
قیصر محمود عراقی
شادی ایک مذہبی فریضہ ہے، جسے سماجی طور پر بڑے اہتمام کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ شادی کے لفظی معنی’’ خوشی ‘‘کے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ فریضہ اپنے اندر خوشیوں اور مسرتوں کا ناقابل خزانہ سموئے ہوئے ہے جو بیٹے، بیٹی، بھائی یا بہن کی شادی متعلقین کے لئے شادمانی اور خوشیوں کا پیغام بن کر آتی ہے۔ مگر اس یادگار موقع کو بعض لوگوں نے دکھاوے، بے جا اسراف اور جھوٹی شان و شوکت کی نظر کر دیا ہے۔ شادی اور اس سے منسلک رسموں پر جو لوگ زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں، ان کو عموماً معاشرے میں اتنی ہی زیادہ عزت و تکریم دی جاتی ہے اور شادی کے کئی دنوں تک اس گھرانے کے چرچے ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ جن غریب والدین کے پاس ان فضول رسومات کی ادائیگی کے لئے پیسہ نہیں ہوتا، چنانچہ انہیں اپنے خاندان اور سمدھیانے میں بڑی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے اور لڑکی کو تمام سسرال والوں سے والدین کی غریبی کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ آج شادی بیاہ کے موقع پر وہ رسم و رواج جن کی ہم پیروی کرتے ہیں، صدیوں سے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے چلے آ رہے ہیں، جن کی پیروی نہ کرنے سے برادری میں ناک کٹ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو دستور زمانے سے چلا آ رہا ہے اور جو رسم و رواج صدیوں سے رائج ہیں، ان کے مطابق تو چلنا ہی پڑتا ہے، جنہیں نسل در نسل منتقل کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
قارئین حضرات! موجودہ دور میں شادی بیاہ کے موقع پر جو نمود و نمائش اور اسراف پر مبنی رسومات ادا کی جاتی ہیں، ان کی ابتدا منگنی سے شروع ہوتی ہے اور شادی کے بعد ہفتے بھر تک یہ جاری رہتی ہیں۔ منگنی کی رسم رشتہ کنفرم کرنے کے لئے ادا کی جاتی ہے۔ اس رسم پر بے جا روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں بھی منگنی کی رسم میں لڑکے اور لڑکی والوں کی طرف سے مٹھائی کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ لڑکے اور لڑکی کو سونے کی انگوٹھیاں پہنائی جاتی ہیں، لڑکے والوں کی طرف سے دلہن کے لئے قیمتی ملبوسات، زیور، پھل، پھول اور مٹھائی وغیرہ بھیجی جاتی ہے جس کے جواب میں لڑکی والوں کو بھی دولہا کے لئے سوٹ، سونے کی انگوٹھی، پھل، پھول اور مٹھائی وغیرہ کے ساتھ اور دیگر لوازمات کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں طرف سے مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ اس رسم کی ادائیگی اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ رسم منگنی کی ہے یا نکاح کی۔ اس رسم کی ادائیگی کے بعد شادی تک کے وقفے کے دوران عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے تہواروں پر دونوں فریقین کی طرف سے عیدیوں کا تبادلہ ہوتا ہے جس میں ان مواقعوں پر منگنی کی طرح لڑکی اور لڑکے کے لئے قیمتی کپڑوں اور دیگر لوازمات، مٹھائی، فروٹ اور پھولوں کی شمولیت لازمی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں گھرانوں کے درمیان دعوتوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ منگنی سے شادی کے عرصے کے دوران بعض گھرانوں میں تو اس قدر خرچ کر دیا جاتا ہے کہ ایک اوسط درجے کے گھرانے کی تین چار لڑکیوں کی شادیاں باآسانی ہو سکتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کی رسومات اور جہیز کی تیاری غریب والدین کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔ مگر یہ صرف ہمارے ہی معاشرے کا المیہ کیوں ہے؟ کیونکہ ہمارے اندر سے ایمانداری اور انسانیت مر چکی ہے، تبھی تو لڑکے والے لڑکی والوں کو جہیز کی لمبی لسٹ تھما دیتے ہیں جو ایک غریب گھرانے کی بیٹی کے لئے مشکلات کے انبار ہوتے ہیں۔ کاش ہمارے معاشرے میں ان خراب روایات کو کچلا جا سکتا، مگر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی رسومات ہوں یا اخلاقی فرض کی ادائیگی، اسے چند نام نہاد ٹھیکیداروں نے اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ فرض کی ادائیگی تو کیا جینا اور مرنا بھی مشکل کر دیا ہے۔ لاکھوں غریب والدین اس آس اور مجبوری میں اپنے بچوں کی بڑھتی عمر کو دیکھتے، جلتے اور کڑھتے اپنی زندگی تمام کر دیتے ہیں۔ اپنی ہزاروں خواہشات کا گلا گھونٹنے کے باوجود بھی اپنے بچوں کو وہ خوشیاں نہیں دے پاتے جن کے وہ حقدار ہیں۔
قارئین محترم! آج کل جو بھی شادی بیاہ کے موقع پر رسومات ہو رہی ہیں، وہ سب کے سب غیر اسلامی ہیں اور یہ واقعتاً معاشرے پر ایک بھاری بوجھ ہیں۔ منگنی کی رسم ہو، مہندی ہو، مایوں ہو، رخصتی ہو یا پھر جہیز کا وبال، اس سب میں سارا بوجھ لڑکی والے پر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل لڑکیوں کے رشتے نہیں ہو پاتے۔ والدین کوشش کے باوجود بھی ان کے ہاتھ پیلے نہیں کر پاتے اور بہت سی بچیاں گھر بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
شادی ایک ایسا پیارا اور خوشی کا موقع ہوتا ہے جو دو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں شادیوں کے ساتھ جہیز جیسی لعنت اور فضول رسم و رواج بھی شامل ہو گئے ہیں جو اس خوشی کے موقع کو بھی تکلیف میں بدل دیتے ہیں۔ عجیب و غریب قسم کے رسم و رواج نے شادی بیاہ کو رسموں تک محدود کر رکھا ہے، جبکہ پہلے زمانے میں شادیاں بہت سادگی اور بہتر انداز میں ہوتی تھیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کسی صاحب استطاعت کی شادی ہے یا کسی مستحق کی۔ نکاح، مہندی اور بارات بس تقریب ختم ، لیکن آج کل رسم و رواج کے انبار نے لوگوں کو قرض لینے پر مجبور کر رکھا ہے۔ انواع و اقسام کے کھانے اور طرح طرح کی شاپنگ نے صاحب استطاعت لوگوں کو بھی قرض دار بنا رکھا ہے اور جو غریب ہیں، ان بیچاروں کو تو اپنی زمین اور زیور تک بیچنے پڑ رہے ہیں۔
بہر حال اس حوالے سے ہمارے علمائے دین، دانشور حضرات اور معاشرے کے چیدہ چیدہ شخصیات کو مل کر سوچنے کی ضرورت ہے اور کوئی بہتر حل نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے معاشرے سے ان فضول رسوم و رواج کا خاتمہ ہو سکے۔ اور معاشرے کے ہر فرد کو بھی چاہیے کہ وہ بھی شادی بیاہ پر فضول خرچیوں سے بہتر ہے سادگی اپنائے۔ لوگوں کو کھانا کھا کر چلے جانا ہے، لوگ کھانا کھانے کے بعد بھی نقص نکالتے ہیں کہ نمک کم تھا، مرچ زیادہ تھی، پیٹ نہیں بھرا، اچھا نہیں تھا۔ اس سے بہتر ہے کہ سادگی اپنائیں تاکہ سب خوش رہ سکیں۔ لہٰذا فضول رسومات سے چھٹکارا پانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شادی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی، سادگی سے کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگ کیا کہیں گے اسے چھوڑیں اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں۔ اس طرح آپ اور ہم اپنے معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں اور شادیوں کو ایک اچھی خوشی کا موقع بنا سکتے ہیں۔


