سرینگر، 7 ستمبر:
شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) میڈیکل کالج، بیمینہ کے ایم بی بی ایس 2021 بیچ کے انٹرن ڈاکٹروں نے پیر کے روز سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ انہوں نے اپنے ماہانہ وظیفے (اسٹائپنڈ) میں اضافے کے مطالبے پر جاری احتجاج کو تیز کرتے ہوئے انتظامیہ سے باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری کرنے پر زور دیا ہے۔
احتجاجی انٹرنز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ انتظامیہ کے ساتھ مسلسل مذاکرات کے باوجود کوئی باضابطہ تحریری حکم سامنے نہ آنے کے بعد لیا گیا ہے۔
انٹرنز کے مطابق بار بار کے مباحثوں اور زبانی یقین دہانیوں کے باوجود وظیفے کے نظرِ ثانی شدہ احکامات جاری نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے انہیں احتجاج میں شدت لانے پر مجبور ہونا پڑا۔
انٹرنز نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا: "کوئی تحریری حکم نہیں — تو کوئی احتجاج کا خاتمہ نہیں”۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری نہیں کیا جاتا اور اس عمل کو تیز نہیں بنایا جاتا۔
احتجاجی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ مطالبہ انصاف، وقار اور انٹرن ڈاکٹروں کی جانب سے انجام دی جانے والی خدمات اور ذمہ داریوں کا مناسب معاوضہ حاصل کرنے سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ایک سرکاری اور تحریری حکم جاری کر کے اس تعطل کو ختم کریں۔
یہ بھوک ہڑتال جموں و کشمیر کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کی جانب سے اپنے ماہانہ وظیفے کو بڑھا کر ₹30,000 کرنے کے مطالبے پر کی جانے والی وسیع تر تحریک کا حصہ ہے۔
انٹرنز کا موقف ہے کہ محض زبانی یقین دہانیاں اب کافی نہیں ہیں اور جب تک حکومت کی جانب سے باضابطہ حکم نامہ جاری نہیں ہوتا، یہ تحریک جاری رہے گی۔
انٹرنز نے کہا: "ہم بات چیت چاہتے ہیں۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ ہم تحریری حکم چاہتے ہیں۔”
اسکِمز بیمینہ کے انٹرن ڈاکٹروں نے اعادہ کیا کہ اس بھوک ہڑتال کا مقصد مسئلے کا جلد حل تلاش کرنا ہے نہ کہ مذاکراتی عمل کو ختم کرنا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ صرف مزید یقین دہانیوں کی بنیاد پر احتجاج واپس نہیں لیا جائے گا۔


