
اختر جمال عثمانی
ملک کی معیشت کے بارے میں سب سے زیادہ جس لفظ کا ذکر ہو رہا ہے، وہ ہے جی ڈی پیGDP۔ حکومت کے لئے 7.8 فیصد کی شرح خوشی اور اطمینان کی بات ہے، وزیراعظم نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ملک کو مبارک باد دی ہے، لیکن دوسری طرف اپوزیشن اس کو زمینی حقیقت سے دور قرار دے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر ملک کی معیشت واقعی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تو پھر عام آدمی کی زندگی میں اس ترقی کے اثرات کیوں نظر نہیں آ رہے۔ مہنگائی کیوں محسوس ہو رہی ہے، روزگار کے مواقع کیوں کم ہیں، نوجوان پریشان کیوں ہیں، لوگوں کی قوت خرید کیوں کم ہو رہی ہے اور بہت سے خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے سرکاری راشن اور قرض پر کیوں انحصار کر رہے ہیں۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جی ڈی پی آخر ہوتی کیا ہے۔ جی ڈی پی یعنی Gross Domestic Product کسی ملک کی ایک مقررہ مدت، عموماً ایک سال یا تین ماہ میں پیدا ہونے والی تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی مالی قیمت کو کہتے ہیں۔ سادہ زبان میں کہیں تو ملک میں ایک خاص مدت کے دوران جتنی چیزیں تیار ہوئیں اور جتنی خدمات فراہم کی گئیں، ان سب کی مجموعی قیمت کو جی ڈی پی کہا جاتا ہے۔ اس میں کھانے پینے کی چیزیں، کپڑے، گاڑیاں، مشینیں، تعمیرات، بجلی، ٹرانسپورٹ، بینکنگ، تجارت، ہوٹل، مواصلات، صحت، تعلیم اور بہت سی دوسری خدمات شامل ہوتی ہیں۔جی ڈی پی کسی ملک کی معیشت کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مجموعی معیشت کس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جی ڈی پی کسی ملک کے ہر شہری کی خوشحالی کا مکمل پیمانہ نہیں ہے۔ جی ڈی پی بڑھ سکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ اسی رفتار سے عام آدمی کی آمدنی بھی بڑھے۔ اگر دولت چند ہاتھوں میں زیادہ جمع ہو جائے، بڑی کمپنیوں کے منافع بڑھ جائے لیکن چھوٹے کاروبار اور عام ملازمین مشکلات کا شکار ہوں تو صرف جی ڈی پی کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرلینا کہ ملک کے تمام لوگ خوشحال ہو گئے ہیں، درست نہیں ہوگا۔
مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی معیشت کے تمام شعبوں کی حالت ایک جیسی نہیں ہے۔ اگر شعبہ وار اعداد و شمار دیکھے جائیں تو کئی شعبوں میں سستی نظر آتی ہے۔ ۔ تعمیرات، کانکنی اور کھدائی کے شعبے ،بجلی، گیس، پانی کی فراہمی اور دوسری ضروری خدمات کے شعبے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہت زیادہ کمی دیکھی گئی۔ ہاں مینوفیکچرنگ یعنی پیداوار کے شعبے کی کارکردگی نسبتاً مستحکم رہی۔ اعداد و شمار پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر موجودہ سال کی اقتصادی سرگرمی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے نئے اعداد و شمار کے لئے بنیادی سال تبدیل کیا گیا ہے اور بہتر اعداد و شمار، نئے ذرائع اور بہتر طریقہ کار کو شامل کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے پرانے اعداد و شمار میں بھی نظرثانی کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی معمول کا حصہ ہے اور یہ کہنا درست نہیں کہ موجودہ سال کی شرح کو زیادہ دکھانے کے لئے گزشتہ سال کے اعداد و شمار کو جان بوجھ کر کم کیا گیا ہے۔ لیکن عام آدمی کے لئے یہ ساری تکنیکی بحث بہت مشکل ہے۔ وہ بنیادی پیچیدگیوں سے زیادہ واقف نہیں ہوتا۔ اس کے لئے اصل سوال بہت سادہ ہے کہ اس کی اپنی زندگی آسان ہوئی ہے یا مزید مشکلیں بڑھی ہیں۔ اسی بنیاد پر اپوزیشن نے سوال اٹھئے ہیں ۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’لائٹ، کیمرہ مگر کوئی ایکشن نہیں‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت جی ڈی پی کی شرح پر جشن منا سکتی ہے، لیکن عام آدمی بے روزگاری، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات سے پریشان ہے۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے جی ڈی پی کے سرکاری دعووں کو ’’کاغذی شیر کی کاغذی ترقی‘‘ قرار دیا، جبکہ جے رام رمیش نے حکومت پر اعداد و شمار کی شعبدہ بازی کا الزام لگایا ہے۔
کانگریس کے دیگر لیڈران نے بھی جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر معیشت واقعی اتنی مضبوط ہے تو اس کے اثرات عام لوگوں کی زندگی میں کیوں نظر نہیں آ رہے ہیں ان کا سوال ہے کہ اگر معیشت مضبوط ہے تو لوگوں کو اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض لینے کی نوبت کیوں پیش آ رہی ہے اورنوجوانوں کے لئے روزگار کے مناسب مواقع کیوں پیدا نہیں ہو رہے۔ اپوزیشن ہی نہیں ملک کے عام شہری بھی یہی سوال پوچھ رہے ہیں ۔ وہ ٹی وی پر جی ڈی پی کی شرح سن کر خوش ہو جاتے ہیں ، لیکن جب بازار جاتے ہیں تو مہنگائی کا سامنا ہوتا ہیں۔ بچے بے روزگار ہیں، گھر چلانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ جب علاج کے لئے اسپتال جا تے ہیں تو اخراجات بس کے باہر ہوتے ہیں ۔ اور بچوں کی تعلیم کا خرچ تو بس اللہ کی پناہ۔ لوگوں کا سمجھ پانا مشکل ہے کہ اگر ملک کی معیشت 7.8 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے تو ان کی اپنی زندگی میں آسانی کیوں نہیں آ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند بڑی کمپنیوں کے منافع بہت بڑھ گئے اور مجموعی اقتصادی سرگرمی بھی تیز ہوگئی۔ اس سے جی ڈی پی توبڑھی ہے لیکن عام آدمی کے لئے یہ ترقی زیادہ معنی نہیں رکھتی۔معاشی ترقی کا اصل فائدہ تب ہے جب اس سے لوگوں کی زندگی آسان ہو۔ اگر آمدنی بڑھے، روزگار کے مواقع بڑھیں، مہنگائی قابو میں رہے، بچوں کی تعلیم اور علاج عام آدمی کی پہنچ میں ہوں، چھوٹے کاروبار چلیں اور لوگوں کے پاس اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے بعد کچھ رقم بچانے کے لئے بھی ہو تو اسے حقیقی معاشی ترقی کہا جا سکتا ہے۔
یہاں مہنگائی کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ اگر کسی شخص کی آمدنی میں پانچ فیصد اضافہ ہو، لیکن اس کی ضروری اشیا کی قیمتیں دس فیصد بڑھ جائیں تو کاغذ پر اس کی آمدنی تو بڑھی، لیکن حقیقت میں اس کی حالت خراب ہوگئی۔ اسی لئے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ لوگوں کی آمدنی کتنی بڑھی بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ چیزوں کی قیمتیں کتنی بڑھیں ۔آج عام خاندان کے اخراجات میں کھانے پینے کی اشیا، بجلی، مکان کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، علاج، سفر اور دوسری بنیادی ضروریات شامل ہیں۔ اگر ان سب چیزوں کے اخراجات تیزی سے بڑھتے جائیں اور آمدنی اس رفتار سے نہ بڑھے تو لوگوں کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے۔ یہی قوت خرید دراصل عام آدمی کی معاشی حالت کا ایک بڑا پیمانہ ہے۔بے روزگاری بھی اس پوری بحث کا اہم حصہ ہے۔ اگر نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی برسوں روزگار کی تلاش میں بھٹکتے رہیں تو صرف جی ڈی پی کے بڑھنے سے اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔ حکومت کی طرف سے غریب خاندانوں کو مفت یا سستا راشن فراہم کرنا ایک ضروری سہارا ہے۔ اس سے کروڑوں لوگوں کو بھوک سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن مقصد یہ ہونا چاہیے کہ لوگوں کی آمدنی اور روزگار اس قدر بہتر ہوں کہ انہیں سرکاری راشن پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ مفت راشن مشکل وقت میں سہارا ہوسکتا ہے، لیکن مستقل خوشحالی کا راستہ روزگار، بہتر آمدنی، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع سے نکلتا ہے۔جی ڈی پی واقعی ایک اہم معاشی پیمانہ ہے لیکن اسے ملک کی مکمل خوشحالی کا واحد پیمانہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔حکومت اگر 7.8 فیصد جی ڈی پی کی شرح نمو پر خوشی کا اظہار کرتی ہے تو یہ اس کا حق ہے، لیکن اسی کے ساتھ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ کا فائدہ عام آدمی تک کس طرح پہنچ رہا ہے۔ اپوزیشن اگر ان اعداد و شمار پر سوال اٹھاتی ہے تو اسے بھی صرف سیاسی الزام لگانے کے بجائے متبادل معاشی پالیسی کے ساتھ اپنی بات عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ آخرکار عوام کو اعداد و شمار کی لڑائی سے زیادہ اپنے حالات کی فکر ہے۔ اسے اس بات سے زیادہ فرق پڑتا ہے کہ گھر کا چولہا آسانی سے جل رہا ہے یا نہیں، بچے کو اچھی تعلیم مل رہی ہے یا نہیں، علاج کا خرچ برداشت ہورہا ہے یا نہیں، نوجوان کو روزگار مل رہا ہے یا نہیں، کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت مل رہی ہے یا نہیں اور مہینے کے آخر میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کے بعد جیب میں کچھ بچ رہا ہے یا نہیں۔اگر ملک کی جی ڈی پی 7.8 فیصد ہی کیا، 10 فیصد ہو یا 15 فیصد ہو تو بھی صرف ایک بڑے عدد سے لوگوں کی پریشانی ختم نہیں ہوسکتی۔ معیشیت کی زمینی حقیقت اگرجی ڈی پی کے مطابق ہو اور سب کو ترقی کا فائدہ ملے تو پھر 7.8 فیصد جی ڈی پی واقعی جشن منانے کی خبر ہوگی۔


