یمن کی انصار اللہ (حوثیوں) کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحیرۂ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ایران سے وابستہ تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ صنعاء ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے اپنی برآمدات کا رخ بحیرۂ احمر کی جانب موڑ دیا تھا، مگر باب المندب پر حوثیوں کا اثر و رسوخ اس متبادل راستے کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ایسے حالات میں فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کو فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ صرف تباہی کو جنم دیتی ہے جبکہ پائیدار امن صرف سیاسی تدبر اور مکالمے سے ہی ممکن ہے۔


