جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/کشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور معروف اردو ادیب، دانشور اور نقاد پروفیسر حامدی کاشمیری کی حیات، ادبی خدمات اور علمی کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے جموں و کشمیر اردو کونسل، نے ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی کے اشتراک سے کشمیر یونیورسٹی میں ایک روزہ قومی سمپوزیم کا انعقاد کیا۔
’’حامدی کاشمیری: حیات و خدمات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس سمپوزیم میں وادی کے نامور ادیبوں، دانشوروں، شاعروں، صحافیوں اور ماہرینِ ادب نے شرکت کی۔ مقررین اور مقالہ نگاروں نے پروفیسر حامدی کاشمیری کی اردو ادب، تحقیق، تنقید، تدریس اور علمی و فکری میدان میں انجام دی گئی نمایاں خدمات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر ادبی فورم اور شعری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا۔
کشمیر یونیورسٹی، حضرت بل، سرینگر کے ابن خلدون آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی نشست میں جموں و کشمیر اردو کونسل کے صدر اے۔ آر۔ ہانجورہ نے استقبالیہ خطاب کیا۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر نصیر اقبال مہمانِ اعزاز، جبکہ پروفیسر شریف الدین پیرزادہ مہمانِ خصوصی تھے۔ معروف اردو و کشمیری ادیب پروفیسر محمد زمان آزردہ نے صدارتی خطاب کیا، جبکہ ساہتیہ اکادمی کے اردو ایڈوائزری بورڈ کے رکن ابو ظہیر ربانی نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔
سمپوزیم کے علمی اجلاس کی صدارت سید حسین احمد نے کی، جبکہ محمد یوسف شاہین، پروفیسر عبدالرشید بٹ پروفیسر ناصر مرزا ،اور جاوید ماٹجی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔ اجلاس کے دوران دیپک بدکی، رخسانہ جبیں، مشتاق احمد گنائی، شہباز ہاکباری، ابو ظہیر ربانی، نصرت جبیں اور ریاض توحیدی نے پروفیسر حامدی کاشمیری کی حیات، شخصیت، ادبی خدمات اور علمی کارناموں کے مختلف پہلوؤں پر اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش کیے۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ پروفیسر حامدی کاشمیری نے اردو ادب، تحقیق، تنقید اور تدریس کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی علمی بصیرت، تنقیدی شعور اور ادبی فکر نے اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ مقررین کے مطابق پروفیسر حامدی کاشمیری کا علمی و ادبی ورثہ نہ صرف موجودہ نسل کے لئے اہم ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایک قیمتی سرمایہ ہے۔سمپوزیم کے آخری مرحلے میں ’’ادبی فورم: شعری نشست‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت معروف شاعر رفیق راز نے کی۔ شعری نشست میں ستیش ومل، اشرف عادل،ڈاکٹر شکیل شفاعی، ڈاکٹر حافظ شہنواز اور کوثر رسول نے اپنا کلام پیش کیا۔
جموں و کشمیر اردو کونسل کے جنرل سیکریٹری جاوید ماٹجی نے اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے تمام شرکاء، مقالہ نگاروں، مہمانوں اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت جاوید کرمانی نے انجام دی۔
سمپوزیم کا بنیادی مقصد پروفیسر حامدی کاشمیری کی ادبی، تحقیقی، تنقیدی اور علمی خدمات کو اجاگر کرنا اور ان کے وسیع علمی و ادبی ورثے پر سنجیدہ علمی و فکری مکالمے کو فروغ دینا تھا پروگرام کی ابتداء تلاوت کلام پاک سے کی گئی جس کا فریضہ ڈاکٹر حافظ شاہنواز نے انجام دیا جبکہ اقبال ہائی سکول صورہ کی طالبات دعایہ نظم سے سامعین کو بہت محضوظ ض کیا۔
سمپوزیم میں متعدد ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔


