افسانہ : تلاش

 

دھوپ تیز تھی۔گاؤں کی کچی گلیوں میں خاک اڑ رہی تھی اور ہوا کی بے ربط سی سرسراہٹ سلیم کے قدموں کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔وہ کئی سال بعد اپنے گاؤں،رام پور واپس آیا تھا۔ایک بیگ اس کے کندھے پر تھا اور دل میں بے شمار سوالوں کا بوجھ تھا۔جب وہ گاؤں چھوڑ کر گیا تھا تو بیس سال کا تھا،جوانی کی دہلیز پر کھڑا،خوابوں سے لبریز،انا سے لبالب،اور حقیقت سے بے خبر۔باپ کی سختی،ماں کی نرمی،اور چھوٹے بھائی کی معصوم سرارتیں سب کچھ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔اسے لگتا تھا کہ شہر میں سب کچھ مل جائے گا عزت،دولت،محبت اور سب سے بڑھ کر "خود کا وجود”۔
لیکن شہر نے اسے کیا دیا؟ایک لمبی فہرست کارخانے کی مشقت،کرائے کے کمرے،بے نام چہروں کی بھیڑ،اور تنہائی کی وہ لکیریں جو ہر آتے دن کے ساتھ اور گہری ہوتی گئی۔وہ خود کو کھو بیٹھا تھا وہی خود،جسے وہ تلاشنے گاؤں سے شہر آیا تھا۔
اب سلیم واپس اپنے گاؤں رام پور میں آیا۔گاؤں کی فضا میں ویسے ہی خوشبو تھی،گوبر کی،مٹی کی اور پک رہے کھانوں کی۔وہ ان گلیوں کو پہچان رہا تھا لیکن یہاں کے لوگ بدل گئے تھے۔پرانے چہرے غائب تھے،ان کی جگہ نئے چہرے ابھر آئے تھے۔
سلیم گاؤں کے چوراہے پر پہنچا جہاں کبھی بزرگ حقہ پیتے،لڑکے کبڈی کھیلتے،اور عورتیں کنویں سے پانی بھرنے جاتی تھی۔وہی ایک چھوٹے سے چائے کی دکان پر بیٹھ گیا۔سلیم نے پوچھا”باؤ جی،حافظ جی کا گھر اب بھی وہی ہے نا؟کنویں کے پاس؟چائے والے نے سر ہلایا”ہاں،پر حافظ جی اب نہیں رہے،دو سال پہلے چل بسے۔ان کا چھوٹا بیٹا،رفیق اب وہاں رہتا ہے۔
یہ سن کر سلیم کا دل بیٹھ گیا۔حافظ جی وہی ہے جنہوں نے اسے بچپن میں قران پڑھایا تھا،جن کے ہاتھ میں چھڑی تھی مگر دل میں محبت۔ایک اور کڑی ٹوٹ چکی تھی اس زندگی سے۔
چائے پی کر سلیم اس راستے پر چل پڑا جو کبھی اس کے دل کا راستہ ہوا کرتا تھا۔کنویں کے پاس آ کر رکا تو سب کچھ اجنبی لگا۔درخت وہی تھا،مگر اس کے نیچے بیٹھا کوئی شخص پہچان کا نہیں تھا۔دروازے کے پاس کھڑی عورت نے حیرت سے سلیم کو دیکھا،پھر آواز دیا،
"کس کی تلاش ہے آپ کو”؟
سلیم نے دھیرے سے کہا،
"رفیق۔۔۔وہ حافظ جی کا بیٹا”۔
عورت نے مسکرا کر کہا،میں ہی ہوں اس کی بیوی۔وہ کھیت میں گیا ہے آپ بیٹھیے،آ جائے گا تھوڑی دیر میں۔
وہ اگن میں پیچھے چٹائی پر بیٹھ گیا۔رفیق کی بیوی نے ایک گلاس پانی لا کر دیا اور پانی پینے کے دوران اس کی نگاہیں وہ دیواروں پر ٹک گئی،جس میں آج بھی وہی قران کی آیتیں لکھی تھی۔وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد رفیق آیا،سلیم کو پہچانتے ہی لپٹ گیا۔آنکھیں نم،آواز میں لرزش،اور لفظ جیسے ماضی کے دریچوں سے نکل نکل کر آرہے ہو۔
"بھائی جان،آپ؟اتنے سالوں بعد؟ہم تو سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔۔”
سلیم نے آہستہ سے کہا،”ہاں،میں خود بھی سمجھ بیٹھا تھا کہ شاید لوٹنا ممکن نہیں”۔
رفیق نے ماں کے بارے میں بتایا،جو سالوں پہلے چل بسی تھی۔چھوٹا بھائی فرحان اب شہر میں تھا،کسی فیکٹری میں نوکری کرتا تھا۔اور باپ۔۔وہ تو سلیم کے جانے کے بعد جیسے اندر سے ٹوٹ گیا تھا،کچھ سال کے بعد خاموسی سے دنیا سے رخصت ہو گیا۔
یہ سب سن کر سلیم خاموش ہو گیا۔جیسے اس کا دل خالی ہو گیا ہو۔وہ جنہیں پکارنے آیا تھا،وہ سب اب یا تو مٹی میں تھے یا وقت کے دھند میں گم ہو چکے تھے۔
رات کو جب سب سو گئے،سلیم چھت پر آ کر لیٹ گیا۔آسمان پر ستارے ویسے ہی جگمگا رہے تھے جیسے اس کی بچپن میں۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور چاندنی میں اس کا ماضی روشن ہو رہا تھا۔
"میں کیا تلاشنے شہر گیا تھا”؟اس نے خود سے پوچھا،
شاید آزادی؟شاید پہچان؟شاید محبت؟شاید وہ احساس جو انسان کو اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے؟
شہر کی چمک دمک نے اسے کچھ لمحے خوشی کے ضرور دیے،کچھ تعلقات ضرور بخشے،مگر اصل سکون نہ ملا۔شہر کے لوگ چہروں میں نقاب لگائے پھرتے تھے،اور وہ خود بھی ایک نقاب پہن چکا تھا۔سنجیدہ،خود غرض،خاموش کا۔۔۔۔
گاؤں واپس آ کر،ٹوٹے دروازے،پرانی دیواریں،کھنڈر ہوتا ماضی،سب نے اس کا اصل چہرہ واپس لوٹا دیا تھا۔
اگلے دن وہ قبرستان گیا،ماں باپ اور حافظ جی سب کی قبریں ایک قطار میں تھی۔اس نے ہاتھ اٹھا کر دعائیں کی۔زمین کی ٹھنڈک نے اس کے دل کی گرمی کو کم کیا۔
گاؤں میں چند دن قیام کے بعد سلیم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ شہر نہیں جائے گا۔یہی اس کی اصل پہچان ہے۔اس نے کھیت سنبھالنے کا ارادہ کیا،پرانی حویلی کو ٹھیک کروایا،اور سب سے بڑھ کر،خود کو سنبھالنے کا ارادہ کیا۔
اب سلیم روز شام کو گاؤں کے بچوں کو پڑھاتا،مسجد کے امام صاحب کے ساتھ بیٹھ کر دینی باتیں کرتا،مسجد میں وقت گزارتا ہے،کھیت میں ہل چلاتا ہے اور جب کبھی تھک جاتا ہے تو کنویں کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے۔وہی کنواں،جہاں بچپن میں دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔
کبھی کبھی آنکھیں بند کر کے خود سے کہتا،
"جسے میں شہر میں ڈھونڈتا رہا،وہ سب کچھ تو یہی تھا۔میں خود سے بچھڑ گیا تھا اور اب،برسوں بعد آخر کار،میں نے خود کو پا لیا ہے”۔
"میری "تلاش” مکمل ہوئی”۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

افسانہ : تلاش

 

دھوپ تیز تھی۔گاؤں کی کچی گلیوں میں خاک اڑ رہی تھی اور ہوا کی بے ربط سی سرسراہٹ سلیم کے قدموں کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔وہ کئی سال بعد اپنے گاؤں،رام پور واپس آیا تھا۔ایک بیگ اس کے کندھے پر تھا اور دل میں بے شمار سوالوں کا بوجھ تھا۔جب وہ گاؤں چھوڑ کر گیا تھا تو بیس سال کا تھا،جوانی کی دہلیز پر کھڑا،خوابوں سے لبریز،انا سے لبالب،اور حقیقت سے بے خبر۔باپ کی سختی،ماں کی نرمی،اور چھوٹے بھائی کی معصوم سرارتیں سب کچھ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔اسے لگتا تھا کہ شہر میں سب کچھ مل جائے گا عزت،دولت،محبت اور سب سے بڑھ کر "خود کا وجود”۔
لیکن شہر نے اسے کیا دیا؟ایک لمبی فہرست کارخانے کی مشقت،کرائے کے کمرے،بے نام چہروں کی بھیڑ،اور تنہائی کی وہ لکیریں جو ہر آتے دن کے ساتھ اور گہری ہوتی گئی۔وہ خود کو کھو بیٹھا تھا وہی خود،جسے وہ تلاشنے گاؤں سے شہر آیا تھا۔
اب سلیم واپس اپنے گاؤں رام پور میں آیا۔گاؤں کی فضا میں ویسے ہی خوشبو تھی،گوبر کی،مٹی کی اور پک رہے کھانوں کی۔وہ ان گلیوں کو پہچان رہا تھا لیکن یہاں کے لوگ بدل گئے تھے۔پرانے چہرے غائب تھے،ان کی جگہ نئے چہرے ابھر آئے تھے۔
سلیم گاؤں کے چوراہے پر پہنچا جہاں کبھی بزرگ حقہ پیتے،لڑکے کبڈی کھیلتے،اور عورتیں کنویں سے پانی بھرنے جاتی تھی۔وہی ایک چھوٹے سے چائے کی دکان پر بیٹھ گیا۔سلیم نے پوچھا”باؤ جی،حافظ جی کا گھر اب بھی وہی ہے نا؟کنویں کے پاس؟چائے والے نے سر ہلایا”ہاں،پر حافظ جی اب نہیں رہے،دو سال پہلے چل بسے۔ان کا چھوٹا بیٹا،رفیق اب وہاں رہتا ہے۔
یہ سن کر سلیم کا دل بیٹھ گیا۔حافظ جی وہی ہے جنہوں نے اسے بچپن میں قران پڑھایا تھا،جن کے ہاتھ میں چھڑی تھی مگر دل میں محبت۔ایک اور کڑی ٹوٹ چکی تھی اس زندگی سے۔
چائے پی کر سلیم اس راستے پر چل پڑا جو کبھی اس کے دل کا راستہ ہوا کرتا تھا۔کنویں کے پاس آ کر رکا تو سب کچھ اجنبی لگا۔درخت وہی تھا،مگر اس کے نیچے بیٹھا کوئی شخص پہچان کا نہیں تھا۔دروازے کے پاس کھڑی عورت نے حیرت سے سلیم کو دیکھا،پھر آواز دیا،
"کس کی تلاش ہے آپ کو”؟
سلیم نے دھیرے سے کہا،
"رفیق۔۔۔وہ حافظ جی کا بیٹا”۔
عورت نے مسکرا کر کہا،میں ہی ہوں اس کی بیوی۔وہ کھیت میں گیا ہے آپ بیٹھیے،آ جائے گا تھوڑی دیر میں۔
وہ اگن میں پیچھے چٹائی پر بیٹھ گیا۔رفیق کی بیوی نے ایک گلاس پانی لا کر دیا اور پانی پینے کے دوران اس کی نگاہیں وہ دیواروں پر ٹک گئی،جس میں آج بھی وہی قران کی آیتیں لکھی تھی۔وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد رفیق آیا،سلیم کو پہچانتے ہی لپٹ گیا۔آنکھیں نم،آواز میں لرزش،اور لفظ جیسے ماضی کے دریچوں سے نکل نکل کر آرہے ہو۔
"بھائی جان،آپ؟اتنے سالوں بعد؟ہم تو سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔۔”
سلیم نے آہستہ سے کہا،”ہاں،میں خود بھی سمجھ بیٹھا تھا کہ شاید لوٹنا ممکن نہیں”۔
رفیق نے ماں کے بارے میں بتایا،جو سالوں پہلے چل بسی تھی۔چھوٹا بھائی فرحان اب شہر میں تھا،کسی فیکٹری میں نوکری کرتا تھا۔اور باپ۔۔وہ تو سلیم کے جانے کے بعد جیسے اندر سے ٹوٹ گیا تھا،کچھ سال کے بعد خاموسی سے دنیا سے رخصت ہو گیا۔
یہ سب سن کر سلیم خاموش ہو گیا۔جیسے اس کا دل خالی ہو گیا ہو۔وہ جنہیں پکارنے آیا تھا،وہ سب اب یا تو مٹی میں تھے یا وقت کے دھند میں گم ہو چکے تھے۔
رات کو جب سب سو گئے،سلیم چھت پر آ کر لیٹ گیا۔آسمان پر ستارے ویسے ہی جگمگا رہے تھے جیسے اس کی بچپن میں۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور چاندنی میں اس کا ماضی روشن ہو رہا تھا۔
"میں کیا تلاشنے شہر گیا تھا”؟اس نے خود سے پوچھا،
شاید آزادی؟شاید پہچان؟شاید محبت؟شاید وہ احساس جو انسان کو اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے؟
شہر کی چمک دمک نے اسے کچھ لمحے خوشی کے ضرور دیے،کچھ تعلقات ضرور بخشے،مگر اصل سکون نہ ملا۔شہر کے لوگ چہروں میں نقاب لگائے پھرتے تھے،اور وہ خود بھی ایک نقاب پہن چکا تھا۔سنجیدہ،خود غرض،خاموش کا۔۔۔۔
گاؤں واپس آ کر،ٹوٹے دروازے،پرانی دیواریں،کھنڈر ہوتا ماضی،سب نے اس کا اصل چہرہ واپس لوٹا دیا تھا۔
اگلے دن وہ قبرستان گیا،ماں باپ اور حافظ جی سب کی قبریں ایک قطار میں تھی۔اس نے ہاتھ اٹھا کر دعائیں کی۔زمین کی ٹھنڈک نے اس کے دل کی گرمی کو کم کیا۔
گاؤں میں چند دن قیام کے بعد سلیم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ شہر نہیں جائے گا۔یہی اس کی اصل پہچان ہے۔اس نے کھیت سنبھالنے کا ارادہ کیا،پرانی حویلی کو ٹھیک کروایا،اور سب سے بڑھ کر،خود کو سنبھالنے کا ارادہ کیا۔
اب سلیم روز شام کو گاؤں کے بچوں کو پڑھاتا،مسجد کے امام صاحب کے ساتھ بیٹھ کر دینی باتیں کرتا،مسجد میں وقت گزارتا ہے،کھیت میں ہل چلاتا ہے اور جب کبھی تھک جاتا ہے تو کنویں کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے۔وہی کنواں،جہاں بچپن میں دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔
کبھی کبھی آنکھیں بند کر کے خود سے کہتا،
"جسے میں شہر میں ڈھونڈتا رہا،وہ سب کچھ تو یہی تھا۔میں خود سے بچھڑ گیا تھا اور اب،برسوں بعد آخر کار،میں نے خود کو پا لیا ہے”۔
"میری "تلاش” مکمل ہوئی”۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں