سرینگر ایئرپورٹ پر 7 مئی سے 12 مئی کے درمیان کم از کم سات حج پروازوں کی منسوخی کے باعث 1895 عازمین حج کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال "آپریشن سندور” کے بعد بھارت-پاکستان کشیدگی کے باعث ایئرپورٹ کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ ایسے نازک موقع پر مرکزی حکومت کی فوری مداخلت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حج محض ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی روحانی اور جذباتی سفر ہوتا ہے، جو اکثر لوگوں کے لیے زندگی میں صرف ایک بار نصیب ہوتا ہے۔ متاثرہ عازمین تمام تر تیاریوں اور رسمی مراحل کی تکمیل کے بعد روانگی کے منتظر تھے، مگر اچانک پروازوں کی منسوخی نے ان کے جذبات اور ارادوں پر پانی پھیر دیا۔
ایسی صورتحال میں یہ حکومت کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر عازمین کو متبادل پروازوں کے ذریعے روانہ کرے تاکہ کوئی بھی حاجی اس مقدس سفر سے محروم نہ رہے۔ وزارت شہری ہوابازی، حج کمیٹی آف انڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر اضافی پروازوں کا بندوبست کیا جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت آئندہ ایسے ہنگامی حالات کے لیے متبادل منصوبے ترتیب دے تاکہ مذہبی نوعیت کے سفر اور دیگر اہم شہری سرگرمیاں تعطل کا شکار نہ ہوں۔ اس وقت فوری اقدام، شفافیت، اور عازمین سے مسلسل رابطہ ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت ہمدردی، سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بحران کا ازالہ کرے تاکہ کوئی بھی فرد اپنے مقدس سفر سے محروم نہ ہو۔


