جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر، 7 ستمبر 2026: معروف عالمِ دین، مصلحِ سماج، فقیہ اور انجمن شرعی شیعان کے بانی آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کی 44ویں برسی کے موقع پر تبین قرآنک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، حسن آباد، سرینگر میں ایک یادگاری پروگرام اور پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔
پروگرام میں آغا سید یوسف موسویؒ کی دینی و علمی خدمات، قانونی و عدالتی کردار، سماجی اصلاحات، تعلیمی اداروں کے قیام اور سیاسی و سماجی ورثے پر گفتگو کی گئی۔ پینل ڈسکشن کا عنوان ’’آیت اللہ آغا سید یوسف موسوی کا طاقت کے ڈھانچوں میں اصلاحی سفر: مسندِ قضا سے سیاست کے میدان تک‘‘ تھا۔
پروگرام میں ڈاکٹر منظور احمد ٹھوکر، آغا سید مظفر حسین رضوی، صحافی ارشاد حسین اور سماجی کارکن حکیم سہیل عباس نے شرکت کی اور آغا سید یوسف موسویؒ کی زندگی اور خدمات کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ تقریب کا آغاز بین الاقوامی شہرت یافتہ قاریِ قرآن اعجاز حسین صوفی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔
ڈاکٹر منظور احمد ٹھوکر نے انجمن شرعی شیعان کے تاریخی پس منظر اور ادارہ جاتی ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے مذہبی، سماجی اور اجتماعی معاملات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے نچلی سطح پر تنظیم کی رسائی اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صحافی ارشاد حسین نے آغا سید یوسف موسویؒ کی سیاسی، سماجی اور معاشی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کشمیر میں شرعی عدالتوں کے قیام اور ان کے مؤثر نظام میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آغا صاحب کی علمی و ادبی خدمات کو صرف تاریخ کے صفحات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل، خصوصاً جن زیڈ، ان کی شخصیت اور خدمات سے واقف ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ولایتِ فقیہ کا تصور بھی آغا سید یوسف موسویؒ کی کوششوں اور اثر و رسوخ کے ذریعے کشمیر میں متعارف ہوا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید مظفر حسین رضوی نے آغا سید یوسفؒ کے علمی ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے باب العلم مدرسہ میں اپنے مختصر قیام کا ذکر کیا۔ انہوں نے آغا صاحب کی تصنیفات، بالخصوص ’’ایقاظ العباد‘‘ کو ان کا اہم علمی شاہکار قرار دیا۔ انہوں نے تقریباً سات دہائیاں قبل جاری ہونے والے ماہنامہ ’’الرشاد‘‘ کا بھی ذکر کیا، جس میں دنیا بھر کے ممتاز علما نے قلم اٹھایا۔ آغا صاحب کی زاہدانہ زندگی اور تقویٰ سے متعلق متعدد واقعات بھی بیان کیے گئے۔
سماجی کارکن حکیم سہیل عباس نے آغا سید یوسف موسویؒ کی علمی بصیرت، قائدانہ صلاحیتوں، اصلاحی فکر اور باب العلم جیسے دینی اداروں کے قیام کے ذریعے معاشرے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آغا صاحب کے قائم کردہ مذہبی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے سے بھی لیس کیا جانا چاہیے۔
شرکا نے زور دیا کہ آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کی زندگی اور خدمات کو تحقیقی مطالعات، آرکائیول ریکارڈ اور زبانی تاریخ کے ذریعے محفوظ کیا جائے، تاکہ مذہب، فقہ، سماجی اصلاح اور سیاسی فکر کے میدان میں ان کے کردار پر مزید تحقیق ممکن ہو۔
پروگرام کے اختتام پر آغا سید عابد حسینی نے اظہارِ تشکر کیا اور علما، دانشوروں، صحافیوں، محققین اور دیگر شرکا کا پروگرام میں شرکت اور آغا سید یوسف موسویؒ کی خدمات پر گفتگو میں حصہ لینے پر شکریہ ادا کیا۔


