91 ممالک سے موصولہ 1184 فلمی درخواستوں میں سے 120 فلمیں پیش کی گئیں
فیسٹیول کے انعقاد میںDIPRسمیت مختلف سرکاری اداروں، معاونین اور اسپانسرز نے تعاون کیا
جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (IFFJK) 2026 سری نگر میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ چار روزہ میلے نے ملک و بیرونِ ملک سے فلم سازوں، فن کاروں، جیوری اراکین، مہمانوں اور سینما کے شائقین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
فیسٹیول کی اختتامی پیشکش کے مطابق 91 ممالک سے مجموعی طور پر 1184 فلمیں موصول ہوئیں، جن میں سے 120 فلمیں میلے کے دوران نمائش کے لئے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر سینما، تخلیقی صلاحیتوں اور ثقافت سے متعلق 17 ماسٹر کلاسز اور مباحثے بھی منعقد ہوئے۔
میلے میں 6600 سے زائد افراد نے شرکت کی، جو جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سطح کے فلمی اور ثقافتی پروگراموں میں عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔
منتظمین نے فلم سازوں، فن کاروں، جیوری اراکین، مہمانوں، شراکت داروں، رضاکاروں اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایف ایف جے کے 2026 محض ایک فلمی میلہ نہیں بلکہ ’’ایک مشترکہ سفر‘‘ تھا، جس نے سینما اور ثقافت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جوڑ دیا۔
فیسٹیول کے انعقاد میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، جموں و کشمیر (DIPR) سمیت مختلف سرکاری اداروں، معاونین اور اسپانسرز نے تعاون کیا۔
IFFJK 2026کا کامیاب اختتام جموں و کشمیر کو عالمی سینما کے نقشے پر نمایاں کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ میلے کی شاندار پذیرائی نے آئندہ برسوں میں اس کے مزید وسیع اور متنوع انعقاد کی امید بھی پیدا کردی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا نوجوان کہانی کاروں پر اپنے تجربات بیان کرنے پر زور

جنگ نیوز ڈیسک
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول IFFJK کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو محض فلموں کے لئے خوبصورت مقام بننے کے بجائے اپنی کہانیوں اور مقامی صلاحیتوں کا مرکز بننا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ فیسٹیول میں 30 سے زائد ممالک کی 120 فلمیں پیش کی گئیں اور عالمی فلم سازوں و مقامی نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کا موقع ملا۔
عمر عبداللہ نے فلم سازوں کو دوبارہ جموں و کشمیر آنے، یہاں فلمیں بنانے اور مقامی افراد کے ساتھ اشتراک کی دعوت دی، جبکہ نوجوانوں سے اپنے علاقوں، خاندانوں اور معاشرے کی کہانیاں بیان کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ IFFJK کو چار روزہ تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے سال بھر تربیت، نمائش اور فلمی اشتراک کا پلیٹ فارم بنایا جانا چاہیے۔
صوفیانہ موسیقی نے فلمی میلے کے اختتامی تقریب میں روحانی رنگ بھر دیا
جنگ نیوز
سری نگر/جموں و کشمیر کے بین الاقوامی فلم فیسٹیول IFFJK کی اختتامی تقریب کشمیری لوک اور صوفی موسیقی کی دل نشیں دھنوں سے گونج اٹھی، جب معروف گلوکار گلزار احمد گنائی المعروف گلزار گنی نے اپنی پُرسوز آواز سے سامعین کو محظوظ کیا۔
گلزار گنی نے معروف کشمیری صوفی شاعر واحب کھر کا مقبول کلام ’یار دوٗد نار کھوت‘ پیش کیا، جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔
پیشکش نے تقریب میں کشمیری ثقافت اور صوفی روایت کا منفرد رنگ شامل کیا۔ واحب کھر کی شاعری روحانیت اور کشمیری تہذیبی مزاج سے گہرا تعلق رکھتی ہے اور آج بھی صوفی و لوک موسیقی کے ذریعے زندہ ہے۔
کشمیری لوک موسیقی، صوفیانہ کلام اور چکری کے معروف فن کار گلزار گنی نے اپنی کئی دہائیوں پر محیط فنی زندگی میں خطے کی روایتی موسیقی کے تحفظ اور فروغ کے لئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔


