
بے نام گیلانی
دنیا کے نقشے پر تقریباً 39 کلومیٹر چوڑی ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے جسے آبنائے ہرمز کہا جاتا ہے۔ جغرافیہ میں یہ خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے، لیکن عالمی سیاست اور معیشت میں یہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ انسان کی بنائی ہوئی نہر نہیں بلکہ قدرت کا بنایا ہوا وہ دروازہ ہے جس سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اور گیس گزرتی ہے۔
دنیا کی تجارتی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جبکہ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں LNG بھی اسی آبنائے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاریخی طور پر بھی اس گزرگاہ کی اہمیت غیر معمولی رہی ہے۔ پرتگالیوں سے لے کر برطانوی اور پھر امریکی طاقت تک، سب نے خلیج میں اپنے مفادات کے لئے اس خطے پر نظر رکھی۔ خلیج میں تیل کے وسیع ذخائر کی دریافت کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کی توانائی کی برآمدات اس راستے سے وابستہ ہیں۔ اسی لئے امریکہ نے بحرین میں اپنا پانچواں بحری بیڑا مستقل طور پر تعینات کر رکھا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کو صرف عسکری زاویے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ تیل کی عالمی تجارت، ڈالر کی بالادستی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات بھی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے باہمی مفادات نے بھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ، غزہ کی جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اسی وسیع تر تنازعے کا حصہ ہیں۔
ایران اور امریکی حکمتِ عملی
امریکہ نے طویل عرصے تک ایران پر اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے ذریعے اسے محدود کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ایران نے بھی کئی دہائیوں کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں، میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون پروگرام کو ترقی دی۔ روس۔یوکرین جنگ کے دوران ایرانی ڈرونز کے استعمال نے بھی اس کی دفاعی صلاحیتوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔
ایران جانتا ہے کہ روایتی فضائی طاقت میں وہ امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لئے اس نے میزائل، ڈرون اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی پر زیادہ توجہ دی۔ یہی صلاحیتیں آبنائے ہرمز کے معاملے کو مزید حساس بناتی ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لئے بند یا شدید متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، شپنگ کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یورپ و ایشیا کی صنعتی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ یوں ایک علاقائی تنازع عالمی اقتصادی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ایک نیا عالمی منظرنامہ
موجودہ کشیدگی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا دنیا ایک نئے معاشی اور سیاسی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے؟ چین، روس، بھارت اور دیگر ممالک عالمی تجارت میں متبادل ادائیگی کے نظام اور مقامی کرنسیوں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ اگر یہ رجحان مضبوط ہوتا ہے تو عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی بالادستی کو مستقبل میں چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز آج صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی طاقت، توانائی اور معیشت کے درمیان تعلق کی علامت بن چکی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا تک پہنچتے ہیں۔
اس لئے ضرورت جنگ کو مزید بھڑکانے کی نہیں بلکہ سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایک چنگاری صرف خطے کو نہیں بلکہ عالمی معیشت اور لاکھوں انسانوں کے مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی برادری کو اس دہکتے ہوئے بحران کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے سنجیدہ اور فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔


