واشنگٹن، 09 ستمبر:
امریکی فوج نے بروز منگل پانچ ایرانی تیل کے ٹینکرز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی اس کے جنگی جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ دوسری جانب، تہران نے اردن میں قائم امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر پلٹ وار کیا ہے۔ حملوں اور جوابی حملوں کے اس نئے سلسلے نے چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو ایک بار پھر کھلے عام دشمنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، امریکی حملوں کے بعد ایران نے اردن میں امریکی اہداف کی جانب میزائل داغے۔
اردن کی فوج نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اپنی سرزمین کی طرف داغے گئے 18 بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، جبکہ دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔
اردنی حکام کے مطابق ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اردن امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے اور امریکی افواج کی میزبانی کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی فوجی چھاؤنیاں اکثر ایرانی حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تفصیلات فراہم کرنے سے معذرت کی ہے۔
یہ تازہ ترین حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دہرے معاشی اور فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت، ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کے روز ایران کی ہوابازی کی صنعت پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جن میں دو درجن سے زائد تجارتی و نجی ایئر لائنز اور غیر ملکی کارگو سروس فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں، تاکہ تہران کو اس کے بچے کھچے تجارتی شراکت داروں سے الگ تھلگ کیا جا سکے۔
امریکہ اور ایران دونوں ہی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں سے جنگ کے آغاز سے قبل دنیا کے مجموعی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ نومبر کے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات سے قبل توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ منگل کے روز عالمی معیار کے برنٹ خام تیل کی قیمت مختصر وقت کے لیے 99.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
اس سے قبل امریکی افواج نے ہفتے کے روز بھی تین ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کر دیا تھا، جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور تباہ کن جنگی جہاز (ڈسٹروائر) پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر امریکہ نے خبردار کیا تھا کہ "اگر ضرورت پڑی تو ایران کے محدود اور غیر محفوظ بحری بیڑے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔”
بعد ازاں، ایران نے اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک نیا "ممنوعہ علاقہ” (Exclusion Zone) قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت کو روکنا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ان حملوں کو ہرگز بلا جواب نہیں چھوڑے گا۔


