جنگ کا نیا محاذ اور امن کی ضرورت

یمن کی انصار اللہ (حوثیوں) کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحیرۂ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ایران سے وابستہ تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ صنعاء ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے اپنی برآمدات کا رخ بحیرۂ احمر کی جانب موڑ دیا تھا، مگر باب المندب پر حوثیوں کا اثر و رسوخ اس متبادل راستے کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ایسے حالات میں فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کو فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ صرف تباہی کو جنم دیتی ہے جبکہ پائیدار امن صرف سیاسی تدبر اور مکالمے سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

جنگ کا نیا محاذ اور امن کی ضرورت

یمن کی انصار اللہ (حوثیوں) کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحیرۂ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ایران سے وابستہ تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ صنعاء ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے اپنی برآمدات کا رخ بحیرۂ احمر کی جانب موڑ دیا تھا، مگر باب المندب پر حوثیوں کا اثر و رسوخ اس متبادل راستے کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ایسے حالات میں فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کو فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ صرف تباہی کو جنم دیتی ہے جبکہ پائیدار امن صرف سیاسی تدبر اور مکالمے سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں