے روٹس تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ اگر یہ تجربہ مختلف جغرافیائی اور موسمی حالات میں بھی کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں بھارت ڈیزل پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی درآمد پر ہونے والے بھاری اخراجات میں بھی نمایاں کمی لا سکتا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی ایک اور اہم پیغام بھی دیتی ہے کہ ترقی اور ماحولیات ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور مؤثر حکومتی پالیسیوں کے ذریعے معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو بیک وقت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جسے اکیسویں صدی کی پائیدار ترقی کا بنیادی اصول قرار دیا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائیڈروجن ٹرین جیسے منصوبوں کو محض نمائشی کامیابی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ایک جامع قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی، شمسی اور ہوائی بجلی، برقی گاڑیوں اور صاف ایندھن کے دیگر ذرائع کو بھی فروغ دیا جائے تاکہ بھارت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں ایک مؤثر اور ذمہ دار کردار ادا کر سکے۔
اگر آج ہم ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کی کامیابی اسی روشن مستقبل کی ایک امید افزا جھلک ہے، جسے ایک کامیاب تجربے تک محدود رکھنے کے بجائے قومی سطح کی سبز ٹرانسپورٹ پالیسی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں