
قیصر محمود عراقی
انجیلِ مقدس میں آیا ہے کہ کتابوں کی انتہا ہے نہ ان کا شمار۔ یہی وجہ ہے کہ ان اشخاص کو بھی جن کے پاس کتابوں کے ذخائر ہیں، کچھ نہ کچھ کتابیں مانگ کر پڑھنی پڑتی ہیں۔ ایک اور طریقہ انہیں چرا کر پڑھنے کا بھی ہے، لیکن چوری کوئی خاص اچھی عادت نہیں، نیز پکڑے جانے کا بھی احتمال رہتا ہے، اس لئے شرفاء کتابیں چرانے پر مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مانگنا بذاتِ خود ایک ناخوشگوار فعل ہے۔ میں دعا مانگنے کے متعلق عرض نہیں کر رہا بلکہ کپڑے، کتابیں اور ووٹ مانگنے کا ذکر کر رہا ہوں۔ ہندی کے ایک شاعر نے کہا ہے کہ’’ مانگنا ایک قسم کی اخلاقی موت ہے، لیکن مسائل کو انکار کرنا مانگنے سے بھی بدتر ہے‘‘۔ کتابیں مانگنے والے اس نکتے سے بخوبی واقف ہیں۔ کاش وہ حضرات بھی اس سے اتنا باخبر ہوتے جن سے کتابیں مانگی جاتی ہیں۔
ہمارے ایک دوست ہیں جو ہم کو کوئی کتاب مستعار دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ حتیٰ کہ ان کے دلائل سن کر ہم یہ شعر پڑھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں: ’’نہیں‘‘ ہی کیوں نہیں کہتے زباں سے۔۔۔ نہیں کا کام کیوں لیتے ہو ’’ہاں‘‘سے ۔۔میں نے اپنے دوست سے جب بھی کتاب طلب کی، بڑی مشکل کے ساتھ وہ کتاب ہمارے حوالے کرتے ہیں۔ اسے لے کر ہم ابھی مشکل سے گھر پہنچتے ہیں کہ ان کا خادم یہ دریافت کرنے حاضر ہو جاتا ہے کہ اگر ہم نے کتاب پڑھ لی ہو تو اسے واپس کر دیں۔ بسا اوقات ہم اسے پڑھے بغیر واپس بھجوا دیتے ہیں۔
ہمارے اس دوست کا عقیدہ ہے کہ اپنی گھڑی، اپنا قلم اور اپنی کتاب کسی شخص کو مستعار نہیں دینی چاہیے، کیونکہ اول تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا اور پھر اگر کیا جائے گا تو اس کا حلیہ بگاڑ کر۔ یہ جب کسی کمزوری کے لمحے میں کتاب مستعار دیتے ہیں، تو ہدایت و نصیحت کے ملے جلے انداز میں فرماتے ہیں:”دیکھیے صاحب! یہ بڑی نایاب کتاب ہے۔ مرحوم دادا جان کو ایک انگریز نے تحفے کے طور پر پیش کی تھی۔ خدا بخشے دادا جان فرمایا کرتے تھے کہ یہ کتاب موتیوں میں تولنے کے قابل ہے۔ اسے ذرا سنبھال کر رکھیے گا اور ہاں پڑھتے وقت کسی صفحے پر روشنائی سے نشان یا دھبہ مت لگائیے گا۔ بچوں سے اسے خاص طور پر بچا کر رکھیے گا، کہیں کوئی تصویر یا صفحہ اڑا نہ لے جائیں۔ دیکھیے اس کتاب کی صرف دو جلدیں دستیاب ہیں، ایک تو برٹش میوزیم لندن میں ہے اور دوسری خاکسار کے پاس۔”
لطف یہ ہے کہ وہ ہر ایک کتاب کے بارے میں یہی کچھ کہتے ہیں، حالانکہ جن کتابوں کو نایاب قرار دیتے ہیں بڑی آسانی سے کسی بھی کتب فروش سے مل سکتی ہیں۔ تا وقتیکہ انہیں کتاب واپس نہ مل جائے انہیں چین نہیں آتا۔ جب کبھی ملاقات ہوتی ہے، احتیاطاً پوچھ لیتے ہیں: "کتاب محفوظ ہے نا؟”
ہمارے ایک دوست کسی گمنام کالج میں پروفیسر ہیں۔ یہ پچھلے بارہ برس سے کسی گمنام موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ چونکہ ہر دوسرے سال ریسرچ کا موضوع بدل دیتے ہیں، اس لئے ان کا تھیسس کبھی مکمل نہیں ہو پاتا۔ ان کے پاس لاتعداد پھٹی پرانی کتابیں ہیں جنہیں یہ ہر وقت سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ یہ پہلے خود کسی کتاب کی حد سے زیادہ تعریف کرتے ہیں، پھر یہ بتاتے ہیں کہ انہیں یہ کتاب کسی پنساری سے کون سا سفوف خریدتے وقت دستیاب ہوئی تھی۔ پھر اسے پڑھنے کی سفارش کرتے ہیں، لیکن جب ہم پڑھنے کا اشتیاق ظاہر کرتے ہیں تو لیت و لعل کرنے لگتے ہیں۔ آخر یہ طے پاتا ہے کہ ہم یہ کتاب صرف ایک دن کے لئے لے جا سکتے ہیں، لیکن ہمیں اسے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن احتیاط کرنا ہوگی۔
ایک دفعہ شامتِ اعمال سے ان کی ایک بوسیدہ اور کرم خوردہ کتاب ہم سے ضائع ہو گئی۔ دراصل ہمارے نوکر نے اسے نہایت فضول تصنیف سمجھتے ہوئے چولہے میں جھونک دیا۔ بس پھر تو غضب ہو گیا۔ وہ سیخ پا ہو گئے، دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، آٹھ آٹھ آنسو روتے تھے اور کہتے تھے کہ: "آپ نے مجھے کہیں کا نہ رکھا، میں برباد ہو گیا! اس کتاب کی مدد سے مجھے’’ موہن جودڑو‘‘ کی تہذیب پر تھیسس لکھنا تھا، اب میں عمر بھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل نہیں کر سکتا۔”
ہم نے گڑگڑا کر معافی مانگی اور بہت دیر تک کتاب کے یوں ضائع ہونے پر اظہارِ تاسف کرتے رہے، لیکن ان کی کسی طرح تسلی نہ ہوئی۔ اب ان کا یہ معمول ہو گیا ہے کہ جیسا بھی، جہاں بھی ہوتے، جس حال میں بھی ہوتے، اس بات کا چرچا ضرور کرتے کہ ان کے ڈاکٹر نہ بننے کی تمام تر ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ ہم بخوبی جانتے تھے کہ ہمارے علاوہ اس المیے میں ان کی نااہلیت کا بھی کافی ہاتھ ہے، لیکن مصلحتاً چپ رہتے۔
ایک دن جب ان کے ایک دوست کو پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئی، تو وہ از سرِ نو ہمارے پاس شکایت کرنے آئے کہ اگر ہم سے ان کی وہ کتاب ضائع نہ ہو گئی ہوتی تو آج وہ بھی پی ایچ ڈی کہلاتے۔ ان کا شکوہ سن کر ہم اتنے خفیف ہوئے کہ ہم نے تہیہ کر لیا، چاہے چار کھونٹ گھومنا پڑے، زمین و آسمان کے قلابے ملانے پڑیں، ہم ان کی کتاب ڈھونڈ نکالیں گے۔پھر کیا تھا، بڑی بڑی لائبریریوں سے دریافت کیا، پرانے کتب فروشوں کو لکھا لیکن کہیں سے کتاب دستیاب نہ ہوئی۔ ایک دن جب ہم مایوس ہو کر گھر لوٹ رہے تھے، تو پان کھانے کے لئے ماتا دین پنواڑی کی دکان پر رکے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ماتا دین اسی کتاب کے اوراق میں گاہکوں کو پان باندھ باندھ کر دے رہا ہے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کے پاس اس کتاب کی پچاس جلدیں ہیں جو اس نے ایک کباڑیے سے پانچ روپے فی کلو کے حساب سے خریدی ہیں۔ ہم نے فوراً ایک نسخہ دو روپے میں ماتا دین سے خریدا اور کتاب پروفیسر صاحب کے حوالے کی۔ حالانکہ انہیں کتاب ملے چار سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، لیکن ابھی تک وہ پی ایچ ڈی نہیں ہو سکے۔
بہرحال، کتابیں مانگنے کے سلسلے میں ہمارا تجربہ یہ ہے کہ کبھی اس شخص سے کتاب نہیں مانگنی چاہیے جو پرلے درجے کا سنکی ہو اور جسے ہر وقت کتاب گم ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ پرانی اور بوسیدہ کتاب نہیں مانگنی چاہیے، کیونکہ اسے آپ کی بیوی یا نوکر ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گا۔ وہ کتاب نہیں مانگنی چاہیے جس کا دنیا میں صرف ایک ہی نسخہ ہو، کیونکہ اگر وہ گم ہو گئی تو کتاب کا مالک آپ کو حشر تک معاف نہیں کرے گا۔ اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ کتاب کبھی مانگنی ہی نہیں چاہیے، خرید کر پڑھنی چاہیے کہ اس طرح آپ کے علاوہ مصنفوں اور ناشروں کا بھی بھلا ہوگا۔


