
یوسف شمسی
قوم پرستی، حب الوطنی اور قومی شناخت کے اظہار کے اپنے اپنے انداز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اظہار نعروں، ترانوں اور علامتوں کے ذریعے سامنے آتا ہے اور کبھی تقریروں، افکار اور عملی کردار کے ذریعے۔ ہندوستان کی سیاسی و سماجی زندگی میں ’’جے شری رام‘‘، ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ اور ’’وندے ماترم‘‘ ایسے الفاظ اور نعرے ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے قوم پرستی اور ایک مخصوص سیاسی و ثقافتی رحجان کے ساتھ گہرے طور پر جڑ چکے ہیں۔
ایسے میں جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت امریکہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہیں اور اپنی پوری تقریر کے آغاز یا اختتام پر ان معروف نعروں میں سے کسی ایک کا بھی استعمال نہیں کرتے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟
کیا امریکہ کی سرزمین پر حب الوطنی کے اظہار کا انداز بدل جاتا ہے؟ کیا قوم پرستی کا لہجہ ملک کے اندر کچھ اور اور بیرونِ ملک کچھ اور ہو جاتا ہے؟ یا پھر یہ محض ایک شعوری حکمتِ عملی تھی تاکہ عالمی سامعین کے سامنے ہندوستان کی ایک زیادہ جامع، وسیع اور کثیر مذہبی تصویر پیش کی جا سکے؟
یہ سوال کسی ایک فرد کے بارے میں نہیں بلکہ ہندوستانی قوم پرستی کے موجودہ تصور اور اس کے اظہار کے طریقۂ کار کے بارے میں ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حب الوطنی صرف نعروں کی محتاج نہیں۔ کوئی شخص ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کہے بغیر بھی اپنے ملک سے بے پناہ محبت کر سکتا ہے، اور کوئی شخص بڑے جوش و خروش سے قومی نعرے لگانے کے باوجود اپنے عمل سے ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ قوم پرستی کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے؛ جب ملک کے مفاد اور ذاتی مفاد میں ٹکراؤ ہو، جب اختلافِ رائے کو برداشت کرنا پڑے، جب کمزور اور اقلیت میں موجود شہری کے حقوق کا دفاع کرنا ہو اور جب یہ ثابت کرنا ہو کہ ملک صرف اکثریت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی تقریر میں قومی نعرے کا نہ ہونا بذاتِ خود حب الوطنی کی نفی نہیں کرتا۔ لیکن سوال اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب وہی نعرے ملک کے اندر قومی وفاداری کے اظہار کا ایک نمایاں پیمانہ بنا دیے گئے ہوں۔
موہن بھاگوت کی حالیہ امریکی تقریر کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اتحاد، تنوع، انسانیت اور ہندوستانی تہذیبی اقدار پر زور دیا۔ سب سے زیادہ توجہ اس بیان نے حاصل کی کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ حقیقی معنوں میں ہندو نہیں ہے۔ انہوں نے مذہب کے اختلاف کے باوجود انسانیت کی وحدت اور باہمی احترام کی بات کی۔
یہ بیان بلاشبہ قابلِ ذکر ہے۔ خصوصاً اس لئے کہ موجودہ دور میں ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات مسلسل سیاسی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب مذہبی شناخت کو سیاست کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا ہو، ار ایس ایس سربراہ کی جانب سے یہ کہنا کہ ہندوستان مسلمانوں سے خالی نہیں ہو سکتا، ایک اہم پیغام سمجھا جا سکتا ہے۔
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ بات صرف امریکہ میں کہی جانے والی بات ہے، یا ہندوستان کے اندر بھی اسی شدت اور وضاحت کے ساتھ اس کا عملی اثر دکھائی دیتا ہے؟
کیونکہ ہندوستانی مسلمان صرف یہ سننا نہیں چاہتے کہ انہیں ہندوستان میں رہنے کا حق حاصل ہے؛ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہیں ملک کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی دھارے میں کس حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔
یہاں RSS اور موہن بھاگوت کے مسلمانوں کے بارے میں رویے کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ بھاگوت نے گزشتہ برسوں میں متعدد مواقع پر مسلمانوں کے ساتھ مکالمے اور ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 2025 میں انہوں نے کہا کہ سنگھ کسی کے خلاف نہیں ہے، عبادت کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں مگر ہندوستانی شناخت مشترک ہے اور مسلمانوں کو یہ خوف چھوڑنا چاہیے کہ دوسروں کے ساتھ ملنے سے ان کا اسلام ختم ہو جائے گا۔
اسی طرح 2026 میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندو مسلم اتحاد ہندوستان میں ہمیشہ موجود رہا ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے، نیز اس مقصد کے لئے مکالمہ ضروری ہے۔
ار ایس ایس کی طرف سے مسلم مذہبی شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں اور مکالمے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔ 2025 میں ار ایس ایس کے سینئر رہنماؤں اور مسلم علما کے درمیان ملاقات میں مندر و مسجد، امام و پجاری اور مدرسہ و گروکل کی سطح پر باقاعدہ مکالمے کی تجویز سامنے آئی تھی۔
یہ پہلو ار ایس ایس اور موہن بھاگوت کے موقف کی ایک تصویر پیش کرتا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ار ایس ایس کی بنیادی فکری اصطلاحات میں ’’ہندو سماج‘‘، ’’ہندو راشٹر‘‘ اور مشترکہ تہذیبی ورثہ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ خود ار ایس ایس کی جانب سے شائع شدہ بھاگوت کے بیانات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ سنگھ ’’ہندو‘‘ کی اصطلاح کو صرف عبادت کے طریقے کے معنوں میں نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیبی شناخت کے طور پر دیکھتا ہے۔ بھاگوت نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلمان اور عیسائی ہندوستان کے بیٹے ہیں، مگر انہیں اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے وسیع تر ’’ہندو سماج‘‘ کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
یہیں سے مسلم حلقوں کا بنیادی سوال شروع ہوتا ہے۔
ایک مسلمان کے لئے یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’آپ ہندوستانی ہیں‘‘؛ وہ یہ بھی پوچھے گا کہ کیا اس کی ہندوستانیت کو ثابت کرنے کے لئے اسے اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت کو کسی دوسری اصطلاح میں ضم کرنا ضروری ہے؟
اگر ایک مسلمان خود کو مسلمان بھی سمجھتا ہے اور ہندوستانی بھی، تو کیا اسے ’’ہندو سماج‘‘ کا حصہ ماننے کے لئے اپنی مذہبی شناخت کو ایک وسیع تر تہذیبی تعریف میں قبول کرنا ہوگا؟
یہ ایک فکری سوال ہے، اور اسے جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے سے حل کیا جانا چاہیے۔
موہن بھاگوت نے 2025 میں یہ بھی کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت مختلف مذاہب کے لوگ سنگھ کی شاخ میں آسکتے ہیں، مگر وہاں انہیں ’’بھارت ماتا کے بیٹے‘‘ اور ’’ہندو سماج‘‘ کے رکن کے طور پر آنا ہوگا۔
یہ بیان ایک طرف ار ایس ایس کے دروازے کو مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والوں کے لئے کھولنے کی بات کرتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی چھوڑ جاتا ہے کہ کیا شمولیت کا مطلب برابری ہے یا کسی مخصوص تہذیبی تعریف کو قبول کرنا؟
یہ فرق معمولی نہیں ہے۔
ہندوستانی مسلمان کی خواہش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ اسے اکثریتی معاشرے کی مہربانی سے قبول کیا جائے؛ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ اسے ایک برابر کے شہری کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ اسے اپنی وفاداری، حب الوطنی اور ہندوستانیت بار بار ثابت نہ کرنا پڑے۔
اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ ار ایس ایس اور اس کے نظریات کے ناقدین طویل عرصے سے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ ہندو قوم پرستی کی سیاست نے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے بارے میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا ہے۔ امریکہ میں موہن بھاگوت کے حالیہ دورے کے دوران بھی بعض انسانی حقوق اور بین المذاہب تنظیموں نے اسی بنیاد پر احتجاج کیا، جبکہ ار ایس ایس اپنے آپ کو ثقافتی اور قومی اتحاد کی تحریک قرار دیتا ہے۔
لہٰذا معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ ایک طرف ار ایس ایس مکمل طور پر مسلمانوں کا مخالف ہے اور دوسری طرف وہ مکمل طور پر مسلمانوں کے حق میں ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ار ایس ایس اور موہن بھاگوت کی حالیہ گفتگو میں مسلمانوں کے ساتھ مکالمہ، اتحاد اور بقائے باہمی کے واضح اشارے بھی ملتے ہیں، لیکن ’’ہندو سماج‘‘ اور ’’ہندو راشٹر‘‘ کی بنیادی فکری تعبیر اب بھی ایسے سوالات پیدا کرتی ہے جن کا جواب مسلم معاشرہ اور ہندوستانی جمہوریت دونوں چاہتے ہیں۔
یہاں واپس امریکہ کی تقریر کی طرف آنا ضروری ہے۔
اگر ہندوستان میں قوم پرستی کے اظہار کے لئے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘، ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’جے شری رام‘‘ جیسے نعروں کو بعض حلقوں میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن امریکہ میں ار ایس ایس کا سربراہ ان نعروں کے بجائے انسانیت، تنوع، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کی زبان اختیار کرتا ہے، تو اس تبدیلی پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
اگر یہ عالمی سطح پر ہندوستان کا اصل چہرہ ہے تو پھر یہی چہرہ ہندوستان کے اندر بھی کیوں نہ دکھائی دے؟
اگر دنیا کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت ’’تنوع میں اتحاد‘‘ ہے تو ہندوستان کے اندر موجود مسلمان، عیسائی، سکھ، بودھ، جین اور دیگر اقلیتیں بھی اسی اتحاد کو اپنی عملی زندگی میں کیوں نہ محسوس کریں؟
اگر امریکہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہ چاہنے والا شخص حقیقی ہندو نہیں، تو ہندوستان میں بھی یہی بات اس وقت زیادہ معتبر ہوگی جب ہر مسلمان کو بلا خوف یہ احساس ہو کہ وہ اس ملک کا برابر کا مالک اور شہری ہے۔
قوم پرستی کی سب سے خوب صورت شکل وہ ہے جس میں اکثریت کو اپنی اکثریت پر فخر ہو، لیکن اقلیت کو اپنی اقلیت ہونے پر خوف نہ ہو۔
یہاں ایک اور بنیادی بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی تہذیب کسی ایک صدی، کسی ایک مذہب یا کسی ایک سیاسی جماعت کی پیداوار نہیں۔ اس سرزمین کی تاریخ میں ہندو، مسلمان، سکھ، بدھ، جین، عیسائی، پارسی اور دیگر برادریوں کی مشترکہ شرکت رہی ہے۔ آزادی کی تحریک میں بھی مختلف مذہبی اور سماجی طبقات نے قربانیاں دی ہیں۔
اس لئے ہندوستانی قوم پرستی کو اگر واقعی عالمی سطح پر ایک مثال بننا ہے تو اسے کسی ایک مذہبی شناخت کی بالادستی سے نہیں بلکہ برابر کی شہریت سے اپنی طاقت حاصل کرنا ہوگی۔
’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کہنے والا بھی محب وطن ہو سکتا ہے اور یہ نعرہ نہ کہنے والا بھی۔ ’’وندے ماترم‘‘ پڑھنے والا بھی ہندوستان سے محبت کر سکتا ہے اور خاموش رہنے والا بھی۔ ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگانے والے کی حب الوطنی اپنی جگہ، مگر اس نعرے سے اختلاف کرنے والے کی ہندوستانیت بھی اپنی جگہ مسلم ہونی چاہیے۔
یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں موہن بھاگوت کی امریکہ میں تقریر ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے۔ اگر قوم پرستی کا اصل پیغام انسانیت، اتحاد، تنوع اور باہمی احترام ہے تو پھر قوم پرستی کو نعروں کے بجائے کردار سے کیوں نہ پہچانا جائے؟
کیوں نہ یہ دیکھا جائے کہ کون شخص اپنے سے مختلف مذہب رکھنے والے شہری کے ساتھ کس قدر احترام سے پیش آتا ہے؟
کیوں نہ یہ دیکھا جائے کہ اکثریت اپنے اختیار کو اقلیت کے تحفظ کے لئے کس طرح استعمال کرتی ہے؟
کیوں نہ یہ دیکھا جائے کہ مسلمان کو اپنے مذہب، نام، لباس، زبان اور تہذیب کے ساتھ ہندوستانی رہنے کا پورا حق حاصل ہے یا نہیں؟
اور کیوں نہ یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ کسی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے کسی مخصوص مذہبی یا سیاسی نعرے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا؟
موہن بھاگوت نے امریکہ میں ’’جے شری رام‘‘، ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ یا ’’وندے ماترم‘‘ نہیں کہا—یہ بذاتِ خود حب الوطنی سے محرومی کا ثبوت نہیں۔ بلکہ اگر ان کا اصل پیغام اتحاد، تنوع اور انسانی برابری تھا تو اسے ایک مثبت اور قابلِ غور پیغام ہی سمجھا جائے گا۔
لیکن اسی کے ساتھ ایک سوال بھی پوری قوت سے پوچھا جانا چاہیے:
اگر یہی جامع اور ہمہ گیر قوم پرستی ہندوستان کے لئے بھی موزوں ہے تو پھر اسے ہندوستان کی گلیوں، شہروں، سیاسی جلسوں اور سماجی رویوں میں بھی اسی شدت سے کیوں نہ نافذ کیا جائے؟
اور اگر امریکہ میں مسلمان کو یہ یقین دلایا جا سکتا ہے کہ وہ ہندوستان کا ناگزیر حصہ ہے، تو ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کو بھی یہی یقین عملی طور پر کیوں نہ دیا جائے؟
آخر حب الوطنی کسی پاسپورٹ کی مہر، کسی نعرے یا کسی مذہبی شناخت کی محتاج نہیں۔ وطن سے محبت دل کا وہ رشتہ ہے جو انسان کو اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنے ملک کے دکھ درد سے جوڑتا ہے۔
ملک سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ نہیں کہ ہم کون سا نعرہ لگاتے ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے سے مختلف انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔
اگر موہن بھاگوت کا امریکہ میں پیغام واقعی ’’ایک دنیا، ایک انسانیت‘‘ اور ’’تنوع میں اتحاد‘‘ ہے تو ہندوستانی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں:
کیا یہی پیغام ہندوستان میں بھی پوری قوت کے ساتھ سنائی دے گا؟
کیا ہندوستانی مسلمان کو صرف یہ بتایا جائے گا کہ ’’تم بھی ہمارے ہو‘‘، یا اسے حقیقتاً یہ احساس بھی دیا جائے گا کہ ’’یہ ملک تمہارا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی اور کا‘‘؟
اور شاید آج ہندوستانی قوم پرستی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے:
کیا ہم ایسا ہندوستان بنا سکتے ہیں جہاں حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے نعرے نہیں، بلکہ کردار کافی ہو؛ جہاں اکثریت کو اپنی شناخت عزیز ہو مگر اقلیت کو اپنی شناخت پر شرمندگی نہ ہو؛ اور جہاں ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کی آواز کے ساتھ ساتھ ہر ہندوستانی شہری کے برابر حقوق کی آواز بھی اتنی ہی بلند ہو؟
یہی وہ مقام ہے جہاں نعروں سے آگے بڑھ کر قوم، وطن اور انسانیت کے اصل مفہوم پر غور کرنا ہوگا۔


