
ایم۔ ایل۔ جاٹ
اور
نوین پی۔ سنگھ
9ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والا آسیان۔بھارت وزارتی اجلاس برائے زراعت و جنگلات اپنے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔ اس سے ایک روز قبل آسیان۔بھارت مشترکہ ورکنگ گروپ برائے زراعت و جنگلات کا دسواں اجلاس منعقد ہوگا، جس میں وزرا کے غور و خوض کے لئے تکنیکی سفارشات پر بحث کرکے انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔
گرچہ یہ عمل محض رسمی کارروائی معلوم ہوسکتا ہےاور 1992ء میں بھارت اور آسیان کے درمیان شعبہ جاتی مذاکرات کے آغاز کے بعد سے یہ طریقۂ کار مسلسل ارتقا پذیر رہا ہے، لیکن اس رسمی کارروائی سے آگے بڑھ کر یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ تین دہائیوں کے دوران اس ادارہ جاتی شراکت داری نے کیا کچھ تعمیر کیا ہے۔
لہٰذا یہ اجلاس نہ صرف پیش رفت کا جائزہ لینے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے بلکہ طویل عرصے سے جاری اس تعاون کو کسانوں کی خوش حالی، ان کے روزگار اور معاش کے ذرائع، نیز پورے خطے کے غذائی نظام کے لئے مزید ٹھوس اور عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا بھی ایک موقع ہے۔
مشترکہ زرعی حقائق، مشترکہ مواقع
بھارت اور آسیان کے گیارہ رکن ممالک، جن میں اس تنظیم کا سب سے نیا رکن تیمور-لیستے بھی شامل ہے، جو اکتوبر 2025ء میں اس کا رکن بنا، زرعی تنوع اور ترقی کے بے پناہ امکانات کے حامل خطے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آسیان کے زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں، جبکہ بھارت کے زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں سے افرادی قوت کا تقریباً 46 فیصد وابستہ ہے۔
دونوں خطوں میں کھیت زیادہ تر چھوٹے اور بکھرے ہوئے ہیں، پیداوار اب بھی بڑی حد تک مانسون کی بارشوں سے متاثر ہوتی ہے، جبکہ مشترکہ فصلیں اور ماحولیاتی نظام سرحدوں کے آرپار پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں چاول، دالیں، پھل اور مصالحہ جات سے لے کر مویشی، ماہی گیری، مینگرووز اور جنگلات تک شامل ہیں۔ دونوں خطے موسمی تغیرات، سرحد پار منتقل ہونے والے حیوانی اور نباتاتی کیڑوں و بیماریوں اور فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے مسلسل نقصانات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
یہ مشترک خصوصیات زرعی علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لئے خاص طور پر سازگار ہیں اور بھارت۔آسیان وسط مدتی لائحۂ عمل 2026ء تا 2030ء کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ یہ منصوبہ آسیان کے نئے غذائی، زرعی اور جنگلاتی شعبہ جاتی منصوبہ 2026ء تا 2030ء سے ہم آہنگ ہے، جس میں پائیداری، کاربن اخراج میں کمی، غذائی تحفظ، تجارتی رابطہ کاری، رقومی جدت طرازی اور پائیدار جنگلاتی انتظام پر مشتمل 6 حکمتِ عملی کے بنیادی رخ شامل ہیں۔
بھارت کا زرعی علمی اور تکنیکی اثاثہ
اس شراکت داری میں بھارت کا تعاون دنیا کے سب سے بڑے سرکاری مالی اعانت یافتہ زرعی تحقیق اور توسیعی نظاموں میں سے ایک پر مبنی ہے۔ اس نظام میں بھارتی کونسل برائے زرعی تحقیق (آئی سی اے آر) کے تحت 114 تحقیقی ادارے اور بیورو، 80 زرعی جامعات اور ضلع سطح پر 731 توسیعی مراکز (کرشی وگیان کیندر) شامل ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران اس نظام نے 3,800 سے زیادہ فصلوں کی اقسام متعارف کرائی ہیں، جن میں تقریباً 3,100 اقسام خاص طور پر موسمیاتی لچک کے لئے تیار کی گئی ہیں، جبکہ تقریباً 200 اقسام میں غذائی خصوصیات کو بہتر بنایا گیا ہے۔ اس نظام کو ایک قومی جین بینک کی بھی معاونت حاصل ہے، جس میں تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار جینیاتی ذخیرے محفوظ ہیں۔
بھارت کی زرعی تبدیلی کا پیمانہ اس کی پیداوار میں ہونے والے اضافے سے نمایاں ہوتا ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار2015-14ءمیں تقریباً 25 کروڑ 20 لاکھ ٹن سے بڑھ کر2025-26ء میں اندازاً 37 کروڑ 70 لاکھ ٹن ہوگئی ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران دودھ کی پیداوار تقریباً 14 کروڑ 60 لاکھ ٹن سے بڑھ کر تقریباً 24 کروڑ 80 لاکھ ٹن ہوگئی۔ ماہی گیری کے شعبے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیداوار تقریباً دوگنی ہوکر تقریباً 2 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جس سے اندازاً 3 کروڑ افراد کے روزگار اور معاش کو سہارا ملتا ہے، جبکہ 49 اقسام کی پنکھ دار اور صدف دار مچھلیوں کے لئے افزائش کی ٹیکنالوجیاں تیار کی گئی ہیں۔
یہی وہ مہارت ہے جو بھارت اس شراکت داری میں لے کر آتا ہے۔ یہ کسی برتری کا دعویٰ نہیں بلکہ ایک وسیع اور اہم علمی و تکنیکی وسائل کا مجموعہ ہے، جو ایسے زرعی و ماحولیاتی حالات سے تشکیل پایا ہے جو جنوب مشرقی ایشیا کے بیشتر علاقوں سے گہری مماثلت رکھتے ہیں۔
تعاون عملی طور پر کیا نتائج فراہم کرتا ہے
تحقیقی بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر اس شراکت داری کا زیادہ ٹھوس اور نمایاں کردار انسانی وسائل کی تعمیر اور زمینی سطح پر توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے میں رہا ہے۔ آسیان۔بھارت فیلوشپ پروگرام رکن ممالک کے طلبہ کو بھارت کی ممتاز زرعی جامعات میں بعد از گریجویشن تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جہاں انہیں ان شعبوں میں تحقیق اور مہارت سے روشناس کرایا جاتا ہے جن کی شناخت علاقائی ترجیحات کے طور پر کی گئی ہے۔
بھارت کے اپنے توسیعی اقدامات بھی اس بات کی مثال پیش کرتے ہیں کہ اس طرح کے تعاون کو عملی میدان میں کس بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاسکتا ہے۔ وِکسِت کرشی سنکلپ ابھیان کے ذریعے 13 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ کسانوں تک رسائی حاصل کی گئی اور تحقیق و پالیسی پر توجہ دینے کے لئے 500 سے زیادہ ترجیحی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ اس سے متعلق ایک عوامی رابطہ مہم کے تحت 1 لاکھ 34 ہزار سے زیادہ پروگرام منعقد کیے گئے، 6,650 سے زیادہ تربیتی نشستیں منعقد ہوئیں اور 728 اضلاع میں 1 لاکھ سے زیادہ عملی مظاہرے کیے گئے، جبکہ اس کی رقومی عوامی رسائی تقریباً 5 کروڑ متعلقہ افراد تک پہنچی۔
یہ داخلی تجربات آسیان کے لئے صرف اپنے بڑے پیمانے کی وجہ سے اہم نہیں ہیں، بلکہ اس لئے بھی قابلِ قدر ہیں کہ یہ نسبتاً کم لاگت اور وسیع رسائی پر مبنی زرعی توسیعی نمونوں کی مثالیں پیش کرتے ہیں، جنہیں پورے خطے کے چھوٹے اور محدود رقبے پر کاشت کرنے والے کسانوں کے نظام کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔ موقع اس بات کا ہے کہ وزارتی اور تحقیقی اداروں کے درمیان محض باہمی تبادلے سے آگے بڑھا جائے اور ایسے طریقۂ کار وضع کیے جائیں جو علم، ٹیکنالوجی اور تربیت کو صرف تجارتی ذرائع تک محدود رکھنے کے بجائے ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے براہِ راست کسانوں تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائیں۔
شراکت داری میں ابھی کہاں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے: تحقیق سے زمینی سطح پر اثرات تک
ایک دیانت دارانہ جائزہ یہ ہے کہ یہ تعاون اب بھی بڑی حد تک تحقیقی اداروں، جامعات اور وزارتوں تک محدود ہے، جبکہ ان تعاونی انجمنوں، کسان پیداوار تنظیموں اور مقامی زرعی توسیعی نظاموں تک اس کی رسائی نسبتاً محدود ہے، جو بڑے پیمانے پر اس کے فوائد کو انفرادی کھیتوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس وقت سات موضوعاتی شعبے تکنیکی تعاون کی بنیاد ہیں: غذائی اور غذائیت کا تحفظ؛ پائیدار جنگلات اور مینگرووز کا انتظام؛ تجدیدی اور موسمیاتی لچک دار زراعت؛ مویشی، ڈیری اور حیوانی صحت؛ ماہی گیری اور نیلی معیشت؛ فصلوں کی کٹائی کے بعد انتظام اور قدر کی زنجیریں اور رقومی زراعت۔ ان میں سے ہر شعبہ مزید گہرے تعاون کے لئے ایک قابلِ اعتماد بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اگلا قدم مضبوط ادارہ جاتی پیروی ہونا چاہیے: آسیان کے حالات میں دباؤ برداشت کرنے والی فصلوں کی اقسام کے مختلف مقامات پر تجربات، کیڑوں اور بیماریوں کی نگرانی کے لئے عملی مشترکہ طریقۂ کار، اور فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کی پیمائش کے لئے مشترکہ طریقۂ کار وضع کیے جائیں تاکہ مختلف ممالک کے درمیان بامعنی موازنہ ممکن ہوسکے۔ ماہی گیری اور جنگلات سے وابستہ برادریاں، جن کے معاش براہِ راست ان شعبوں سے متعلق فیصلوں سے متاثر ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے تعاون سے فائدہ اٹھائیں گی جو تحقیقی تبادلے سے آگے بڑھ کر عملی اور زمینی سطح پر معاونت فراہم کرے۔
شراکت داری کا پیمانہ اس سے طے ہو کہ یہ کیا فراہم کرتی ہے، نہ کہ یہ کیا اعلان کرتی ہے
لہٰذا نویں آسیان۔بھارت وزارتی اجلاس برائے زراعت و جنگلاتکا جائزہ اس کے مشترکہ اعلامیے کی زبان سے نہیں بلکہ اس بات سے لیا جانا چاہیے کہ اجلاس کے بعد عملی طور پر کیا ہوتا ہے۔ خاص طور پر بھارت اور آسیان میں زراعت کے وسیع پیمانے کو مدنظر رکھتے ہوئے، اصل کسوٹی یہ ہے کہ آیا 2026ء تا 2030ء کے لائحۂ عمل کے دوران تعاون قابلِ پیمائش نتائج فراہم کرتا ہے یا نہیں۔
اس کے لئے کچھ ٹھوس سوالات پوچھنے ہوں گے: آسیان کے حالات میں بھارت کی فصلوں کی کتنی اقسام کے تجربات کیے جاتے ہیں اور انہیں کتنی تعداد میں اختیار کیا جاتا ہے؟ آسیان کے کتنے فیلوشپ پروگرام سے فارغ التحصیل طلبہ اپنے ممالک واپس جاکر اپنے قومی زرعی نظاموں کو مضبوط بناتے ہیں؟ کیا کیڑوں اور بیماریوں کی مشترکہ نگرانی اور فصلوں کی کٹائی کے بعد کے انتظام سے متعلق مشترکہ طریقۂ کار طے شدہ خاکوں سے آگے بڑھ کر معمول کے عملی طریقۂ کار کا حصہ بنتے ہیں؟ اور کیا بھارت کے آزمودہ زرعی توسیعی نمونوں کو آسیان کی چھوٹے کاشت کاروں پر مبنی معیشتوں کے مطابق بامعنی انداز میں ڈھالا جاتا ہے؟
یہ نتائج اس ہفتے نئی دہلی میں دکھائی نہیں دیں گے۔ یہ وقت کے ساتھ کھیتوں، تجربہ گاہوں اور اداروں میں سامنے آئیں گے اور بالآخر دسویں آسیان۔بھارت وزارتی اجلاس برائے زراعت و جنگلاتمیں پیش کیے جانے والے شواہد کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ شراکت داری کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ بھی یہی ہونا چاہیے: بھارت اور آسیان بھر کے کسانوں اور دیہی برادریوں کے معاش، موسمیاتی و دیگر مشکلات کے مقابلے میں لچک، پیداواریت اور آمدنی میں بہتری۔
(مضمون نگاران بالترتیب محکمہ زرعی تحقیق و تعلیمکے سکریٹری و بھارتی کونسل برائے زرعی تحقیقکے ڈائریکٹر جنرل اور معاون ڈائریکٹر جنرل (بین الاقوامی تعلقات)، نئی دہلی ہیں۔ اظہار کیے گئے خیالات ذاتی ہیں۔)


