جنگ نیوز
نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق پاکستان سے پشت پناہی حاصل دہشت گرد تنظیمیں، بشمول لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد، وادی میں ہدفی حملوں کی حکمتِ عملی دوبارہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق مبینہ حکمتِ عملی میں کشمیری پنڈتوں اور مہاجر مزدوروں کے خلاف آن لائن دھمکی آمیز مہم، نوجوانوں کی خفیہ بھرتی اور محدود نوعیت کے حملے شامل ہیں۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بھرتی کے لئے ایسے نوجوانوں کو ترجیح دی جارہی ہے جن کا سابقہ پولیس ریکارڈ موجود نہ ہو۔
حکام کے مطابق آن لائن تشہیری مہم کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو بنیاد پرستی اور دہشت گرد نیٹ ورک میں شمولیت کی جانب راغب کرنا بھی ہے۔ مبینہ طور پر یونائیٹڈ لبریشن کونسل (ULC) کے نام سے بھی دھمکیاں جاری کی جارہی ہیں۔
سکیورٹی ادارے آن لائن سرگرمیوں کے ذرائع، ممکنہ بھرتیوں اور حملوں کے لئے اسلحہ منتقل کرنے والے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لئے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ لشکرِ طیبہ بڑے حملوں کے لئے پاکستان سے دہشت گردوں کی دراندازی کے موقع کی تلاش میں بھی ہے، جبکہ اس دوران وادی میں انتشار پیدا کرکے مختلف برادریوں کے درمیان خلیج بڑھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔


